🌼🌸 معرفتِ امام زمانہ عج 🌼🌸

 قسط نمبر 17
 
فلسفہ انتظار :

جب ایک انسان کو امام زمانہ عج کی معرفت حاصل ہو جائے یعنی وہ ان  کے علم ،عمل ، سیرت اور ان کے مقاصد سے مکمل طور پر آگاہ ہو جائے تو وہ امام عج کو اپنے لیے نمونہ عمل قرار دیتا ہے ۔

یہ منتظرین کے فرائض میں سے ہے کہ وہ امام عج کو اپنے لیے نمونہ عمل قرار دیں ۔ایسے کام سر انجام دینے کی کوشش کریں جیسے امام عج دیتے ہیں۔ 

 *پیغمبر اکرم*  صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:

 *''خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو میری نسل میں سے قائم کو اس حال میں دیکھیں کہ ان کے قیام سے پہلے خود ان کی اور ان سے پہلے آئمہ کی اقتداء کرتے ہوں اور ان کے دشمنوں سے بیزاری کا اعلان کرتے ہو۔ ایسے افراد میرے دوست اور میرے ساتھی ہیں اور یہی لوگ میرے نزدیک میری امت کے سب سے معززو عظیم افراد ہیں''۔* 
 ( 📗کمال الدین،ج1،باب25،ح3ص535.)

اگر ہم انتظار فرج کے موضوع پر احادیث کا دقت سے مطالعہ کریں تو ہم پر واضح ہو جائے گا منتظرین مھدی عج کا مقام بہت بلند ہیں۔ یہ خدا کے چنے ہوئے خاص لوگ ہوتے ہیں
یہاں ایک بات ہم عرض کرتے چلیں کہ چنے ہوئے خاص لوگوں کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ خدا نے بس انہیں چن لیا اور وہ اپنے فرائض سر انجام دینے لگے۔ بلکہ چنے ہوئے لوگ وہ ہیں جنہوں نے پہلے اپنا کردار درست کیا۔ اپنے امام عج کی نصرت میں مشغول ہوئے ، پھر خدا نے انہیں منتحب کر لیا❤️۔ تو یہ سب ہم بھی کر سکتے ہیں۔ 

آئیے مل کر قدم بڑھائیں۔ پہلے اپنی اصلاح کریں پھر دوسروں کی ❤️

عزیزان محترم !
انتظار فرج ایک ایسی کیفیت ہے جس میں ایک منتظر اپنے *افکار و اعمال* پر نظر رکھتا ہے انہیں درست کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔
ایسا انسان آہستہ آہستہ اپنے وجود کو تاریکیوں سے نکال کر نور کی جانب لے جاتا ہے ۔ ❤️

اگر ایک شخص انتظار کی حالت میں بھی ہو اور گناہوں کا مرتکب بھی ہو تو اس کے اور امام عج کے درمیان فاصلہ بڑھتا جائے گا۔ وہ امام عج سے دور ہو جائے گا۔ 

امام ع نے فرمایا:
'' *کوئی بھی چیز ہمیں شیعوں سے جدا نہیں کرتی، مگر خود ان کے وہ (برے) اعمال جو ہمارے پاس پہنچتے ہیں جن اعمال کو ہم پسند نہیں کرتے اور نہ ہی ایسے کاموں کی ہمیں اپنے شیعوں سے توقع ہے!''۔* 
(📗 بحار الانوار ج53ص 177.)

جاری ہے۔۔۔