🏴 حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا
قم کی تقدس کا راز
متعدد احادیث میں قم کے تقدس پر تأکید ہوئی ہے. امام صادق (ع) نے قم کو اپنا اور اپنے بعد آنے والے اماموں کا حرم قرار دیا ہے اور اس کی مٹّی کو پاک و پاکیزہ توصیف فرمایا ہے:.امام علیہ السلام فرماتے ہیں : *«الا انَّ حرمى و حرم ولدى بعدى قم»*
آگاہ رہو کہ میرا حرم اور میرے بعد آنے والے پیشواؤں کا حرم قم ہے.
امام صادق علیہ السلام ہی اپنی مشہور حدیث میں اہل رے سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ... *وان لاميرالمؤمنين عليه السلام حرماً و هو الكوفه الا و انَّ قم الكوفة الصغيرة ألا ان للجنة ثمانيه ابواب ثلاثه منها الى قم...*= اور حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام کے لئے بھی ایک حرم ہے اور وہ کوفہ ہے. جان لو کہ قم ہمارا چھوٹا کوفہ ہے، جان لو کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں جن میں سے تین دروازے قم کی جانب کھلتے ہیں.
امام علیہ السلام قم کے تقدس کی سلسلے میں اپنی حدیث کو جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں: « ... *تقبض فيها امراة من ولدى اسمها فاطمہ بنت موسى عليهاالسلام و تدخل بشفاعتها شيعتى الجنة با جمعهم*= میرے فرزندوں میں سے ایک خاتون – جن کا نام فاطمہ بنت موسی ہے – قم میں رحلت فرمائیں گی جن کی شفاعت سے ہماری تمام شیعہ بہشت میں وارد ہونگے».
راوی کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث امام موسی کاظم علیہ السلام کی ولادت سے بھی پہلے امام صادق علیہ السلام سے سنی تھی. یہ حدیث قم کے تقدس کا پتہ دیتی ہے اور قم کی شرافت و تقدس کے راز سے پردہ اٹھاتی ہیں؛ اور یہ کہ اس شہر کا اتنا تقدس اور شرف – جو روایات سے ثابت ہے - ریحانہ رسول (ص)، کریمہ اہل بیت سلام اللہ علیہا کے وجود مبارک کی وجہ سے ہے جنہوں نے اس سرزمین میں شہادت پاکر اس کی خاک کو حور و ملائک کی آنکھوں کا سرمہ بنادیا ہے.
*سیده نے بهی قم کا انتخاب کیا*
امام رضا علیہ السلام کے مجبورا شہر مرو سفر کرنے کے ایک سال بعد ۲۰۱ھ قمری میں آپ اپنے بھائیوں کے ہمراہ بھائی کے دیدار اور اپنے امام زمانہ سے تجدید عہد کے قصد سے عازم سفر ہوئیں راستہ میں ساوہ پھنچیں لیکن چونکہ وہاں کے لوگ اس زمانے میں اہلبیت کے مخالف تھے لہٰذا انہوں نے حکومتی کارندوں کے ساتھ مل کر قافلے پر حملہ کردیا اور جنگ چھیڑدی جس کے نتیجے میں قافلے میں سے بہت سارے افراد شہید ہوگئے
حضرت غم و الم کی شدت سے مریض ہوگئیں اور ایک روایت کی مطابق ساوه میں ایک عورت نے آپ کو مسموم کردیا جس کی وجه سے آپ (س) بیمار پڑ گئیں اور محسوس کیا کہ اب خراسان نہ جاسکیں گی اور اب زیاده دیر تک زنده بهی نہیں رہیں گی چنانچہ فرمایا : مجھے شہر قم لے چلو کیونکہ میں نے اپنے بابا کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: قم ہمارے شیعوں کا مرکز ہے ۔ اس طرح حضرت وہاں سے قم روانہ ہوگئیں ۔
دشمنان اہل بیت کا اس قافلے سے نبرد آزما ہونا اور بعض حضرات کا جام شہادت نوش فرمانا اور وہ دیگر نامساعد حالات ایسے میں حضرت کا حالت مرض میں وہاں سے سفر کرنا، ان تمام باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اس بات کو قبول کرنا بعید نہیں ہے کہ سیده معصومه (س) بهی عباسی جلادون کی حکم پر مسموم کی گئی تِہیں۔
بزرگان قم جب اس مسرت بخش خبر سے مطلع ہوئے تو حضرت کے استقبال کے لئے دوڑ پڑے، مویٰ بن خزرج اشعری نے اونٹ کی زمام ہاتھوں میں سنبھالی اور فاطمہ معصومہ (ص) اہل قم کے عشق اہلبیت سے لبریز سمندر کے درمیان وارد ہوئیں ۔ موسیٰ بن خزرج کے ذاتی مکان میں نزول اجلال فرمایا ۔
*غروب غمگین*
بی بی مکرمہ نے ۱۷ دن اس شہر امامت و ولایت میں گزارے، مسلسل مشغول عبادت رہیں اور اپنے پروردگار سے راز و نیاز کرتی رہیں اس طرح اپنی زندگی کے آخری ایام بھی خضوع و خشوع الٰہی کے ساتھ بسر فرمائے ۔ آخر کار وہ ذوق و شوق نیز وہ تمام خوشیاں جو کوکب ولایت کے آنے اور دختر فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کی زیارت سے اہل قم کو میسر ہوئی تھیں یکایک نجمہ عصمت و طہارت کے غروب سے حزن و اندوہ کے سمندر میں ڈوب گئیں لقاء الله کے لئے بے قرار روح قفس خاکی سے بسوئے افلاک پرواز کرگئی. سیده نے دعوت حق کو لبیک کہی اور عاشقان امامت و ولایت عزادار ہوگئے ۔
یہ سنہ 201 ہجری کا واقعہ ہے. سلام ہو اسلام کی اس عظیم المرتبت خاتون پر روز طلوع سے لے کر لمحہ غروب تک.
سلام و درود معصومہ سلام اللہ علیہا کی روح تابناک پر جن کے حرم منور نے قم کی ریگستانی سرزمین کو نورانیت بخشی. سلام ہو دنیا کی خواتین کی سیدہ (س)، مہر محبت کے پیامبروں کی لاڈلی پر، دختر سرداران جوانان جنت پر.
اے فاطمہ! روز قیامت ہماری شفاعت فرما، کہ آپ اللہ تعالی کی بارگاہ میں خاص مقام و منزلت کی مالک ہیں.
ہاں بی بی معصومہ سلام اللہ علیہا نے حضرت زینب علیا مقام سلام اللہ علیہا کی طرح اپنے پر برکت سفر میں حقیقی پیشواؤں کی حقانیت کے سلسلے میں امامت کی سند پیش کردی اور مأمون کے چہرے سے مکر و فریب کی نقاب نوچ لی۔ قہرمان کربلا کی طرح اپنے بھائی کے قاتل کی حقیقت کو طشت از بام کردیا ۔ فقط فرق یہ تھا کہ اس دور کے حسین علیہ السلام کو مکر و فریب کے ساتھ قتلگاہ بنی عباس میں لے جایا گیا تھا ۔ اسی اثناء میں تقدیر الٰہی اس پر قائم ہوئی کہ اس حامی ولایت و امامت کی قبر مطہر ہمیشہ کے لئے تاریخ میں ظلم و ستم اور بے انصافی کے خلاف قیام کا بہترین نمونہ اور ہر زمانے میں پیروان علی علیہ السلام کے لئے ایک الہام الٰہی قرار پائے۔ آپ (س) جیسوں کی موت شہادت نہ ہو تو کیا ہو؟
آپ (س) نے خاندان پیغمبر صل اللہ علیہ و آلہ کے چند افراد اور محبان اہلبیت کے ہمراہ مدینے سے سفر کر کے ثابت کردیا کہ ہر زمانے میں حقیقی اور خالص محمدی اسلام کے تربیت یافتہ جیالوں نے مادی و طاغوتی طاقتوں کے سامنے حق کا اظہار کیا ہے۔ جیسا کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے یزید کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر فرمایا ” انی استصغرک “ میں تجھے حقارت کی نگاہ سے دیکھتی ہوں اور تجھے بہت ذلیل و رسوا سمجھتی ہوں ۔
*تدفین کی رسومات*
شفیعہ روز جزا کی وفات حسرت آیات کے بعد ان کو غسل دیا گیا ۔ تدفین پہنایا گیا پھر قبرستان بابلان کی طرف آپ کی تشییع کی گئی ۔ لیکن دفن کے وقت مَحرم نہ ہونے کی وجہ سے آل سعد مشکل میں پھنس گئے. آخر کار ارادہ کیا کہ ایک ضعیف العمر بزرگ اس عظیم کام کو انجام دیں، لیکن وہ بزرگ اور دیگر بزرگان اور صلحائے شیعہ اس امر عظیم کی ذمہ داری اٹھانے کے لائق نہ تھے کیونکہ معصومہ اہل بیت (س) کے جنازے کو ہر کوئی سپرد خاک نہیں کرسکتا تھا۔ لوگ اسی مشکل میں اس ضعیف العمر بزرگ کی آمد کے منتظر تھے کہ ناگہاں لوگوں نے دو سواروں کو آتے ہوئے دیکھا وہ ریگزاروں کی طرف سے آرہے تھے۔ جب وہ لوگ جنازے کے نزدیک پھنچے تو نیچے اترے اور کچھ کہے سنے بغیر نماز جنازہ پڑہی اور اس ریحانہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے جسد اطہر کو داخل سرداب دفن کردیا ۔ اور کسی سے گفتگو کئے بغیر سوار ہوئے اور واپس چلے گئے اور کسی نے بھی ان لوگوں کو نہ پہچانا ۔
*حضرت آیة اللہ العظمیٰ شیخ محمد فاضل لنکرانی* (رہ) فرماتے ہیں کہ بہ امر بعید نہیں ہے کہ یہ دو بزرگوار دو امام معصوم رہے ہوں کہ جو اس امر عظیم کی انجام دہی کے لئے قم تشریف لائے اور چلے گئے۔
سیدہ معصومہ (س) کو دفن کرنے کے بعد موسیٰ بن الخزرج نے حصیر و بوریا کا ایک سائبان قبر مطہر پر ڈال دیا وہ ایک مدت تک باقی رہا ۔ مگر حضرت زینب بنت امام محمد تقی الجواد علیہ السلام قم تشریف لائیں تو انہوں نے مقبرے پر اینٹوں کا قبہ تعمیر کرایا ۔
▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️