شیطان کے دوست کون

شیطان کے دوست کون۔۔۔

حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم فرماتےہیں:
کہ میری امت میں سے 10 قسم کےلوگ شیطان کےدوست ہیں۔

1۔     الامیر الجائر،،
سب سےپہلا ابلیس کا دوست ظالم حکمران ہے جو اپنی رعایا پہ ظلم کرتاہے(اور ظاہر ہے جو شیطان کا دوست وہ رحمان کا دشمن۔۔)

2.    والغنی المتکبر،،
دوسرا شیطان کا دوست وہ مالدار شخص ہےجو مال و دولت کی بناء پہ تکبر کرتا ہے(یہ مالدار بھی شیطان کا دوست اور رحمان کا دشمن۔۔)

3۔    والذی لا یبالی من این یکتسب و فیما ینفقہ،،
میری امت میں سےوہ شخص بھی شیطان کا دوست ہے(جس کا مقصد پیسہ جمع کرنا ہے)اسےاس بات کی پرواہ نہ ہوکہ وہ کہ وہ مال کہاں سےکما رہاہےاور کہاں پہ خرچ کررہاہے۔

4۔    والعالم الذی صدق الامیر علی جورہ،،
میری امت کا وہ عالم بھی شیطان کا یار ہےجو حکمرانوں کےظلم پہ انکی تصدیق و تائید و معاونت کرے(ایسا عالم شیطان کا یار اور رحمان کا دشمن ہے)

5۔    والتاجر الخائن،،
وہ تاجر بھی شیطان کا دوست ہے جو تجارت میں خیانت کرتاہو(نفع معمول سےزیادہ لیتاہو،خودساختہ مہنگائی کرتا ہو،تجارت میں دونمبری کرتاہو ایسا تاجر بھی شیطان کا دوست اور رحمان کا دشمن ہے)

6۔    والمحتکر،،
ذخیرہ اندوزی کرنا والا،،(جب لوگوں کو اشیاء خوردونوش کی قلت کا سامنا ہو۔۔چیزیں مہنگی ہورہی ہوں اور یہ شخص ان اشیاء کو ذخیرہ کرلےتاکہ قیمت اور بڑھے۔۔یہ بھی شیطان کا دوست۔۔)

7۔    والزانی،،
زنا کرنےوالےبھی شیطان کا دوست اور رحمان کا دشمن۔۔(یاد رہےلواطہ کرنا، زنا سےبھی بڑا گناہ ہے۔۔تو لواطہ کرنےوالا شیطان کا لنگوٹیا یار۔۔۔)

8۔     وآکل الربا،،
سود خور بھی شیطان کا دوست۔۔رحمان کا دشمن۔۔

9۔    والبخیل ۔۔
بخل سےکام لینے والا بھی شیطان کا دوست۔۔رحمان کا دشمن۔۔(سب سےبڑا بخیل وہ ہےجو اپنےمالی واجبات ادا نہ کرے)

10۔     والذی لا یبالی من این یجمع المال،،
وہ شخص بھی شیطان کا دوست جسےیہ پرواہ نہ ہو کہ وہ مال کہاں سےجمع کررہاہے(وہ ذرائع آمدنی حلال کےہیں یا حرام کے۔۔)

بحوالہ۔مواعظ العددیہ

معرفت امام زمانہ عج

🌼🌸 معرفت امام زمانہ عج 🌸🌼
 قسط 26

 ظہور کی علامات اور نشانیاں

مھدی موعود عج کے ظہور کی کچھ نشانیاں بتائی گئ ہیں اور ان نشانیوں کی پہچان بہت اہم اثرات رکھتی ہے ۔ کیونکہ یہ حضر مھدی عج کے ظہور کی نشانیاں ہیں کہ جن میں سے ہر ایک کے ظاہر ہونے سے منتظرین کے دلوں میں امید کے نور میں اضافہ ہوگا اور دشمنوں کے لیے خطرہ کی گھنٹی ہو گی تا کہ برائیوں سے باز آ جائیں ۔
اس کے علاوہ آخری زمانے میں بہت سے لوگ مھدی ہونے کا دعویٰ کریں گے ۔ان علامات سے منتظرین پر واضح ہو جائے گا کہ یہ لوگ کذاب ہیں اور موعود نہیں ہیں ۔

آئمہ معصومیں علیہم السلام کی روایات میں امام مھدی عج کے ظہور کی بہت سی نشانیاں ذکر ہوئی ہیں جن میں سے بعض عام واقعات ہیں جبکہ بعض واقعات معجزہ نما ہیں۔ یہاں ہم معتبر اور اہم نشانیوں کو بیان کریں گے

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: 
 *قائم  (عج) کے ظہور کی پانچ نشانیاں ہیں:سفیانی کا خروج ، خسف بیدائ ، یمنی کا قیام، آسمانی آواز اور نفس زکیہ کا قتل* 
(📗غیبت نعمانی باب 14 ح9 ص 291)

ہم یہاں ان نشانیوں کی کچھ وضاحت کریں گے۔ 
 *1 سفیانی کا خروج*
سفیانی ابوسفیان کی نسل میں سے ہوگا جو ظہور سے تھوڑی دیر پہلے سرزمین شام سے خروج کرے گا اور وہ اپنے دشمنوں سے بہت برا سلوک کرے گا ۔ اسے قتل و غارت کی کوئی پروا نہ ہو گی ۔

امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں 
 *اگر تم سفیانی کو دیکھو گے تو (گویا ) تم نے سب سے برے اور پلید انسان کو دیکھا*

(📗کمال الدین ۔ج 3 ،ب57، ح 10)

2 خسف بیداء

خسف کے معنی دھنسنے کی جگہ اور بیداء مکہ و مدینہ کے درمیان ایک علاقہ کا نام ہے ۔
خسف بیداء سے مراد یہ ہے کہ جب سفیانی کا لشکر امام مھدی عج کے مقابلے میں مکہ کی طرف نکلے گا ۔ جب وہ لشکر مدینہ میں بیداء کے مقام پر پہنچے گا تو معجزانہ طور پر زمین پھٹ جائے گی اور وہ لشکر زمین میں دھنس جائے گا۔

 *حضرت امام محمد باقر* علیہ السلام نے اس متعلق فرمایا کہ 
 *"سفیانی لشکر کو جب خبر ملے گی کہ امام مھدی عج مکہ کی طرف روانہ ہو چکے ہیں ۔چنانچہ وہ ان کے پیچھے ایک لشکر روانہ کرے گا لیکن ان کو نہیں پائے گا اور جب سفیانی کا لشکر سر زمین بیداء پر پہنچے کا تو ایک آسمانی آواز آئے گی "اے سر زمین بیداء ان کو نابود کر دے" جس کے بعد وہ سر زمین سفیانی کے لشکر کو اپنے اندر نگل لے گی ۔* 
(📗غیبت نعمانی باب 14 ،ح 27 )

جاری ہے۔۔۔۔۔

والدین کے ساتھ حسن سلوک  

والدین کے ساتھ حسن سلوک  معصومین علیہم السلام کی فرامین
1۔ سب سے بڑا فریضہ

قال الامام علي عليه السّلام: برّ الوالدين أكبَرُ فريضةٍ.

تصنیف غرر الحكم، ص 407، ح 9339۔

*امام علیہ السلام نے فرمایا: خدا کی طرف سے سب سے بڑا فریضہ والدین کے ساتھ نیکی کرنا ہے۔*
2۔ *محبت سے دیکھا کرو*

قال رسول الله صلّي الله عليه و آله: نَظَرَ الوَلَد الي والدَيهِ حُبّاً لهُما عبادَة.
بحار الانوار، ج 74، ص 80۔
*رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: والدین کی طرف محبت کے ساتھ دیکھنا عبادت ہے۔*

3۔ *غضب آلود نگاہ سے پرہیز کرو*

قال الامام الصادق عليه السّلام: مَنْ نَظَر الي أبَويه نَظَرَ ماقتٍ و هُما ظالمانِ لَهُ، لم يقبَلِ اللهُ لَهُ صلاةً.

اصول كافی، ج 4، ص 50۔
*امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو بھی اپنے ماں باپ کو غضب آلود نگاہ سے دیکھے گا خداوند اس کی کوئی نماز بھی قبول نہیں فرمائے گا خواہ والدین نے اس کے ساتھ ظلم ہی کیوں نہ کیا ہو۔*

4۔ *اچھا سلوک بہترین اعمال میں سے ہے*

سئل عن الامام الصّادق عليه السّلام أي الاعمال أفضَلُ؟ قال: الصّلاةُ لِوَقتِها و برّ الوالدين و الجِهادُ في سبيل اللهِ.

بحار الانوار، ج 74، ص 85۔

*امام صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا: بہترین اعمال کون سے ہیں؟ فرمایا: وقت پر نماز ادا کرنا، والدین کے ساتھ نیکی کرنا اور خدا کی راہ میں جہاد کرنا، بہترین اعمال ہیں۔*
5۔ *ایک محبت آمیز نگاہ ایک حج مقبول*

قال رسول الله صلّي الله عليه و آله: ما ولد بار نظر إلى أبويه برحمة إلا كان له بكل نظرة حجة مبرورة، فقالوا: يا رسول الله وإن نظر في كل يوم مائة نظرة ؟ قال: نعم، الله أكبر وأطيب
بحارالانوار، ج 74، ص 73۔
*رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: جو فرزند مہربانی کے ساتھ اپنے والد اور والدہ کی طرف دیکھے گا ہر نگاہ کے بدلے اس کو ایک حج مقبول کا ثواب عطا کیا جائے گا۔ پوچھا گیا: اے رسول خدا (ص)! اگر انسان ہر روز سو مرتبہ اپنے والدین کی طرف محبت کے ساتھ دیکھں تو بھی کیا اس کو ہر نگاہ کے بدلے ایک حج مقبول کا ثواب ملے گا؟] رسول خدا (ص) نے فرمایا: ہاں؛ اللہ سب سے بڑا اور سے زیادہ پاک ہے۔*

وصیت کرنے کی اہمیت

🔰وصیت کرنے کی اہمیت🔰

📌كتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ ۖ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ (سوره بقره: 180)

📝یعنی "تمہارے اوپر یہ بھی لکھ دیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کی موت سامنے آ جائے تو اگر کوئی مال چھوڑا ہے تو اپنے ماں باپ اور قرابتداروں کے لئے وصیت کر دے یہ صاحبانِ تقویٰ پر ایک طرح کا حق ہے".

👈لہذا شریعتِ اسلامی میں ہر انسان اپنے سارے مال و دولت کے تیسرے حصے کے بارے میں یہ بتا سکتا ہے کہ وه اس کی موت کے بعد کس طرح استعمال کیے جائیں یعنی انسان وصیت کرے کہ یہ تیسرا حصہ کیسے اور کس معاملے میں خرچ ہو.

📜پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا: ما يَنبَغي لامرئٍ مُسلمٍ أن يَبِيتَ لَيلَةً إلاّ و وَصيَّتُهُ تَحتَ رأسِهِ (المقنعة، ص 666) یعنی "ایک مسلمان شخص کے لیے یہ بات سزاوار نہیں ہے کہ وه سوئے مگر یہ کہ اس کے سر کے نیچے اس کی وصیت ہو".

✔️یہ عظیم بیان اس بات کی طرف اشاره ہے کہ مومن ہمیشہ مسافرت اور اپنے پروردگار سے ملاقات کے لیے آماده رہے.

💭آپؐ ایک اور روایت میں فرماتے ہیں کہ: مَن ماتَ على وَصيَّةٍ حَسَنَةٍ ماتَ شَهِیدا (الدعوات، ص 231) یعنی "اگر کوئی مناسب وصیت کے ساتھ اس دنیا سے جائے تو وه شہید ہے".

📚قرآنی طرز زندگی، ص 33
مؤلف: حجت الاسلام ابوالقاسم دولابی

#تفسیر_قرآن - 197
#سپاره_2_کے_منتخب_پیغامات - 4

امام اور پیروکاروں کا ارتباط

🔅امام اور پیروکاروں کا ارتباط🔅

📜امام حسن عسکریؑ نے قم اور آوج والوں کے نام ایک خط لکھا.

⭕️انسان اس خط کے الفاظ اور اس میں موجود  قرینوں پر غور کرنے سے اس نتیجے پر  پہنچتاہے کہ قم اور آوج کے لوگ امام حسن عسکریؑ پر حکومتی مشینری کے دباؤ اور آپؑ پر حکومت کے محاصرے کی وجہ سے افسرده ہو گئے تھے، اور (نعوذبالله) یہ سمجھ رہے تھے کہ امامؑ اپنے آباؤ اجداد کے راستے سے دستبردار ہو گئے ہیں.

💭امامؑ  ایک خط لکھتے ہیں تاکہ انہیں اپنی  امامت و قیادت  کے حوالے سے مطمئن کریں اور ان کا حوصلہ بڑهائیں.

☀️اس خط میں امام حسن عسکریؑ فرماتے ہیں: «فلم تزل نیتنا مستحکمه»؛ "ہماری نیت اور جو ہمارا مقصد تھا اور ہمارا عزم پہلے کی طرح قائم و دائم اور مستحکم ہے".

✅«و نفوسنا إلی طیب آرائکم ساکنه»؛ "ہمارا دل آپ لوگوں کی نیک نیتی اور خوش فکری کی وجہ سے آرام و سکون میں ہے"؛ یعنی ہمیں آپکے بارے میں کسی قسم کی پریشانی یا مشکل نہیں ہے، ہمیں یقین ہے کہ آپ ہمارے اچھے ساتھیوں میں سے ہیں اور آپ لوگ بھی ہماری طرح اپنے راستے اور عقیدے سے پیچھے نہیں ہٹے ہیں.

✔️آپ غور فرمائیں کہ یہ  قم اور آوج میں موجود امام حسن عسکریؑ کے شیعوں کے لیے کتنا زیاده حوصلہ بڑھانے والا خط ہے.

👈(اب سوال یہ ہے کہ) یہ حوصلہ افزائی بالآخر کیوں  کی جا رہی ہے؟ اگر مقصود شرعی مسئلہ بتانا، کسی معاملے میں اپنی نظر دینا یا خصوصی رہنمائی کرنا ہوتا تو  پھر اس طرح سے بات نہیں کی جاتی.

📌… اس کے بعد آپؑ فرماتے ہیں کہ: «القرابه الراسخه بیننا و بینکم قویه»؛ "ہمارے اور آپ لوگوں کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم ہے". ہم آپکے بھائی اور قریبی رشتے دار ہیں. امامؑ اپنے چاہنے والوں اور اپنے طرفدار گروہ کو اپنا قریبی اور رشتہ دار مانتے ہیں.

📖آخری جملہ بھی ایک انتہائی مضبوط فکری اور بامقصد مجموعے کی موجودگی کی طرف اشاره ہے اور وه جملہ یہ ہے کہ: «لما جمعنا الله علیه من الحال القریبه و الرحم الماسه یقول العالم(سلام الله علیه) إذ یقول المومن اخ المومن لامه و ابیه‏».

👈آپ یہاں مومن کی تعبیر پر غور کریں کہ یہاں پر مومن سے  کیا مراد ہے؟ امامؑ فرماتے ہیں کہ میرے اور آپ لوگوں کے درمیان قریبی رشتہ داری موجود ہے. «الرحم الماسه»؛ یعنی ہم خونی رشتہ دار ہیں، باپ اور بیٹے کی طرح، ماں اور بیٹے کی طرح اور سگے بھائیوں کی طرح، ہمارا تعلق اس طرح کا تعلق ہے.

📝یہاں«عالم» سے مراد گویا امام موسی بن جعفر صلوات الله علیہ یا امام جعفر صادق صلوات الله علیہ ہیں، *امام حسن عسکریؑ* اپنے جدؑ کے فرمان سے نقل  فرما رہے ہیں کہ ہمارے محترم جدؑ نے فرمایا ہے کہ: "مومن آپس میں ایک ماں باپ کی اولاد کی طرح ہیں؛ المومن اخ المومن لامه و ابیه"؛

✅یعنی مومنین کا آپس میں رابطہ، آپس میں عہدوپیمان اور آپس میں جو تعلق ہے وه سگے بھائیوں کی طرح ہے، حتی سوتیلے بھائیوں والا تعلق بھی نہیں ہے، یعنی یہ لوگ آپس میں اتنے زیاده نزدیک ہیں.

📜(اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ) مومن سے مراد کون ہے؟ جو صرف «لا اله الا الله، محمد رسول الله» کہتا ہو؟ وه ایسے لوگ تو بہت زیاده تھے! نہیں بلکہ مراد وه شخص ہے جو امام حسن عسکریؑ پر ایمان رکھتا ہو اور انکے راستے پر چلنے والا ہو.

👈اب اس بات سے کیا مراد ہے؟ یہ امامؑ اور انکے طرفداروں اور پیروکاروں کے درمیان موجود  وہی مضبوط آرگنائزیشنل رابطہ ہے.

📚250 سالہ انسان، ج 3، ص 830-831
رہبر معظم آیت الله سید علی خامنہ ای

#10_ربیع_الثانی، روزِ ولادت با سعادت امام حسن عسکریؑ

معرفت امام زمانہ عج

🌼🌸 معرفت امام زمانہ عج 🌸🌼

 قسط نمبر 25 

 انصارِ مھدی عج
امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے انصار و مددگار عبادت میں اپنے امام کو نمونہ عمل قرار دیتے ہیں اور شب و روز اپنے خدا کے شیریں ذکر میں گزارتے ہیں
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ان کے بارے میں فرمایا:
 *"رات بھر عبادت کرتے ہیں اور دن میں روزہ رکھتے ہیں"*
 ایک اور جگہ فرماتے ہین
" *گھوڑوں(یا سوار ہونے والی چیز)پر سواری کی حالت میں بھی خدا کی تسبیح کرتے ہیں"*

یہی ذکرِ خدا ہے جس سے فولادی مرد بنتے ہیں جن کے استحکام اور مضبوطی کو کوئی چیز ختم نہیں کر سکتی۔

حضرت امام صادق علیہ السلام۔
*"وہ ایسے لوگ ہوں گے کہ گویا ان کا دل لوہے کا ٹکڑا ہے "* (بحار الانوار جلد 52 صفحہ 308)

عزیزان من !
قابل فکر بات یہ ہے کہ امام زمانہ عج کے سپاہی ہم ہی میں سے ہوں گے ۔ 
⁉️آئمہ معصومین علیہم السلام ان سپاہیوں کی خصوصیات کیوں بتلاتے رہے ۔۔۔۔۔؟؟؟

سوچیئے 🤔
کوئی وجہ تو ہو گی جس کی بنا پر اتنی صدیاں پہلے ہی امام زمانہ عج کے سپاہیوں کے متعلق بتلایا جاتا رہا ہے ؟

تو اس کا جواب یہ ہے کہ ۔۔
آئمہ معصومین علیہم السلام چاہتے تھے کہ ان کے شیعہ اپنے اندر ایسی خصوصیات پیدا کریں تا کہ یوسفِ زہرا عج کی غیبت طولانی نا ہو ۔

حضرت امام علی علیہ السلام نے انصار امام عج کے بارے میں فرمایا
" *وہ ایسا گروہ ہے جو راہِ  خدا میں صبر اور بردباری کی وجہ سے خدا پر احسان نہیں جتلاتے اور اپنی جان کو حضرت حق کے حضور میں پیش کر کے خود پر فخر نہیں کرتے اور اس چیز کو  زیادہ اہمیت نہیں دیتے "*  
(📗یوم الخلاص )
یعنی انصار مھدی ٔ اخلاص اور تواضع کی بنا پر اپنے کام کو معمولی اور ناچیز شمار کریں گے 

حضرت امام علی علیہ السلام نے  فرمایا :
 *"وہ لوگ ایک دل اور ہم آہنگ (یعنی متحد) ہوں گے"* 
(📗یوم الخلاص)

حضرت امام علی* علیہ السلام ،امام *مھدی عج کے انصار* کے بارے میں مزید  فرماتے ہیں کہ :
 *" وہ اپنے انصار و مددگاروں سے اس بات پر بیعت لیں گے کہ وہ سونا چاندی جمع نا کریں اور گیہوں اور جو کا ذخیرہ نہ کریں "* (📗منتخب الاثر ۔ فصل 6۔ باب 11۔ح 4)

یعنی امام زمانہ عج اپنے انصار کو مادیت پرستی سے بچائیں گے اور ان سے عہد لیں گے ۔ 
 جن لوگوں کی آنکھیں دنیا کا رزق دیکھ کر خیرہ ہو جاتی ہیں اور انکا دل پانی پانی ہو جاتا ہے تو ایسے لوگوں کی جگہ لشکرِ مھدی عج میں نہیں ہے ۔
 
معصومین علیہم السلام نے انصارِ مھدی ٔ بہت خصوصیات بیان کی ہیں ۔ ان کی تعریف میں *حضرت محمد* صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں :
 *"وہ لوگ (انصار مھدی ) میری امت کے بہترین افراد ہیں"*

جاری ہے۔۔۔

معرفت امام زمانہ عج

🌼🌸 معرفتِ امام زمانہ عج🌸🌼
 قسط نمبر 24

 انصارِ مھدی عج

امام مھدی عج کے انصار کیسے ہوں گے ؟؟؟

اگر ہم امام عج کی نصرت کرنا چاہتے ہیں یا کر رہے ہیں تو ہمارے دماغ میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ امام زمانہ عج کے حقیقی انصار کیسے ہوں گے ؟
تو اس کا جواب پانے کے لیے ہم آئمہ معصومین علیہم السلام کی طرف رجوع کریں گے ۔

اگر ہم تاریخ کی ورق گردانی کریں تو ایک واقعہ ہمارے سامنے آتا ہے جس میں ایک شخص" *سہل بن حسن خراسانی" امام جعفر صادق ع* کے پاس آیا اور عرض کیا :

" *آپ ٔ کیلیے کونسی چیز اپنے مسلّم حق (حکومت) کے حصول کے لیے مانع ہے  ، جبکہ آپ ٔ کے ایک لاکھ شیعہ ، تلوار چلانے والے اور آپ ٔ کی خدمت کے لیے تیار ہیں؟؟* 
امام علیہ السلام نے حکم دیا کہ تنور روشن کیا جائے اور جب اس سے آگ کے شعلے باہر نکلنے لگے  تو آپ ٔ نے سہل سے فرمایا : *اے خراسانی اٹھو اور تنور میں کود جاو ۔* 
سہل کا گمان تھا کہ امام علیہ السلام اس کی باتوں سے ناراض ہو گئے ہیں چنانچہ وہ معافی طلب کرنے لگا اور عرض کی: *آقا مجھے معاف فرما دیں مجھے آگ میں ڈال کر سزا نہ دیں* 
امام ٔ نے فرمایا : میں تم سے درگزر کرتا ہوں ۔ اتنے میں *ہارون مکی* آ پہنچے جو امام علیہ السلام کے حقیقی  شیعہ تھے ۔ انہوں نے امام ٔ کو سلام کیا ، امام نے سلام کا جواب دیا اور بغیر کسی مقدمہ کے فرمایا : *اس تنور میں کود جاو !* 
ہارون مکی فوراً چوں چرا کیے بغیر اس تنور میں کود پڑے اور امام علیہ السلام اس خراسانی سے گفتگو میں مشغول ہو گئے اور خراسان کے واقعات ایسے بیان کرنے لگے جیسا کہ امام علیہ السلام  خود ان واقعات کے شاہد ہوں  کچھ دیر بعد امام علیہ السلام نے فرمایا *: *اے خراسانی اٹھو اور تنور کے اندر جھانک کر دیکھو* 
سہل اٹھے اور تنور کے اندر ہارون کو دیکھا کہ جو آگ کے شعلوں کے درمیان دو زانو بیٹھے ہوئے ہیں!* 
امام علیہ السلام ںے اس سے سوال کیا : *خراسان میں ہارون کی طرح کتنے لوگوں کو پہچانتے ؟! خراسانی نے جواب دیا :خدا کی قسم میں تو ایسے کسی ایک شخص کو بھی نہیں جانتا ۔* 
امام علیہ السلام نے فرمایا : *یاد رکھو ! جب تک ہمیں ایسے پانچ ناصر و مددگار نا مل جائیں اس وقت تک ہم قیام نہیں کرتے ہم بہتر جانتے ہیں کہ کب قیام اور انقلاب کا وقت ہے ۔* 
📗 *(سفینۃ البحار جلد 8 صفحہ 681)*

 عزیزان من !
اس واقعہ سے ہم پر عیاں  ہوتا ہے کہ امام زمانہ عج کو کیسے انصار و مددگار کی ضرورت ہے جن کے ساتھ مل کر وہ قیام کریں گے ۔
سب سے پہلے ضرورت اس بات کی ہے ہم مخلص بنیں ۔ ہمارے لیے حجتِ خدا کا حکم ، حکمِ خدا کے معنی رکھتا ہو  ۔ اگر ہم تاویلیں پیش کرنے لگے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نا تو ہمیں معرفت حاصل ہوئی اور نا ہی ہم امام ٔ کی محبت میں گرفتار ہیں ۔
*امام جعفر صادق* علیہ سلام نے فرمایا:
" *امام مھدی عج کے انصار و مددگار جنگ کے میدان میں آپ کے چاروں طرف حلقہ بنائے ہوئے ہوں گے اور اپنی جان کو سپر بنا کر اپنے امام ٔ کی حفاظت کریں گے "* (📗بحارالانوار جلد 52 ص308)

ایک اور مقام پر امام جعفر صادق علیہ سلام یہ فرماتے ہیں کہ : 
 *"وہ(انصار مھدی) راہِ خدا میں شہادت پانے کی تمناء کریں گے "*
 (📗بحارالنوار جلد 52 ص 308)

جاری  ہے۔۔۔

حضرت معصومه قم

🏴 حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا
قم کی تقدس کا راز

متعدد احادیث میں قم کے تقدس پر تأکید ہوئی ہے. امام صادق (ع) نے قم کو اپنا اور اپنے بعد آنے والے اماموں کا حرم قرار دیا ہے اور اس کی مٹّی کو پاک و پاکیزہ توصیف فرمایا ہے:.امام علیہ السلام فرماتے ہیں : *«الا انَّ حرمى و حرم ولدى بعدى قم»*

آگاہ رہو کہ میرا حرم اور میرے بعد آنے والے پیشواؤں کا حرم قم ہے.

امام صادق علیہ السلام ہی اپنی مشہور حدیث میں اہل رے سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ... *وان لاميرالمؤمنين عليه السلام حرماً و هو الكوفه الا و انَّ قم الكوفة الصغيرة ألا ان للجنة ثمانيه ابواب ثلاثه منها الى قم...*= اور حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام کے لئے بھی ایک حرم ہے اور وہ کوفہ ہے. جان لو کہ قم ہمارا چھوٹا کوفہ ہے، جان لو کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں جن میں سے تین دروازے قم کی جانب کھلتے ہیں.

امام علیہ السلام قم کے تقدس کی سلسلے میں اپنی حدیث کو جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں: « ... *تقبض فيها امراة من ولدى اسمها فاطمہ بنت موسى عليهاالسلام و تدخل بشفاعتها شيعتى الجنة با جمعهم*= میرے فرزندوں میں سے ایک خاتون – جن کا نام فاطمہ بنت موسی ہے – قم میں رحلت فرمائیں گی جن کی شفاعت سے ہماری تمام شیعہ بہشت میں وارد ہونگے».

راوی کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث امام موسی کاظم علیہ السلام کی ولادت سے بھی پہلے امام صادق علیہ السلام سے سنی تھی. یہ حدیث قم کے تقدس کا پتہ دیتی ہے اور قم کی شرافت و تقدس کے راز سے پردہ اٹھاتی ہیں؛ اور یہ کہ اس شہر کا اتنا تقدس اور شرف – جو روایات سے ثابت ہے - ریحانہ رسول (ص)، کریمہ اہل بیت سلام اللہ علیہا کے وجود مبارک کی وجہ سے ہے جنہوں نے اس سرزمین میں شہادت پاکر اس کی خاک کو حور و ملائک کی آنکھوں کا سرمہ بنادیا ہے.

*سیده نے بهی قم کا انتخاب کیا*

امام رضا علیہ السلام کے مجبورا شہر مرو سفر کرنے کے ایک سال بعد ۲۰۱ھ قمری میں آپ اپنے بھائیوں کے ہمراہ بھائی کے دیدار اور اپنے امام زمانہ سے تجدید عہد کے قصد سے عازم سفر ہوئیں راستہ میں ساوہ پھنچیں لیکن چونکہ وہاں کے لوگ اس زمانے میں اہلبیت کے مخالف تھے لہٰذا انہوں نے حکومتی کارندوں کے ساتھ مل کر قافلے پر حملہ کردیا اور جنگ چھیڑدی جس کے نتیجے میں قافلے میں سے بہت سارے افراد شہید ہوگئے

حضرت غم و الم کی شدت سے مریض ہوگئیں اور ایک روایت کی مطابق ساوه میں ایک عورت نے آپ کو مسموم کردیا جس کی وجه سے آپ (س) بیمار پڑ گئیں اور محسوس کیا کہ اب خراسان نہ جاسکیں گی اور اب زیاده دیر تک زنده بهی نہیں رہیں گی چنانچہ فرمایا : مجھے شہر قم لے چلو کیونکہ میں نے اپنے بابا کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: قم ہمارے شیعوں کا مرکز ہے ۔  اس طرح حضرت وہاں سے قم روانہ ہوگئیں ۔

دشمنان اہل بیت کا اس قافلے سے نبرد آزما ہونا اور بعض حضرات کا جام شہادت نوش فرمانا اور وہ دیگر نامساعد حالات ایسے میں حضرت کا حالت مرض میں وہاں سے سفر کرنا، ان تمام باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اس بات کو قبول کرنا بعید نہیں ہے کہ سیده معصومه (س) بهی عباسی جلادون کی حکم پر مسموم کی گئی تِہیں۔

بزرگان قم جب اس مسرت بخش خبر سے مطلع ہوئے تو حضرت کے استقبال کے لئے دوڑ پڑے، مویٰ بن خزرج اشعری نے اونٹ کی زمام ہاتھوں میں سنبھالی اور فاطمہ معصومہ (ص) اہل قم کے عشق اہلبیت سے لبریز سمندر کے درمیان وارد ہوئیں ۔ موسیٰ بن خزرج کے ذاتی مکان میں نزول اجلال فرمایا ۔ 

*غروب غمگین*

بی بی مکرمہ نے ۱۷ دن اس شہر امامت و ولایت میں گزارے، مسلسل مشغول عبادت رہیں اور اپنے پروردگار سے راز و نیاز کرتی رہیں اس طرح اپنی زندگی کے آخری ایام بھی خضوع و خشوع الٰہی کے ساتھ بسر فرمائے ۔ آخر کار وہ ذوق و شوق نیز وہ تمام خوشیاں جو کوکب ولایت کے آنے اور دختر فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کی زیارت سے اہل قم کو میسر ہوئی تھیں یکایک نجمہ عصمت و طہارت کے غروب سے حزن و اندوہ کے سمندر میں ڈوب گئیں لقاء الله کے لئے بے قرار روح قفس خاکی سے بسوئے افلاک پرواز کرگئی. سیده نے دعوت حق کو لبیک کہی اور عاشقان امامت و ولایت عزادار ہوگئے ۔

یہ سنہ 201 ہجری کا واقعہ ہے. سلام ہو اسلام کی اس عظیم المرتبت خاتون پر روز طلوع سے لے کر لمحہ غروب تک.

سلام و درود معصومہ سلام اللہ علیہا کی روح تابناک پر جن کے حرم منور نے قم کی ریگستانی سرزمین کو نورانیت بخشی. سلام ہو دنیا کی خواتین کی سیدہ (س)، مہر محبت کے پیامبروں کی لاڈلی پر، دختر سرداران جوانان جنت پر.

اے فاطمہ! روز قیامت ہماری شفاعت فرما، کہ آپ اللہ تعالی کی بارگاہ میں خاص مقام و منزلت کی مالک ہیں.

ہاں بی بی معصومہ سلام اللہ علیہا نے حضرت زینب علیا مقام سلام اللہ علیہا کی طرح اپنے پر برکت سفر میں حقیقی پیشواؤں کی حقانیت کے سلسلے میں امامت کی سند پیش کردی اور مأمون کے چہرے سے مکر و فریب کی نقاب نوچ لی۔ قہرمان کربلا کی طرح اپنے بھائی کے قاتل کی حقیقت کو طشت از بام کردیا ۔ فقط فرق یہ تھا کہ اس دور کے حسین علیہ السلام کو مکر و فریب کے ساتھ قتلگاہ بنی عباس میں لے جایا گیا تھا ۔ اسی اثناء میں تقدیر الٰہی اس پر قائم ہوئی کہ اس حامی ولایت و امامت کی قبر مطہر ہمیشہ کے لئے تاریخ میں ظلم و ستم اور بے انصافی کے خلاف قیام کا بہترین نمونہ اور ہر زمانے میں پیروان علی علیہ السلام کے لئے ایک الہام الٰہی قرار پائے۔ آپ (س) جیسوں کی موت شہادت نہ ہو تو کیا ہو؟

آپ (س) نے خاندان پیغمبر صل اللہ علیہ و آلہ کے چند افراد اور محبان اہلبیت کے ہمراہ مدینے سے سفر کر کے ثابت کردیا کہ ہر زمانے میں حقیقی اور خالص محمدی اسلام کے تربیت یافتہ جیالوں نے مادی و طاغوتی طاقتوں کے سامنے حق کا اظہار کیا ہے۔ جیسا کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے یزید کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر فرمایا ” انی استصغرک “ میں تجھے حقارت کی نگاہ سے دیکھتی ہوں اور تجھے بہت ذلیل و رسوا سمجھتی ہوں ۔

*تدفین کی رسومات*

شفیعہ روز جزا کی وفات حسرت آیات کے بعد ان کو غسل دیا گیا ۔ تدفین پہنایا گیا پھر قبرستان بابلان کی طرف آپ کی تشییع کی گئی ۔ لیکن دفن کے وقت مَحرم نہ ہونے کی وجہ سے آل سعد مشکل میں پھنس گئے. آخر کار ارادہ کیا کہ ایک ضعیف العمر بزرگ اس عظیم کام کو انجام دیں، لیکن وہ بزرگ اور دیگر بزرگان اور صلحائے شیعہ اس امر عظیم کی ذمہ داری اٹھانے کے لائق نہ تھے کیونکہ معصومہ اہل بیت (س) کے جنازے کو ہر کوئی سپرد خاک نہیں کرسکتا تھا۔ لوگ اسی مشکل میں اس ضعیف العمر بزرگ کی آمد کے منتظر تھے کہ ناگہاں لوگوں نے دو سواروں کو آتے ہوئے دیکھا وہ ریگزاروں کی طرف سے آرہے تھے۔ جب وہ لوگ جنازے کے نزدیک پھنچے تو نیچے اترے اور کچھ کہے سنے بغیر نماز جنازہ پڑہی اور اس ریحانہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے جسد اطہر کو داخل سرداب دفن کردیا ۔ اور کسی سے گفتگو کئے بغیر سوار ہوئے اور واپس چلے گئے اور کسی نے بھی ان لوگوں کو نہ پہچانا ۔

*حضرت آیة اللہ العظمیٰ شیخ محمد فاضل لنکرانی* (رہ) فرماتے ہیں کہ بہ امر بعید نہیں ہے کہ یہ دو بزرگوار دو امام معصوم رہے ہوں کہ جو اس امر عظیم کی انجام دہی کے لئے قم تشریف لائے اور چلے گئے۔

سیدہ معصومہ (س) کو دفن کرنے کے بعد موسیٰ بن الخزرج نے حصیر و بوریا کا ایک سائبان قبر مطہر پر ڈال دیا وہ ایک مدت تک باقی رہا ۔ مگر حضرت زینب بنت امام محمد تقی الجواد علیہ السلام قم تشریف لائیں تو  انہوں نے مقبرے پر اینٹوں کا قبہ تعمیر کرایا ۔

▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️

معرفت امام زمانہ عج

🌼🌸معرفتِ امام زمانہ عج🌼🌸


 قسط نمبر 23

 امام زمانہ عج سے مدد طلب کرنا

یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم وقت کے حاکم یعنی یوسفِ زہرا عجل اللہ فرجہ الشریف سے مدد طلب کریں اور وہ ہماری مدد نا فرمائیں۔
جب جب شیعت کو خطرہ لاحق ہوا تب تب امام عج نے اپنے شیعوں کی مدد فرمائی ۔ 
یہاں ہم بحرین کے شیعوں کا واقعہ بیان کریں ۔

بحرین کے شیعوں پر ایک ناصبی حکومت کرتا تھا جس کا وزیر بھی شیعوں کا دشمن تھا ۔ اس نے ایک روز بادشاہ کے حضور میں ایک انار پیش کیا جس پر لکھا تھا
 *لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ و ابوبکر و عمر و عثمان و علی خلیفۃ اللہ* 
بادشاہ نے جب انار دیکھا تو تعجب کا اظہار کیا اور کہا کہ تو سرا سر شیعہ مذہب کے خلاف واضح اور آشکار دلیل ہے اب تمہارا بحرین کے شیعوں کے بارے میں کیا نظریہ ہے ۔

وزیر نے کہا  انہیں حاضر کریں ۔ یہ نشانی انہیں دکھائیں اور انہیں کہیں کہ اپنا مذہب چھوڑ دیں ورنہ تین چیزوں میں سے ایک کا انتخاب کریں ۔
1 ۔ اطمینان بخش جواب دیں 
2۔ یا ان سے جزیہ ادا کریں 
3۔ یا ان کے مردوں کو قتل کر دیا جائے اور عورتوں اور بچوں کو قید کر کہ ان کی مال و دولت کو غنیمت میں لے لیں ۔

بادشاہ نے اس رائے کو قبول کیا اور شیعہ علماء کو بلایا اور ان کے سامنے وہ انار پیش کیا اور کہا کہ اگر تم واضح دلیل نا پیش کر سکے تو تمہیں قتل کر دوں گا اور عورتوں اور بچوں کو قید کر کہ مال و دولت کو غنیمت میں لے لوں گا۔ 
شیعہ علماء نے تین دن کی مہلت مانگی ۔ بحرین کے دس صالح علماء کا انتخاب کیا گیا اور ان دس نے اپنے میں سے تین علماء کا انتخاب کیا
چنانچہ ایک عالم سے کہا کہ آپ صحرا کی جانب نکل جائیں اور امام عج سے استغاثہ کریں اور ان سے اس مصیبت سے نجات کا راستہ معلوم کریں کیونکہ وہی ہمارے امام اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں وسیلہ ہیں۔
چنانچہ ایسا ہی ہوا لیکن ملاقات نا ہو سکی 
دوسرے دن دوسرے عالم کو بھیجا گیا انکی ملاقات بھی نا ہو سکی
آخری رات تیسرے عالم بزرگوار بنام محمد بن عیسیٰ کو بھیجاگیا چنانچہ وہ بھی صحرا کی طرف نکل گئے اور روتے پکارتے ہوئے امام  عج سے مدد طلب کی۔ 
جب رات اپنی آخری منزل پر پہنچی تو انھوں نے سنا کہ کوئی شخص ان سے مخاطب ہو کر کہہ رہا ہے: 
...اے محمد بن عیسیٰ! میں تمہیں اس حالت میں کیوں دیکھ رہا ہوں اور تم جنگل و بیابان میں کیوںآئے ہو؟
محمد بن عیسیٰ نے ان سے کہا کہ مجھے اپنے حال پر چھوڑ دو.
 انھوں نے فرمایا: اے محمد بن عیسیٰ! میں تمہارا *صاحب الزمان* ہوں، تم اپنی حاجت بیان کرو! 
محمد بن عیسیٰ نے کہا: اگر آپ ہی صاحب الزماں ہیں تو پھر میری حاجت بھی آپ جانتے ہیں مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ 
فرمایا: *تم صحیح کہتے ہو، تم اپنی مصیبت کی وجہ سے یہاں آئے ہو۔*
 انہوں نے عرض کی: جی ہاں، آپ جانتے ہیں کہ ہم پر کیا مصیبت پڑی ہے، آپ ہی ہمارے امام اور ہماری پناہ گاہ ہیں۔
اس کے بعد امام عج نے فرمایا: 
 *اے محمد بن عیسیٰ! اس وزیر (لعنة اللہ علیہ) کے گھر میں ایک انار کا درخت ہے، جس وقت اس درخت پر انار لگنا شروع ہوئے تو اس نے انار کے مطابق مٹّی کا ایک سانچا بنوایااور اس کو دو حصو ں میں تقسیم کر دیا اور اس پر یہ جملے لکھے اور پھر ایک چھوٹے انار پر اس سانچے کو چڑھادیا اور جب وہ انار بڑا ہوگیا تو وہ جملے اس پر کندہ ہوگئے!* 
 *تم اس بادشاہ کے پاس جانا اور اس سے کہنا کہ میں تمہارا جواب وزیر کے گھر جاکر دوں گا اور جب تم وزیر کے گھر پہنچ جاؤ تو وزیر سے پہلے فلاں کمرے میں جانا! اور وہاں ایک سفید تھیلا ملے گا جس میں وہ مٹّی کا سانچا ہے، اس کو نکال کر بادشاہ کو دکھانا* اور دوسری نشانی یہ ہے کہ:
 بادشاہ سے کہنا: *ہمارا دوسرا معجزہ یہ ہے کہ جب انار کے دو حصے کریں گے تو اس انار میں مٹّی اور دھوئیں کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہوگی!* 
محمد بن عیسیٰ ، امام عليہ عج کے اس جواب سے بہت خوش ہوئے اور شیعہ علماء کے پاس لوٹ آئے.
 دوسرے روز وہ سب بادشاہ کے پاس پہنچ گئے اور جو کچھ امام عليہ السلام نے فرمایا تھا اس کو بادشاہ کے سامنے واضح کردیا۔
علامہ مجلسی لکھتے ہیں کہ بحرین کے بادشاہ نے اس معجزہ کو دیکھا تو مذہب شیعہ اختیار کرلیا اور حکم دیا کہ اس مکّار وزیر کو قتل کردیا جائے''۔ 
(📗بحار الانوار,ج52،ص 178)

جاری ہے۔۔۔۔۔

جوان اور انصاف

💥جوان اور انصاف پسندی💥

📌عدل و انصاف ایسے بنیادی مطالب میں سے ایک ہے جو حتی جوانی سے پہلے بھی سمجھ آ جاتا ہے اور اس کا فطری ہونا ایک واضح سی بات ہے. جوان انصاف پسندی کے عروج پر ہوتا ہے. اور اگر وه شدید قسم کی خودغرضی کا شکار نہ ہوا ہو تو وه پوری دنیا کے لیے عدل و انصاف کا خواہاں ہوتا ہے.

*✅ظلم سے مقابلہ اور تعصب سے دوری* دو ایسی صفات ہیں جو جوان میں آسانی سے دیکھی جا سکتی ہیں اور یہ دو جوان کی مسلمہ خصوصیات میں سے ہیں.

⚠️اب اگر یہ جوان اپنی انصاف پسندی کو کسی جگہ پر پامال ہوتے ہوئے دیکھے تو مایوسی کا شکار ہو جائے گا اور کیا پتہ کہ شاید وه ظالموں کے گروه میں شامل ہو جائے یا کم از کم بے غیرتی کا شکار بے حس لوگوں میں شامل ہو جائے!

❄️انتظار ایک ایسی چیز ہے جو جوان کی انصاف پسندی کی صفت کو جہت اور اسے ایک عدل و انصاف سے بھرپور معاشرے کی طرف حرکت دے سکتا ہے، اور ایسے معاشرے کی تشکیل کے لیے اس کی کوششوں کو مزید بڑھا سکتا ہے.

💠ایک ایسا معاشره جس میں بے عدالتی کا دور دور تک کوئی نشان نہ ہو وه عدل و انصاف کے متلاشی جوانوں کو اپنا گرویده بنا سکتا ہے. ایک ایسا معاشره جہاں سب کو اپنے حقوق حاصل ہوں گے اور وه اپنے اندر موجود صلاحیتوں کو عملی ہوتا دیکھیں گے، حتی ایسے معاشرے کا تصوّر بھی ایک جوان کے لیے لذت بخش ہے.

🌷انتظار ایک جوان کی انصاف پسندی کی صفت کی پرورش کر سکتا ہے اور اجتماعی سطح کی انصاف پسندی اس جوان کی باطنی عدل و انصاف کی پختہ عادت کو تقویت عطا کر سکتی ہے.

حجت الاسلام علی رضا پناهیان

#مهدویت
#جوانی_اور_انتظار 
#عوامانہ_عالمانہ_عارفانہ_انتظار 
#اللهم_عجل_لولیک_الفرج

معرفت امام زمانہ عج

🌼🌸 معرفتِ امام زمانہ عج 🌼🌸

قسط نمبر 22

 امام عج سے مدد مانگنا
امام زمانہ عج اگر چہ پردہ غیبت میں ہیں مگر وہ ہم پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔اپنے شیعوں کی مشکلات کو حل کرتے ہیں۔

 *امام زمانہ عج* مرحوم شیخ مفید رح کی طرف ایک توقیع میں فرماتے ہیں:
 *"ہم تمہاری خبروں اور  حالات سے آگاہ ہیں اور تمہاری کوئی بھی چیز ہم پر پوشیدہ اور مخفی نہیں ہے ہم نے تمہارے امور کے حل کرنے اور تمہاری سرپرستی میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے اور تمہیں بھلایا نہیں ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو مشکلات اور مصیبتیں تم پر نازل ہوجاتیں اور دشمن تم کو نیست و نابود کردیتے* .
.(📗حتجاج طبرسی جلد۲ ص ۵۹۸، باب توقیعات)

پہلی جنگ عظیم کے دوران کہ جب ایران انگریز اور روسی افواج کے قبضہ میں تھا اور ان کے ایران کی مظلوم ملت پر حملے عروج پر تھے تو یہ حالات دیکھ کر عالم تشیع کے مرجع  *آیت اللہ العظمی نائینی* قدس سرہ شیعوں کے حوالے سے بہت پریشان اور متفکر رہا کرتے تھے.

ایک رات انہوں نے امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف سے توسل کیا اور گریہ و توسل کی حالت میں سوگئے تو عالم خواب میں دیکھا کہ ایران کے نقشہ کی شکل میں ایک بہت بڑی دیوار گرنے کے قریب ہے اور عورتوں اور بچوں کی ایک جماعت اس کے نیچے بیٹھے ہوئے ہیں.
 یہ منظر ایسا ھولناک تھا کہ انہوں نے خواب کی حالت میں فریاد بلند کی اور  اسی حالت میں دیکھا کہ *امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف* تشریف لائے ہیں اور اپنی مبارک انگلی کو دیوار کی طرف کیا اور اسے اپنی جگہ پر قائم کیا اور فرمایا *یہ شیعوں کی جگہ ہمارا گھر ہے ٹوٹ جائے خم ہوجانے کا  خطرہ ہے لیکن ہم اسے گرنے نہیں دیں گے اور سنبھال کر رکھیں گے.* 

(📗عنایات حضرت مہدی بہ علماء و طلاب محمد باقر اصفہانی حکایت 151 ص 315)

اسی طرح سید ابوالحسن اصفہانی نے جب امام عج کے وجود کا یقین دلانا تھا تو امام عج نے ان کی مدد فرمائی اور ان سے ملاقات بھی کی۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

معرفت امام زمانه عج

🌼🌸 معرفتِ امام زمانہ عج🌼🌸
 قسط نمبر  21
 امام عج سے مدد مانگنا
جب انسان کسی سے محبت کرتا ہے تو اسے اپنی خوشی اور غم میں شریک کرتا ہے ،اپنے محبوب کو ہر حال میں یاد رکھتا ہے اور اسے اپنے دکھ سناتا ہے۔

اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمنُوْا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْ وَاتَّقُوْ اللہَ لَعَلَكُمْ تُفْلِحُوْنَ۔

(سورہ آل عمران آیت ۲۰۰)


اسی آیت كے ذیل میں حضرت *امام جعفر صادق علیہ السلام* نے فرمایا:

 *اِصْبِرُوْا عَلٰی اَدَائِ الْفَرَائِضُ وَ صَابِرُوْا اَعْلَی الْمَظَالِم۔ وَ رَابِطُوْا اِمَامُكُمْ اَلْمُنْتَظَرَ‘‘* 

(📗الحجہ فیما كشف الحجۃ تصنیف سید ہاشم بحرانی تفسیر برہان ص334 )

امام ؑ نے فرمایا :
 *’’واجبات كی ادائیگی میں ہونے والی تكالیف پر صبر كرو۔ دشمنوں كے مظالم پر صبر كركے صابروں میں شمار ہو اور ہمیشہ اپنے امام وقت سے راطبہ قائم ركھو۔‘‘*


عزیزان محترم!
امام امت کا باپ ہوتا ہے اور امت اسکی اولاد
سوچیئے اگر ہماری اولاد ہمارے سامنے كسی اور سے اپنی حاجتوں كو بیان كرے اور ہم سے نہ كہے تو ہمیں اور آپ كو كتنا خراب محسوس ہوگا۔ سوچئے اور آئیے آج ہی سے ہم اور آپ عمل پیرا ہوجائیں كہ اس امت كے باپ پر كیا گذرتی ہوگی جب ہم ان كے چاہنے والے ان كے شیعہ در در كی ٹھوكریں تو كھائیں لیكن مشكلات كا حل اس سے نہ چاہیں۔ اسی سلسلہ میں ائمہ معصومینؑ سے نقل كردہ دعاؤں كا بھی سہارا لینا چاہئے ورنہ نہیں تو اپنی سادہ زبان میں امام سے عرض كریں۔ وہ امام جو زمانہ غیبت صغریٰ میں اپنے شیعوں كی بغیر سیاہی سے لكھی ہوئی حاجتوں كا جواب دے دیا كرتا تھا۔ كیا وہ ہماری زبان میں عرض كئے گئے مسائل كا حل نہیں دے گا۔ شرط یہ ہے كہ ہم اس یقین سے مانگیں كہ اگر ہمارے لئے بہتر ہوگا تو اس سے بڑھ كر دینے والا كوئی نہیں۔ یقینا وہ ہمارے ولادین سے زیادہ ہم سے محبت كرتا ہے۔ ہمیں نقصان دہ چیزیں عطا كركے اور مسائل میں نہیں مبتلا ہونے دے گا۔ كون ایسا باپ ہے جو قدرت و طاقت ركھتے ہوئے اپنے بچوں كو جائز ضروریات كو پورا نہ كرے۔ اور پھر امام عصر عج كے جیسا شفیق و مشفق باپ ضرور پورا كرے گا💖۔

امام بے آسرا اور بے پناہ لوگوں کی فریاد کو پہنچتے ہیں.بہت سے لاچار اور گمشدہ لوگ حضرت کی لطف و عنایت کے ساتھ نجات پاتے ہیں کہ ان واقعات کو لکھنے اور نقل کرنے بیٹھ جائیں تو سیکنڑوں جلد کتاب تیار ہوجائے گی۔

ایک قابل اعتماد شخص نقل کرتے ہیں کہ:  میں تعلیمی حوالے سے ایک یورپی ملک میں مشغول تھا میرے محل سکونت اور یونیورسٹی کے درمیانی فاصلہ میں سوائے ایک بس کے کوئی اور ذریعہ آمد و رفت نہ تھا. 
جب میں آخری امتحان کے لئے یونیورسٹی روانہ ہوا یک دم وسط راہ میں بس خراب ہوگئی ،ڈرائیور کی ہر سعی و کوشش بھی بیکار گئی ،کوئی اور ذریعہ بھی نہ تھا. 
میں مضطرب اور ناامید ہوگیا کہ ایک دم میرے ذہن میں کوند سی لپکی کہ جب ہم ایران میں ہوتے تھے تو مشکلات میں " *امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف "سے توسل کرتے تھے.* 
 میرے دل ٹوٹ سا گیا اور آنسو جاری ہوگئے میں نے اپنے آپ سے کہا : *اے بقیۃ اللہ عج اگر آج میری مشکل حل کردیں تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ ہمیشہ اول وقت نماز پڑھوں گا۔* 
کچھ دیر بعد کوئی شخص آیا اس نے ڈرائیور کے ساتھ کوئی بات کی اور بس کے انجن کو کچھ کیا اور کہا سٹارٹ کرو جیسے ہی ڈرائیور نے سٹارٹ کی,ا گاڑی درست سٹارٹ ہوگئی. میں بے پناہ خوش اور جلدی میں تھا , بالکل اس شخص کی طرف متوجہ نہ ہوا جیسے ہی گاڑی چلنے لگی, اس شخص نے میرا نام لیکر مجھے پکارا اور کہا *:جو ہم سے وعدہ کیا ہے اسے بھولنا نہ ...* 
(📗سابقہ ماخذ ص 244)

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

انسانی سعادت

💎انسانی سعادت کے کچھ عناصر💎

✨امیرالمؤمنین علیؑ ابن ابی طالبؑ نے رسول اللهؐ سے نقل فرمایا:

📌أربَعةٌ مِن سَعادَةِ المَرءِ
جس کے پاس یہ چار چیزیں ہوں وه ان چیزوں کو اپنے لیے سعادت سمجھے.

🔹لہذا اگر یہ چیزیں پہلے سے اس کے پاس موجود ہوں تو ضروری ہے کہ وه ان کی حفاظت کرے اور قدر کرے؛ اور ساتھ ہی ساتھ اپنے پاس موجود چیزوں میں اور وه چیزیں جو اسے حاصل نہیں ان کی صحیح طرح سے درجہ بندی کرے اور ان چار چیزوں کے حصول کی کوشش کرے کیونکہ یہ سعادت ہیں.

👈البتہ انسان کی سعادت انہیں چار چیزوں پر منحصر نہیں لیکن یہ انسانی سعادت کو تشکیل دینے والے عناصر میں شامل ہیں. وه چار چیزوں یہ ہیں:

📌الخُلَطاءُ الصّالِحُونَ،
ان میں سے پہلی چیز یہ ہے کہ وه افراد جن کے ساتھ انسان کو اجتماعی طور پر اٹھنا بیٹھنا اور آنا جانا ہوتا ہے وه صالح افراد ہوں.

🚦یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ انسان اپنے ہمسائے، ساتھ اٹھنے بیٹھنے والے، کام کاج کے ماحول اور معاشرے میں دوستی کے حوالے سے ہوشیار رہے.

⚠️کچھ لوگ غیر صالح افراد کے ساتھ ملتے جلتے اور اٹھتے بیٹھتے ہیں جس کا نتیجہ غلط چیزوں کو معیار بنا لینا نکلے گا.

👈اگر آپ ایک ایسے ماحول میں ہیں جہاں آپ کے دوست، ساتھی یا جن کے ساتھ خاندانی، دوستانہ یا کام کاج کی وجہ سے رفت و آمد رہتی ہے، وه صالح افراد ہیں تو یہ آپ کی سعادتوں میں سے ایک سعادت ہے. اس کا خیال رکھیں. اگر آپ کو یہ چیز پہلے سے میسر ہے تو اس کی حفاظت کریں اور اگر نہیں تو پھر اس کی تلاش میں رہیں.

📌و الوَلَدُ البارُّ،
دوسری چیز نیک اولاد کا ہونا ہے جو والدین کے ساتھ نیکی کرنے والی ہو.

🔹یہ بھی انسان کی سعادتوں میں سے ایک سعادت ہے کہ اولاد اس کے حق میں نیکی کرے. یہ خود اولاد کے نیک ہونے سے جدا بات ہے جو خود بھی ایک دوسری نعمت ہے.

🔸اگر آپ کی اولاد ہے اور وه آپ کے ساتھ نیکی کرتی ہے تو آپ اس بات کی قدر جانیں اور اس کی حفاظت کریں؛ اور اگر ایسا نہیں تو ایسے مقدمات فراہم کریں کہ اولاد آپ کے ساتھ نیکی سے پیش آئے.

📌و المَرأةُ المُؤاتِيَةُ،
تیسری چیز بنا کر رکھنے والی بیوی کا ہونا ہے.

👈اگر بیوی کی شوہر سے نہ بنے تو پھر بہت مشکل ہو جاتی ہے. گھر میاں اور بیوی کے آپس میں خوشگوار تعلقات سے سکون کا گہواره بنتا ہے.

👈البتہ یہاں "المرأة المواتیه" کہا گیا ہے لیکن خواتین کے لیے "المرء المواتی" و "البعل المواتی" ہے یعنی شوہر بھی بنا کر رکھنے والا ہونا چاہیے کیونکہ کبھی شوہر بھی تو بگاڑ کرتا ہے!

📌و أن تَكونَ مَعِيشَتُهُ في بَلَدِهِ
انسانی سعادتوں میں سے ایک سعادت یہ بھی ہے کہ اس کا کام کاج اور آمدنی کا ذریعہ اس کے اپنے شہر میں ہو.

💭یہ چار چیزیں وه ہیں جو انسان کی معمول کی زندگی کو سعادتمند بناتی ہیں البتہ روحانی، الہی اور اخروی سعادتیں تو کچھ اور ہی چیزیں ہیں!

25 جنوری، 2005 کو فقہ کے درس خارج کی ابتداء میں آیت الله خامنہ ای کی جانب سے پیش کی جانے والی احادیث کی تشریح سے اقتباس

#احادیث_کی_تشریح
#احادیث_کی_تشریح_رہبر_معظم - 45
 #کتاب_النوادر_کی_منتخب_احادیث - 45

معرفت امام زمانه عج

🌼🌸 معرفتِ امام زمانہ عج🌼🌸

قسط نمبر 20

 امام زمانہ عج کی راہ میں پیسہ خرچ کرنا

ہر وہ کام جس سے امام عج خوش ہوں اس میں پیسے خرچ کرنا ایک محبوب عمل ہے ۔
اس سے ناصرف دلوں میں امام عج کی محبت پیدا ہوتی ہے بلکہ بہت سے افراد امام عج کی طرف مائل ہوتے ہیں۔
مثال کے طور پر اگر آپ کسی غریب کو پیسے دیں اور وہ آپ کا شکریہ ادا کرے تو آگے سے آپ کہیں کہ : *عزیزم آپ صرف ہمارے امام عج کے ظہور میں تعجیل کی دعا کر دیں*
تو اس شخص کا عقیدہ آپ سے نا بھی ملتا ہوا تو وہ ضرور یہ سوچنے پر مجبور ہو جائے گا کہ آخر وہ کون ہے جس کے ظہور کے لیے یہ لوگ بے چین ہیں۔
یہی سوچ اسے امام عج کی طرف مائل کر سکتی ہے اور آپکا مقصد بھی پورا ہو سکتا ہے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا
 ’’ *ایك درہم امام ؑ كے لئے خرچ كرنا۔ دوسرے تمام كاموں میں دو ملین درہم خرچ كرنے سے بہتر ہے۔‘‘* 
(📗اصول كافی ج 2ص 154 حدیث نمبر 28)

ایک اور موقع پر حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا 
 *’’خداوند عالم كے نزدیك اتنی محبوب نہیں ہے جتنا بندہ مؤمن كا امام كی راہ میں اخلاص كے ساتھ درہم كا خرچ كرنا ہے خداوند عام اس درہم كو روز قیامت میں جنت میں كوہ احد بنا دیگا۔*
📗اصول کافی ج 2 ص 154 حدیث نمبر 28

اسی حوالے سے آیت اللہ سید محمد تقی موسوی اصفہانی كتاب مكیال المكارم ج ۲ ص ۳۵۷ (فارسی) میں ارشاد فرماتے ہیں۔ 
 *’’امام ؑ كے لئے خرچ كرنا غیبت كے زمانے میں یعنی ایسے مصارف میں خرچ كرنا ہے جو حضرت صاحب الزمان ؑ كی خوشی رضا اور محبت كا سبب ہو۔مثلاً كتاب كا چھانپنا خصوصاً حضرت كے بارے میں۔ حضرت كی یاد میں مجلسیں برپا كرنا بہترین عمل ہے*

ان سب کاموں کے ذریعے آپ پیسے خرچ کریں گے تو ناصرف آپکو عظیم اجر ملے گا بلکہ بہت سے لوگ امام عج کی معرفت حاصل کر سکیں گے۔
یاد رکھیے جب امام عج کی معرفت ہر طرف عام ہو گئ تو ان کے سپاہی بہت جلد تیار ہو جائیں گے پھر ظہور کی راہیں آسان ہو جائیں گی۔

میں نے ایک شخص کا واقعہ پڑھا جو لوگوں کے بیگ سلائی کرتا تھا اس نے تقریباً ہزار بیگ مفت سلائی کر کہ دیے ۔ جب کوئی اسے معاوضہ دینے لگتا تو اسکا جواب آتا کہ آپ میرے امام عج کے لیے سو مرتبہ درود پڑھ دیں۔
سوچیئے کہ اس شخص نے اس چھوٹے سے کام کے ذریعے کتنا بڑا کردار ادا کیا ہے۔ 
کتنے ہی لوگوں کے دلوں میں اس جمال دلربا کو دیکھنے کی تڑپ پیدا ہوئی ہو گی جس کے کیے ایک غریب شخص اتنا بڑا کردار ادا کر رہا ہے💖
عزیزان !
ہم بھی ایسے کر سکتے ہیں کیونکہ
 *معشوق کے لیے عاشق کچھ بھی کر سکتا ہے*💖

جاری ہے۔۔۔۔

معرفت امام زمانہ عج

🌼🌸 معرفتِ امام زمانہ عج 🌼🌸


 قسط نمبر 19

غیبت کبریٰ میں منتظرین کی ذمہ داری ہے کہ وہ حضرت حجت عج کے ظہور میں تعجیل کی دعا کثرت سے کریں
کیونکہ خود وارث زمانہ عج کا ارشاد گرامی ہے کہ :
 *"ظہور میں تعجیل کے لیے بہت زیادہ دعا کرو کیونکہ تمہارے امور کی کشائش اسی میں ہے"*
 علاوہ ازیں دعا فرج کی تلاوت کی تاکید کی گئی ہے جو اکثر دعاؤں کی کتابوں میں درج ہے۔
 *الہیٰ عظم البلاء و برح الخفا* ۔۔۔۔۔۔۔۔.

کتب کا مطالعہ کریں تو معلوم ہو گا کہ حضرت حجت عج کی جتنے لوگوں سے ملاقات ہوئی انہیں دعا فرج کرنے کو کہا ۔ 
وہ عالی مقام عج  خود اپنے ظہور کے لیے بہت بے چین ہیں مگر یہ ہم ہیں جو ابھی تیار نہیں اور ان کے ظہور میں رکاوٹ بن رہے ہیں💔😔

👈🏻منتظرین مھدی عج ہر روز صبح اپنے وقت کے امام عج سے عہد کرتے ہیں کہ وہ انکی بیعت سے نہیں مکریں گے اور انکی نصرت ہمہ وقت کرتے رہیں گے۔ اس مقصد کے لیے وہ دعائے عہد کی تلاوت کرتے ہیں ۔

👈🏻✨یومِ جمعہ یوم متوقع ظہور امام زمانہ عج ہے ۔
یہ عاشقوں کا دن ہے جب وہ اپنے معشوق کے لیے تڑپتے ہیں ۔روتے ہیں اور انہیں پکارتے ہیں کہ آ جائیے آپ کے بغیر جینا مشکل ہے ۔
👈🏻یعنی منتظرینِ مھدی عج یوم جمعہ کو دعائے ندبہ پڑھتے ہیں اور اپنے امام عج کو پکارتے ہیں ❤️

👈🏻💖عاشقوں کو اپنے معشوق سے بڑھ کر کچھ عزیز نہیں ہوتا۔وہ اپنے معشوق کی سلامتی کے لیے بہت کچھ کرتے ہیں ۔ 
اگر معشوق سامنے ہو تو سینہ سپر بن کر اس کی حفاظت کرتے ہیں اور اگر معشوق نظروں سے اوجھل ہو تو اس کی سلامتی کے لیے صدقہ دیتے ہیں ۔
👈🏻امام زمانہ عج کے منتظر اپنے امام عج کی سلامتی کی دعائیں کرتے ہیں اور انکی سلامتی کے لیے صدقہ دیتے ہیں
صدقہ بذات خود ایک محبوب عمل ہے اور سلامتی امام عج کی نیت سے اس کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ:
 *" اللہ کے نزدیک امام علیہ السلام کے لیے مال خرچ کرنے سے زیادہ محبوب چیز اور کوئی نہیں ہے تحقیق جو مومن اپنے مال سے ایک درہم امام علیہ السلام کی خاطر خرچ کرے خداوند بہشت میں اُحد کے پہاڑ کے برابر اسے اس کا بدلہ دے گا۔"* 
(📗اُصول کافی ج 1ص 735)

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

معرفت امام زمانہ عج

🌼🌸 معرفتِ امام زمانہ عج🌼🌸

قسط نمبر18
 
🌼🌼فلسفہ انتظار

پچھلے دروس میں ہم نے بیان کیا کہ منتظرین مھدی عج کی ذمہ داریاں یہ ہیں کہ وہ اپنے وقت کے امام کی معرفت حاصل کریں اور انہیں اپنے اعمال و افکار میں نمونہ عمل قرار دیں۔ 

آج بھی ہم منتظرین کی ذمہ داریوں پر بحث کریں گے ۔

عزیزان محترم !
منتظرین مھدی کے دل میں یہ آرزو پیوستہ ہوتی ہے کہ عادلانہ الٰہی حکومت جلد از جلد قائم ہو۔ اس مقصد کے لیے وہ امام عج کی نصرت کرتے ہیں یعنی ایسے اقدامات کرتے ہیں جس سے لوگ اس عظیم حکومت کے لیے آمادہ ہو سکیں اس کے لیے انقلاب ایران کی مثال آپ کے سامنے ہے ۔
لوگوں کو آمادہ کرنے سے پہلے ہمیں خود کو آمادہ کرنا ہو گا ۔اپنے آپ سے سوال کرنا ہو گا کہ کیا ہم امام عج کی حکومت کے لیے تیار ہیں ۔ 
یہ بات تو طہ ہے کہ جب تک ہم خود دل سے آمادہ نہیں ہوں گے تب تک دوسروں کو آمادہ نا کر سکیں گے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:
 *''جو شخص یہ چاہتا ہو کہ حضرت قائم   عج  کے مدگاروں میں شامل ہو تو اسے منتظر رہنا چاہئے اور انتظار کے دوران تقویٰ اور پرہیزگاری اور اخلاق حسنہ سے آراستہ ہونا چاہیے''۔* 
(📗غیبت نعمانی ،باب11،ح ١٦،ص٢٠٧.)

امام زمانہ عج کا منتظر ان کی یاد میں مشغول رہتا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک محب اپنے محبوب کو بھول جائے۔؟
یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک عاشق اپنے معشوق کو بھول جائے؟

جب ایک شخص امام عج کی یاد میں مشغول رہتا ہے تو اس کے خیالات پاکیزہ ہو جاتے ہیں وہ آہستہ آہستہ نور کی جانب سفر کرنے لگتا ہے۔وہ ہر وقت محسوس کرتا ہے کہ امام عج اسے دیکھ رہیں ہیں تو اس اعمال درست ہونے لگتے ہیں ۔ 

 *تیری دید سے ہی ہوں گی میری آنکھیں روشن ___* 
 *تیرے خیال سے ، خواب و خیال پاک ہوئے ___*

 *دیدار کے طالب*
امام زمانہ عج کے منتظر انکے دیدار کے طالب ہوتے ہیں۔ انکی نگاہیں پاکیزہ ہوتی ہیں۔ 
جیسے ہر محب کے دل میں محبوب کو دیکھنے کی تڑپ ہوتی ہے ویسے منتظرین کے دل بھی جمال دلربا کو دیکھنے کے لیے تڑپتے ہیں۔
ایک بات یاد رکھیں امام عج کا دیدار ہمارا مقصد نہیں بلکہ انکی نصرت یعنی انکی مدد کرنا ہمارا مقصد ہونا چاہیئے۔
کیونکہ امام حسین علیہ السلام کا دیدار تو بہت سوں نے کیا تھا مگر نصرت کے لیے چند افراد خاضر ہوئے۔ 
اسی طرح وقت کے حسین عج کو دیکھنے کی تڑپ ہر دل میں موجود ہے مگر ان کی نصرت کرنا ہماری اولین ذمہ داری ہے

👈🏻ہمیں خود کو تیار کرنا ہوگا کہیں ایسا نا ہو کہ وقت کے حسین عج ہمیں پکارتے رہیں اور ہم ان سے منہ موڑ لیں😭💔

جاری ہے۔۔۔۔۔

الله کی محبت

🌷مرکز و محور: الله کی محبت🌷

📌وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلَّهِ ۗ  (سوره بقره: 165) یعنی "جو صاحب ایمان ہیں وہ سب سے بڑھ کر خدا سے محبت کرتے ہیں".

👈اس آیت کا پیغام یہ ہے کہ جو قرآنی زندگی گزارنا چاہتا ہے اس کی تمام محبتوں کا مرکز و محور خداوندِ عالم کی ذات ہے اور ضروری ہے کہ اس کی تمام محبتیں اور پسندیدگیاں الله تعالی پر ہی ختم ہوں.

📝امیرالمؤمنین علیؑ ابن ابی طالبؑ فرماتے ہیں کہ: مَن أحَبَّنا كانَ مَعَنا يَومَ القِيامَةِ ، ولَو أنَّ رَجُلاً أحَبَّ حَجَرًا لَحَشَرَهُ اللّه ُ مَعَهُ (الامالی، ص 209) یعنی "جو بھی ہمیں دوست رکھے گا وه روز قیامت ہمارے ساتھ ہو گا اور حتی اگر کوئی کسی پتھر سے بھی محبت کرے تو خدا اسے اس پتھر کے ساتھ محشور کرے گا".

❄️محبت اور پسندیدگی میں ایسے اثر کا موجود ہونا اس بات کا سبب بنتا ہے کہ مومنین خدا کے علاوه کسی کو محبوب نہ بنائیں اور اسلامی معاشرے کی محبت اور پسندیدگی کا رخ الله تعالی کی طرف ہو.

💭اس لحاظ سے غیر ایمانی معاشرے کا ایمانی معاشرے کے ساتھ فرق یہ ہے کہ غیر ایمانی معاشرے میں سینما کے فنکار اور کھیلوں کے کھلاڑی اس مجموعے اور تمدن کے ستارے ہوتے ہیں اور لوگوں کے درمیان سب سے زیاده محبوبیت کے حامل ہوتے ہیں لیکن دینی معاشرے میں جہاں پسندیدگی کا مرکز و محور خداوندِ عالم کی ذات ہے، علماء اور دینی قائدین لوگوں کی محبت کا مرکز قرار پاتے ہیں کیونکہ وه لوگوں کو خدا کی یاد دلاتے ہیں اور لوگوں کو الہی تعلیمات سکھاتے ہیں.

📚قرآنی طرز زندگی، ص 32
مؤلف: حجت الاسلام ابوالقاسم دولابی

#تفسیر_قرآن - 196
#سپاره_2_کے_منتخب_پیغامات 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

معرفت امام زمانہ عج

🌼🌸 معرفتِ امام زمانہ عج 🌼🌸

 قسط نمبر 17
 
فلسفہ انتظار :

جب ایک انسان کو امام زمانہ عج کی معرفت حاصل ہو جائے یعنی وہ ان  کے علم ،عمل ، سیرت اور ان کے مقاصد سے مکمل طور پر آگاہ ہو جائے تو وہ امام عج کو اپنے لیے نمونہ عمل قرار دیتا ہے ۔

یہ منتظرین کے فرائض میں سے ہے کہ وہ امام عج کو اپنے لیے نمونہ عمل قرار دیں ۔ایسے کام سر انجام دینے کی کوشش کریں جیسے امام عج دیتے ہیں۔ 

 *پیغمبر اکرم*  صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:

 *''خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو میری نسل میں سے قائم کو اس حال میں دیکھیں کہ ان کے قیام سے پہلے خود ان کی اور ان سے پہلے آئمہ کی اقتداء کرتے ہوں اور ان کے دشمنوں سے بیزاری کا اعلان کرتے ہو۔ ایسے افراد میرے دوست اور میرے ساتھی ہیں اور یہی لوگ میرے نزدیک میری امت کے سب سے معززو عظیم افراد ہیں''۔* 
 ( 📗کمال الدین،ج1،باب25،ح3ص535.)

اگر ہم انتظار فرج کے موضوع پر احادیث کا دقت سے مطالعہ کریں تو ہم پر واضح ہو جائے گا منتظرین مھدی عج کا مقام بہت بلند ہیں۔ یہ خدا کے چنے ہوئے خاص لوگ ہوتے ہیں
یہاں ایک بات ہم عرض کرتے چلیں کہ چنے ہوئے خاص لوگوں کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ خدا نے بس انہیں چن لیا اور وہ اپنے فرائض سر انجام دینے لگے۔ بلکہ چنے ہوئے لوگ وہ ہیں جنہوں نے پہلے اپنا کردار درست کیا۔ اپنے امام عج کی نصرت میں مشغول ہوئے ، پھر خدا نے انہیں منتحب کر لیا❤️۔ تو یہ سب ہم بھی کر سکتے ہیں۔ 

آئیے مل کر قدم بڑھائیں۔ پہلے اپنی اصلاح کریں پھر دوسروں کی ❤️

عزیزان محترم !
انتظار فرج ایک ایسی کیفیت ہے جس میں ایک منتظر اپنے *افکار و اعمال* پر نظر رکھتا ہے انہیں درست کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔
ایسا انسان آہستہ آہستہ اپنے وجود کو تاریکیوں سے نکال کر نور کی جانب لے جاتا ہے ۔ ❤️

اگر ایک شخص انتظار کی حالت میں بھی ہو اور گناہوں کا مرتکب بھی ہو تو اس کے اور امام عج کے درمیان فاصلہ بڑھتا جائے گا۔ وہ امام عج سے دور ہو جائے گا۔ 

امام ع نے فرمایا:
'' *کوئی بھی چیز ہمیں شیعوں سے جدا نہیں کرتی، مگر خود ان کے وہ (برے) اعمال جو ہمارے پاس پہنچتے ہیں جن اعمال کو ہم پسند نہیں کرتے اور نہ ہی ایسے کاموں کی ہمیں اپنے شیعوں سے توقع ہے!''۔* 
(📗 بحار الانوار ج53ص 177.)

جاری ہے۔۔۔

معرفت امام زمانہ عج

🌼🌸 معرفت امام زمانہ عج 🌼🌸

 قسط نمبر 16
 
فلسفہ انتظار :

امام زمانہ عج کے انتظار  میں ایسی تاثیر ہے کہ یہ لوگوں کے دلوں کو بدل کر رکھ دیتا ہے اور انہیں دین کی طرف لے جاتا ہے ۔ منتظرین کو اگر دیکھا جائے تو ان پر الٰہی رنگ چڑھا ہوتا ہے یعنی منتظرین مھدی ٔ ہر وہ کام سرانجام دیتے ہیں جس کا حکم خدا نے دیا اور ہر اس کام سے بچتے ہیں جس سے بچنے کا حکم خدا نے دیا۔ ❤️

منتظرین کے فرائض: 
 روایات میں امام زمانہ عليہ السلام  کے ظہور کا انتظار کرنے والوں کے بہت سے فرائض بیان کئے گئے ہیں، ہم یہاں پر ان میں سے چند اہم فرائض کو بیان کرتے ہیں

👈🏻سب سے پہلی ذمہ داری امام کی معرفت حاصل کرنا ہے
 
 انتظار کے راستے کو امام  عج کی شناخت اور معرفت کے بغیر طے کرناممکن نہیں ہے۔ 
لہٰذا امام مہدی  عج کے نام و نسب کی شناخت کے علاوہ ان کی عظمت اور ان کے رتبہ و مقام کی گہری شناخت اور آگاہی بھی ضروری ہے۔

 *''ابو نصر''* جو امام حسن عسکری عليہ السلام  کے خدمت گزار تھے، امام مہدی   عج  کی غیبت سے پہلے امام عسکری   عليہ السلام  کی خدمت میں حاضر ہوئے، امام مہدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) نے ان سے سوال کیا: *کیا مجھے پہچانتے ہو؟* 

انھوں نے جواب دیا: 
 *جی ہاں، آپ میرے مولا و آقا اور میرے مولا و آقا کے فرزند ہیں* 

امام عج  نے فرمایا: 
 *_میرا مقصد ایسی پہچان نہیں ہے؟_* 
 ابو نصر نے عرض کی: *آپ ہی فرمائیں کہ آپ کا مقصد کیا تھا؟* 

 *امام*  عج  نے فرمایا:

 *"'میں پیغمبر اسلام  صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کا آخری جانشین ہوں اور خداوندعالم میری (برکت کی) وجہ سے ہمارے خاندان اور ہمارے شیعوں سے بلاؤں کو دور فرماتا ہے''۔* 

(📗کمال الدین,ج2،باب 43 ,ص 171)
قابل ذکر ہے کہ یہ معرفت اور شناخت اتنی اہم ہے کہ معصومین علیہم السلام  کے کلام میں بیان ہوا ہے کہ اسے حاصل کرنے کے لئے خداوندعالم کی نصرت و مدد طلب کرنا چاہئے۔

 *حضرت امام صادق* عليہ السلام  نے فرمایا:  
 *''حضرت امام مہدی  عج  کی طولانی غیبت کے زمانہ میں باطل خیال کے مالک لوگ (اپنے دین اور عقائد میں) شک و تردید میں مبتلا ہوجائیں گے۔* 
امام عليہ السلام کے خاص شاگرد جناب زرارہ نے کہا: آقا اگر میں اس زمانہ میں ہوا تو کونسا عمل انجام دوں؟
امام صادق  عليہ السلام نے فرمایا: اس دعا کو پڑھو:

'' *اَللّٰہُمَّ عَرِّفْنِی نَفْسَکَ فَاِنَّکَ ان لَم تُعَرِّفْنِی نَفْسَکَ لَم اَعْرِف  نَبِیَّکَ، اَللّٰہُمَّ عَرِّفنِی رَسُوْلَکَ فَانَّکَ ان لَم تُعَرِّفنِی رَسُولَکَ لَمْ اَعْرِفْ حُجَّتَکَ، اَللّٰہُمَّ عَرِّفنِی حُجَّتَکَ فَاِنَّکَ ان لَم تُعَرِّفْنِی حُجَّتَکَ ضَلَلتُ عَنْ دِیْنِی''* 
 *ترجمہ :* 
''پرودگارا! مجھے تو اپنی ذات کی معرفت عطا کرکہ اگر تو نے مجھے اپنی ذات کی معرفت عطا نہ کی تو میں تیرے نبی کو نہیں پہچان سکوں گا۔ 
پرودگارا! تو مجھے اپنے رسول کی معرفت عطا کرکہ اگر تو نے اپنے رسول کی پہچان نہ کروائی تو میں تیری حجت کو نہیں پہچان سکوں گا.
پروردگارا! تو مجھے اپنی حجت کی معرفت عطا کر کہ اگر تو نے مجھے اپنی حجت کی پہچان نہ کروائی تو میں اپنے دین سے گمراہ ہوجاؤں گا''۔

(📗غیبت نعمانی,باب 10 ,حدیث 3،ص 170)

جاری ہے۔۔۔

معرفت امام زمانہ عج

🌼🌸 معرفتِ امام زمانہ عج🌼🌸

 قسط نمبر  15
 
فلسفہ انتظار :

عزیزان محترم!
احادیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انتظار فرج ایک عمل ہے ۔ 
اور جب کوئی انسان عمل(کام) کرتا ہے  تو اسے بہت سے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے ۔
تو یہ کیسے ممکن ہے کہ امام عج کا انتظار صرف بیٹھ کر کیا جائے ۔ بلکہ اس کے لیے تو ہمیں ہر وقت میدان میں حاضر رہنا چاہیئے۔ انتظار ایسا ہو کہ دیگر ادیان سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی یہ بات پوچھنے پر مجبور ہو جائیں کہ آخر وہ کون ہے جس کے انتظار میں تم لوگ انقلابی بن گئے ہو؟⁉️ ،آخر وہ کون ہے جس کے انتظار نے تمہارے اندر تحریک پیدا کر دی ہے ۔

👈🏻ایک اچھا منتظر(انتظار کرنے والا) ایسے کام کرتا ہے جس سے امام عج خوش ہوتے ہیں ، وہ ہر وقت امام عج کی مدد کے لیے تیار رہتا ہے، وہ ناصرف اپنی اصلاح کرتا ہے بلکہ معاشرے کی اصلاح کے لیے بہترین کردار ادا کرتا ہے ۔

اب آپ غور فرمائیں اگر آپ بس سٹاپ پر بیٹھ کر بس کا انتظار  کر رہے ہیں تو اس انتظار سے آپکے اندر کیا تبدیلی آئے گی؟؟ 
اگر بس تاخیر سے آئی تو آپ چڑچڑے ہو جائیں گے۔ ایسا انتظار کوئی فائدہ نہیں دے رہا جبکہ ایک مہمان کا انتظار کرتے ہوئے آپ نا صرف خود کو بہتر بنا لیں گے بلکہ گھر کے ماحول کو بھی درست کر لیں گے۔
ابھی بھی ضرورت ہے کہ ناصرف ہم خود کو بہتر بنائیں بلکہ یوسفِ زہرا عج کے استقبال کے لیے ماحول کو نور سے مزین کر دیں۔

 *حضرت امام صادق*  عليہ السلام  فرماتے ہیں:
 *''جو شخص چاہتا ہے کہ امام قائم عج  کے ناصرین و مددگاروں میں شامل ہواسے انتظار کرنا چاہئے اور انتظار کی حالت میں تقویٰ و پرہیزگاری کا راستہ اختیار کرنا چاہئے اور نیک اخلاق سے مزین ہونا چاہئے* ''۔
(📗غیبت نعمانی, باب 1،ص 200)

اس ''انتظار'' کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ انسان کو اپنی ذات سے بالا تر کر دیتا ہے اور اس کو معاشرہ کے ہر شخص سے جوڑ دیتا ہے۔ یعنی انتظار نہ صرف انسان کی ذاتی و انفرادی زندگی میں موثر ہوتا ہے بلکہ اس کے لئے خاص منصوبہ بھی پیش کرتا ہے اور معاشرہ میں مثبت قدم اٹھانے کی رغبت بھی دلاتا ہے اور چونکہ حضرت امام مہدی عج  کی حکومت اس وقت قائم ہوگی جب پورا عالمی معاشرہ اس کی آمادگی رکھتا ہوگا ۔
 لہٰذا ہر انسان کو چاہئے کہ وہ اپنی طاقت اور استعداد کے مطابق معاشرہ کی اصلاح کے لئے کوشش کرے اور معاشرہ میں برائیوں کے پھیلنے پر خاموش تماشائی نہ بنا رہے, کیونکہ عالمی مصلح کے منتظر کوسب سے پہلے ذاتی طور پر فکر و عمل کے لحاظ سے اصلاح اور خیرکا راستہ اپنانا چاہے۔
 مختصر یہ ہے کہ ''انتظار'' ایک ایسامبارک نورہے جو ایک منتظر انسان اور معاشرہ کی رگوں میں دوڑتا ہے اور انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کو الٰہی رنگ عطا کرتا ہے۔
 *اورکونسا رنگ خدائی رنگ سے بہتر اور پائیدار ہوسکتا ہے؟!*❤️

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔

معرفت امام زمانہ عج

🌼🌸 معرفتِ امام زمانہ عج🌼🌸

قسط نمبر 14

فلسفہ انتظار:

امام زمانہ عج غیبت کے پردوں میں ہیں اور ہر باشعور انسان کو انکا انتظار ہے ۔ 
تمام مذاہب کے لوگ انکا انتظار کر رہے ہیں اور اس بات یقین رکھتے ہیں کہ ایک نجات دہندہ آئے گا جو انہیں اس دنیا کے ستم سے آزاد کرائے گا اور پوری دنیا پر اس کی عادلانہ حکومت ہو گی ۔

روایات کی بناء پر انتظار امر ذہنی نہیں ہے بلکہ حقیقی آمادہ کرانے والا اور حقیقی کوشش کروانے والا ہے۔   

 *امیر المومنین علی* علیہ السلام نے انتظار کو عمل کہا ہے

*سب سے پسندیدہ عمل خدا کے نزدیک انتظار امام زمانہ علیہ السلام ہے۔* 
( 📗الخصال جلد 3 صفحہ 616)

 *امام باقر* علیہ السلام فرماتے ہیں:
     
 *نہیں ہوگا ظہور امام زمانہ عج یہاں تک کہ تم آزمائے جائو پھر تمھیں آزمایا جائے گا اور پھر تمھیں آزمایا جائیگا ۔۔۔۔۔یہاں تک کہ خدا تمھارے اندر کینہ ختم کردیگا اور خالص پن باقی ہوگا ۔* 

(📗بحار الانوار جلد 113 صفحہ 52)
۔ 
 *خدا کی قسم حتما تمھیں جدا کیا جائیگا اور خدا کی قسم خالص کیا جائے گا اور خدا کی قسم تمھیں سخت آزمایا جائیگا ۔۔۔۔۔* 

(📗بحار الانوار جلد 114صفحہ 52)

 *امام حسن عسکری* جناب علی ابن بابویہ جو شیخ صدوق کے والد ہیں انکی طرف بھیجے ہوئے خط میں فرمایا کہ *انتظار امام زمانہ عج بالاترین عمل ہے اور اس عمل کی دشواریوں میں ثابت قدم رہنے کی سفارش کی ہے۔*

📗  بحار الانوار جلد 5 صفحہ 318

عمل کرنے والا منتظر امام زمانہ عج یا بقیہ معصومین سے جڑ جاتا ہے۔
 فضیل ابن یسار کہتے ہیں : میں نے حضرت امام جعفر صادق ع سے اللہ تبارک و تعالی کے اس قول کے بارے میں پوچھا کہ قیامت کے دن ہم ہر انسان کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے  تو امام ع نے فرمایا : *اے فضیل اپنے امام کو پہچانو جب تم اپنے امام کو پہچان لو گے تو پھر ظہور کی تعجیل اور تأخیر میں تمہارے لئے کوئی حرج نہیں ہے* صاحب الأمر کے ظہور سے قبل جو شخص بھی مرنے سے پہلے اپنے امام کو پہچان لے وہ امام کے لشکر میں بیٹھے ہوئے شخص کی طرح ہے ۔ نہ ، *بلکہ وہ امام کے پرچم کے نیچے بیٹھا ہوا ہے* اور بعض راویوں نے یہ نقل کیا ہے کہ  امام ع نے فرمایا  *بلکہ اس وہ شخص کی طرح ہے جو رسول اللہ ۖ کی معیت میں شہید ہوا ہے ۔* 
📗الکافي , ج 1 , ص 371

 *حضرت امام باقر* ع فرماتے ہیں : 
 *جو ہمارے امر کی انتظار کی حالت میں مرے وہ حضرت مہدی عج کی فوج اور خیمے کے در میان نہ بھی مرا ہو تو اس کے لئے کوئی حرج نہیں ہے ۔* 

(📗 الكافي ج1 ص372+
بعض لوگ امام زمانہ عج  کے ظہور کو فقط ارادہ الٰہی سے وابسطہ جانتے ہیں اور انسانی معاشرے کی تلاش و کوشش اور ظالم کے خلاف قیام کرنے کو بے اثر شمار کرتے ہیں پس وہ صرف معاشرے کے امور کی اصلاح امام مہدی عج کے ظہور پر واگذار کرتے ہیں یہ نظریہ نقصاندہ اور باطل ہے اور ظہور امام زمانہ علیہ السلام کو نقصان دینے کے مساوی ہے۔
انتظار کی دو اقسام ہیں
1۔ مثبت انتظار
2۔ منفی انتظار

👈🏻 *مثبت انتظار یعنی کمر باندھ لینا ،حرکت کرنا ،میدان میں اترنا ہے۔* 

 *منفی انتظار یعنی سکون کرنا ، سست رہنا ، میدان سے باہر ہونا ہے۔* 

عزیزان محترم !
جیسا کہ آپ پر واضح ہو چکا کہ انتظار دو قسم کا ہے ۔
⁉️⁉️⁉️ اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہم کونسا انتظار کر رہے ہیں۔۔۔؟
آیا ہمارے انتظار سے کچھ فائدہ بھی ہو رہا ہے یا بے مقصد انتظار ہے۔۔؟
کیا ہم پہلی قسم کی طرح فعال ہیں اور کیا ہم میدان جنگ میں حاضر ہیں۔۔؟ 

فلسفہ انتظار کی مزید وضاحت کے لیے ایک مثال عرض ہے۔
اگر آپ نے اپنے گھر ایک مہمان کی دعوت کی ہے تو آپ کیا کریں گے؟
یقیناً آپ گھر کا ویسا ماحول بنائیں گے جیسے مہمان پسند کرتا ہو۔ اور اس کے آنے سے پہلے پہلے وہ تمام اشیاء جو مہمان کی طبیعت پر گراں گزرتی ہوں وہ دور کرنے کی کوشش کریں گے ۔ 
آپ مہمان کا انتظار ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں کر سکتے تو صاحب الزمان عج کا انتظار اسطرح کیوں؟؟؟
کیا آپ یہ بات پسند کریں گے کہ آپ کے گھر کی صفائی آپکا مہمان کرے؟
 وہ مہمان خصوصی صاحب العصر عج جو بہت جلد آنے والے ہیں انکا انتظار ہم کیسے کر رہے ہیں۔ 
کیا ہم اس انتظار میں ہیں کہ وہ آئیں اود خود ہی دنیا کو برائیوں سے پاک کریں ۔

عزیزان گرامی !
ہمیں بھی تو اپنا کردار ادا کرنا ہے۔
👈🏻 *منتظر اہل باطل سے اپنی استطاعت کے مطابق لڑنے والا ہوتا ہے اور اہل حق کی پیروی کرنے والا ہوتا ہے۔* 

آئیے اچھے میزبان بنیں۔ اچھا ماحول بنائیں اور کہیں العجل یا صاحب الزمان عج❤️۔

جاری ہے۔۔۔

جوان اور معاشرہ

☀️جوان اور معاشره☀️

📌انتظار کا مسئلہ مکمل طور پر ایک *اجتماعی* مسئلہ ہے اور وه بھی *پوری انسانیت* کی حد تک پھیلا اجتماعی مسئلہ.

✅جوان بھی معاشرے سے گہرا لگاؤ رکھتا ہے. اس کے لیے دوسرے افراد انتہائی اہم ہیں. اگر وه دوسروں پر ظلم ہوتے دیکھے تو وه برداشت نہیں کر سکتا. جوان ابھی تک خودغرضی کے خول میں دبا نہیں ہوتا. لوگ عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ خودغرضی کا شکار ہوتے جاتے ہیں.

👈ضروری ہے کہ جوان پر خودغرضی کے غلبہ پانے سے پہلے اس کے دل میں "پوری انسانیت کے ظلم سے نجات حاصل کرنے کا انتظار" مضبوط کر دیا جائے.

‼️معاشره ایک جوان کی نظر میں اس کی ترقی کے لیے ایک معمولی وسیلہ شمار نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات خود یہ جوان اس معاشرے کی ترقی کو اپنا مقصد بنا لیتا ہے اور خود کو اس مقصد کے لیے قربان کر دیتا ہے.

💭جوان جب اپنے گھر والوں سے ہٹ کر مستقل ہونا چاہتا ہے تو اس کی معاشرے کی طرف رغبت اپنے هم عمر دوستوں کی طرف رغبت سے شروع ہوتی ہے. لیکن پھر وه اسی گروه میں ہی باقی نہیں رہتا بلکہ تیزی سے معاشرے کی طرف رغبت پیدا کر لیتا ہے، اور اگر اس کے پھلنے پھولنے کا راستہ سلامتی کے ساتھ طے ہو تو وه ایک *عالمی انسان* بن جائے گا.

📣فرج کے انتظار سے مراد پوری دنیا کو خوش قسمت بنانا ہے. اب اس انتظار سے بڑھ کر اور کونسی ایسی چیز ہے جو ایک جوان میں پائی جانے والی "معاشرے کی رغبت" کی پیاس کو سیراب کر سکے؟!

حجت الاسلام علی رضا پناهیان

#مهدویت
#جوانی_اور_انتظار
#عوامانہ_عالمانہ_عارفانہ_انتظار
#اللهم_عجل_لولیک_الفرج

اطاعت کی توفیق

🍀ہر قسم کی اطاعت کی توفیق دے🍀

🍃اے اللہ! رحمت نازل فرما محمد اور ان کی آل پر اور مجھے ہر قسم کی اطاعت کے بجا لانے کی توفیق عطا فرما جو تو نے اپنے لیے یا مخلوقات میں سے کسی کے لیے مجھ پر لازم و واجب کی ہو۔

🍂اگرچہ اسے انجام دینے کی سکت میرے جسم میں نہ ہو اور میری قوت اس کے مقابلہ میں کمزور ثابت ہو اور میری قدرت سے باہر ہو اور میرا مال و اثاثہ اس کی گنجائش نہ رکھتا ہو، وہ مجھے یاد ہو یا بھول گیا ہوں، وہ تو اے میرے پروردگار! ان چیزوں میں سے ہے جنہیں تو نے میرے ذمہ شمار کیا ہے اور میں اپنی سہل انگاری کی وجہ سے اسے بجا نہ لایا۔

🍃لہٰذا اپنی وسیع بخشش اور کثیر رحمت کے پیش نظر اس (کمی) کو پورا کر دے، اس لیے کہ تو تونگر و کریم ہے،

☘️تاکہ اے میرے پروردگار! جس دن میں تیری ملاقات کروں اس میں سے کوئی ایسی بات میرے ذمہ باقی نہ رہے کہ تو اس کے مقابلہ میں یہ چاہے کہ میری نیکیوں میں کمی یا میری بدیوں میں اضافہ کر دے۔

📚امام زین العابدینؑ کے #صحیفہ_سجادیہ کی دعا نمبر 22 سے اقتباس

#دعاؤں_سے_اقتباسات
#شب_جمعہ_شب_دعا_و_مناجات

معرفت امام زمانہ عج

🌼🌸 معرفتِ امام زمانہ عج🌼🌸


 قسط نمبر 13
 
اہل بیت ع کا غائب آخری حجت الٰہی ہے یعنی بارھویں امام مہدی عجل اللہ شریف ہیں۔ 

امام غائب کے وجود کے کچھ ایسے عمومی فوائد ہیں کہ جن سے کل ہستی بہرہ مند ہورہی ہے اسی طرح ہم آنحضرت عج  کے وجود کے کچھ ایسے خصوصی فوائد بھی ہیں جو صرف بعض افراد کے شامل حال ہوتے ہیں اوران کے ان فوائد سے ہرکس و ناکس بہرہ مند نہیں ہوسکتا فوائد خصوصی کی دوقسمیں ہیں۔
ایک قسم وہ ہے کہ جن سے لوگوں کی ایک خاص نوع مستفید ہوتی ہے اوردوسری قسم وہ ہے جن سے صرف مخصوص لوگ ہی فیضیاب ہوتے ہیں۔

جیسا کہ پہلے درس میں ہم بیان کر چکے ہیں کہ امام عج کی مثال سورج ہے ۔ جیسے نظام کائنات میں وہ محور ہے ویسے ہی امام عج کا وجود کائنات کے نظام کے لیے محور کی حیثیت رکھتا ہے اور خاص و عام اس کے وجود سے فائدہ حاصل کرتا ہے ۔لیکن امام عج کی اپنے شیعوں پر خصوصی نظر ہے ۔

امام غائب کے حضور و وجود کا نوعی فائدہ یہ ہے کہ شیعوں پر آپ کی مکمل نظررہتی ہے امام غائب  عج مخفیانہ طور پر ان کی حمایت کرتے ہیں انہیں شر سے محفوظ رکھتے ہیں سری و غیر مستقیم طور پر ظالموں کی منصوبہ بندی و پلاننگ کو ناکام اور خائنین کی مکاریوں کو درھم برھم کردیتے ہیں۔

👆🏻اس متعلق کچھ واقعات ہم پچھلی اقساط میں بیان کر چکے ہیں۔

 *مرحوم كلينی* نے سند صحيح کے ساتھ *امام صادق ع* سے نقل کیا ہے کہ حضرت مہدی عج کے لیے دو غیبت ہوں گی، غیبت مختصر اور غیبت طولانی ہو گی ۔
 
 *قائم کے لیے دو غیبتیں ہیں، ایک مختصر اور دوسری طولانی ہو گی، پہلی غیبت میں کوئی بھی انکی جگہ کے بارے میں نہیں جانتا کہ کہاں ہے، مگر ان حضرت کے خاص و خالص شیعہ اور دوسری غیبت میں کوئی بھی انکی جگہ کے بارے میں نہیں جانتا کہ کہاں ہے.* 

📗الكليني الرازي، أبو جعفر محمد بن يعقوب بن إسحاق (متوفي328 هـ)، الأصول من الكافي، ج 1، ص340)

اگر زمانے کی شرائط ایسی ہوں کہ اس میں امام حاضر آشکار کو تحمل کرنے کی ظرفیت نہ ہو تو امام غآئبانہ طور پر حاضر ہوتے ہیں جیسے امام زمانہ عج حاضر غائب کے مصداق ہیں ۔ یعنی وہ موجود ہیں مگر ہماری نظروں سے پوشیدہ ہیں۔

امام زمانہ عج کی زندگی کا طریقہ باقی آئمہ علیھم السلام سے فرق کرتا ہے کیونکہ معاشرے میں وہ شرائط نہیں کہ امام آشکار موجود ہو۔💔

اہل بیت علیھم السلام کی روایات بھی حاضر غائب کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

 *حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام* نے فرمایا: 

 *اے خدا زمین کو خدا کی حجت سے خالی نہ چھوڑ یا وہ ظاہر مشہور ہو یا وہ پنہان موجود ہو۔* 

(📗کمال الدین ج 1 ص 262)

 *امام زین العابدین علیہ السلام* نے فرمایا :

 *اور زمین خالی نہیں ہوئی حجت خدا سے جب سے آدم خلق ہوئے ہیں وہ حجت ظاہر ہو یا غائب ہو اور قیامت کے دن تک ایسا ہوگا اگر زمین حجت خدا سے خالی ہوجائے تو خدا کی عبادت نہ ہو۔* 
📗الاحتجاج ج2 ص 317)

ان فرامین سے آپ کو فلسفہ غیبت سمجھنے میں مدد ملے گی۔ کہ ایسا ماحول تھا اور ہے بھی جس کی وجہ سے غیبت اختیار کی گئ ۔ 
اور امام غائب عج پر ہمارا ایمان لانا ضروری ہے ۔ 

خدا وند متعال ہم سب کو ایسا بنائے کہ ہم امام عج کے جلد ظہور کا باعث بن سکیں 🤲🏻

جاری ہے۔۔۔

اجتماعی و انفرادی عبادت

🔰اجتماعی و انفرادی عبادت میں موازنہ🔰

✨امیرالمؤمنین علیؑ ابن ابی طالبؑ نے رسول اللهؐ سے نقل فرمایا:

*📌مَا مِنْ عَمَلٍ أَفْضَلُ عِنْدَ اَللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ مِنْ سُرُورٍ تُدْخِلُهُ عَلَى مُؤْمِنٍ*
الله تعالی کے نزدیک کسی بھی عمل کی اس سے زیاده فضیلت نہیں کہ ایک مسلمان کا دل خوش کیا جائے؛ ایک مومن مسلمان کو خوشحال کریں

*📌أَوْ تَطْرُدُ عَنْهُ جُوعاً*
یا اس کی بھوک دور کریں

*📌أَوْ تَكْشِفُ عَنْهُ كَرْباً*
"کَرب" یعنی سختی اور مشقت. یہ جو غمگین ہونے کی حالت کو بھی کرب کہا جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حالت انسان کو دباؤ کا شکار کرتی ہے. انسانی روح کے لیے ایک اہم دباؤ کی حالت اس کا پریشان اور غمگین ہونا ہے.

👈اب اگر انسان کے لیے ممکن ہو اور وه ایک مومن مسلمان کو اس طرح کی مشکل سے جیسے عزت و آبرو کے حوالے سے، مالی حوالے سے یا خاندانی حوالے سے پیش آنے والی مشکلات سے نجات دلا دے (تو وه اسی حدیث کا نمونہ قرار پائے گا).

*📌أَوْ تَقْضِي عَنْهُ دَيْناً*
یا اس کا قرض ادا کر دے

*📌أَوْ تَكْسُوهُ ثَوْباً*
یا اسے لباس پہنائے. یہ جو لوگ مختلف عمومی حادثات میں یا عمومی طور پر پیش آنے والی مصیبتوں میں دوسروں کی مدد کرتے ہیں یہ اسی بات کے عملی نمونے ہیں.

📖(حدیث نمبر 42 میں) آپ کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ اس طرح کی روایات سے مراد یہ نہیں ہے کہ انسان کے خدا کے ساتھ انفرادی رابطے کو نظرانداز کر دیا جائے، ایسا بالکل بھی نہیں! اور یہ روایات اس معاملے کی اہمیت کو کم نہیں کرتیں.

📝واضح سی بات ہے کہ الله تعالی سے رابطہ ہی ان تمام چیزوں کی بنیاد ہے یعنی انسان قلبی طور پر خدا کے ساتھ ہو اور ان کاموں کو بھی اسی کے لیے انجام دے،

👈لیکن الله تعالی کے نزدیک اعمال کی درجہ بندی اس طرح سے نہیں ہے کہ لوگ مشکلات کا شکار ہوں لیکن پھر بھی انسان اس *انفرادی عبادت* پر اپنے آپ کو راضی رکھے اور خود اپنے لیے سبحان الله اور الحمدالله کہتا رہے. یہ کافی نہیں بلکہ ضروری ہے کہ وه *اجتماعی عبادت* کے میدان میں قدم رکھے.

24 جنوری، 2005 کو فقہ کے درس خارج کی ابتداء میں آیت الله خامنہ ای کی جانب سے پیش کی جانے والی احادیث کی تشریح سے اقتباس

#احادیث_کی_تشریح
#احادیث_کی_تشریح_رہبر_معظم - 43
 #کتاب_النوادر_کی_منتخب_احادیث - 43

زہد کے درجات

                  زہد کے درجات

1۔ زہد عام : زہد عام سے مراد آخرت کی نعمتیں حاصل کرنے کے  دنیا کو ترک کرنا ہے ۔

2۔ زہد خاص:سے مراد عقلانی مراتب اور انسانی مدارج تک پہنچنے کیلئے حیوانی خواہشات اور شہوانی لذات کو ترک کرناہے۔

3۔ زہد خاص الخاص:سے مراد  الہی جمال جمیل کے مشاہدے اور ربانی معارف کے حقائق تک پہنچنے کے لیے روحانی لذات اور عقلانی خواہشات کو ترک کرنا ہے۔

جو کی روٹی                                 

اسود  کا بیان ہے کہ : علقمہ کے ساتھ حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام کی خدمت میں پہنچے حضرت کے سامنے کھجور کی چھالوں  سے بنا ہوا ایک طبق کے اندر ہم نے جو کی روٹی کے دو ٹکڑے دیکھے جو کے آٹے کی بھوسی روٹی کے اوپر دکھائی دے رہی تھی اور اسقدر مضبوط اور کڑی تھی کہ حضرت اسے زانو کے سہارے سے توڑتے تھے اور پھر اسے نمک کے ساتھ کھاتے تھے ، میں نے حضرت کی کنیز (فضہ) سے کہا کہ کیا ہوتا اگر تم اس آٹے کی بھوسی حضرت علی علیہ السلام کے لیے چھڑا دیتی؟

فضہ نے جواب دیا :لذیز روٹی حضرت علی علیہ السلام کھائیں تو اسکا گناہ میری گردن پر ہو گا اس وقت امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام  نے مسکرا کر فرمایاکہ : میں نے  خود حکم دیا ہے کہ اس کی بھوسی نہ چھڑائے ۔

میں نے عرض کیا : کس وجہ سے ؟

حضرت نے فرمایا کہ : اسلئے کہ اس طرح نفس اور زیادہ ذلیل ہو گا اور مومنین میری پیروی کریں گے یہاں تک کہ میں اصحاب سے ملحق ہو جاوں ۔ ۴

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منابع

1۔ حدید:۲۳
2۔ المحضۃ البیضاء:ج۷ص۳۵۶
3۔ الکافی:ج۵ص۷۱،بحار الانوار:ج۷۵،ص۵۹
4۔الانوار النمانیہ:ص

زهد

💭زہد یعنی دنیا سے بے رغبتی برتنا💭

📌امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں کہ: أَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ إِلَى مُوسَى (ع) أَنَّ عِبَادِي لَمْ يَتَقَرَّبُوا إِلَيَّ بِشَيْ‏ءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ ثَلَاثِ‏ خِصَالٍ قَالَ مُوسَى يَا رَبِّ وَ مَا هِیَ قَالَ يَا مُوسَى الزُّهْدُ فِي الدُّنْيَا

📖یعنی "الله تعالی نے حضرت موسیؑ پر وحی نازل کی کہ میرے بندے مجھ سے ان تین چیزوں سے زیاده محبوب چیزوں کے ذریعے نزدیک نہیں ہوئے. حضرت موسیؑ نے عرض کی وه چیزیں کیا ہیں؟ خداوند عالم نے فرمایا کہ ان میں سے پہلی چیز زہد ہے".

⚠️ہم اس حدیث کو کتنی ہی بار منبروں پر اور لوگوں کے درمیان پڑھتے ہیں اور تکرار کرتے ہیں. اگر یہ باتیں ہمارے دل سے نہ نکلیں اور عمل میں منعکس نہ ہوں تو ان کا کوئی اثر نہیں ہو گا.

👈زہد سے مراد بھی یہ نہیں ہے کہ دنیا کو ایک ساتھ خدا حافظ کہہ دیں، یہ تو بزرگانِ دین کا شیوه بھی نہیں رہا، نہیں زہد سے مراد یہ نہیں.

✔️زہد بے اعتنائی برتنا ہے، لالچ نہ کرنا ہے، دنیا اور اس کی مادّی رنگینیوں سے دل نہ لگانا ہے. اپنی زندگی میں ایک انسان کا سب سے بڑا کارنامہ بھی یہی ہے.

📖پیغمبر خداؐ سے نقل ہوا ہے کہ آپؐ نے فرمایا: میں نے خدا یہ طلب کیا ہے کہ ایک دن بھوکا رہوں اور ایک دن سیر رہوں تا کہ جس دن بھوکا ہوں اس دن خدا سے طلب کروں اور جس دن سیر ہوں اس دن خدا کا شکر ادا کروں.

⚠️زہد کے حوالے سے جو دنیاوی چیزیں اہم ہیں وه فقط پیسہ اور دنیاوی زیب و زینت ہی نہیں بلکہ انسان کا مقام و منزلت، عہده، رتبہ، عزت و وقار اور محبوبیت وغیره بھی اس میں شامل ہیں.

📃دنیا کے لیے کام کرنا، دنیا کے لیے تعلیم حاصل کرنا، دنیا کے لیے کوشش کرنا، یہ سب وه چیزیں ہیں جنہیں زہد کے حوالے سے چھوڑ دینے اور ان سے بے اعتنائی برتنے کی تاکید کی گئی ہے.

رہبر معظم آیت الله خامنہ ای

#حیات_طیبہ
#مومنانہ_زندگی
#زہد_سے_مراد_اور_عملی_نکات
#زہد_سے_مراد_اور_اہمیت 

جھوٹ قرآن کی نظر میں

🔹جھوٹ قرآن کی نظر میں🔹

📌قرآن مجید میں جھوٹ اور دھوکہ دینے کو الله کی ذات میں شرک کرنے کی صف میں قرار دیا گیا ہے. قرآن میں ارشاد ہوتا ہے کہ:

📖فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ (سوره حج: 30) "لہذا تم ناپاک بتوں سے پرہیز کرتے رہو اور لغو اور مہمل باتوں سے اجتناب کرتے رہو".

📌قرآن مجید جھوٹوں کو مومن نہیں سمجھتا اور انہیں کفار اور آیات الہی کا انکار کرنے والوں کی صف میں قرار دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ:

📖إِنَّمَا يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْكَاذِبُونَ (سوره نحل: 105) یعنی "یقینا غلط الزام لگانے والے صرف وہی افراد ہوتے ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے ہیں اور وہی جھوٹے بھی ہوتے ہیں". (جاری ہے)

آیت الله محمد رضا مہدوی کنیؒ

#جھوٹ
#اخلاق_اسلامی
#عملی_اخلاق_مہدوی_کنی 

معرفت امام زمانه عج

🌸🌼 معرفتِ امام زمانہ عج🌼🌸

 قسط نمبر 10

 *غیبت کا مفہوم اور زمانہ غیبت میں امام عج کا کردار

 👈🏻غیبت کے معنی نگاہوں سے اوجھل ہونا  اور مخفی ہونا کے ہیں ۔ یعنی حقیقت میں انسان کا موجود ہونا مگر نگاہوں سے اوجھل ہو جانا غیبت کہلاتا ہے ۔

غیبت الٰہی سنتوں میں سے ہے ۔ غیبت انبیاء ع کی سنت ہے ۔ *حضرت یوسف ع* غیبت میں گئے یعنی وہ لوگوں کے سامنے موجود تھے مگر لوگ انہیں پہچان نہیں سکے ۔ امام زمانہ عج کی غیبت  بھی انہی کی طرح ہے امام ہمارے درمیان گھومتے پھرتے ہیں لوگوں کے سامنے آتے ہیں مگر لوگ انہیں  نہیں  دیکھ پاتے ۔۔
 *حضرت عیسیٰ ع* بھی غیبت میں گئے انہیں اللہ نے زندہ اٹھایا ۔
 *حضرت یونس ع* غیبت میں رہے ۔ مچھلی کے پیٹ میں ۔ 
 *حضرت موسیٰ ع* بھی غیبت میں رہے ۔ 
اسطرح بہت سے انبیاء اکرام غیبت میں رہے ۔ 
اللہ رب العزت نے انہیں غیبت میں رکھا۔ 
ایک دفعہ تو ہمارے نبی ص بھی لوگوں کی نظروں سے مخفی ہوئے۔ ۔ ہجرت کی رات کفار کے سامنے سے گھر سے نکل کر غار کی طرف گئے مگر کسی کو نظر نا آئے

جس طرح انبیاء اکرام غیبت میں رہے ویسے ہی امام زمانہ عج بھی غیبت میں ہیں ۔ہر ایک کی غیبت کے پیچھے کوئی نا کوئی مقصد ، مصلحت پوشیدہ تھی اسی طرح امام زمانہ عج کی غیبت میں بھی مصلحت پوشیدہ ہے 

امام زمانہ عج کی غیبت کے متعلق ان کی ولادت سے پہلے روایات موجود ہیں ۔
روایات میں آیا ہے کہ *ان ( مھدی عج )کی دو غیبتیں ہیں ۔* 
اللہ کے حکم سے وہ غیبت سے باہر آئیں گے 
 ان کی غیبت کے زمانے میں جو ولایت پر ثابت قدم رہا خدا انہیں اجر عظیم عطا فرمائے گا۔

زمانہ غیبت میں امام عصر عج پوری *کائنات* کے لیے *محور* ہیں۔ 
 *امام زمانہ عج* نے فرمایا:
 *مجھ سے غیبت کے زمانے میں اس طرح فائدہ اٹھاو جس طرح سورج بادلوں کے پیچھے چھپا ہونے کی وجہ سے لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہو"* 
عزیزان محترم!
قابل غور نکتہ یہ ہے ادھر سورج کی مثال ساتھ دی گئ ۔ سورج پورے نظام کاینات کا مرکز ہے ۔ تمام ستاروں، سیاروں کا محور سورج ہے ۔اس کے گرد سب چکر لگاتے ہیں ۔ سورج کی وجہ سے کائنات کا نظام صحیح چل رہا ہے ۔ 

💖اسی طرح امام عج کے وجود کی وجہ سے نظام کائنات صحیح چل رہا ہے ۔ 
 *امام زمانہ عج* نے فرمایا
اگر *ہم تم سے تھوڑی دیر کے لیے بھی غفلت بھرتے تو تم پر بلائیں اور سختیان۔ نازل ہوتیں اور دشمن تمیہیں نیست و نابود کر دیتے

 *امام جعفر صادق ع
  *نے فرمایا* 
 *زمین امام کے وجود سے خالی نہیں اگر امام نا ہوتو یہ اہل زمین کو اپنے اندر نگل لے

اس طرح امام ع کے وجود کی وجہ سے کاینات کا نظام چل رہا ہے۔ وہ محور کائنات ہیں ۔ ان کی وجہ سے بلائیں اور سختاں نازل نہیں ہوتی ۔

روایات میں آیا ہے 
زمین کبھی حجت خدا سے خالی نہیں ہوتی
اب زمین حجت خدا سے خالی نہیں رہ سکتی تو گویا حجت محور ہے جس کی وجہ سے نظام کائنات چل رہا ہے❤️ ۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

معرفت امام زمانه عج

🌸🌼 معرفتِ امام زمانہ عج🌼🌸

قسط نمبر 9

امام زمانہ عج نے اپنی آخری توقیع میں اپنے چوتھے نائب کو یوں خطاب فرمایا:
 *بسم اللہ الرحمن الرحیم ،اے علی بن محمد سمری اللہ تعالیٰ آپ کی جدائی پر آپکے مومن بھائیوں کو اجر عظیم عطا فرمائے کیونکہ آپ آئندہ  چھ دنوں میں وفات پا جائیں گے پا اپنے آپ کو موت کے لیے تیار کر لیں اور کسی کو بھی اپنی وفات کے بعد اپنا قائم مقام بننے کی وصیت نا کریں کیونکہ غیبت کبریٰ یعنی غیبت تامہ کا وقت آن پہنچا ہے* 
(📗کمال الدین جلد 2 ص 294 باب 45)

امام زمانہ عج کے اس خط کے بعد غیبت کبریٰ کا دور شروع ہوا جو کہ ابھی تک جاری ہے 💔۔

عزیزان محترم!
جس طرح غیبت کے دو مراحل ہیں اس طرح نیابت کے بھی دو مراحل ہیں۔
1۔ نیابت خاص
2۔ نیابت عام

نیابت خاص کا تعلق غیبتِ صغریٰ ہے جس میں امام عج کے چار نائب موجود تھے ۔جنہیں انکی خصوصیات کی بنا پر امام زمانہ عج نے اپنا نائب مقرر کیا۔ البتہ پہلے نائب کو امام حسن عسکری ع نے مقرر کیا تھا۔

نیابت عام کا آئمہ علیہم السلام کی طرف سے کلی طور پر تعین ہو چکا ہے اور لوگوں کی ذمہ داری ہے اس کی طرف رجوع کریں۔ 
جناب شیخ صدوق، شیخ طوسی اور مرحوم طبرسی امام زمانہ عج سے توقیع نقل کی ہے کہ  آنحضرت عج نے ارشاد فرمایا:
 *درپیش حالات و واقعات میں ہماری حدیث کے راویوں کی طرف رجوع کریں کیونکہ وہ میری طرف سے حجت ہیں اور میں ان پر خدا کی طرف سے حجت ہوں* 
(📗سابقہ ماخذ جلد 2 ص 469)

اسطرح غیبت کبریٰ میں لوگوں کے امور کی سرپرستی ولی فقہاء کے سپرد کی گئ ۔ یوں مرجیعت کی رسم کا آغاز غیبت کبریٰ سے ہوا اور آنحضرت عج کے ظہور تک جاری و ساری ہے ۔

۔امام عج کی کچھ ذمہ داریاں غیبتِ کبریٰ میں ہیں جنہیں آپ بخوبی انجام دے رہے ہیں۔
اس سلسلے میں امام عج ارشاد فرماتے ہیں:
 *میری غیبت کے زمانہ میں مجھ سے بہرہ مند ہونا ایسے ہے کہ جیسے بادلوں کے پیچھے چھپے ہوئے آفتاب سے بہرہ مند ہوا جاتا ہے ۔*
(📗احتجاج جلد 2 صفحہ 45 ح 4)

جاری ہے۔۔۔۔۔