ھفتہ وحدت

🌺ہفتہ وحدت 12-17 ربیع الاوّل🌺

🔥تفرقہ ایک طرح کا شرک ہے

👈قرآن مجید فرماتا ہے کہ «وَ لا تَكُونُوا مِنَ‏ الْمُشْرِكِينَ» (سوره روم: 31) یعنی "اور (ان) مشرکین میں سے نہ ہو جاؤ"، اس کے بعد فرماتا ہے کہ «مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُم‏» یعنی "جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا".

💥مشرک صرف بت پرست اور خورشید پرست ہی نہیں بلکہ ایک شخص جو صاحبِ ایمان ہے اور ممکن ہے تہجد کی نماز بھی پڑھتا ہو لیکن جب وه زبان کھولتا ہے تو فتنے کی بات کرتا ہے، گروہوں میں ٹکڑے ٹکڑے کرتا ہے.

⚠️یہ ایک سخت آیت ہے. ایسی آیتیں نہیں پڑھی جاتیں بلکہ صرف اس آیت کو پڑھتے ہیں «وَ اعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّه‏» (سوره آل عمران: 103) یعنی "اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو".

📣(جبکہ قرآن میں یہ آیت بھی موجود ہے) «وَ لا تَكُونُوا مِنَ‏ الْمُشْرِكِينَ مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُم‏» مشرک نہ بنو، مشرک کون ہوتا ہے؟ یہ نہیں کہا کہ خورشید پرست بلکہ یہ کہا کہ وہی جو مسلمان ہے (لیکن تفرقہ ڈالتا ہے) «فَرَّقُوا دِينَهُم‏»!!

حجت الاسلام محسن قرائتی

#شیعہ_سنی_اتحاد

ایران میں اہل سنت کی مساجد

ایران میں اہل سنت کی کوئی مسجد نہیں ہے!

پاکستان کے بعض فرقہ پرست عناصر کی جانب سے وسیع پیمانے پر ایک گمراہ کن پروپیگنڈا مسلسل پھیلایا جاتا رہا ہے کہ *ایران میں اہل سنت کی کوئی مسجد نہیں ہے* اور شیعہ حکمرانوں کی جانب سے اہل سنت کو مساجد بنانے کی اجازت نہیں دی جاتی! اس لیے اہل سنت ایران میں مظلومیت کا شکار ہیں۔۔۔!!!

لیکن *حقیقت سوشل میڈیا کی ترقی کے دور میں کہاں چھپ سکتی ہے؟!* 

ان دنوں ہفتہ وحدت (12 تا 17 ربیع الاول) کی مناسبت سے بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے لیے *ہندوستان کے ممتاز اہل سنت عالم دین مولانا سلمان ندوی* ایران میں موجود ہیں۔۔۔ وہ کانفرنس میں شرکت کے علاوہ ایران کے مختلف شہروں میں موجود اہل سنت کے مدارس اور مساجد کا دورہ بھی کر رہے ہیں اور وہاں اہل سنت علماء، دینی مدارس کے طلاب، اساتذہ اور عوام سے ملاقات بھی کر رہے ہیں اور اس حوالے سے  لمحے لمحے کی تصویری رپورٹ تفصیل سے اپنے فیس بک پیج پر اپلوڈ بھی کر رہے ہیں۔۔۔  

 *مولانا ندوی صاحب کے فیس بک اسٹیٹس اپڈیٹ رکھنے کے شوق نے پاکستانی فرقہ پرست عناصر کی برسوں کی محنت پر پانی پھیر دیا ہے!* 😂

کیونکہ ان کے فیس بک پیج پر اپلوڈڈ تصاویر میں نہ صرف اہل سنت کی بڑی بڑی شاندار مساجد نظر آ رہی ہیں بلکہ کثیر تعداد میں دینی طلاب پر مشتمل بڑے مدارس بھی نظر آ رہے ہیں۔

بس اب *پاکستانی فرقہ پرست عناصر کے پاس صرف ایک ہی راستہ بچا ہے* کہ وہ اس بابت اب تک کے مسلسل جھوٹ اور تہمت پر معافی مانگیں یا اپنی خفت مٹانے کے لیے مزید ڈھٹائی سے جھوٹ بولیں اور ان مساجد اور مدارس کو شیعہ مساجد اور مدارس قرار دیں جو مولانا ندوی صاحب کے دورے کی وجہ سے حکومت کی جانب سے ہنگامی بنیادوں پر اہل سنت کو عارضی طور پر سونپے گئے ہیں اور ان کی واپسی کے بعد یہ سب دوبارہ اہل سنت سے واپس لے لیے جائیں گے!😇

(ج ہاشمی)

مولانا سلمان ندوی صاحب کے فیس بک پیج کا لنک:
https://www.facebook.com/Maulana-Salman-Husaini-Nadwi-148892475184774/

معرفت امام زمانہ عج

🌸🌼 معرفت امام زمانہ عج🌼🌸

ہمارے وجود کی اہمیت اور ہماری ذمہ داریاں 
 
 قسط نمبر 2

پچھلے درس میں امام حسین ع کی جس حدیث کا ہم نے مطالعہ کیا اس میں امام ع نے ایک جملہ ارشاد فرمایا  :
*ہر زمانے كے لوگوں كو اس زمانے كے امام واجب الاطاعت كی پہچان ہی معرفت خدا ہے۔‘‘* 
یعنی اگر ہم زمانے کے امام کو پہچانیں تب ہی معرفتِ خدا ہمیں حاصل ہو گی ۔ اور اگر امام کی پہچان نا ہو گی تو خدا کو بھی نا پہچان سکیں گے ۔
اسی لئے رسول خدا ﷺنے ارشاد فرمایا:
 *جس نے ہم میں سے ایك كا انكار كیا گویا اس نے میرا انكار كیا* ۔
 *جس نے ہمارے آخر كا انكار كیا اس نے میرا انكار كیا۔*

ایک اور حدیث جو کہ بہت مشہور ہے ۔ 
رسول اکرم ﷺنے فرمایا:
 *مَنْ مَاتَ وَلَمْ یَعْرِفُ اِمَامَ زَمَانِہٖ مَاتَ مِیْتَۃَ الْجَاہِلِیَّۃِ* 

 *" *جو كوئی وقت كے امام كی معرفت حاصل كئے بغیر مرگیا وہ جاہلیت كی موت مرا"۔* 

عزیزان محترم 👆🏻اس حدیث پہ آپکی توجہ درکار ہے ۔ پیغمبر اکرم ﷺ کیا کہنا چاہتے ہیں۔۔ ہمیں کیا سمجھانا چاہتے ہیں۔۔
ہم لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے دنیاوی تعلیم حاصل کر لی یا کچھ دین کا علم ہمارے پاس آ گیا تو ہم اہلِ علم بن گئے جب کہ ایسا نہیں ہے اگرچہ ہم ہزاروں کتابوں کے حافظ ہوں مگر اپنے زمانے کے امام کی سے غافل ہوں تو  جاھل ہیں ۔

❓اب ہمیں خود سے سوال پوچھنا چاہیئے کہ *کیا ہم اپنے امام عج کی معرفت رکھتے ہیں* ❓
 *کیا ہم امام عج سے محبت کرتے ہیں؟* 
 *کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم اپنے امام عج سے غافل ہو گئے ہیں؟* 

امام امت کا باپ ہوتا ہے۔ ہمارے وقت کے امام عج یعنی امام زمانہ عج ہم سے اتنی محبت کرتے ہیں کہ ان کی وجہ سے ہم پر بلائیں نازل نہیں ہوتیں اور جب بھی ہم پر مشکل وقت آتا ہے تو وہ حضرت حجت عج ہماری مدد کرتے ہیں ۔

 *امام زمانہ عج* نے فرمایا۔ 
 *"اگر ہم تم سے تھوڑی دیر کے لیے بھی غفلت بھرتتے تو تم پر بلائیں اور سختیاں نازل ہوتیں اور دشمن تمہیں نیست و نابود کر دیتے "*
آپ عج کی نظرِ کرم پر ہماری لاکھوں جانیں قربان ❤️

شیعوں كے جید عالم حضرت *سید ابن طاؤس* علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں كہ میں نے *۱۳ ذی الحجہ ۶۳۸؁ھ* وقت سحر *امام عصر عج كو سامرہ* میں اس طریقے سےدعا كرتے ہوئے سنا كہ آپ  ایك مردہ شیعہ كا نام لیتے تھے اور كہتے تھے۔

 *پروردگار انھیں میری حكومت كے وقت زندہ كرنا۔* اور ایك ایك زندہ شیعہ كا نام لیتے تھے اور كہتے تھے
 *پروردگار اسكو میری حكومت تك باقی ركھنا۔* ❤️

(📗مكیال المكارم ج ۱ صفحہ ۱۹۹ فارسی)
اتنی زیادہ شفقت كرنے والے امام عصر عج كی محبت ہمارے ضمیر كو جھنجھوڑتی ہے كہ *كیا تم بھی ان سے محبت كرتے ہو ۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟*

جاری ہے۔۔۔

هفته وحدت

🌺ہفتہ وحدت 12-17 ربیع الاوّل🌺

💠وحدت: ایک عقلی معاملہ💠

📌امام خمینیؒ نے *وحدت اسلامی* کے سلوگن اور نعرے کو انتخاب کرنے کے ذریعے پوری دنیا کے مسلمانوں کے درمیان ایک قربت ایجاد کی.

📣(اس زمانے میں) مختلف ممالک میں موجود کوئی بھی شخص یہ نہیں سوچتا تھا کہ "شیعہ کی ذمہ داری کیا ہے، سنی کی ذمہ داری کیا ہے" بلکہ اگر وه اپنے آپ کو اسلامی تفکر کا حامل سمجھتا تھا تو وه امامؒ کے قیام کا ساتھ دے سکتا تھا.

⚠️"دشمن اختلاف ایجاد کرنا چاہتا ہے"، اب اگر خود مسلمان بھی مذہبی فرقوں کے درمیان موجود ایک دوسرے سے مختلف چیزوں کا بہانہ بنا کر فرقہ فرقہ ہو جائیں تو دراصل اسکتبار کمترین خرچے کے ذریعے اپنے مقصد تک پہنچ گیا ہے.

✅لہذا "یہ جو امام خمینیؒ اتنا زیاده *وحدت* کے معاملے پر زور دیتے تھے وه اس لیے ہے کہ یہ ایک جذباتی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایک عقلائی معاملہ ہے".

رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت الله خامنہ ای

#شیعہ_سنی_اتحاد

🌸🌼 معرفت امام زمانہ عج 🌼🌸

🌸🌼 معرفت امام زمانہ عج 🌼🌸

ہمارے وجود کی اہمیت اور ہماری ذمہ داریاں
 قسط اول 

اللہ رب العزت کا شکر جس نے ہمیں انسان بنایا اور تمام مخلوقات میں اشرف قرار دیا ، ہمارے وجود کو اہم بنایا اور ہم پر کچھ ذمہ داریاں عائد کیں جنکا پورا کرنا ہم پر فرض ہے ۔ 
پھر اس ذاتِ کریم کا شکر جس نے ہمیں مسلمان اور خصوصاً شیعہ گھرانے میں پیدا کیا اور ہمارے دلوں کو محبت اہلبیت علیہم السلام سے لبریز کر دیا۔
حمد اس خدا کی جس نے ہمیں اپنی (خدا کی) اور محمد و آلِ محمد ﷺکی معرفت عطا فرمائی تا کہ ہم راہِ حق پر گامزن رہیں۔
یہ سب خدا ہی کا احسان ہے کوئی عبد ہم پر یہ احسان نہیں کر سکتا۔
ایک حدیث پیشِ خدمت ہے👇🏻
 *حضرت رسول ﷺ* كو جناب *جبرئیل* نے خبر دی كہ *اللہ تباك و تعالیٰ* نے ارشاد فرمایا:
 *’’جوشخص كو علم ہے كہ میرے سوا كوئی خدا نہیں اور محمد ﷺ میرے بندے اور رسول ہیں۔ اور علی میرے خلیفہ ہیں۔ اور ان كی اولاد سے جو آئمہ ہیں وہ میری حجت ہیں تو اس شخص كو میں اپنی رحمت سے جنت میں داخل كروں گا۔ اور اپنے عفو سے اسكو دوزخ سے نجات دوں گا۔ اپنے سے نزدیك ہونے كی اسے اجازت دوں گا۔ اس كے لئے كرامت كو واجب اور اس پر اپنی نعمت تمام كرونگا۔ اسكو اپنے خواص اور خالص بندوں میں قرار دونگا۔ اگر وہ مجھے پكارے گا تو جواب دوں گا اگر وہ مجھ سے دعا كرے گا تو میں اس كی دعا مستجاب كروں گا۔ اگر مجھ سے مانگے گا تو عطا كروں گا۔ اگر خاموش رہے گا تو (عطائے رحمت میں) خود ابتدا كروں گا۔ اگر مایوس ہوگا تو اس پر رحم كروں گا۔ اگر مجھ سے بھاگے گا تو بلاؤں گا۔ اگر میرے پاس لوٹ كر آئے گا تو اس كی توبہ قبول كروں گا۔ اگر میرے در پر دستك دے گا تو دروازہ كھول دوں گا۔‘‘*
📗(كمال الدین باب ۲۴ حدیث نمبر ۳، اردو صفحہ ۲۷۸)
👆🏻اگر آپ اس حدیث پر غور کریں تو یہ واضح ہو گا کہ ہم شیعہ قوم ہی ایسی قوم ہیں جو ناصرف خدا کی معرفت رکھتے ہیں بلکہ محمدﷺ و آل محمد ﷺ سے محبت کرتے ہیں اور آئمہ معصومین علیہم السلام کو خدا کی *حجت* (نشانی/دلیل)جانتے ہیں۔
 عزیزانِ محترم :
ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم خدا کی معرفت حاصل کریں اسے پہچانیں۔یقین جانیئے جب ہم اسے پہچان لیں گے تب ہمیں عبادات سے لذت ملے گی اور ہمارا دل نہیں کرے گا کہ ہم اپنے سر کو سجدے سے اٹھائیں تب ہم خدا کے عاشق بن جائیں گے اور عاشق کا کام ہی معشوق کی خوشنودی ہوتا ہے ۔
کیا خدا سے محبت اور نزدیکی تمام مسلمانوں کو حاصل ہے؟کیا سب خدا کے عشق میں گرفتار ہیں؟میری جان اور میری ماں باپ كی جانیں قربان امام حسین علیہ السلام پر جنہوں نے اس حدیث كے ذریعے رہنمائی فرمائی۔
ایك روز *امام* *حسین علیہ السلام* اپنے اصحاب كے درمیان آئے اور بعد حمد و ثنا خداوند متعال اور صلوات رسول خداﷺ فرمایا:- *اے لوگوں قسم خدا كی خداوند عالم نے بندوں كو خلق نہیں كیا مگراس لئے كہ وہ (بندے) اس كو (اللہ كو پہچانیں) اور جب اسے پہچان لیں تو اس كی عبادت كریں۔ اور اس كی عبادت كے ذریعے غیر (غیر خدا) كی عبادت سے بے نیاز ہوں۔* اسی وقت ایك شخص كھڑا ہوا اور پوچھا یابن رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں *خدا كی معرفت كیا ہے۔۔؟* آپ ﷺ نے فرمایا۔ *ہر زمانے كے لوگوں كو اس زمانے كے امام واجب الاطاعت كی پہچان ہی معرفت خدا ہے۔‘‘* 
📗(بحار الانوار ج ۲۳ ص ۹۳)

جاری ہے ۔۔۔۔۔

خاتون آھن

خاتون آھن

بانو مرضیہ دباغ 🌸
 قسط نمبر  14 ✍️

 🌷 بانو دباغ کا آخری انٹرویو جو آپ نے ہاسپٹل میں اخباری نمائندوں کو دیا. اسکا کچھ حصہ پیش خدمت ہے * * *🌷

                              * * *
# جب محترمہ دباغ سے یہ سوال کیا گیا کہ  : جس وقت انقلاب کی کامیابی کے بعد آپ ایران تشریف لائیں، تو آپ کے کیا احساسات تھے؟ 

تو بانو مرضیہ دباغ نے بتایا : 

میں جس وقت ایئرپورٹ سے باہر آی ہوں،  میرے آنسو تھمتے ہی نہ تھے؛  
یہ خوشی کے آنسو تھے. 
میرے بچے بھی خوشی سے مجھ سے چمٹے ہوے آنسو بہارہے تھے کیونکہ وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ میں مرچکی ہوں اور یہ ظالم مجھے کہیں پھینکہ آے ہیں. میرے فرار کے بارے میں کسی کو اطلاع نہیں تھی. 

یہ آنسو خوشی کے آنسو تھے. 

شکر کے آنسو تھے. مجھے وہ وقت یاد آرہا تھا جب میں انتہای بے بسی اور خوف کی حالت میں ایئرپورٹ پہنچی تھی. کسی بھی وقت مجھے گرفتار کرکے لے جاسکتے تھے. 
اور اب صورتحال یہ ہے کہ :
میں نے وطن واپسی  پر دیکھا  ایئرپورٹ باحجاب خواتین سے بھرا ہوا تھا، اکثریت نے سیاہ چادر پہنی ہوی تھی،  یہ سب میرے استقبال کو آی ہوی تھیں. 
میرے گھر والے، عزیز رشتہ دار،  دوست احباب، میرے شاگرد، سب مجھے لینے ایئرپورٹ پہنچے ہوے تھے، یہ بات ان سب کے لیے معجزہ سے کم نہیں تھی کہ میں زندہ ہوں. 

میں مسلسل خدا کا شکر ادا کررہی تھی کہ بلاخرہ سختیاں ختم ہویں اور انقلاب اپنی کامیابی کے مراحل کو پہنچا. 

⭐ محترمہ مرضیہ دباغ سے ایک سوال یہ کیا گیا کہ :
 اگر وقت پیچھے چلا جاے تو آپ کا فیصلہ کیا ہوگا. 
مرضیہ دباغ نے مسکرا کر جواب دیا : میں وہی کروں گی جو ان گزشتہ  سالوں میں انجام دیا. 
⭐مرضیہ دباغ سے ایک سوال یہ کیا گیا کہ : آپ یعنی مرضیہ دباغ معروف کیوں ہویں؟ 
جواب میں آپ نے کہا یہ فقط خدا کی عنایت اور اسکا لطف ہے. میں اپنے آپ کو اس سے کہیں زیادہ حقیر سمجھتی ہوں کہ؛ میں یہ کہوں کہ میں نے انقلاب کے لیے بہت کچھ کیا. میں نے جو کچھ کیا وہ فقط ایک رائ کے دانے کے برابر ہے. 

⭐ انقلاب میں آپ کا حصہ ؟  کیا ملا آپ کو؟ 
مرضیہ دباغ نے جواب میں کہا : 
میں اتنے شکنجوں ,  اور اذیتوں  کے بعد زندہ رہ گئ اور اپنی آنکھوں سے انقلاب کو کامیاب ہوتے دیکھ لیا اور آج اپنے عزیزوں کے درمیان ہوں میرے لیئے  ییہی بہت زیادہ ہے.

ایک سوال آپ سے یہ کیا گیا کہ : 
اس زمانے کی کوی یادگار؛  کوی نشانی،؟ 
جواب میں بانو نے ھنس کر جواب دیا کہ : 
میرے پاس تو اس دور کی نشانیاں ہی نشانیاں ہیں. وہ زخم جن کے نشان اب تک میرے جسم پر ہیں. 
میرے جسم کے وہ عضو،
 جو علاج نہ ہونے کے باعث اندر ہی اندر گل سڑ گیئے اور انہیں نکالنا پڑا. 

وہ یادیں ۔ ۔ ۔ 
 جب،  یہ لوگ مجھے اور رضوانہ کو کئ کئ دن پیاسا رکھتے تھے اور ہمیں دکھا دکھا  کر ٹھنڈا پانی زمین  پر بہاتے تھے اور ہم سے کہتے تھے کہ خمینی کو گالیاں دو تو پانی ملے گا.
 اور پھر کئ دن کی پیاس کے بعد کھولتا ہوا پانی زبردستی ہمارے حلق میں انڈیلتے تھے جس سے اپنے معدے اور آنتوں کے جلنے کی بو ہم خود محسوس کرتے تھے. 
نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارے جسم  کے اندر کے بہت سے عضو گل سڑ گیے . 

اس کے علاوہ جب وہ ہمیں ایذایں دیتے تھے تو ہمارے سر پر لوہے کا ٹوپ پہنادیتے تھے. 
جب ہم چیختے تھے تو اپنے چیخنے کی آواز ہمارے دماغ میں ہی گونجتی رہتی  تھی ۔
اس سے ہمیں سر درد اور دل کی تکلیف ہوگئ میرے اور رضوانہ کے دل اس وقت  بیٹری  سے چل رہے ہیں . 
بانو مرضیہ دباغ  سے  ایک سوال یہ کیا کہ ۔

 جو لوگ انقلاب کے مخالف  ہیں اور انقلاب کو تسلیم نہیں کرتے ان کے بارے میں کیا کہیں گی؟ 
⭐جواب میں مرضیہ دباغ نے کہا :
 اگر میں ان افراد کے سامنے بیٹھوں اور انہیں بتاوں کہ یہ انقلاب کس طرح آیا؟ 
کتنے خون کے دریا پار کیئے ہیں ہم  نے ?
کتنی در بدری اٹھای ہے ?


 لفظ بہ لفظ ان کے سامنے بیان کروں تو انکا نظریہ بدل جاے گا. 
❓ آپ سے ایک سوال یہ کیا گیا کہ : 
جوانوں کے لیئے  آپ کا کیا پیغام ہے؟ 
 جواب 
⭐امام خمینی اور انقلاب کی حقیقت کو سمجھیں.

حتی بوڑھے افراد بھی. وہ بھی امام اور انقلاب کو پہچاننے کے لیئے وقت نکالیں.  امام  خمینی کی ذات  میں ڈوب جائیں۔۔
 ہمیں انقلاب اسلامی کے مقاصد اور اصولوں کا زیادہ سے زیادہ علم ہونا چاہیے اگر ہمیں علم نہیں ہوگا تو ہم کہیں بھی انقلاب اسلامی کا دفاع نہیں کرسکیں گے ۔ 
❓آخری سوال محترمہ دباغ سے یہ کیا گیا . کیا زندگی کے کسی موڑ پر آپ نے پچھتاوے کا احساس کیا ہے؟ 
⭐انقلاب کی اس شیر دل خاتون  مادر انقلاب انتہای مضبوط لہجے میں  جواب دیا ۔ 
ہرگز ۔ ۔ ۔ ۔ 
ابھی اگر میرے دونوں پیر سلامت ہوتے تو آج میں بھی شام میں اپنی شھزادی کے حرم مطھر کے دفاع کے لیئے وہاں  موجود ہوتی. 💕
جی ہاں  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ محترم قارئین

یہ اسلام کی اس عظیم مجاھدہ کی زندگی کے آخری الفاظ تھے. 
🔸ہمارا سلام م اس شیر دل خاتون کی عظمتوں پر، کہ اتنے رنج اٹھا کہ اس کے عزم  و حوصل

ے میں کہیں کمی نہ آی. نہ اس وقت جب ساواک کے جلادوں کے چنگل میں تھیں ۔
 اور نہ اسوقت جب جلاوطنی کی زندگی میں کئ کئ دن  بھوک برداشت کرتیں تھیں.
 دن میں روزہ رکھتیں اور رات میں خشک روٹی کے ٹکڑے سے افطار کرتیں. 
ساواک کی قید میں بھی انہوں نے ماہ رمضان کے روزے قضا نہیں کیئے.
 باقی قیدی ان کے اس عزم و حوصلے کو دیکھ کر حیران ہوتے تھے اور انکے سامنے سرتسلیم خم کرتے تھے. 
اس عظیم مجاھدہ کی زندگی کا لمحہ لمحہ انقلاب کی خدمت میں گزرا ہے. 
ان کی زندگی کا ورق ورق پڑھنے کے لائق ہے.
 مرضیہ دباغ کی زندگی میں پیش آنے والے واقعات کوی افسانہ یا فلم اسٹوری  نہیں ،
 یا بہت دور کی بات نہیں، بلکہ ہمارے ہی دور کی ہماری جیسی ہی  ایک عورت کی داستان ہے. 
بس فرق اتنا ہے کہ جب انہوں نے زینبی مشن کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا تو اس راہ میں ڈٹ گئیں  ۔  اور اسلام  کا سر فخر سے بلند کردیا ۔ 
درود و سلام  ان شیر دل خواتین پر ۔💕

        اختتام  💫

انٹرویو و ترجمہ  🍃

قمر  فاطمہ 🍃

نوٹ :  مادر انقلاب  بانو مرضیہ دباغ 17 نومبر  2016 کو دار فانی کو وداع  کہہ چکی ہیں ۔  انہیں امام خمینی رحمتہ اللہ کے مرقد میں دفن کیا گیا ہے ۔
 خدا وند اس عظیم خاتون کے درجات بلند سے بلند تر فرماے 🤲

ختم شد

خاتون آھن

خاتون آھن

             بانو مرضیہ دباغ  🌸

 قسط نمبر 13   ✍️  

امام خمینی رحمتہ اللہ علیہ نے اسوقت کی سپر طاقت سویت یونین کے سربراہ گورباچف کے نام ایک تاریخی خط مرقوم فرمایا تھا ۔
جو بعد ازاں، دعوت اسلام کے نام سے معروف ہوا. 
اس خط کی اہمیت اس میں ہے کہ صرف تین سال بعد ہی سویت یونین کا شیرازہ بکھر گیا اور کمیونزم اور سویت یونین، امام کی پیش گوی کے مطابق تاریخ کا حصہ بن گیا. جس کا  اشارہ  امام خمینی رحمتہ االلہ علیہ نے  گورباچف کے نام خط میں کیا تھا ۔
 اس تاریخ ساز خط کے بارے میں، خود مرضیہ دباغ لکھتی ہیں :
 
✒ان دنوں خواتین کی جیل کی ذمہ داری بھی میرے حوالے تھی. ایک روز میں جیل کی سرکشی کے لیئے گئ ہوی تھی کہ،؛  دفتر سے اعلان ہوا ! 
احمد خمینی جماران سے آپ سے ملاقات کے لیے آے ہیں  
میں فورا  دفتر پہنچی اور گھبرا کر امام کی خیریت معلوم کی. 
احمد خمینی نے جواب دیا کہ الحمدللہ امام خیریت سے ہیں. پھر انہوں نے کہا کہ امام نے آپ کو ایک مشن پر بھیجنے کے لیے انتخاب کیا ہے.

پھر انہوں نے کہا کہ امام نے روس کے صدر گورباچف کے نام ایک خط لکھا ہے.
 اور اس خط کو آپ کو لے کر جانا ہے اور آپ کے ساتھ آیت اللہ جواد آملی اور جواد لاریجانی جائیں گے ۔

 آپ جماران تشریف لے آیئں اور جیسے ہی امام دستور دیں آپ روس روانہ ہو جایئں گی. 
ایک دو دن بعد ہم امام کا خط لے کر نکلے. ایئرپورٹ پر احمد خمینی ہمیں خدا حافظ کہنے آے ۔
 انہوں نے ہم سے کہا :
 امام نے فرمایا ہے کہ آپ لوگ اپنے وصیت نامے لکھ لیں. کیونکہ ممکن ہے امریکا اس طیارے کو فضا میں ہی اڑا دے. یا طیارے کو اسرائیل اترنے کے لیئے مجبور کردے ۔
 اور یہ امکان بھی ہے کہ روس سے کبھی آپ کی وطن واپسی نہ ہو اور وہ آپ لوگوں  ہمیشہ کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کردیں. 

اور واقعی 
جب ہم ماسکو ایئرپورٹ پر پہنچے ہیں  ۔ائیر پورٹ سے باہر  نکلنتے ہی انجانے خوف نے ہمیں گھیر  لیا ۔
جہاں ہمیں ٹھرایا گیا. وہ ایک سناٹے کی اور خطرناک سی جگہہ تھی.
 جس وقت گورباچف سے ملاقات کے لیئے لے کر گیئے. وہاں کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی اور حکومتی کمیٹی کے اراکین بھی موجود تھے. 
انہوں نے میرے بارے میں سوال کیا کہ یہ خاتون کس حیثیت سے وفد کے ساتھ آی ہیں. ?
 حضرت آیت اللہ جواد آملی نے جواب میں کہا   : 
مکتب اسلام میں  ایک عورت  بھی  اسلامی حدود کا خیال رکھتے ہوے  
سیاست اور زندگی کے ہر شعبے میں کام کرسکتی ہے ۔
اور امام خمینی نے انہیں خصوصی نمایندہ کی حیثیت سے وفد کے ساتھ بھیجا ہے. 
گورباچف نے میرا تعارف ہونے کے بعد مجھ سے ہاتھ ملانا چاہا،  میں نے ہاتھ ملانے میں پس و پیش کی تو وہ فورا ہی متوجہ ہو گیئے اور کہا : 
میں نے دوستی کا یہ ہاتھ ملت ایران کی طرف بڑا یا تھا. آپ سے ہاتھ ملانے کے لیئے نہیں ۔ 
 بہرحال جب سب اپنی اپنی جگہ بیٹھ گیئے تو امام کی ہدایت کے مطابق پورا خط، من و عن گرباچف اور کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے اراکین کو پڑھ کر سنایا گیا. 
اس دوران گورباچف اور کمیونسٹ پارٹی کے مرکزی اراکین اور حکومتی عہدہ دار دم بخود رہ گیئے. 
غصے کے آثار ان کے چھروں پر نمایاں تھے. لیکن اس کے باوجود ان میں سے کوی بھی اس بات کی جرات نہ کرسکا کہ کسی قسم کا کوی رد عمل  دکھایں ۔ 
ڈھای سے تین گھنٹے کی اس نشست کے بعد، بانی انقلاب اسلامی کا خط ۔
مکتوب، سویت یونین کے سربراہ گورباچف کی خدمت میں پیش کیا گیا . 
خط لینے کے بعد گورباچف نے کہا کہ اس خط کا جواب آیندہ چند روز میں ارسال کیا جاے گا. 

(بانو مرضیہ دباغ کے حالات معلوم ہونے کے بعد گورباچف نے انہیں مادر انقلاب کا لقب دیا. ) 

(جاری ہے۔۔۔۔۔

خاتون آھن

خاتون آھن⭐

بانو مرضیہ دباغ 

            قسط نمبر 12  ✍️

 بانو مرضیہ دباغ اپنی یاداشت میں ایک مقام پر لکھتی ہیں : 

82 19 میں مکہ میں شھدا کے اہل خانہ کی سرپرستی میرے حوالے کی گئ. 
ایک روز ہمارے  گروپ  کی ایک خاتون میرے پاس آیئں اور کہا کہ ;
 ایک عرب خاتون میرے پاس آیئں ہیں اور کہہ رہی ہیں؛ 
 یہاں پر آپ کی جو سربراہ ہیں میں ان سے ہر حال میں ملنا چاہ رہی ہوں!  
میں نے اس عرب خاتون سے ملاقات کی. 
اس خاتون نے تقریبا ایک کلو کے قریب سونا میرے حوالے کیا اور کہا : 
یہ سونا یہاں کی شیعہ خواتین نے محاذ کے لیے جمع کیا ہے، آپ اپنے ساتھ ایران لے جایے گا ۔

 اسکے بعد اس خاتون نے مجھ سے کہا کہ : 
آپ لوگوں کو سید علی خامنہ ای کو امام کا جانشین بنانا چاہیے تھا.

 وہ آغاے  منتظری سے زیادہ، رھبری کی شرائط پر پورے اترتے ہیں ( رھبر ان دنوں ایران کے صدر تھے ) میں نے یہ سن کر تیز لہجے میں ان خاتون سے کہا کہ :
 ہم اپنے ملک کے اندرونی مسائل میں دخالت کی کسی کواجازت نہیں دے سکتے. 
وہ خاتون یہ سن بولی، کہ ولی فقہہ پوری عالم تشیع سے تعلق رکھتا ہے. 
اس خاتون نے جو سونا مجھے دیا تھا وہ میں نے مکہ میں امام کے نمائیندے کے حوالے کردیا. 
میں جب واپس ایران آی تو میں نے امام سے خاتون کی اس بات کا ذکر نہیں کیا،
  کونکہ امام پہلے ہی بہت سی باتوں کی وجہ سے رنجیدہ تھے. بعد میں جب اسی حوالے سے مسائل پیش آے اور مجھ تک بھی خبریں پہنچیں تو مجھے ایک دم اس عرب خاتون کی بات یاد آگئی. 
وہ صحیح کہہ رہی تھی اس دنیا میں بسنے والے ہر شیعہ کا مستقبل امام کی ذات سے جڑا ہوا تھا. 
اس واقع کو کچھ عرصہ گزرا تھا. امام کی صحت گری گری رہنے لگی تھی. 
ایک بار آیت اللہ خامنہ ای جو اسوقت ملک کے صدر تھے  جنوبی کوریا، سرکاری دورے پر گیئے. ٹی وی سے ان کے متعلق رپورٹ نشر ہو رہی تھی اور رہبر کی وہاں کے صدر سے ملاقات کی فلم بھی دکھای جارہی تھی .
 میں بھی امام کے اور آپ کے اہل  خانہ کے ہمراہ یہ رپورٹ  دیکھ رہی تھی،  
اچانک امام نے اپنے فرزند 《احمد خمینی 》سے فرمایا : دیکھو ۔
《قیادت 》
سید علی کی شخصیت پر کس حد تک پوری اترتی ہے. سید احمد خمینی نے جواب میں کہا : 
آقا جان!
  آپ کا جملہ معنی خیز ہے......
 مگر امام نے ان کی بات کا کوی جواب نہیں دیا.
 امام کی بات سن کر میری آنکھوں میں آنسو آ گیئے. امام اس دنیا میں نہ ہوں اور میں زندہ رہوں یہ تصور ہی میرے لیئے درد ناک تھا. 
اس بات کو کچھ مہینے گزرے تھے
، میں شیراز سیمنار میں گئ ہوی تھی، کہ امام کی رحلت کی خبر مجھے ملی، 
میرے دونوں پاوں بے حس ہو گیئے اور میں زمین پر گر پڑی،  مجھے فورا اٹھا کر ہاسپٹل لے گیئے، 
میری دونوں ٹانگوں پر پلاسٹر چڑھا دیا گیا. دوسرے دن مجھے ویلچئر پر جماران لے گئے
، میں امام کے کمرے کے در و دیوار سے لپٹ کر روتی رہی. امام
کے بعد جیسے میری دنیا  تاریک ہوگئ تھی ۔
مغرب عشا کے بعد مجھے امام عزیز کے آخری دیدار کے لیئے ویلچئر پر مصلی لے گیئے. 
جہاں میں نے امام کے پیکر مطہر کو الوداع کہا،
 میں آج بھی اپنی زندگی میں امام عزیز کی کمی کو محسوس کرتی ہوں.

جاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

انصاف

انصاف
 اسلام میں امر با لمعروف اور مظلوم کی حمایت
"اپنے کام سے کام رکھو" مغربی سوچ جو آج اسلامی معاشرتی نظام کو کھوکھلا کر رہی ہے 

قانون کی جماعت میں استاد نے ایک طالب کو کھڑا کر کے اُس کا نام پوچھا اور بغیر کسی وجہ کے اُسے کلاس سے نکل جانے کا کہہ دیا

طالبعلم نے وجہ جاننے اور اپنے دفاع میں کئی دلیلیں دینے کی کوشش کی مگر اُستاد نے ایک بھی نہ سنی اور اپنے فیصلے پر مُصِّر رہا طالبعلم شکستہ دلی سے اورغمزدہ باہر  تو نکل گیا مگر وہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کو ظلم جیسا سمجھ رہا تھا۔ حیرت باقی طلباء پر تھی جو سر جُھکائے اور خاموش بیٹھے تھے

لیکچر دینے کا آغاز کرتے ہوئے استاد نے طلباء سے پوچھا: قانون کیوں وضع کیئے جاتے ہیں؟
ایک طالبہ نے کھڑے ہو کہا: لوگوں کے رویوں پر قابو رکھنے کیلئے
دوسرے طالب نے کہا: معاشرے پر لاگو کرنے کیلئے
تیسرے نے کہا؛ تاکہ کوئی طاقتور کمزور پر زیادتی نہ کر سکے

استاد نے کئی ایک جوابات سننے کے بعد کہا: یہ سب جواباتُ ٹھیک تو ہیں مگر کافی نہیں ہیں

ایک طالبہ نے کھڑے ہو کر کہا: تاکہ عدل و انصاف قائم کیا جا سکے

استاد نے کہا: جی بالکل یہی جواب ہے جو میں سننا چاہتا تھا تاکہ عدل کو غالب کیا جا سکے

استاد نے پھر پوچھا: لیکن عدل اور انصاف کا کیا فائدہ ہوتا ہے؟

ایک طالب علم نے جواب دیا: تاکہ لوگوں کے حقوق کی حفاظت کی جا سکے اور کوئی کسی پر ظلم نہ کر سکے

اس بار استاد نے ایک توقف کے بعد کہا: اچھا مجھ سے ڈرے بغیر اور بلا جھجھک میری ایک بات کا جواب دو کیا میں نے تمہارے ساتھی طالبعلم کو کلاس روم سے نکال کر کوئی ظلم یا زیادتی کی ہے؟

سارے طلباء نے بیک زبان جواب دیا جی ہاں سر آپ نے زیادتی کی ہے

اس بار استاد نے غصے سے اونچا بولتے ہوئے کہا: ٹھیک ہے کہ ظلم ہوا ہے پھر تم سب خاموش کیوں بیٹھے رہے؟
کیا فائدہ ایسے قوانین کا جن کے نفاذ کیلئے کسی کے اندر ھمت اور جراعت ہی نہ ہو؟ 

جب تمہارے ساتھی طالبعلم کے ساتھ زیادتی ہو رہی تھی اور تم اس پر خاموش بیٹھے تھے اس کا بس ایک ہی مطلب تھا کہ تم اپنی انسانیت کھو بیٹھے تھے اور یاد رکھو جب انسانیت گرتی ہے تو اس کا کوئی بھی نعم البدل نہیں ہوا کرتا

اس کے ساتھ ہی استاد نے کمرے سے باہر کھڑے ہوئے طالب کو واپس اندر بلایا سب کے سامنے اس سے اپنی زیادتی کی معافی مانگی اور باقی طلباء کی طرف اپنا رخ کرتے ہوئے کہا

یہی تمہارا آج کا سبق ہے اور جاؤ جا کر معاشرے میں ایسی نا انصافیاں تلاش کرو اور ان کی اصلاح کیلئے قانون نافذ کرانے کے طریقے سوچو.
آپنے ارد گرد ظلم،زیادتی اور غلط کام ہوتے دیکھر فقط یہ کہکر گزر جاتے ہیں 
ہمیں کیا
دوسروں کے کام میں ٹانگ مت اڑاؤ
ان سے ہمیں کیا 
وہ جانے انکا کام 
اس جیسے اور بہت سی تاویلیں جو ہمیں اپنے فرض سے جان چھڑانے کے بہانے ہیں 

خاتون آھن

خاتون آھن ⭐

بانو مرضیہ حدید  چی دباغ 

 قسط نمبر 11✍️

محترمہ مرضیہ دباغ نے اپنی یادوں میں ایک جگہہ لکھتی ہیں  کہ :  اسلامی انقلاب کے لیے سخت جدو جہد جاری تھی 
 ایک بار میری یہ ڈیوٹی لگای گئی کہ میں، زعفرانیہ روڈ پر مشکوک افراد کی آمدورفت کو کنٹرول کروں. (شاہ کا ایک محل اس روڈ پر بھی ہے )
اب مجھے ایسا کام کرنا تھا کہ میں پہچانی بھی نہ جاوں اور اپنی ڈیو ٹی بھی آسانی سے دے سکوں.
 میں نے اس کا طریقہ یہ نکالا کہ، ایک پھٹی  پرانی کالی چادر پہن کر، ہاتھ میں ایک چھوٹی سی گٹھری لے کر فقیرنی بن کر بیٹھ گئ. 
میں مسلسل ایک ھفتہ وہیں پر تھی، رات کو وہیں کونے میں سو جاتی تھی، اور اسطرح آنے جانے والے افراد کو نظروں میں رکھتی تھی.
 مجھے اس دوران جو سب سے اہم مسئلہ پیش آیا، وہ نماز کے حوالے سے تھا ۔
  ہمارے جوانوں کو اس بارے میں معلوم ہونا ضروری ہے،  سخت ترین مرحلہ اور  حالات  میں بھی  نماز کی پابندی کتنی ضروری ہے ۔
آج ہمارے جوان نماز سے کتنی لاپرواہی کرتے ہیں  اور بہانے بہانے نماز سے غفلت کر جاتے ہیں. 
جب کہ ہم سخت ترین حالات میں بھی نماز نہیں چھوڑتے تھے. 
رضوانہ جب قید میں تھی، اور جب میری اس سے ملاقات کروای گئ تو رضوانہ نے مجھ سے سب سے پہلا سوال یہی کیا 
 ماما؛  یہ ظالم سارا دن مجھے تخت سے باندھے رکھتے ہیں، دن میں صرف ایک مرتبہ مجھے باتھ روم جانے کی اجازت ہے. میں نماز اسی طرح لیٹے لیٹے پڑھتی ہوں , یہ میرے ہاتھ بھی نہیں کھولتے ۔
کیا میری نماز قبول ہے۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ?

رضوانہ کے اس سوال سے میں حیران بھی ہوی کہ اس بچی نے اتنے سخت حالات میں بھی نماز نہیں چھوڑی، اور خدا پر اس کا  ایمان  قائم رہا ۔ 
 اس کے سوال سے میرے ایمان میں مزید اضافہ ہوا،
 میں نے اسے گلے لگا کر کہا، سب سے بہترین اور لذت بخش نماز ییہی ہے جو تم اس وقت اس  حال میں  ادا کررہی ہو. 
مجھے افسوس ہوتا ہے جب میں دیکھتی ہوں کہ بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو ۔
 مستحبات کو اہمیت دیتے ہیں اور واجبات کو چھوڑ دیتے ہیں. میں جب اس مشن پر تھی جس کا میں نے اشارہ کیا  تو مجھے نماز کے لیے کافی مسئلہ ہوتا تھا،
 میں جہاں پر بیٹھتی تھی وہاں ایک چھوٹی سی نہر بہہ رہی تھی. میں اسی گدلے پانی سے وضو کرتی تھی. اور سر جھکاے جھکاے نماز ادا کرلیتی تھی.

تاکہ کسی کو پتا نہ چلے میں نماز پڑھ رہی ہوں. 

میں نے اس بارے میں شھید آیت اللہ سعیدی سے رابطہ کیا، انہوں نے فرمایا کہ :

انشاءاللہ آپ کی یہ نماز قبول ہے، ایک روز ایسا آے گا کہ آپ نے اس عظیم مشن کے لیے خوف  کی حالت میں جو یہ نمازیں ادا کی ہیں،
 ان نمازوں کو ایسے افراد کے کھاتے میں ڈال دیا جاے گا جو شادی بیاہ یا کسی اور بہانے سے نماز  کو چھوڑ دیتے ہیں. اور نماز کو اہمیت نہیں دیتے  *
محترمہ مرضیہ دباغ نے اس کے آگے لکھا کہ : 
میں ہر نماز کے بعد یہ دعا کرتی ہوں کہ : 
خدایا ! 
نور نماز؛
  نور حجاب ؛
 نور قرآن
 اور انقلاب اسلامی کی صحیح شناخت کو پنجتن کے صدقے میں ہمارے جوانوں کی روح اور ان کے رگ و پہ میں اتار دے. (الہی آمین ) 

یہ انقلاب اتنی آسانی   سے ہاتھ نہیں! آیا ہے کہ اتنی آسانی  سے ہاتھ سے چلا جاے.
 ہمارے جوانوں کو اس حقیقت کی قدر کرنی چاہیے، اور حقیقت کی جستجو کرنی چاھیے.
 اور جن جوانوں نے اس انقلاب کو پر ثمر بنانے میں اپنی جانوں کا نذرانہ دیا ہے ان کی یادوں کو زندہ رکھیں. اور بھرپور طریقے سے انکا دن منائیں. 
(جاری ہے ).

حزب الله کے ایک شہید کا خوبصورت واقعہ

 ❤😥حزب الله کے ایک شہید کا خوبصورت واقعہ😥 
👈💓شہید کا ایک دوست کہتا ہے کہ ایک صبح ہم سب ناشتے کے لیے گئے تو شہید مصطفیٰ ہادی بہت بچیں تھے کھانا بھی اچھی طرح سے نہیں کھایا کھانے کے دوران اٹھ کر باہر چلے گاۓ 
جب واپس اے تو سب نے دریافت کیا اپ کی طبیعت تو ٹھک ہے تو کہنے لگا ہاں میں بلکل ٹھیک ہوں ایک دوست سے ملنے گیا تھا اس لیے تھوڑی دیر ہو گئی 
سب خاموش ہو گئے تو مصطفیٰ ہادی کہتا ہے کہ دوستان اگر مجھ سے کوئی غلطی ہو گئی ہو تو مجھے معاف کر دینا شاہد آج میں گھر چلا جاؤ سب نے پوچھا گھر کیوں کس لیے جانا چاہتے ہو گھر کی یاد ا رہی ہے تو کہنے لگا ہاں مجھے ماں کی بہت یاد آ رہی ہے 
💓لیکن پتا نہیں میری ماں کیسی ہوگی 
سب کہنے لگے کہ اپکا رابطہ ہم کروا دیتے ہیں اپ گھر والوں سے بات چیت کر لیں تو کہنے لگا میں اپنی اس حالت میں بات نہیں کر سگتا جب گھر جاؤ گا تو بات کر لوں گا 
شہید مصطفیٰ ہادی عجیب سی کیفیت میں تھا سب باہر چلے گاۓ شہید مصطفیٰ وہی پر بیٹھ گاۓ کچھ دیر کے بعد باہر اے تو بہت ہی خوش نظر ا رہے تھے سب نے وجہ دریافت کی تو کہنے لگا
آج میں واقعی گھر جا رہا ہوں سب خاموش ہو گیۓ شہید مصطفیٰ بھی دوسروں کی طرح جہاد میں مصروف ہو گیۓ اسی وقت ایک پرندہ اس کے اوپر ا گیا اس نے اس کو پکڑا اور ہاتھوں پر اٹھایا شہید اس پرندے سے باتیں کرنے لگے اور پرندہ بھی اپنی زبان میں اس سے باتیں کرنے لگا میں یہ راض سب دیکھ رہا تھا 
😪ایسا معلوم ہوتا کہ یہ دونوں اپس میں کچھ باتیں کر رہے ہیں آخر کر شہید نے اس پرندہ کو اڑایا لیکن وہ پھر واپس ا جاتا آخر کار وہ پرندہ شہید کے ساتھ بیٹھ گیا میں شہید کے پاس آیا اور کہا کہ اپ کیا باتیں کر رہے تھے اس پرندے کے ساتھ تو کہنے لگا کہ اس پرندے نے مجھے ایسی بات کہی جس سے میں خوش بھی ہو گیا اور پریشان بھی میں نے 
 بات پوچھی تو کہتا ہے جب یہ پرندہ مرے قریب آیا اور کہا کہ آج تم گھر جا رہے ہو اور تمہاری ماں تمہارا بے چینی سے انتظار کر رہی ہے اور تمھارے لیے ایک خوبصورت لباس خرید لائی ہے 
لیکن وہ دوسری بات مجھے نہیں بتائی 
کچھ دیر بعد گولیوں کی بوچھاڑ ہو گئی سب مصروف ہو گیۓ کسی کو کوئی ہوش نہ تھا لیکن شہید موصطفیٰ پو سکون تھے اور پرندہ بھی اسی کے ساتھ بیٹھا تھا کچھ دیر بعد ایک ایک گولی شہید کے سینے کو چیرتی ہوئی گزر گئی 
میں بھاگ کر شہید کے پاس گیا زور سے ڈاکٹر کو آواز دینے لگا تو شہید کہتا ہے کسی کو نہیں بلاؤ کہتا ہے کمرے کے اندر میرا ایک رومال ہوگا وہی لے کر او وہ رومال شہید صرف اور صرف عزاداری پر ہی پہنتے اور اسی سے آنسوں کو صاف کرتے کہنے لگا میری وصیت ہے اس رومال کو میرے ساتھ ہی رکھنا اسکو کبھی جدا نہ کرنا 
😪❤جب رومال لے کر آیا تو وہ پرندہ شہید کے ساتھ بیٹھا بہت ہی گریہ کر رہا تھا میں نے ایسا کبھی نہیں دیکھا جیسا وہ پرندہ گریہ کر رہا تھا 
پھر اچانک میری آنکھوں کے سامنے آندھرا ہو گیا پھر دیکھتا ہوں کہ وہ پرندہ وہاں نہ تھا ہر طرف دیکھا لیکن پرندہ نظر نہ آیا 


جب میں اس شہید کے پاس گیا تو اس کا چہرہ بہت شاداب تھا اس کے چہرے پر شہادت کے وقت بہت زیادہ نور نظر آیا میں قریب گیا شہید مسکرا رہے تھے میں نے سمجھا کہ یہ ابھی شہید نہیں ہوے 
لیکن وہ شہید ہو گیۓ تھے ❤
💓پھر میں نے اس کے گھر والوں کو بتایا اس کی ماں خوش سے کہنے لگی مبارک ہو جتنی میں آج خوش ہوں اس سے پہلے کبھی اتنی خوشی محسوس نہ ہوئی اور کہتی ہے میں آج ایک لباس لے آئی ہوں اس شہید کے لیے 
ااور تمہاری بات کرنے سے پہلے مجھے اپنے بیٹے کی شہادت کی خبر مل گئی تھی اور بہت بے چین تھی کہ شہید کب گھر آتا ہے اب میری خوشی کی کوئی انتہا نہیں رہی تو میں پریشان ہو گیا میں نے اس کی ماں سے پوچھا اپ کو کس نے بتایا شہید کا کہ وہ شہید ہو گیۓ
تو😪❤❤ کہنے لگی میں صبح کی نماز ادا کر کے رو رو کر دعا کر رہی تھی اے خدا مجھے روز محشر امام کے سامنے اور بی بی زینب ع کے سامنے سرخروں کرنا دعا میں ہاتھ بلند تھے کہ اچانک ایک خوبصورت سا پرندہ میرے ہاتھوں پر ا کر بیٹھ گیا اور ایک آواز سنائی دی اور کہنے لگا تمہاری دعا قبول ہو گئی ہے 
آج تمہارا فرزند شہید ہو جائے گا وہ پرندہ وہاں سے غائب ہو گیا پھر میں اسی وقت سے ببے چین تھی کہ مجھے کب خبر ملتی ہے کہ میرا فرزند شہید ہو گیا 
سلام بر شہید 
سلام بر مدر شہید 
💓خدا وند ان شہدا کو شہدا کربلا کے ساتھ محشور کرے 
😭اور خدا وند سے دعا ہے کہ ایسی عظیم شہادت ہمیں بھی نصیب ہو 
😪خدا وند ہماری ماؤں کو حوصلہ جرات عطا فرماتے تا کہ وہ اپنے فرزندوں کی اسی طرح تربیت کریں 
اور خدا وند ہر جوان کو سیرت مستقیب پر چلنے کی توفیق دے 
آمین

پیغمبر اکرم (ص) کی بعض عادات و اطوار

🌴 ہفتہ وحدت مسلمین، ايام ميلاد النبي (ص) مبارک ہو.

پیغمبر اکرم (ص) کی بعض عادات و اطوار:

١. مؤذن کی پیروی کرنا اور ان الفاظ کو دہرانا جو مؤذن پڑھتا تھا. 
٢. نماز شب پڑھنا.
٣. پانی پیتے وقت اس کو تین حصوں میں تقسیم کرنا. 
۴. طہارت کے ساتھ سونا. 
۵. خدا کی خوشنودی کی خاطر لوگوں سے ملاقات کے لئے تشریف لے جانا. 
۶. سونے سے پہلے بستر کو جھاڑنا. 
٧. گھر کے کاموں میں خاندان کے افراد کا ہاتھ بٹانا. 
٨.  بڑھاپے کے آثار کو تبدیل کرنا (خضاب لگانا).
٩. سفید کپڑے پہننا. 
١٠. لوگوں سے ملاقات کے وقت مصافحہ کرنا. ..
١١. دائیں کروٹ پر سونا. 
١٢. بیمار کی عیادت کرنا. 
١٣. اس شخص کے جواب میں جو چھینک مارنے کے بعد کہتا تھا، الحمدلله، آپ فرماتے تھے: یرحمک الله (خدا تجھ پر رحم کرے).
١۴.راستے میں رکاوٹ بننے والی اشیاء کو ہٹانا. 
١۵. خرما اور تازہ کھجور تناول کرنا. 
١۶.پینے کی اشیاء پر نہ پھونکا. .

📚 آیت الله علامہ طباطبائی رح کی کتاب سنن النبی (ص) سے اقتباس. 

🤲🏻 طالب دعا: سید محمد رضوی. 

  🌹  [ الّلهُــمَّ عَجِّــلْ لِوَلِیِّکَــــ الْفَــرَج ]

خاتون آھن

خاتون آھن⭐

  بانو مرضیہ دباغ 
ساواک کے عقوبت خانے میں انقلابیوں پر کیا گزری 🔥
                     
 قسط نمبر  10 ✍️


امام نے میرے  لیے بھی  دستور فرمایا کہ خواہر طاہرہ میرے ہمراہ واپس ایران آیئں گی.
 لیکن امام کی واپسی والے روز جب اخباری نمائیندے امام کے تاثرات لینے آے ہیں. 
میں امام  کے محافظ کے طور پر آپ کے ہمراہ تھی اور ہر طرف کی نگرانی کررہی تھی کہ اچانک مجھے محسوس ہوا کہ ایک اخباری نمائندہ پیچھے دیوار کی طرف سے سیڑھیاں چڑھ کر امام کی طرف آنا چاہ رہا ہے۔
 وہ مجھے مشکوک سا لگا۔
 میں  دوڑ کر اس طرف گئ اور لکڑی کی وہ سیڑھی جس پر سے وہ چڑھ کر اوپر آرہا تھا اپنی پوری طاقت سے ہلانا شروع کی. 
بلاخرہ وہ سیڑھی پر سے گر گیا اور باقی  لوگ بھی متوجہ ہو گیئے. مگر میں بے دم ہو کر گر گئ ۔
اور میری اتنی حالت خراب ہوگئ کہ مجھے ہاسپٹل میں ایڈمٹ کرنا  پڑ گیا ۔
اور میں امام کے ہمراہ نہیں آپای.  اسلامی انقلاب کی کامیابی والے دن جب پورا  ایران  جشن و  سرور  میں ڈوبا ہوا تھا میں ہاسپٹل  میں تھی لیکن  دل بہت  مطمئن تھا ۔  کیونکہ مجھے معلوم ہوا کہ   
  وہ اخباری نمائندہ امام پر حملہ کرنا چاھتا تھا ۔
اسلامی انقلاب  کی کامیابی کے کچھ دن بعد جب میری حالت سنبھل گئ تو  مجھے ویلچیئر  پر ایران  روانہ کیا گیا ۔

  انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد میرے عظم و حوصلے میں مزید اضافہ ہوا. 
اب میری ذمہ داریوں میں  بھی مزید اضافہ ہوچکا تھا. سب سے پہلے مجھے ھمدان شھر کی سپاہ کی کمانڈ دی گئ. 
ساتھ ہی خواتین کی رضاکار فورس (بسیج )کی سربراھی بھی میرے حوالے کی گئ. 
ساتھ ہی انقلاب مخالف افراد( منافقین ) سے بھی نمٹنا پڑتا تھا.
 دوران جنگ، میں کافی عرصے امام (رح)کی ذاتی محافظ ہونے کی خدمات بھی انجام دیتی رہی. 
پھر مجھے مجلس شورای اسلامی میں تہران کے عوام کی نمائندہ قرار دیا گیا.  اسلامی انقلاب  کی کامیابی کے ایک سال بعد جب صدام  نے ایران  پر حملہ کیا تو 
ساتھ ہی میں محاذ پر بھی خدمات انجام دیتی رہی.
 وہاں انقلاب کے وفادار اور پاسداروں  کے عظم و حوصلے کو دیکھ کر میں اپنی جیل کی صعوبتوں کو بھول جاتی تھی. 🌹🍃

( جاری ہے )

خاتون آھن

خاتون  آھن ⭐
 بانو مرضیہ حدید چی  دباغ 
ساواک کے عقوبت خانے میں انقلابیوں پر کیا گزری  🔥

 قسط نمبر  9 ✍️

     #  بانو مرضیہ دباغ اپنے واقعات بیان کرتے ہوے ایک مقام پر لکھتی ہیں.
 1979 میں ہم ابھی پیرس کے نواحی علاقے میں ہی تھے، امام خمینی  کے ایران جانے کی تیاری شروع ہوچکی تھی ہمیں اطلاع  ملی ایران کا ائیرپورٹ بند کردیا گیا ہے ۔  
، یہ امام کی وطن واپسی سے پہلے کی بات ہے.
 ایک رات امام (رح)نے حکم دیا کہ : جتنے افراد اسوقت یہاں موجود ہیں، سب کو میرے پاس لے آیئں
. ہمارے ساتھ غیر ملکی بھی وہاں تھے جو واقعی امام (رح ) سے بے انتہا عقیدت رکھتے تھے. 
اور امام جو بھی دستور فرماتے تھے بی چون و چرا قبول کرتے تھے. جب امام پر ایئرپورٹ بند ہونے کی اطلاع ملی تو آپ نے اس رات دستور دیا کہ سب کو میرے پاس جمع کیا جاے. 
جب سب امام کی خدمت میں جمع ہو گیئے تو امام نے افراد کو مخاطب کرتے ہوے فرمایا : 
نمیں نے اپنی بیعت آپ سب پہ سے اٹھا لی ہے. آپ لوگ مختلف شھروں اور ملکوں سے  یہاں جمع ہوے ہیں، اور مستقل زحمت میں ہیں. 
خدا وند آپ سب عزیزوں کو اس کا اجر عنایت فرماے. آپ لوگ جہاں جہاں جس جس ملک کے ہیں واپس جا سکتے ہیں. میں احمد کے ساتھ تنہا ایران جاوں گا،
 میں آپ سب کی زندگیاں خطرے میں نہیں ڈال سکتا، اگر میں خیریت سے پہنچ گیا تو آپ سب بھی آجائیے گا. 
مرضیہ دباغ لکھتی ہیں :
 یہ سن کر ایکدم افراد میں ہلچل سی مچی اور حاضرین کے رونے کی آواز بلند ہوی، 
ہر کوی زیر لب زمزمہ کررہا تھا. 
اور اپنی اپنی زبان میں کچھ نہ کچھ کہہ رہا تھا : کچھ افراد کھڑے ہوے اور کہا : یا امام ! اگر ہمارے پاس ہزار جانیں ہوں تو ہم انقلاب کی راہ میں قربان کردیں گے. 
ہم آپ کو تنہا نہیں چھوڑیں گے. 
میں بھی وہیں کھڑی تھی، 
مجھے شب عاشورہ، امام حسین علیہ السلام کے وہ الفاظ یاد آ گیئے جب امام نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ میں تم پر سے بیعت اٹھالے رہا ہوں، جو مصائب میں مبتلا ہونا نہیں چاہتا وہ چلا جاے اور پھر امام عالی مقام کے خالص چاھنے والے رہ گیئے، 
ا

مرضیہ دباغ، لکھتی ہیں : امام کی وطن واپسی میں آپ کی جان کو بےتحاشہ خطرہ تھا. 
یہ بھی امکان تھا کہ امریکی ؛
  امام کے طیارے کو فضا میں ہی اڑا دیں، یا خود فرانسوی جنہوں نے وطن واپسی کے لیے طیارہ امام کے اختیار میں دیا تھا،  یرغمال بناے جانے کا بہانہ کرکے اسرائیل لے جایں اور دشمن کے حوالے کردیں.
 یا جب امام ایران پہنچیں اور مھر آباد ایئرپورٹ پر کسی بھی بہانے سے امام کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر جایئں. یا ایئرپورٹ پر ہی طیارے کو بم سے اڑا دیں. 
ان تمام خطرات کے باوجود سب امام کی ہمراہی کرنے کے لیے پر عزم تھے. سب کے چہروں پر اطمینان اور سکون تھا کسی کو پیش آنے والے خطرات کی پرواہ نہیں تھی. 🍃
(جاری ہے )

هفته وحدت

🌺ہفتہ وحدت 12تا17 ربیع الاوّل🌺

💭ہفتہ وحدت کی اہمیت کی وجہ💭

📌میرے خیال سے آج ہمیشہ سے زیاده امام خمینیؒ کی اس ایجاد یعنی ہفتہ وحدت کی اہمیت آشکارا ہو گئی ہے.

📣وه دن جب امام خمینیؒ نے "ہفتہ وحدت" کا اعلان کیا تھا اور اسلامی مذاہب و فرقوں کے درمیان عمومی، سیاسی اور اجتماعی معاملات میں ان کی سمت اور تمایلات میں وحدت کا اعلان کیا تو اس دن اس پیغام کے حقیقی مخاطبین اس پیغام کی اہمیت کو سمجھ نہ سکے؛ جن میں بہت سے اسلامی ممالک کے ذمہ دار تو بالکل بھی نہیں سمجھ سکے کہ یہ پیغام کتنی اہمیت کا حامل ہے.

⚠️البتہ بہت سے سمجھتے نہیں تھے جبکہ بہت سے ضدی پن کا شکار ہو جاتے تھے یعنی انہوں نے اپنے بہت سے مطلوبہ مقاصد کی وجہ سے اس پیغام کو نظرانداز کر دیا.

👈👈آج ہمیں سمجھ آ رہا ہے کہ یہ پیغام کتنا اہم تھا. آج جو واقعات پیش آئے ہیں، یہ جو اسلامی ممالک کے درمیان مختلف قسم کے اختلافات ابھر کر سامنے آئے ہیں، یہ ہولناک واقعات جو خطے کے بعض ممالک میں جیسے شام میں، عراق میں، ایک وقت میں لیبیا میں، یمن میں، افغانستان میں اور اس طرح کے واقعات جو ان علاقوں میں پیش آئے تو ان سے انسان سمجھ جاتا ہے کہ اسلامی دنیا کا اتحاد کتنا اہم تھا اور یہ اسلامی امّت کی وحدت کتنا اہم اور قیمتی عنصر تھا جسے امام خمینیؒ نے اعلان کیا، درخواست کی، اسے پیش کیا کہ اگر اسے قبول کر لیا جاتا تو ان میں سے زیاده تر واقعات پیش ہی نہیں آتے!

رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت الله خامنہ ای

#شیعہ_سنی_اتحاد

خط و کتابت کا خاص انداز

📜خط و کتابت کا خاص انداز📜

📌مناقب ابن شہر آشوب میں ایک حدیث موجود ہے جو *امام حسن عسکری علیہ السلام*  کے مختلف لوگوں اور ان تمام شیعوں سے رابطے کے حوالے ہے سے جو امامؑ سےتعلق رکھتے تھے.

📖اس روایت میں ہے کہ احمد ابن اسحاق امام حسن عسکریؑ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں اور امامؑ سے درخواست کرتے ہیں کہ میرے اور آپؑ کے درمیان تو خط و کتابت کا سلسلہ جاری رہے گا، اور اس میں یقینا ایسی باتیں بھی ہوں گی جس کی وجہ سے یہ خطوط بالکل بھی کسی کے ہاتھ نہیں لگنے چاہییں، میرا دل چاہتا ہے کہ آپؑ میرے لیے اپنے ہاتھ سے ایک تحریر لکھ دیں تاکہ میں آپؑ کے خط(handwriting) کو پہچان سکوں (مناقب آل ابی طالب، باب امامة ابی محمد الحسن بن علی العسکری، فصل فی معجزاته).

⁉️احمد بن اسحاق امامؑ کے خط کو کیوں پہچاننا چاہتے ہیں؟ اس لیے کہ یہ بات طے ہے کہ امامؑ دستخط نہیں کریں گے، کیونکہ اگر امامؑ نے دستخط ہی کرنے ہوتے تو امامؑ کی تحریر کو پہچاننے کا کوئی مقصد ہی نہیں تھا.

🔸امامؑ نے فرمایا کہ "کوئی مسئلہ نہیں" اور پھر آپؑ اپنے ہاتھ سے تحریر لکھ دیتے ہیں. احمد ابن اسحاق تحریر کو دیکھتے ہیں اور امامؑ کے خط کو جان لیتے ہیں.

🔹لیکن بعد میں امامؑ انہیں وضاحت دیتے ہیں کہ "کبھی میں باریک قلم سے لکھوں گا اور کبھی موٹے قلم سے، غلطی کا شکار نہ ہونا"؛ یعنی صحیح طرح توجہ اور دقت سے دیکھ لو.

💭یہ ایک بہت چھوٹا سا نمونہ ہے. یہ ایک حدیث ہے اور ممکن ہے کہ آپکی نگاہوں سے گذرے اور آپ اسے دیکھیں اور اس طرح کی دیگر احادیث بھی آپکی نظر میں کوئی خاص اہمیت کی حامل نہ ہوں؛ جیسے یہ بھی امامؑ اور احمد ابن اسحاق کے درمیان ایک ساده اور معمولی سی گفتگو ہے.

👈لیکن یہی ساده سی گفتگو آئمہ علیہم السلام کے زمانے کے خاص حالات کو نمایاں کرتی ہے.

📚250 سالہ انسان، ج 3، ص 829
رہبر معظم آیت الله سید علی خامنہ ای

🏴🏴🏴گیارهویں امام حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی شب شہادت کے موقع پر ان کے فرزند حجة بن الحسن امام زمانہ علیہ السلام اور تمام مومنین کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہیں.

ولایت، اعمال کا معیار

🚦ولایت، اعمال کا معیار

قسط نمبر02

📌امام حسینؑ چاہتے ہیں کہ لوگ ان کے جدؐ کی باتوں کو تسلیم کریں اور آپؑ بغیر زبان کے انہیں اس بات کی طرف دعوت دیں. آپؑ دو طرح کی ولایت کی پہچان کروانا چاہتے ہیں جن میں ایک مثبت ہے اور دوسری منفی. ایک اسلام کے لیے انتہائی نقصانده ہے اور دوسری فائده مند.

👈آپؑ درحقیقت کامیاب رہے، آپؑ نے حقیقتاً الله کی طرف دعوت دی اور مثبت و منفی نشانیوں کو واضح کر دیا. اس زمانے تک نماز تو پیش کر دی گئی تھی لیکن اس کی مثبت یا منفی علامت پیش نہیں کی گئی تھی.

⚠️لوگ کہتے تھے کہ دونوں گروه نماز پڑھ رہے ہیں. ان میں سے کونسی نماز مقبول ہے؟ ابن سعد کی نماز یا امام حسینؑ کی نماز؟ یزید کی نماز یا حضرت عباسؑ کی نماز؟ عبیدالله کی نماز یا جناب زہیر کی نماز؟ امام حسینؑ نے واضح کر دیا کہ ان میں سے ایک مثبت ہے اور ایک منفی.

📣امام حسینؑ نے واضح کر دیا کہ ان کے اصحاب نور ہیں، ان کا عمل اور کلام نور ہے اور وه لوگ جنہوں نے ولایت کی نعمت کی ناشکری کی ہے الله تعالی ان کا پیشوا اور ذمہ دار نہیں ہے بلکہ انہیں طاغوت ایڈمنسٹریٹ کرتا ہے اور ان کا کردار، خاموشی، کلام، زندگی اور موت سب تاریکی ہے.

‼️آج بھی اگر کوئی حق کے سامنے اٹھ کھڑا ہو وه طاغوت ہے چاہے وه امریکہ ہو یا اسرائیل یا انگلینڈ، ان میں کوئی فرق نہیں. یہ سب طاغوت ہیں ویسے ہی جیسے یزید، ابن سعد اور عبیدالله ابن زیاد طاغوت تھے. ان کے ماننے والے بھی طاغوت ہیں.

💠امام حسینؑ نے اپنی شہادت کے ذریعے خون گرما دیے اور لوگوں کے ضمیروں کو حرکت میں لے آئے. امام حسینؑ کے راستے سے الله تعالی سے ارتباط پیدا ہوتا ہے اور نماز + مثبت علامت کی حامل ہو جاتی ہے.

آیت الله محی الدین حائری شیرازیؒ

#محرم_و_صفر، #قیام_حسینی، #هیهات_من_الذلة، #لبیک_یا_حسینؑ

خاتون آھن

خاتون آھن ⭐

بانو مرضیہ حدید چی دباغ 

ساواک کے عقوبت خانے میں انقلابیوں پر کیا گزری 🔥

 قسط نمبر  8 ✍️
  #  وہاں سے مجھے راتوں 

 رات لبنان پھر وہاں  سے شام روانہ  کردیا  گیا  ۔
اسی دوران میرے  گھر والوں کو بھی محفوظ مقام پر پہنچادیا گیا -
۔شام  میں  ہم  نے بہت سخت  حالات  گزارے  بعض اوقات ہمارے پاس کئ کئ دن کھانے کے لیے کچھ نہیں ہوتا تھا ۔
 وہاں  میں نے شہید محمد منتظری  کی زیر نگرانی فوجی ٹریننگ حاصل کی ۔
 پہلے تو میں اپنے  اندرونی  زخموں کے باعث پس و پیش  میں رہی کہ کہیں ایسا نہ ہو بستر  پر  پڑ  جاوں اور ان لوگوں کے مشکل کا سبب بن جاوں  ۔
لیکن  پرور دگار  پہ  توکل کرکے میں نے فوجی ٹریننگ کی حامی بھرلی ۔
پھر چھاپہ مار ٹیم  کی لیڈر  بنا دی  گئ ۔ 
اپنی سرگرمیوں کی وجہ سے سعودی  عرب  , برطانیہ , شام , لبنان اور عراق میں مسلسل میری رفت و  آمد  رہتی   تھی  ۔
                               
   شام میں انتہای سخت اور کٹھن زندگی گزارنے کے بعد مجھے عراق جانے کا موقع ملا، 
امام خمینی رحمتہ اللہ علیہ اسوقت عراق میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے، 
امام خمینی رحمتہ اللہ علیہ سے ملاقات کے دوران، میں نے امام سے سوال کیا :
 کہ شام می  قیام کے دوران ہمیں بعض اوقات، صیہونیوں کے خلاف؛  فلسطینی مجاہدین کے ساتھ مہم پر جانا پڑتا ہے  ۔ 
 آپ کی نظر اس بارے میں کیا ہے؟ امام نے میرا سوال سنتے ہی جواب میں فرمایا  : 
یہ تو پوچھنے کی بات ہی نہیں - اور کسی مجتھد اور فقیہہ کی ضرورت نہیں، 
فلسطینی مجاھدین کی مدد اور حمایت ہر شخص کا فریضہ ہے. 🍃
جاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

مهدویت نامه

مہدویت نامہ
آیت الله بہجت فرماتے ہيں :
💠 ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم منتظِر ہیں تو کیاایسا ممکن ہے کہ
*ہمارے مولا ولی عصر عج غمگین ہوں اور ہم خوش رہیں** ، ⁉️
💧 *وہ اپنے دوستوں کی آزمائش اور امتحان مبتلا ہونے کی وجہ سےگریاں ہیں اور ہم خوش ہیں*
*اور ہمیں لگ رها هے کہ ہم ولی عصر عج کے تابع ہیں* .
*دراصل آپ کو اس شخص کی ضرورت ہے جو صرف آپ کیلئے ہو ۔* ۔ ۔
*جب كه جو فرج کےصحیح منتظِر ہیں وہ خدا کے لیے* اور *خدا کی راہ میں حضرت عج كے ظہور کے منتظر ہیں ** ،
*نہ اس لیے کہ حضرت عج کا ظہور ہو اور ہماری خواہشات پوری ہوں** .
❎ *صرف آپ عج حضرت کو ڈھونڈنا اور دیکھنا اہم نہیں ہے* .
*ہم سب اپنی ذاتی خواہشات کے پورے ہونےکی فكر میں ہیں ،۔ حضرت کی فکر میں نہیں ہیں* .
*انتظار کے بھی کچھ شرائط اور تقاضے ہیں*
*جن میں سے ایک، انسان کا سماجی، باطنی اور معنوی طور پر اس کے لئے آمادہ ہونا ہے*
*اور منتظر شخص کو ان خصوصیات کو ہمیشہ اپنے اندر حفظ کرنا چاہیے

نمازکے طبی اثرات

نماز کے طبی اثرات 

*فجر*

نماز فجر کے وقت سوتے رہنے سے معاشرتی ہم آہنگی پر اثر پڑتا ہے، کیونکہ اجسام کائنات کی نیلگی طاقت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ رزق میں کمی اور بےبرکتی آجاتی ہے۔ چہرا بے رونق ہو جاتا ہے۔ لہذا مسلسل فجر قضا پڑھنے والا شخص بھی انہی لوگوں میں شامل ہے۔

*ظہر*

وہ لوگ جو مسلسل نماز ظہر چھوڑتے ہیں وہ بد مزاجی اور بدہضمی سے دوچار ہوتے ہیں۔ اس وقت کائنات زرد ہو جاتی ہے اور معدہ اور نظامِ انہظام پر اثر انداز ہوتی ہے۔ روزی تنگ کر دی جاتی ہے۔

*عصر*

اکثر نماز عصر چھوڑنے والوں کی تخلیقی صلاحیتیں کم ہو جاتی ہیں، اور عصر کے وقت سونے والوں کا زہن کند ہو جاتا ہے اور اولاد بھی کند ذہن پیدا ہوتی ہے۔ کائنات اپنا رنگ بدل کر نارنجی ہوجاتی ہے اور یہ پورے نظامِ تولید پر اثر انداز ہوتی ہے۔

*مغرب*

مغرب کے وقت سورج کی شعاعیں سرخ ہو جاتی ہیں۔ جنات اور ابلیس کی طاقت عروج پر ہوتی ہے۔ سب کام چھوڑ کر پہلے مغرب کی نماز ادا کرنی چاہیئے۔ اس وقت سونے والوں کی کم اولاد ہوتی ہے یا ہوتی ہی نہیں اور اگر ہو جاے تو نافرمان ہوتی ہے۔

*عشاء*

نماز عشاء چھوڑنے والے ہمیشہ پریشان رہتے ہیں۔ کائنات نیلگی ہو کر سیاہ ہو جاتی ہے اور ہمارے دِماغ اور نظامِ اعصاب پر اثر کرتی ہے۔ نیند میں بے سکونی اور برے خواب آتے ہیں، جلد بڑھاپا آجاتا ہے۔

بے نمازی کی نہ دنیا ہے نہ ہی آخرت، کیونکہ یہ ہماری شیطان  کے ساتھ گہری دوستی اور ہمارے گناہ ہی ہیں جو ہمیں اللّٰہ تعالٰی کے سامنے سجدہ نہیں کرنے دیتے۔

بیوقوف ہے وہ مسلمان جس کو پتہ بھی ہے کہ پہلا سوال نماز کا ہونا ہے پھر بھی وہ نماز قائم نہیں کرتا۔

جب جنت والے جہنم والوں سے پوچھیں گے کہ تمہیں کون سا عمل یہاں (جہنم میں) لے آیا تو وہ کہیں گے کہ ہم نماز نہیں پڑھتے تھے۔* (القرآن)

اللہ پاک اس پیغام کے پڑھنے والوں کے گناہ معاف کرکے اپنے سامنے نماز میں کھڑے ہونے کا شرف بخشے۔ آمین یا رب العالمین
 *التماس دعا :  سید نوشاد عالم رضوی

خاتون آھن 💫

بانو مرضیہ حدید چی دباغ 
ساواک کے عقوبت خانے میں اںقلابیوں پر کیا گزری 🔥

 قسط نمبر 7  ✍️

ساواکیوں کے تشدد سے میرے جسم پہ کوی جگہہ سالم باقی نہ بچی تھی ۔ 

میں کافی عرصے ہاسپٹل میں ایڈمٹ رہی،  ان چند دنوں میں مجھے ساواک نے اتنے شکنجے دیئے تھے کہ میں ایک زندہ لاش کی مانند ہوچکی تھی.
 مجھے رضوانہ کی فکر بھی مارے دے رہی تھی. اس دن کے بعد سے 
اس کا کچھ پتا نہ تھا کہ کہاں ہے.
 کسی کو ہم سے ملنے کی اجازت نہ تھی. 

میرے جسم کے زخم اتنے سڑ گیئے تھے کہ. کچھ دن بعد  جیل کے ڈاکٹرز نے میرا علاج کرنے سے منع کردیا.
 ساواک کے آدمی   مجھے  گھر کے دروازے پر پھینک گیے . مگر میری نگرانی کررہے تھے. ایک بڑے ہاسپٹل میں میرا علاج شروع ہوا. 
میری سب سے چھوٹی بیٹی اسوقت چار سال کی تھی وہ میری جدای میں سخت بیمار پڑگئ تھی.
 بلاخرہ کئ آپریشن کے بعد میںری کچھ طبیعت سنبھلی  ؛ 
تو.............. 

 میں نے شاہ کے خلاف سیاسی سرگرمیاں پھر سے شروع کردیں. 
سب نے مجھے منع کیا کہ تم انقلاب کے لیے اپنا حصہ دے چکی ہو. تمہارے جسم میں اب تشدد برداشت کرنے کی طاقت نہیں  مر جاو گی ۔  
مگر میں ظلم کے خلا ف ڈٹ جانے کا عظم کرچکی تھی. میری رضوانہ  اب تک ان کے چنگل میں تھی ۔

چند مہینے گزر نے کے بعد، ساواک نے مجھے دوبارہ گرفتار کرلیا. 
اس بار مجھے عمومی جیل میں رکھا گیا. 
مگر. میرے ساتھ کمرے میں جتنی قیدی عورتیں تھیں، سب مارکسسٹ تھیں.
 ان کے ساتھ وقت گزارنا بھی ایک سخت مرحلہ تھا. 
ایک روز چند ساواکی میرے پاس آے اور کہا کہ تمہیں تمہاری بیٹی سے ملوانے  لے جارہے ہیں. 
مجھے اپنے کانوں پر یقین نہ آیا کیونکہ اس طرح کے ذہنی ٹارچر وہ قیدیوں کو دیتے رہتے تھے. 
وہ مجھے انفرادی جیل کی طرف لےکر چلے اور ایک تاریک سے نم دار کمرے کا دروازہ کھول کر مجھے اندر دھکیلا ۔
 اور مجھ سے کہا کہ تھوڑی دیر بعد آکر تمہیں لے جایئں گے. رضوانہ نے سسکتی آواز میں، مجھے ماما کہہ کر پکارا،
 میری آنکھیں اندھیرے میں کچھ دیکھنے کے قابل ہو ئیں  تو، میں نے رضوانہ کو دیکھا وہ لوہے کے تخت پر پڑی تھی،
 اور اس کے دونوں ہاتھ زنجیروں سے تخت سے بندھے ہوے تھے. 
میں بے قراری سے  آگے بڑھی اور اپنے آپ کو رضوانہ پر گرا دیا.
 میری آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب جاری ہوا.
 ان درندوں  نے میری پھول  سی بچی کا کیا حال کردیا تھا. جس کا کوی قصور بھی نہ تھا.

رضوانہ کی کلائیوں میں زنجیر سے بندھے بندھے، گہرے زخم ہو گیئے تھے . 
وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکی تھی اور اس کی ذہنی کیفیت بھی ٹھیک نہیں تھی. 
میں اسے صبر کی تلقین کرتی رہی. 
چھہ مہینے رضوانہ ان ظالموں کی قید میں رہی جب کوی نتیجہ نہیں نکلا تو انہوں نے اسے نیم مردا حالت میں رہا کردیا. 
اسکا بہت عرصے علاج ہوتا رہا مگر وہ ذہنی طور پہ ٹھیک نہ ہوپای. 
آج بھی جب اسکو وہ وقت یاد آتا ہے تو اسے جھٹکے لگنے لگتے ہیں. اور بے ہوش ہوجاتی ہے ۔
رضوانہ کی رہای کے بعد میرے اوپر پھر تشدد  کا دور شروع ہوگیا. 
پھر  ایک  روز جیل کے ہاسپٹل سے میں فرار کرنے میں کامیاب ہوگئ۔ البتہ ساواک کے قلعے سے فرار ایک ناممکن سی بات تھی اگر کوی قیدی بھاگنے میں کامیاب بھی ہوجاتا تو اس خوفناک  قلعے کی بھول بھلیوں میں بھٹک جاتا تھااور بلاخرہ پکڑا  جاتا تھا۔ میں اگر وہاں سے فرار میں کامیاب ہوی تو 

  یہ کام شھید محمد منتطری اور کئ افراد کے توسط سے خفیہ طور پر انجام پایا ۔

جاری ہے ۔🍀

مرکزی خطبه جمعه سکردو

مرکزی خُطبہ جُمعہ  سکردو

مرکزی امام جمعہ والجماعت  داعی اتحاد بین المسلمین علامہ شیخ محمد حسن جعفری
8 ربیع الاول بمطابق15 اکتوبر2021

خطبہ اوّل
اہم نکات

1️⃣۔ 8ربیع الاول یوم شہادت امام حسن عسکری (علیہ السّلام) کی مناسبت سے امام زمانہ ارواحنا لہ فدا کی خدمت میں اور  تمام عاشقان اہل البیت کی خدمت میں تعزیت و تسلیت عرض کیا ۔اور کہاامام حسن العسکری نے دین کی خاطر بہت ساری مشکلات کو تحمل کیا اور اپنی مختصر سی زندگی کو  دین اسلام کی تبلیغ و ترویج میں صرف کیا ۔یہ امام تاریخ میں  مظلوم ہے آج بہی مظلوم ہیں ۔جس طرح بحثیت پیغمبر۔ انبیا میں کویی فرق نہی اسی طرح بحثیت امام۔ اماموں میں بہی کویی فرق نہی ہے۔امام نے 28 سال زندگی کی اور امام نے زندان کی صعوبتیں بہی برداشت کیں۔حکام وقت کی  لوگوں کے دلوں پر حکومت ہوتی تہی اور ائمہ کی لوگوں کے دلوں پر حکومت ہوتی ہے ۔ 

2️⃣۔  9 ربیع الاول یوم تاجپوشی امام زمانہ (علیہ السلام)ہے ، اور امام زمانہ کی حکومت کا آغاز کا دن  ہے  اور بہت بڑی عید ہے اس دن   مومنین و مومنات بھر پور انداز میں عید منایں گھر والوں کو مٹھائی اور شیرینی کہلائیں ۔اور بعض اقول کی بنا پر دشمن اہل البیت  عمر ابن سعد کے جہنم واصل ہونے کا بہی دن ہے ۔اور یقینا اہل البیت کی خوشی میں خوشی اور ان کے غم میں غم منانے کی ضرورت ہے۔

3️⃣۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑہتا ہے کہ ہمارے یہاں آج کل لوگوں کو  اپنی جائیدادیں فروخت کرنےکی عادت بنی ہوئی ہیں  اور دھڑا دھڑا  زمینیں بیچ رہے ہیں، یقینا ان کی نسلیں انکے آبا واجداد پر لعنت بہیجینگے۔ اور دیکھ کر زمینں بہیجیں کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کی نسلوں اور مکتب کے لیے نقصان دہ ہو ۔مومنین کرام اس سے پہلے کے خطبوں میں بہی عرض کر چکا ہوں کہ ۔ شراکت داری میں زمیں بہچیں۔اس کے بغیر زمیں بہیجنا درست نہی ۔ 

*خطبہ دوّم*

1️⃣۔حدیث میں ارشاد ہے.
"تمہارا بدترین دوست وہ ہے جس کے دو چہرے اور دو زبانیں  ہیں" لہذا آپ بھی اپنے درمیان موجود اس طرح کے دوستوں کو پہچانے اور ان کے شر سے محفوظ رہیں۔ یہ منافقت ہمارے معاشرے میں بہت زیادہ ہے جب سامنے ہو تو بہت زیادہ خوشامد کرتے ہیں جیسے ہی وہ چلا جاتا ہے اس کی غیبت کرتے ہیں اور اسکی برائی کرتے ہیں ۔خدا سے دعا کرنی چاہیے کہ ان بری صفات سے دور رہیں ۔

2️⃣۔گزشتہ جُمعہ کے روز افغانستان کے شہر قندوز میں مسجد کے اندر دھماکا ہوا ہم اس کی پُرزور مذمت کرتے ہیں۔دھماکے کے نتیجے میں کم از کم ڈیڑھ سو نمازی شہید اور تقریباً تین سو کے قریب نمازی زخمی ہوئے،اور دھماکے کی ذمہ داری بھی دہشت گرد تنظیم داعش نے قبول کی ہے۔، ہم افغان حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائیں۔
اور ساتھ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ طالبان حکومت کو ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔
عراق میں جب  داعش  نے قدم جمائیے تو حضرت آیت اللہ سیستانی کے اس عظیم فتوی کی بناپر ان کا صفایا کیا گیا اور اس کے بعد شام میں بہی داغش کا ناکامی ہوئی اور اب وہ داعشی تمام دھشت گرد سارے افغانستان میں جمع ہو رہے ہیں ۔  اور افغانستان کو اپنا اڈا بنانا چاہ رہے ہیں۔ جیسا کہ سابقہ وزیر داخلہ نے ایک کانفرنس میں کہا تھا کہ داعش گلگت بلتستان کے اندر بھی داخل ہوچکی ہے،ہم گلگت بلتستان کی حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ فوری ان دہشت گردوں کا پتہ لگایئے ورنہ یہ کسی بھی وقت گلگت بلتستان کے حالات خراب کر سکتے ہیں۔ اور اس آگ میں سب جل جاینگے۔

3️⃣۔سردیوں کی آمد سے پہلے ہی بجلی غائب ہونے لگی ہے،محکمہ برقیات کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عوام کے لیے بجلی پوری کریں،اور یہ ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ ابھی سے ہی عوام کے لیے بجلی پوری کرنے کی تیاری کریں کیونکہ سردیوں میں بجلی کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ انسان کو چیونٹی سے درس حاصل کرنا چاہیے کیونکہ چیونٹی گرمیوں  میں سردی کے موسم کے لیے غذا اسٹاک کرتی ہے ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑا ہے کہ ہمارے حکمرانوں کو اتنی بہی توفیق نہی ہے کہ وہ حفظ ما تقدم کی بنیاد پر ہر چیز کا وقت  سےپھلے انتظام کرے اور بندوبست کرے۔

4️⃣۔حکومت ایک بار پھر سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا رہی ہے،اورحکومت کو غریب عوام کی بلکل بھی پرواہ نہیں ہیں،  یاد رکہیں احادیث میں ہے جو دولوگوں پر رحم نہی کرتا اس پر بہی کویی رحم نہی کرتا ۔

5️⃣۔ یہ خوش آیند بات ہے کہ پاکستان اور  ایران تعلقات ایک بار پھر سے بہتری کی طرف جا رہے ہیں،ہماری حکومت کو چاہیے کہ امریکہ جیسے سُپر پاور کے دباؤ سے نہ ڈرتے ہوے فوری طور پر پاک ایران گیس پائپ لائن بحال کریں تاکہ لوگوں کی گیس کے حوالے سے جو پریشانیاں ہے وہ حل ہو سکے اور خوشحال زندگی گزار سکیں۔

6️⃣۔آج کل سکردو شہر میں  کچھ لوگ ریڑیوں میں چند ناڑے اور کچھ پُرانے کباڑی  کے بوٹ لے کر دن بہر بیہٹتے ہے،میرا نہی خیال کہ اس سے اُن لوگوں کا گزر بسر ہوتا ہوگا،کہی ایسا تو نہیں کہ یہ لوگ ظاہرا   کچھ اور باطن میں کچھ اور کام کر رہے ہوں، اور مختلف چیزوں کے زریعے ہمارے نوحوانوں کے ایمان خراب کر رہے ہوں ۔لہذا حکومت کی ضلعی انتظامیہ کی زمہ داری بنتی ہے کہ  ایسے عناصر پر کڑی نظر رکہیں ۔

 جاری کردہ || دفتر امام جمعہ سکردو

امام حسن عسکری (ع) کا جاثلیق نصرانی اور اسحاق کندی کو جواب

امام حسن عسکری (ع) کا جاثلیق نصرانی اور اسحاق کندی کو جواب

تحریر:محمد لطیف مطہری کچوروی

اسحاق کندی عراق کے دانشوروں اور فلاسفہ میں سے تھا اور لوگوں میں علم، فلسفہ اور حکمت کے میدان میں شہرت رکھتا تھا، لیکن اسلام قبول نہیں کرتا تھا اور اُس نے اپنی ناقص عقل سے کام لیتے ہوئے فیصلہ کر لیا کہ قرآن میں موجود متضاد و مختلف امور کے بارے میں ایک کتاب لکھے، کیونکہ اُس کی نظر میں قرآن کی بعض آیات بعض دوسری آیات کے ساتھ ہم آہنگ اور مطابقت نہیں رکھتی ہیں اور ان کی تطبیق سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میں (نعوذ باللہ) نا ہم آہنگی پائی جاتی ہے، اس لیے اُس نے سوچا کہ ایسی کتاب لکھے، جس میں وہ یہ ثابت کرے کہ قرآن میں تناقض اور ضد و نقیض چیزیں پائی جاتی ہیں۔ اس کے لکھنے میں وہ اس قدر سرگرم ہوا کہ لوگوں سے الک تھلگ ہو کر اپنے گھر کے اندر ایک گوشہ میں بیٹھ کر اس کام میں مصروف ہوگیا، یہاں تک کہ اس کا ایک شاگرد، امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں شرفیاب ہوا، امام نے اس سے فرمایا: کیا تم لوگوں میں کوئی ایک عقلمند اور باغیرت انسان نہیں ہے، جو اپنے استاد کو دلیل و برہان کے ساتھ ایسی کتاب لکھنے سے روک سکے اور اُسے اس فیصلے پر پشیمان کرسکے۔ اس شاگرد نے عرض کیا: ہم اس کے شاگرد ہیں، اس لئے اعتراض نہیں کرسکتے۔

امام نے فرمایا: کیا جو کچھ میں تم سے کہوں گا، اس تک پہنچا سکتے ہو۔؟ شاگرد نے کہا: ہاں، امام نے فرمایا: اس کے پاس جاؤ اور وه جو کام کرنا چاہتا ہے، اس میں اس کی مدد کرو، پھر اس سے کہو استاد ایک سوال ہے، اگر اجازت دیں تو پوچھوں؟ جب وه تم کو سوال کرنے کی اجازت دے تو اس سے کہو: اگر قرآن کا بیان کرنے والا آپ کے پاس آئے (اور کہے کہ یہ میری مراد نہیں ہے، جو تم سمجھ رہے ہو) کیا آپ یہ احتمال نہیں دیں گے کہ قرآنی الفاظ کے وه مفهوم و معانی نہیں ہیں، جو آپ نے سمجھا ہے؟ وه کہے گا: ہاں یہ احتمال پایا جاتا ہے، چونکہ اسحاق کندی اگر مطلب پر توجہ کرے گا تو بات کو سمجھ لے گا، جب وه تمهارے سوال کا مثبت جواب دے تو اس سے کہو: آپ کو یہ یقین کہاں سے حاصل ہوگیا کہ قرآنی الفاظ کے وہی معنی مراد لئے گئے ہیں، جو آپ سمجھ رہے ہیں؟! ہوسکتا ہے کہ قرآن کا مفہوم کچھ اور ہو، جس تک آپ کی رسائی نہ ہوسکی ہو اور آپ قرآنی الفاظ و عبارتوں کو دوسرے معانی و مفاہیم کے سانچے میں ڈھال رہے ہوں!۔

شاگرد اپنے استاد کے  پاس گیا اور جس طرح امام نے فرمایا تھا، ہو بہو اس نے اپنا سوال اسحاق کندی کے سامنے پیش کر دیا، اسحاق کندی نے اس سے سوال دهرانے کے لئے کہا، اس کے بعد وه فکر میں غرق ہوگیا، اس نے اپنے شاگرد کو قسم دے کر پوچھا کہ یہ سوال تمهارے ذہن میں کہاں سے آیا، شاگرد نے کہا: بس ایسے ہی میرے ذہن میں ایک سوال اٹھا اور میں نے آپ سے پوچھ لیا۔  استاد بار بار شاگرد سے پوچھتا رہا اور شاگرد بھی ٹال مٹول کرتا رہا۔ آخرکار اسحاق کندی نے کہا: یہ سوال تمهارے ذہن کی پیداوار نہیں ہے اور ممکن ہی نہیں ہے کہ تم اور تمهارے جیسے افراد کے اذہان میں اس طرح کے سوال آجائیں۔ اس دفعہ شاگرد نے حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے جواب دیا: ابو محمد امام حسن عسکری علیہ السلام نے مجھے اس سوال کی تعلیم دی تھی، اسحاق کندی نے کہا: اب تم نے سچ بات بتائی، یہ سوال اس خاندان کے علاوه کسی اور کے ذہن میں نہیں آسکتا ہے۔ اس کے بعد اسحاق کندی نے اس سلسلے میں اب تک جو کچھ لکھا تھا، اسے آگ میں ڈال کر جلا دیا۔۱

تاریخ میں نقل ہے کہ جس زمانے میں حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام سامرا قید میں تھے، شدید قحط پیش آگیا، خلیفۂ وقت معتمد عباسی نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ صحرا میں جائیں، نماز استسقاء بجا لائیں اور خداوند متعال سے بارش کی دُعا کریں۔ مسلمانوں نے تین دن تک مسلسل ایسا ہی کیا لیکن بارش نہ برسی۔ چوتھے دن جاثلیق نصرانی مسلمانوں کی ایک تعداد کے ساتھ طلب باران کے لیے صحرا گئے۔ وہاں مسیحی راہب نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف پھیلائے اور بارش برسنے لگی۔ اگلے دن پھر لوگوں نے طلب باران کیلیے ایسا ہی کیا اور راہب کی دعا سے آسمان سے بارش برسنا شروع ہوگئی اور لوگ سیراب ہوئے۔ لوگوں کو راہب کے اس عمل پر تعجب ہونے لگا، اسلام کی حقانیت پر شک کرنے لگے۔ خلیفۂ وقت کیلیے یہ مسئلہ بہت پریشانی کا باعث بن گیا، لہٰذا اس مشکل سے نکلنے کیلیے اُس نے صالح بن وصیب کو حکم دیا کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کو آزاد کر دے اور اس کے پاس لے آئے۔ حضرت نے خلیفہ سے فرمایا: لوگوں سے کہو کہ کل پھر حاضر ہوں۔ خلیفہ کہنے لگا: لوگوں کی ضرورت پوری ہوگئی ہے اور دوبارہ طلب باران کی اب ضرورت نہیں۔ حضرت نے فرمایا، میں چاہتا ہوں لوگوں کے اذہان سے شک نکال دوں اور اس واقعے سے اُنہیں نجات بخشوں۔

خلیفہ نے حکم دیا کہ جاثلیق اور مسیحی راہب تیسرے دن بھی طلب باران کے لیے حاضر ہوں اور لوگ بھی ساتھ آئیں۔ خلیفے کے حکم کے مطابق یہ سب آگئے تمام مسیحوں نے حسب عادت ہاتھوں کو آسمان کی طرف پھیلایا، اُس راہب نے بھی ایسا ہی کیا، اچانک آسمان پر بادل نمودار ہونے لگے اور بارش برسنے لگی۔ اس موقع پر حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے لوگوں سے شک و شبہہ دور کرنے اور اپنے جد بزرگوار حبیب خدا حضرت محمد مصطفيٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین مبین ’’اسلام‘‘ کی حقانیت ثابت کرنے کیلیے راہب سے فرمایا کہ اپنے ہاتھوں کو کھولے، جب اُس نے ہاتھ کھولے تو سب نے دیکھا کہ اُس کی انگلیوں کے درمیان کسی آدمی کے بدن کی ہڈی ہے۔ پس امام علیہ السلام نے مسیحی راہب کے ہاتھ سے وہ ہڈی لے لی، ایک کپڑے میں لپیٹ دی اور پھر راہب سے فرمایا: اب طلب باران کرو۔ راہب نے پھر اُسی طرح کیا، لیکن بارش برسنے کی بجائے سورج ظاہر ہوگیا۔ لوگوں نے اس واقعے سے مزید تعجب کیا۔

اس وقت خلیفہ نے حضرت سے سوال کیا: یا ابا محمد! اس امر کی وجہ بیان فرمائیں۔ حضرت نے فرمایا: ان لوگوں نے کسی قبرستان سے ایک پیغمبر کے بدن کی ہڈی حاصل کر لی تھی اور کسی بھی پیغمبر کے بدن کی ہڈی زیر آسمان جب بھی آشکار و ظاہر ہو تو آسمان سے بارش برسنا شروع ہو جاتی ہے۔ لوگوں نے حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی وضاحت پر یقین کرلیا، پھر اسی طرح خود بھی آزمائش کر کے دیکھا تو قضیہ ویسے ہی تھا جیسے حضرت نے بیان فرمایا تھا۔ اس واقعہ کے بعد لوگوں کے اذہان سے دین اسلام کے بارے میں شکوک برطرف ہوگئے۔ خلیفہ اور دوسرے مسلمان سب خوش ہوگئے۔ یہاں حضرت نے دوسرے قیدیوں کی رہائی کے بارے میں بھی خلیفے سے فرمایا اور خلیفے نے حکم دیا کہ تمام قیدیوں کو آزاد کر دیا جائے۔

حوالہ جات
۱۔مناقب، ج۴، ص۴2۴۔
۲۔ زندگی حضرت امام حسن عسکری(ع)، علی‌اکبر جہانی، ص۱۳۵

امام عسکری علیہ السلام گیارہویں امام اور تیرہویں معصوم ہیں اور آپ (ع) کی امامت کا آغاز 254 ہجری می

*امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے موقع پر ہم امام زماں علیہ السلام کی خدمت میں ہدیہ تعزیت پیش کرتے ہیں.* 😭😭😭
آسمان امامت  گیارھویں درخشاں چاند کا اسم گرامی حسن علیہ السلام جبکہ القابات میں عسکری، ذکی، ہادی، سراج اور ابن الرضا مشہور ہیں تاہم ان کا مشہور ترین لقب "عسکری" ہے۔

عباسی خلفاء  نے حضرت امام علی نقی اور حضرت امام حسن عسکری علیہم السلام کو عراق میں ایک فوجی لشکر کے زیر نگرانی زندان میں رکھا تھا، چونکہ لشکر کو عربی میں عسکر کہتے ہیں اسی لیے عسکری کہلائے۔

ان (ع) کی کنیت ابو محمد اور والد بزرگوار حضرت امام علی النقی الهادی علیہ السلام جبکہ والدہ ماجدہ حضرت حدیثہ خاتون سلام اللہ علیھا ہیں۔ امام عسکری علیہ السلام کی ولادت با سعادت مدینہ منورہ میں 8 ربیع الثانی 232 ہجری قمری کو ہوئی جبکہ ایک روایت کے مطابق 10 ربیع الثانی کو دنیا میں تشریف لائے۔

آپ (ع) کا نسب شریف کچھ یوں ہے کہ حسن ابن علی ابن محمد ابن علی ابن موسی ابن جعفر ابن محمد ابن علی ابن حسین ابن علی ابن ابی طالب سلام اللہ علیہم اجمعین۔

امام عسکری علیہ السلام گیارہویں امام اور تیرہویں معصوم ہیں اور آپ (ع) کی امامت کا آغاز 254 ہجری میں ہوا۔ اس طرح مدت امامت 6 سال تھی۔

شادی کے وقت سنِ مبارک تقریباً 21 سال تھا اور آپ (ع) کی اہلیہ محترمہ کا اسم گرامی حضرت نرجس خاتون سلام اللہ علیھا ہے جبکہ اولاد میں امام کے ایک ہی بیٹا (امام عصر و الزمان حضرت مہديِ موعود علیہ السلام) ہیں۔ اپنے والد بزرگوار امام علی نقی علیہ السلام کی پردرد شہادت کے بعد منصب امامت سنبھالتے وقت آپ (ع) کا سن مبارک تقریباً 22 سال تھا۔

امام (ع) کے مشہور اصحاب اور شاگردوں میں بشیر انصاری، عثمان ابن سعید اور احمد ابن اسحاق قمی کے نام نمایاں ہیں۔ مولا (ع) کے بےشمار معجزات میں سے ایک خاص معجزہ شدید قحط کے عالم میں حضرت (ع) کی نماز استسقاء و دُعا کے اثر سے بارانِ رحمت کا نزول ہے۔

آپ علیہ السلام نے چھ عباسی ظالم خلفاء کے ادوار گزارے. "متوکل، منتصر، مستعین، معتز، مھتدی، معتمد عباسی"  جبکہ حضرت (ع) کے زمانہ امامت میں حاکم وقت عباسی خلیفہ واثق باللہ تھا۔

آپ (ع) کے قاتل کا نام معتمد عباسی ہے جس نے زہر دے کر مولا (ع) کو شہید کر دیا۔ آپ (ع) کی تاریخ شہادت 8 ربیع الاول 260 ھجری جبکہ مقام شہادت عراق کا شہر سامرہ ہے۔

مسموم و مظلوم مولا (ع) کے پانچ سالہ فرزند حجتِ خدا، بقیۃ اللہ حضرت صاحب الزمان علیہ السلام نے نماز جنازہ پڑھائی. آپ (ع) کا مطہر پیکر اپنے گھر میں اپنے والد بزرگوار کے مرقد منور کے نزدیک زمین کی زینت بنا. جہاں آج بھی لاکھوں کروڑوں زائرین اور عزاداران حاضری دیتے ہیں۔

مخصوص صلوات: شیخ طوسیؒ اپنی سند سے ابو محمد عبداللہ بن محمد عابد سے اس طرح نقل کرتے ہیں:

میں نے اپنے سید و سردار حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام سے ان کے گھر پر سامرہ میں 255 ھجری میں درخواست کی کہ پیغمبر اکرمؐ اور ان کے مقدس جانشینوں (ع) پر درود وسلام بھیجنے کے لیے مخصوص صلوات املاء فرمائیں تاکہ میں انہیں قلمبند کرلوں حضرت (ع) نے فوراً اس طرح سے املاء فرمائی (جو معصوم اول سے شروع ہو کر بارہویں امام و چودھویں معصوم حضرت صاحب الزمان علیہ السلام تک تمام حضرات میں سے ہر ایک کی صلوات پر مشتمل ہے.)

یہاں پر مناسبت سے فقط حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی مخصوص صلوات ذکر کی جارہی ہے تاکہ قارئین اپنے آقا و مولا (ع) پر اس طرح سے درودوسلام بھیچ سکیں جیسے خود حضرت (ع) چاہتے ہیں:

اَللّٰھُم صَلِّ علی الحسنِ بن عليّ بن محمّد، البّرِ التَّقِی، الصَّادِقِ الوَفِيّ، النُّورِ المُضِیئ، خَازِنِ عِلمِک وَ المُذَكِّر بِتَوحِیدِكَ وَولِيِّ اَمرِک وخَلفِ أَئمّۃ الدّینِ الھُداۃِ الرَّاشِدِین، وَالحُجِّۃِ عَلٰی اَھلِ الدُّنیا فَصَلِّ عَلَیہِ يَا رَبِّ اُفضَلَ مَا صَلّیتَ عَلٰی اَحَدٍ مِن اَصفِيٰائِكَ وَ حُجَجِكَ وَ اَولادِ رُسُلِک يٰا اِ لٰہَ العٰالَمِینَ۔

خاتون آھن

خاتون آھن 💫

بانو مرضیہ حدید چی دباغ 

ساواک  کے عقوبت خانے  میں  انقلابیوں پر کیا گزری 🔥

 قسط نمبر  6    ✍️

رات دوبارہ مجھے کوٹھڑی میں لاکر ڈال دیا ۔

رات  کا کچھ پہر گزرا  تھا کہ مجھے رضوانہ  کی چیخوں کی آوازیں سنای دینے لگیں ۔ میں تڑپ گئ 
      
میں اس کی چیخیں سن کر، ایک زخمی سانپ کی مانند زمین پر لوٹ رہی تھی. 
کبھی دریچہ کے چھوٹے سے سوراخ سے دیکھنے کی کوشش کرتی، مگر  کوریڈور  میں اندھیرا  سا ہونے کی وجہ سے کچھ پتا نہیں چل رہا تھا کہ کسے لے کر گیئے ہیں اور کسے لاے ہیں. 

رضوانہ کی دلخراش چیخیں، میرے دل کو لرزا  رہی تھیں، میں اس وقت اپنے آپ کو بلکل بے بس محسوس کررہی تھی ۔ 
 میں کبھی زمین پر لوٹتی، کبھی اپنے آپ کو دیوار پر مارتی، مگر کچھ بھی نہیں کرسکتی تھی. 
اچانک رضوانہ کی چیخوں کی آواز آنا بند ہوگئ. خدایا کیا ہوا، ؟ 
ان لوگوں نے میری بچی کا کیا حشر کیا،؟ کیا  رضوانہ  مر گئ ?
میرا پورا وجود لرز رہا تھا. جب بہت دیر تک اس کی آواز نہیں آی تو میں نے سمجھ لیا کہ میری بچی مر گئ،
 میں نے خدا کا شکر کیا کہ ان درندوں سے اس بچی کی جان چھوٹ گئ. 
صبح کے قریب زنجیروں کے ھلنے کی آواز سنای دی، میں تڑپ کر دروازے پر آئ اور دریچہ کے سوراخ سے کوریڈور میں دیکھنے لگی. 
اے میرے خدا ؛! یہ میری رضوانہ ہے؛ 

جسے دو جلاد زمین پر گھسٹتے ہوے جارہے تھے،
 یہ گوشت کا لوتھڑا - میری جگر پارہ ہے، 
میرے اندر جتنی طاقت تھی میں بے تحاشہ دروازے پر سر ٹکرانے لگی میرے نالہ و فریاد  سے زمین ہل رہی تھی مگر وہاں کوی سننے والا نہ تھا. 
ان ملعونوں نے اسے بلکل میرے دروازہ پر لا کر ڈالا اور پانی بھر بھر کے اس کو ہوش میں لانے کے لیئے اس پر ڈالنے لگے۔
 مگر رضوانہ ہوش میں نہیں آی، انہیں  معلوم تھا کہ میں  دروازے  کے سوراخ سے یہ سب دیکھ رہی تھی . 
میں اپنے منہ پر طمانچے مار رہی تھی، اپنے بالوں کو نوچ رہی تھی. 
اور ان جلادوں کو کوس رہی تھی. 
جب ان وحشیوں  نے دیکھا کہ یہ ہوش میں نہیں آتی، تو کوریڈور سے رضوانہ کے بے جان بدن کو کمبل میں لپیٹ کر لے گیئے. 
میں نے پھر سے چیخنا چلانا شروع کیا،
 خدا کے لیئے اس پر رحم کرو، مجھے بھی اس کے ساتھ لے جاو، قاتلو تم نے میری بچی کے ساتھ کیا کیا؟ 
پھر میں نے کہنا شروع کیا : اے خدا مجھے بھی موت دے دے، مجھے بھی اس دنیا سے اٹھالے. مجھے یہ زندگی نہیں چاہیے ۔ 
کہ مجھے پھر سے . 

 دلنشین آواز میں تلاوت قرآن کی آواز سنای دی

 《واستعینوا بالصبر الصلوۃ و انھا لکبیرہ الاعلی الخاشیعین 》
آیت اللہ ربانی شیرازی، 
اپنی دلسوز اور درد ناک آواز میں قرآن پاک کی تلاوت کرکے، مجھے  تسلی دینا  چاہ رہے تھے ۔ 
میں وہیں دروازے  سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئ اور اللہ سے صبر و استقامت  کی دعا  کرنے لگی ۔

جاری ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ 🍀

پیغمبر اکرم ۖ کی حاکمیت از نظر قرآن

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

پیغمبر اکرم ۖ کی حاکمیت از نظر قرآن
اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کو انسانی معاشرہ کی فلاح اور اصلا ح کی غرض سے اپنے حبیب حضرت محمد ۖ کے ذریعے نازل کیا ،دین درحقیقت ایسے قوانین کا مجموعہ ہے جو خالق کائنات کی جانب سے انسان کی ہدا یت کے تمام پہلوئوںپر مشتمل ہے ، قرآن مجید میں انسانی ضرورت کے تمام اصول و ضوابط کو بیان کیا گیا ہے ،انسان چونکہ اجتماعی اور معاشرتی زندگی کا حامل ہے بنا بریں قرآن مجید کا اکثر و بیشتر حصہ بلکہ مکمل طورپر اجتماعی وسیاسی مسائل پر مشتمل ہے ،مباحث قرآن کا محور و مرکز توحید ہے،توحید کی اقسام میںسے جہاںتو حید ذاتی ،صفاتی ،افعالی اور عبادی پر بحث و تفسیر کی ضرورت ہے وہیں ''توحید ربوبیت ' ' بھی حائز اہمیت ہے جو تو حید افعالی کی ایک قسم شمار ہو تی ہے جس سے انسان کو یہ درس ملتا ہے کہ جس طرح خدا کے علاوہ ''خالق''کو ئی نہیں ہو سکتا اس طرح اللہ کے بغیر پورے عالم کے امور کی مدیریت کے لا ئق بھی کوئی نہیں ہو سکتا ،نظام کائنات کو چلانے میں خدا کا شریک تسلیم کر نے والا بھی اُسی طرح مشرک ہے جس طرح تخلیق کائنات میں خدا کا شریک ٹھہرانے والا مشرک ہے ۔

حقیقت میںتوحید خالقیت پر اعتقاد کا لازمی نیتجہ یہ ہے کہ تمام امور کی تدبیر کا مالک بھی ''ایک خدا ہے ''انسانی معاشرہ کی تدبیر کو عملی صورت دینے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسان ہی کو زمین پر اپنا خلیفہ اور نمائندہ بنا کر بھیجا ،انبیا ء کی بعثت کا مقصد انسانوں کی تربیت اور معاشرے پر عادلانہ نظام کا قیام تھا ۔

''ھُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُ مِّےّنَ رَسُوْلاًمِّنْھُمْ ےَتْلُوْ عَلَےْھِمْ اٰےٰتِہ وَےُزَکِّےْھِمْ '' ١

''وہی (خدا )ہے جس نے ناخواندہ لو گوں میں انہی میںسے ایک رسول بھیجا جو انہیں اس کی آیات پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں پا کیزہ کر تا ہے ۔۔۔۔ '' 

نیز فرمایا

''لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَےِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَامَعَھُمُ الْکِتٰبَ وَالْمِےْزَانَ لِےَقُوْمَ النَّاسُ بِا لْقِسْطِ۔۔۔'' ٢

''اور ہم نے اپنے انبیاء کو واضح نشانیاں دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب (قانون ) اور میزان (عدالت )کو بھی نازل کر دیا تاکہ لو گوں میں انصاف کو قائم کریں ''

اسلام کا بنیادی مقصد انسان کو اندرونی اور بیرونی سطح پر تربیت کر نا ہے۔ بنا بریں تز کیہ نفس کے بعد معاشرتی تزکیہ (اصلاح) کی غرض سے اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام انبیا کو ایک مشترکہ لا ئحہ عمل دے کر بھیجاتاکہ کہ لوگوں کو خدا کے نظام کے تحت زندگی گزارنے اور ہر قسم کے غیر متعادل نظام سے پرہیز کرنے کا درس دیں ۔

''وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُ وااللّٰہَ وَاجْتَنِبُواالطَّاغُوْتَ'' ٣

''یعنی ہم نے ہر زمانہ میں رہنے والے لوگوں کے لیے جو رسول بھیجا اس کا ایک ہی شعار تھا کہ اللہ کی بندگی و عباد ت کرو اور ظالم طاغوت سے دور رہو ''

اس آیہ اوردیگر بہت سی آیات سے یہ معلوم ہو تا ہے کہ ہر نبی نے اپنے زمانہ میں موجود غیر الٰہی حکمرانوں کے تسلط سے قوموںکو آزاد کرانے کے لیے نہ صرف زبانی تبلیغ کی ہے بلکہ طاغوتی حاکمیت کے خاتمہ کے لیے عملی جدوجہد کی اور بعض نے کامیابی کے بعد اللہ کی حاکمیت کو معاشرے پر نافذ بھی کیا ہے حضرت دائود اور حضرت سلیمان کی حکومت کا واضح ذکر قرآن میں موجود ہے ،اسی طرح دیگر انبیاء جن میں حضرت موسیٰ و حضرت ابراہیم کی طاغوت شکن جدوجہد کا ذکر بھی اس بات کی دلیل ہے کہ انسانوں پر صرف اللہ کی حکومت ہونے کی صورت میںہی توحید عملی شکل اختیار کر سکتی ہے ۔ حضرت پیغمبر ۖ کی سیاسی حاکمیت میںعقلی اعتبار سے تو کو ئی شک وشبہ نہیں ہے ، اس لیے کہ ایک طرف انسان کا بغیر حکومت کے زندگی گزارنا، نا ممکن ہے اور دوسری طرف خالق انسان کے علاوہ حکومت کا کامل نظام دینے کا کوئی اہل نہیں ہے نیز دیگر انبیا ء کی بعثت کا مقصد معاشرے پر اللہ کی حاکمیت کا نفاذ ہے تو خاتم الا نبیا ء ۖ کو صرف تبلیغ وارشاد کی ذمہ داری تک محدود کرنا کس طرح ممکن ہے ؟

لیکن قرآنی آیات کے تناظر میںہم ثابت کر نا چاہتے ہیں کہ پیغمبر اکرم ۖمبلغ احکام ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی حاکمیت کے حامل بھی تھے جو در حقیقت خلافت کی شکل میں الٰہی حاکمیت ہے ، البتہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ عقلی ادلہ اور بہت سی آیات کے باوجود بعض علما ء ٤ پیغمبر اکرم ۖ کے سیاسی منصب اورآپ ۖ کی سیاسی حاکمیت کا انکار کرتے ہیں اور آنحضرت ۖکا تعارف اس طرح پیش کر تے ہیں کہ آپ ۖ صرف مبدا ومعاد کی تبلیغ پر مامور تھے اوران کا معاشرے کی سیاسی قیادت و راہبری سے کو ئی تعلق نہ تھا جس کی وجہ سے اس موضوع کی اہمیت میں مزید اضافہ ہو جا تا ہے ۔

دین اور معاشرہ :

پیغمبر اکرم ۖ کی سیاسی قیادت کے اثبات سے پہلے ''دین ''کی حقیقت کا سر سری جائزہ لینا ضروری ہے تا کہ آپۖ جس ''دین ''کے ''مبلغ ''تھے اُس کی صحیح صورت سامنے آسکے ،قرآن مجید کی نظر میں دین سے مراد ''انسانی زندگی کی عملی روش کا حدود اربعہ ''ہے جس کی ایک دلیل وہ آیات ہیں جن میں خداوند متعال نے کفارو مشرکین کے راہ و رسم اور زندگی گزارنے کی روش کو بھی ''دین '' سے تعبیر کیا ہے ۔

''لَکُمْ دِےْنُکُمْ وَلِیَ دِےْنِ ''٥

''تمہارے لیے تمہارا دین میرے لیے میر ادین ''

اسی طرح فرعون جو اپنے علاوہ کسی کو خدا تسلیم نہیں کرتا تھا،لیکن حضرت موسیٰ ـکے مقابلے کے لیے عوام کو بھڑکا نے کی خاطر ''دین '' کاسہارا لیتے ہو ئے کہتا ہے :

''اِنِّیْ اَخَافُ اَنْ ےُّبَدِّلَ دِےْنَکُمْ اَوْ اَنْ ےُّظْھِرَ فِی الْاَ رْضِ الْفَسَادَ ''' ٦ ''مجھے ڈر ہے کہ یہ (موسیٰ )تمہارا ''دین '' بدل ڈالے گا یا زمین میں فساد بر پا کر ے گا '' 

خداوند کریم نے بھی پیغمبر اکرم ۖ کی زبان سے زندگی گزارنے کے چند طور طریقے بیان کرنے کے بعد لوگوں کو اسی راستے(دین) پر چلنے کی تاکید فرمائی ۔

''وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِےْمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَلَا تَتَّبِعُوالسُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِےْلِہ ''٧

''اور بتحقیق یہی (دین )میرا سیدھا راستہ ہے اسی پر چلو اور مختلف راستوں پر نہ چلو ورنہ یہ تمہیں اللہ کے راستے سے ہٹا کر پر اگندہ کر دیں گے ''

بنابریں انسانی زندگی گزارنے کی روش اور طور طریقے دو قسم کے ہو سکتے ہیں ایک باطل راستہ ہے جو شیطان اور شیطانی حکمرانوں کا طور طریقہ ہے اور دوسر ا فطرت انسانی کا راستہ ہے کہ جس کی طرف خد انے اپنے نما ئندوں کے ذریعے دعوت دی ہے اور اسی راہ وروش کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہر نبی الہیٰ نے کو شش بھی کی ہے لیکن شیطانی و طاغوتی حکمرانوں کی عوام فریبی کی وجہ سے صر ف چند انبیا ء حاکمیت الہیٰ کو نافذکرنے میں کا میاب ہو ئے ہیں جس میںہمارے نبی آخر الزماں ۖ کے ہا تھوں قائم ہو نے والی حکومت ایک بہترین نمونہ ہے ،عصر حاضر کے عظیم مفسر قرآن علامہ طباطبائی نے بھی انسانی معاشرہ میں راہ و روش کو دین سے تعبیر کیا ہے اور سورئہ روم کی آیت ٣٠ کی تفسیر میں ''دین '' کو ''دین فطرت '' کے طور پر ثابت کیا ہے ۔٨

دین فطرت سے مراد یہ ہے کہ انسانی خلقت کے اندر خالق انسان نے زندگی گزارنے کے وہ طریقے جو انسان کو کمال وترقی تک لے جانے کا وسیلہ ہیں، ودیعت کر دئیے ہیں ،اسی بناپر اپنے آخری نبی ۖ کو حکم دیا کہ اسی فطری دین پر قائم رہو ،تا کہ اپنی امت کی قیادت و راہبری کر تے ہوئے انہیں کمال کی منزل پر فائز کر سکو ۔

'' فَاَقِمْ وَجْھَکَ لِلدِّےْنِ حَنِےْفًاط فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَالنَّاسَ عَلَےْھَاطلَا تَبْدِےْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ ذٰلِکَ الدِّےْنُ الْقَےِّمُ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا ےَعْلَمُوْنَ ''٩

''پس (اے نبی) یکسو ہو کر اپنا رُخ دین (خدا)کی طرف مرکوز رکھیں ،اللہ کی اس فطرت کی طرف جس پر اس نے سب انسانوں کو خلق کیا ہے ،اللہ کی تخلیق میں تبدیلی نہیں آتی یہی محکم دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ''

اس آیہ مجیدہ میں بھی خدا نے نظام حیات کو دین سے تعبیر کیاہے اور فرمایا یہ ایسا نظام حیات ہے جو دیگر نظام کائنات کی طرح نظم و ضبط اور ہم آہنگی پر قائم ہے اور چونکہ تخلیقی نظا م ہے لہذا کبھی تبدیلی نہیں آئے گی یعنی، فطرت اور شریعت میں وحدت واتحاد قائم ہے اسی بنا پر ابنیا ء کو بھیجا تاکہ ظالمانہ ماحول میں رہنے کی وجہ سے اس مدفون فطری نظام کو روشن و اجاگر کریں ۔

علامہ طباطبائی کہتے ہیں :

دین فطرت سے مراد وہ قوانین و ضوابط ہیںجو انسان پسند ہیں کیونکہ یہ انسان کی خلقت کے ساتھ مربوط ہیں اور انسانی عقل سے مکمل طور پر مطابقت رکھتے ہیں ۔١٠

*پیغمبر ۖ کی سیاسی حاکمیت سے مراد کیا ہے ؟*

آپ ۖ کی سیاسی حاکمیت سے مراد یہ ہے کہ معاشرے کے جملہ امور کی قیادت و راہبری اور حکمرانی کا حق خداوند تعالیٰ نے اپنے معصوم نمائندے حضرت پیغمبر ۖ کو عطا کیا ہے ،یعنی پیغمبر اکرم ۖ صرف احکام الہیٰ کو بیان کر نے والے نہیں یا لوگوں کے باہمی اختلافات اور مشاجرا ت کے حل کے لیے صر ف قاضی تحکیم نہیں کہ قضاوت کر تے ہو ئے صرف فیصلہ سنا دیں بلکہ اس قضاوت اور فیصلہ پر عمل در آمد کرانے کے بھی ذمہ دار ہیں ، حاکمیت کا نقط ''حکم ''سے ماخوذ ہے اور قرآن مجید میں ''حکم '' سے مراد تشریع یعنی قانون وضع کر نا اور معاشرے پر قانون کوحاکم قرار دینا ہے ،جو کہ ذاتی طورپر اللہ تعالیٰ کے ساتھ مختص ہے جیسا کہ قرآن میں فرمایا :

''وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِےْہِ مِنْ شَیْ ئٍ فَحُکْمُہ اِلَی اللّٰہِ '' ١١

''اور جس بات میں تم اختلاف کر تے ہو اس کا فیصلہ اللہ کی طرف سے ہو گا ''

لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فیصلے کوعملی طور پر نافذ کر انے کے لیے اپنا اختیار اپنے نبی ۖ کو تفویض کر تے ہو ئے اعلان فرمایا :

''اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَےْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْکُمَ بَےْنَ النَّاسِ بِمَآ اَرٰکَ اللّٰہُ '' ١٢

''(اے رسول) ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ آپ پر نازل کی ہے تاکہ جیسے اللہ نے آپ کو بتایا ہے اسی کے مطابق لوگوں میں فیصلہ کر یں ''

اگر چہ یہ آیت شان نزول کے لحاظ سے ایک چوری کے فیصلہ سے متعلق نازل ہو ئی ہے لیکن یہ ثابت شدہ ہے کہ شان نزول مراد متکلم کومحدود ومنحصر کرنے کا باعث نہیں بنتا ،اس بناپر پیغمبر اکرم ۖ ہر قسم کے فیصلے کرنے اور انہیں عملی طور پر نافذ کر نے کے ذمہ دار ہیں با الفاظ دیگر معاشرے پر حکومت کرنے کا اختیار رکھتے ہیں ۔

*امام خمینی کا نظریہ:*

''حکم عقل اور ضرورت ادیان کی روسے انبیا ء کی بعثت کا مقصد اور کار انبیا ء صرف مسئلہ گوئی اور بیان احکام نہیں تھا اور ایسا نہیں ہے کہ مسائل و احکام بذریعہ وحی رسول اکرم ۖ کو پہنچے ہو ں اور آنحضرت ۖ و امیر المومنین ـ اور دیگر ائمہ صرف 'مسئلہ گو ' رہے ہو ں کہ خدا و ند عالم نے ان حضرات کو صرف اس لیے معین کیا ہے کہ مسائل و احکام کو کسی خیانت کے بغیرلوگوں کے سامنے بیان کر دیں اور انہوں نے بھی اس امانت کو فقہا کے حوالے کر دیاہو کہ جو مسائل انبیا ء سے حاصل کیے ہیں کسی خیانت کے بغیر لوگوں تک پہنچا دیں اور اس طرح'الفقہا ء امناء الرسل ' کا مطلب یہ ہو کہ فقہا ء بیان مسائل میں امین ہیں ایسا ہرگز نہیں بلکہ انبیا ئ کااہم ترین فریضہ قوانین و احکام کو جاری کر کے عادلانہ اجتماعی نظام قائم کر نا ہے جو یقینا بیان احکام و نشر تعلیمات الہیٰ کے ساتھ ساتھ ایک طاقتور حکومت کا خواہاں ہے ''

نیز فرماتے ہیں کہ :

خداوند عالم نے جو خمس کے سلسلہ میں فرمایا ہے :

''وَاعْلَمُوْا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْئٍ فَاَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِی الْقُرْبٰی۔۔'' ١٣

''اور جان لوکہ جو کچھ مال کسب کرو اس کا پانچوایں حصہ اللہ ،رسول اور اس کے قرابت دارروں کے لیے مخصوص ہے ۔۔۔۔''

یازکوة کے لیے جو فرمایا ہے :

''خُذْ مِنْ اَمْوَالِھِمْ صَدَقَةً ''١٤

''آپ ان کے اموال میںسے صدقہ لیجئے''

حقیقت یہ ہے کہ رسول اکرم کوصرف احکام بیان کر نے کے لیے معین نہیں کیا بلکہ ان احکام کے نفاذ اوراجراء کی ذمہ داری کو بھی ان کے سپرد کر دیاہے آپ ۖ اس پر مامور تھے کہ خمس ،زکات اور خراج جیسے ٹیکسوں کووصول کر کے مسلمانوں کو نفع پہنچانے پر خرچ کر یں قوموں اور افراد کے درمیان عدالت کو وسعت دیں، حدود کو جاری کریں ،سرحدوں کی حفاظت کر یں، ملک کی آزادی کو قائم کریں اور حکومت اسلامی کے ٹیکسوں کو خوردبرد سے بچائیں ۔١٥

*پیغمبر اکرم ۖکی سیاسی حاکمیت سے متعلق آیات :*

اس سلسلے میں کثیر تعداد میں آیات موجود ہیں جنہیں تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

١۔ ایسی آیات جن میں اطاعت پیغمبر اکرم ۖکو بیان کیا گیا ہے ۔

٢۔ جو پیغمبر اکرم ۖ کی ولایت و حکومت سے متعلق ہیں ۔ 

٣۔ وہ آیات جو پیغمبر اکرم ۖکو تمام امور اجتماعی میں محورومرکز قرار دیتی ہیں ۔

١۔اطاعت پیغمبر ۖسے متعلق آیات :

اس قسم کی آیات میںمختلف صورتوں میں پیغمبر اکرم ۖ کی اطاعت کو مورد تاکید قراردیاگیا ہے،بعض آیات میںبلا تفریق تمام انبیاء کی اطاعت کیے جا نے کو اہداف بعثت میں شمار گیاکیا ہے۔

''وَمَآاَرْسَلْنَامِنْ رَّسُوْلٍ اَلَّا لِےُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ '' ١٦

''ہم نے جو بھی رسول بھیجا اس لیے بھیجا ہے کہ باذن خدا اس کی اطاعت کی جائے''

بعض آیات میں رسول ۖ کی اطاعت کو اللہ کی اطاعت کا تسلسل قرار دیا ہے 

''مَنْ ےُّطِعِ الرَّ سُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ ''١٧

''جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی ''

مندرجہ بالا آیات میں درحقیقت پیغمبر ۖکی اطاعت کی اہمیت کو مختلف انداز میں پیش کیا تاکہ لوگ دل و جان سے اپنے راہبر کی پیروی کریں ،اس کے علاوہ کچھ آیات ایسی ہیں جن میں براہ ِ راست پیغمبراکرم ۖ کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے ۔

''اَطِےْعُوا اللّٰہَ وَاَطِےْعُواالرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ ''١٨

''اللہ کی پیروی کرو اور اس کے رسول کی اور تم میںسے جو صاحبان امر ہیں ان کی پیروی کرو ''

ایک اور مقام پر فرما یا : 

''اَطِےْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہ وَلَا تَوَ لَّوْعَنْہُ وَاَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَ ''١٩

''اور اللہ اور اس کے رسول کی پیروی کرو اور تم حکم سننے کے بعد اس سے روگردانی نہ کرو ''

اگر چہ ان آیات میں اطاعت خداوند کا بھی ذکر ہے لیکن اصل مقصد پیغمبر اکرم ۖ کی اطاعت کو بیان کر نا ہے،چونکہ بعد والی آیات میں ان لو گوں کی مذمت کی گئی ہے جو رسول اکرم ۖکی بات سنتے لیکن عمل نہیں کرتے تھے ایسے لوگوں کو بدترین جانوروں سے تعبیر کیا گیا ہے ،جبکہ پیغمبر اکرم ۖ کی دعوت پر لبیک کہنے اور حضور ۖ کے نظام کے مطابق چلنے کو حیات بخش قرار دیا ہے ۔٢٠

علاوہ بریں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا حکم علیحدہ طور پر کسی آیت میں ذکر نہیں ہوا جب کہ بہت سے آیات میں پیغمبر اکرم ۖ کی اطاعت کو علیحدہ بھی بیان کیا ہے۔

''وَاَقِےْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُواالزَّکٰوةَ وَاَطِےْعُواالرَّسُوْلَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ '' ١ ٢

''اور نماز قائم کرو اور زکاة ادا کرو اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے ''

گویا جس طرح نماز و زکات یا دیگر احکام ،عملی زندگی کا حصہ ہیں اسی طرح پیغمبر ۖ کا ہر حکم بھی عملی زندگی کا حصہ ہے سینکٹروں احکام میں سے نماز وزکات جیسے دو نمونے ذکر کرنے کامقصد شاید یہ تھا کہ جس طرح نماز و زکات کے بغیر انسانی معاشرہ کمال و ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتا اسی طرح حاکم اسلامی کی اطاعت اور ان کے دیگر اوامر کی پیروی کے بغیر بھی انسانی کمال کا راستہ طے کرنا نا ممکن ہے ۔ 

توجہ طلب بات یہ ہے کہ رسول کی اطاعت و پیروی کو مستقل طور پر بیان کیاہے جس کالازمی نیتجہ یہ ہے کہ پیغمبر اکرم ۖ سے کچھ ایسے اوامر واحکام بھی صادر ہو ں گے جن کا ذکر قرآن میں درج نہیںہے وگرنہ پیغمبر کی اطاعت کی الگ سے تاکید کرنا لغوو بیہودہ قرار پائے گا نیزیہ کہ بعض انبیاء کی زبا ن سے تو خدا نے واضح طور پر بیان کیا کہ نبی کی اطاعت کے بغیر تقویٰ کامقام بھی حاصل نہیں ہو سکتا ۔

حضرت نوح ـ کی زبانی نقل فرمایا :

''اِنِّیْ لَکُمْ رَسُوْل اَمِےْنO فَاتَّقُوااللّٰہَ وَاَطِےْعُوْنِ ''٢٢

''میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہو ں Oلہذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو''

حضرت نوح ـ کا ''اطیعوا اللہ یا اطیعوا ربی ''جیسی تعبیر کی بجائے ''اطیعونی''کہنا ااس بات کی دلیل ہے کہ بہت سے احکام ''کتاب اللہ''میں موجود نہ بھی ہوں رسول کو امانت دار نمائندہ الہیٰ سمجھتے ہو ئے اطاعت کرنے میں انسان کی فلاح و سعادت مضمر ہے ۔

اس قسم کی جملہ آیات کااندازیہ بتا تا ہے کہ پیغمبر اکرم ۖمعاشرتی و اجتماعی احکامات صادر کرنے کا حق بھی رکھتے ہیں اور اللہ کی جانب سے ان احکام کو نافذ کرنے کا اختیار بھی انہیں کو حاصل ہے ،نیز بعض آیات کی روسے اللہ کارسول اپنے ''اختیار حاکمیت '' میں دیگر افراد کو بطور نائب منصوب کرنے کا مجاز بھی ہے ،جیسے حضرت موسی ـ نے حضرت ہارون ـ کو فرمایا :

''وَقَالَ مُوْسٰی لِاَخِےْہِ ہٰرُوْنَ اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ' '٢٣

''میری قوم میں میری جانشینی کرنا اور اصلاح کر تے رہنا ۔۔۔''

حضرت ہارون ـ نے بھی قوم سے یہی کہا کہ جب ''رحمن ''پروردگار پر ایمان لے آئے ہو تو میرے راستے پر چلو اور میرے ہر حکم پر عمل کرو۔

''وَاِنَّ رَبَّکُمُ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِیْ وَاَطِےْعُوْ اَمْرِیْ ''٢٤

''اور ہارون نے ان سے پہلے ہی کہہ دیاتھا کہ اے میری قوم ! بے شک تم اس (بچھڑے)کی وجہ سے آزمائش میں پڑگئے ہو جب کہ تمہارا پروردگار تورحمن ہے لہذا تم میری پیروی کرو اور میرے حکم کی اطاعت کرو ''

بعض آیات میں پیغمبر اکرم ۖ کی اطاعت بطور مطلق اور عمومیت کے ساتھ بیان ہو ئی ہے یعنی لوگوں پر واجب ہے کہ اپنے ہر قسم کے انفرادی واجتماعی امور میں پیغمبر ۖ کی پیروی کریں ۔

''وَمَآ اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَھٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوْ ''٢٥

''اور رسول جو تمہیں دے دیں وہ لے لو اور جس سے روک دیں اس سے رک جا ئو''

اس آیت کے شان نزول کے بارے میں ملتا ہے کہ یہ فئے (بغیر جنگ کے ہا تھ آنے والے مال )کی تقسیم کے موقع پر نازل ہو ئی جس میں مسلمانوں پر واضح کر دیا گیا کہ پیغمبر اکرم ۖ اگر کسی مصلحت کی بنا پر غیر مساوی تقسیم بھی کر تا ہے تو اس کے ہر فیصلہ پر دل وجان سے عمل کیا جا ئے۔اگر چہ ''ما ''مطلق ہے اور ہر قسم کے فرامین رسول ۖکو شامل ہے اور روایات میں بھی اس آیہ کے ضمن میں پیغمبر اکرم ۖکے تمام فرامین کو مراد لیا گیا ہے ۔جس کا معنی یہ ہے کہ آنحضرت ۖ ایک الٰہی نمائندے واسلامی معاشرے کے حکمران ہو نے کی حیثیت سے احکام صادر کرنے کا حق رکھتے ہیں اور اس ''حق حاکمیت ''کی بنا پر واجب الا طاعت بھی ہیں ۔

*ایک اعتراض کا جواب :*

کچھ لوگوں نے اطاعت پیغمبر ۖ کے بارے میں اعترافات و شبھات پیدا کیے ہیں ،منجملہ یہ کہ بعض آیات میں پیغمبر اکرم ۖ سے ہر قسم کے اختیار کی نفی کی گئی ہے اور تمام امور کو خدا کی طرف نسبت دی گئی ،جیسا کہ ارشاد رب العزت ہے :

''لَےْسَ لَکَ مِنَ الْاَمْرِ شَیئ اَوْ ےَتُوْبَ عَلَےْھِمْ اَوْ ےُعَذِّ بَھُمْ ''٢٦

''(اے رسول )اس بات میں آپ کا کو ئی دخل نہیں ،اللہ چاہے تو انہیں معاف کر دے یا چاہیے تو سزا دے'' 

نیز فرمایا :

''اِنَّ الْاَ مْرَ کُلَّہ لِلّٰہِ''٢٧

''ہر قسم کا امر (اختیار )اللہ کے ساتھ مختص ہے ''

ا س کا جواب یہ ہے کہ پہلی آیت کا اس مطلب کے ساتھ کو ئی تعلق نہیں بلکہ زمانہ جاہلیت کا مزاج رکھنے والوں کے شک کے جواب میں فرمایا کہ ہر قسم کی فتح یا شکست اللہ کے ہا تھ میں ہے ،نیز جنگ احد میں شکست کے وقت کفریہ جملے کہنے والوں کی سزا یا بخشش کے بارے میں تو حید کا درس دینے کی غرض سے فرمایا ۔دوسری آیہ مجیدہ میںاگرچہ ہر قسم کے امور کو اللہ کے ساتھ مختص ہو نا بیان ہوا ہے لیکن یہ کو ئی عجیب بات نہیں اکثر امور کو خدا نے اسی طرح بیان فرمایا ہے ۔ مثال کے طورپر ہدایت کے مسئلے میں ایک مقام پر فرمایا ۔

''اِنَّکَ لَا تَھْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ ےَھْدِیْ مَنْ ےَّشَآ ئُ''٢٨

''(اے محمد )جسے آپ چاہتے ہیں اُسے ہدایت نہیں کر سکتے بلکہ اللہ جسے چاہتا ہے ہدا یت دیتا ہے ''

جب کہ دوسرے مقام پر فرما یا :

''اِنَّکَ لَتَھْدِیْ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِےْمٍ ''٢٩

''بے شک آپ ہی سیدھے راستے کی جانب راہنمائی کر رہے ہیں ''

اس قسم کی آیات ، کئی مقامات پر ملتی ہے کہ خداوند متعال بعض امور کو اپنی طرف نسبت دیتا ہے پھر انہی امورکو اپنے نمائندے کی طرف بھی نسبت بھی دیتا ہے،جس کی مفسرین نے یہ وضاحت کی ہے کہ تمام امورکا تعلق ذاتی طور پر اللہ کے ساتھ ہے لیکن اللہ اپنے اذن او ر اجازت سے یہ امور اپنے انبیا ء کو سپر د کر تا ہے اگر غور کیاجا ئے تو توحید ونبوت کی حقیقت بھی یہی ہے ،پس نیتجہ یہ نکلا چونکہ پیغمبر اکرم ۖ کی حاکمیت اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا تسلسل ہے اس بنا پر آپ ۖ نہ صرف مبلغ دین ہیں ،بلکہ اسلامی حاکم ہو نے کے عنوان سے دینی احکام کو عملی طو ر پر نافذ کر نے کے ذمہ دار بھی ہیں ۔

٢۔پیغمبر اکرم ۖ کی ولایت وحکومت سے متعلق آیات :

اس قسم میں بعض آیات ولایت پیغمبر ۖ کو ولا یت خد ا کی صف میں بیان کر تی ہیں اور بعض آیات میں علیحدہ سے ولایت پیغمبر کو ذکر کیا گیا ہے ،ارشاد باری تعالیٰ ہے :

''اِنَّمَا وَلِےُّکُمُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہ وَالَّذِےْنَ اٰمَنُواالَّذِےْنَ ےُقِےْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَےُؤْتُوْنَ الزَّکٰوةَ وَھُمْ رٰکِعُوْنَ ''٣٠

''تمہار ا ولی تو صرف اللہ اور اس کا رسول اور وہ اہل ایمان ہیںجو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکات دیتے ہیں ''

''وَمَنْ ےَّتَوَلَّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہ وَالَّذِےْنَ اٰمَنُوْافَاِنَّ حِزْبَ اللّٰہِ ھُمُ الْغٰلِبُوْنَ ''١ ٣

''اور جو اللہ اور اس کے رسول اور ایمان والوں کو اپنا ولی (سر پرست)بنائے گا (تو وہ اللہ کی جماعت میں شامل ہو جائے گا )اور اللہ کی جماعت ہی غالب آنے والی ہے ''

نیز فرمایا :

''اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِےْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ ''٣٢

''نبی مومنین کی جانوں پر خود ان سے زیادہ حق تصرف رکھتا ہے ''

ان آیات سے واضح ہو تا ہے کہ لوگوں کے تمام انفرادی واجتماعی امور میں رسول خدا ۖکو ولایت وحاکمیت حاصل ہے یعنی پیغمبر ۖ کے احکامات کے مقابلے میں لوگوں کی رائے کوئی حیثیت نہیں رکھتی یہ اس بات کی دلیل ہے کہ پیغمبر خدا ۖ کو لوگوں کے معاشرتی و اجتماعی امور میں دخالت کا نہ صرف حق حاصل ہے بلکہ ان امور میںپیغمبر ۖ کا حکم ہی نافذ العمل سمجھا جا ئے گا ،اس ضمن میں علامہ طباطبائی فرماتے ہیں۔

''ان کے نفسوں'' (انفسھم )سے مراد خود مومنین ہیں پس آیت کا معنی یہ ہوا کہ پیغمبر اکرم ۖ مومنین پر مومنین سے زیادہ حق تصرف رکھتے ہیں'' 

جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کبھی پیغمبر اکرم ۖ اور عام لو گوں کی رائے میں تعارض یا اختلاف پیدا ہو جائے تو پیغمبر ۖ کی رائے کو ترجیح اور برتری حاصل ہو گی مختصر یہ کہ مومنین جن امور میںذاتی اختیار رکھتے ہیں جیسے حفاظت ،محبت عزت ،کسی کی دعوت کو قبول کرنے یا اپنے ارادے پر عمل کرنے میں، پیغمبر ۖ ان سب امور میں ان پرحق اولویت رکھتے ہیں اور ان کے مقابلے میں پیغمبر ۖکا ارادہ فوقیت رکھتا ہے ۔٣٢

ان آیات کی روشنی میں یہ نیتجہ اخذ ہوتاہے کہ معاشرتی و سیاسی امور میں جب پیغمبر اکرم ۖ کو ئی فیصلہ کردیں تو اسے مقدم سمجھا جائے گا اور اس کی روایات میںبھی وضاحت موجود ہے نیز تمام علما ء اسلام کا اتفاق ہے کہ پیغمبر اکرم ۖ باذن اللہ ولا یت تشریعی (قوانین کے وضع و نفاذ)کے منصب پر فائز ہیں ۔

٣۔تمام معاشرتی و سیاسی امور میں پیغمبر ۖ کو محورقرار دینے والی آیات :

قرآن مجید میں خداوند متعال نے اپنے رسول ۖ کو معاشرے کا ایسا محور و مرکز قرار دیا ہے کہ جس کے گرد جملہ امور کی گردش ہونی چاہیے ،سورۂ نور میں مومنین کو تاکید کی گئی ہے کہ ''ایمان ''کی شرط یہ ہے کہ تمام امور میں پیغمبر ۖ کے تابع رہیں ۔

''اِنَّمَاالْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِےْنَ اٰمَنُوْابِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہ وَاِذَاکَانُوْامَعَہ عَلٰی اَمْرٍجَامِعٍ لَّمْ ےَذْھَبُوْ حَتّٰی ےَسْتَاْذِنُوْہُ اِنَّ الَّذِےْنَ ےَسْتَاْذِنُوْنَکَ اُولٰئِکَ الَّذِےْنَ ےُؤْمِنُوْنَ بِاللَّٰہِ وَرَسُوْلِہ ''٣٣

''مومنین تو بس وہ لو گ ہیںجو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں اور جب وہ کسی اجتماعی معاملے میں رسول کے ساتھ ہوں تو ان کی اجا زت کے بغیر نہیں ہلتے جو لوگ آپ سے اجا زت مانگ رہے ہیں یہ یقینا وہ لوگ ہیںجو اللہ اور رسول پر ایمان رکھتے ہیں ''

اس آیت سے یہ ظاہر ہو تا ہے کہ پیغمبر اکرم ۖ اجتماعی مسائل میں مومنین کے مشورے کو شامل کر کے انہیں اعتماد میں لیتے تھے لیکن آخری فیصلہ پیغمبر ۖ کا ہو تا اور مومنین آپۖ کے فیصلوں کے پا بند ہو تے تھے نیز اس آیت میں خداوند حکیم نے ایک کلی قانون بھی بیان کر دیا ہے کہ معاشرتی و سیاسی امور میں ذاتی و انفرادی رائے کی کو ئی حیثیت نہیں بلکہ ہمیشہ پیغمبر ۖ کی اجازت سے معاملات طے ہو نگے ۔اس کے بعد والی آیت میں فرمایا :

''لَا تَجْعَلُوْادُعَآئَ الرَّسُوْلِ بَےْنَکُمْ کَدُعَآئِ بَعْضِکُمْ بَعْضًا۔۔۔۔۔۔''

''(اے مومنو!) تمہارے درمیان رسول کو پکارنے کاانداز ایسا نہ ہو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو ۔۔۔۔''

''دعاء الرسول ''کے معنی میں بعض نے دواحتمال دئیے ہیں ایک رسول ۖ کو پکارنا دوسرا رسول ۖ کا پکارنا ۔ پہلے معنیٰ کے لحاظ سے تو ایک اخلاقی نکتہ کی طرف راہنمائی ہے کہ جیسے تم آپس میں ایک دوسرے کو نام لے کر پکارتے ہو رسول ۖ کو اس طرح مت پکارو اگرچہ رسول اکرم ۖ تو اضح و انکساری ضرورفرماتے ہیں ،لیکن امت کو رسالت کی منزلت کا لحاظ رکھنا چاہیے ،جب کہ دوسرے معنی کے لحاظ سے ایک اہم پہلو کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے یعنی رسول ۖ کے بلانے کو عام آدمیوں کے بلانے کی طرح مت سمجھو ،رسول ۖکا بلانا ،اللہ کا بلانا ہے،اس لیے کہ رسول ۖکے بلانے پر فوری لبیک کہنا ایمان کا تقاضا ہے ۔احتمال کی حد تک تو پہلا معنی بھی درست ہے اور اخلاقی دستور کے لحاظ سے صحیح بھی ہے لیکن آیت میںموجود بعض تعبیرات سے معلوم ہو تا ہے کہ یہاں پر دوسرا معنی مقصود ہے کیونکہ اس حکم کے فوری بعد فرمایا :

''فَلْےَحْذَرِالَّذِےْنَ ےُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِہ '' ٣٤

''جو لو گ حکم رسول ۖ کی مخالفت کرتے ہیں انہیں اس بات کا خوف رہنا چاہیے کہ مبادا وہ کسی فتنے میں مبتلا ہوجائیں یا ان پر کوئی درد ناک عذاب آجائے ''

*علامہ طباطبائی فرماتے ہیں :*

''دعا ء الرسول سے مراد پیغمبراکرم ۖکا لوگوں کو کسی کام کے لیے بلانا ہے جیسے ایمان و عمل صالح کی طرف بلانا ، اجتماعی کاموں میں مشورت کے لیے بلانا ،نماز جامعہ کے لیے بلانا یا دنیا وی واخروی معاملات کے سلسلہ میں احکامات صاد ر کرنے کی غرض سے بلانا ہے ،لہذا یہ سب پیغمبر ۖ کے بلانے میں شامل ہیں ''٣٥

پس معلوم ہو ا کہ اگر کبھی کسی جنگ کی طرف روانہ ہو نے کے لیے بلائیں یااجتماعی و معاشرتی زندگی کے لحاظ سے ایک نجات بخش تحریر لکھنے کے لیے بلا ئیں تواس قسم کی اجتماعی دعوت کی مخالفت کرنے والا حقیقی مومن کہلا نے کا حقد ار نہیں ہو سکتا ۔بنابریں دونوں احتمالات کے باوجود پیغمبر ۖ کی اجتماعی و سیاسی معاملات میںمرکزیت کو کسی صورت میں رد نہیں کیا جا سکتا ۔علاوہ ازیں سیاسی حاکمیت کے لیے مالی امور کو ایک اہم رکن کی حیثیت حاصل ہے اور قرآن مجید میں زکات وخمس ا ور انفال کو پیغمبر ۖ کے اختیار میں دینے سے معلوم ہو تا ہے کہ خدا وند متعال اپنے نبی ۖکو اسلام کا سیاسی حاکم متعارف کرانا چاہتا ہے ،ارشاد رب العزت ہے :

''وَلَوْ اَنَّھُمْ رَضُوْامَآ اٰتٰھُمُ اللّٰہُ وُرَسُوْلُہ وَقَالُوْاحَسْبُنَااللّٰہُ سَےُؤْتِےْنَااللّٰہُ مِنْ فَضْلِہ وَرَسُوْلُہ اِنَّآ اِلَی اللّٰہِ رٰغِبُوْنَ ''٣٦

''اور کیا ہی اچھا ہو تا کہ اللہ اور اس کے رسول نے جو کچھ انہیں دیا ہے وہ اس پر راضی ہو جا تے اور کہتے کہ ہمارے لیے اللہ کافی ہے عنقریب اللہ اپنے فضل سے ہمیں بہت کچھ دے گا اور اس کا رسول بھی ،ہم تو اللہ سے لو لگائے بیٹھے ہیں ''

اس آیت میں زکات کی تقسیم میں پیغمبر اکرم ۖ کو کلی اختیار دیاگیا ہے نیز فرمایا :

''ےَسْلُوْنَکَ عَنِ الْاَ نْفَالِ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰہِ وَالرَّسُوْلِ ''٣٧

''(اے رسول )آپ ۖ سے انفال (مال غنیمت)کے متعلق پو چھتے ہیں کہہ دیجیۓ یہ انفال اللہ اور رسول کے ہیں) ''

اگر چہ انفال کا حکم جنگ بدر کی غنیمت کے بارے میں آیا ہے تاہم یہ حکم ہر قسم کے انفال یعنی اموال زائد کو شامل ہے مثلا ً متروک آبادیاں،پہاڑوںکی چوٹیاں ،جنگل ،غیر آباد زمینیںاور لا وارث املاک وغیرہ جو کسی کی ملکیت نہ ہوں اس طرح وہ اموال جو بغیر جنگ کے مسلمانوں کے قبضے میں آئے ہوں جنہیں ''فئی'' کہتے ہیں یہ سب اللہ اور رسول ۖ کی ملکیت ہیں یعنی اسلامی حکومت کی جائیداد میں شامل ہیں ۔٣٨

مندرجہ بالا امور کی سر پرستی رسول کے سپرد کرنا یا جہاد کے امور کی سر پر ستی کا رسول ۖکے ساتھ مختص کر نا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ پیغمبر اکرم ۖ کو سیاسی امور پر بھی حاکمیت حاصل تھی ۔

٭٭٭٭٭

حوالہ جات 

١۔ القرآن ،الجمعہ،٢ 

٢۔ القرآن ،الحدید،٢٥

٣۔ القرآن ،النحل ،٣٦ 

٤۔ مجلہ حکومت اسلامی ۔سال اول ،شمارہ دوم ،٢٢٤

٥۔ القرآن ،الکافرون،٦ 

٦۔ القرآن ،الغافر،٢٦

٧۔ القرآن ،الا نعام،١٥٣ 

٨۔ محمد حسین ،طباطبائی ،المیزان فی تفسیر القرآن ،ج ٤،ص١٢٢،ج١٤،ص١٧٨

٩۔ القرآن ،الروم،٣٠

١٠۔ محمد حسین ،طباطبائی ،المیزان فی تفسیر القرآن،ج٦،ص١٨٩

١١۔ القرآن ،الشوری،١٠نیز 

١٢۔ القرآن ،النساء ،١٠٥ 

١٣۔ القرآن ،الا نفال،٤١

١٤۔ القرآن ،التوبہ،١٠٣

١٥۔ روح اللہ ،امام خمینی ،حکومت اسلامی ،ص٧١۔٧٠ 

١٦۔ القرآن ،النساء ،٦٤

١٧۔ القرآن ،النساء ،٨٠

١٨۔ القرآن ،النساء ،٥٩

١٩۔ القرآن ،الا نفال،٢٠

٢٠۔ القرآن ،الا نفالء ،٢١۔٢٤

٢١۔ القرآن ،النور ،٥٦

٢٢۔ القرآن ،الشعرا ،١٠٧۔١٠٨

٢٣۔ القرآن ،الاعراف،١٤٢

٢٤۔ القرآن ،طٰہ،٩٠

٢٥۔ القرآن ،الحشر، ٧

٢٦۔ القرآن ،آلعمران،١٢٨

٢٧۔ القرآن ،آلعمران،١٥٤

٢٨۔ القرآن ،القصص،٥٦

٢٩۔ القرآن ،الشوریٰ ،٥٢

٣٠۔ القرآن ،المائدہ،٥٥،٥٦

٣١۔ القرآن ،المائدہ،٥٦

٣٢۔ طباطبائی ،محمد حسین ،المیزان ،ج١٦،ص٢٧٦

٣٣۔ القرآن ،النور،٦٢

٣٤۔ القرآن ،النور،٦٣

٣٥۔ طباطبائی ،محمد حسین،المیزان ،ج١٥،ص١٦٦

٣٦۔ القرآن ،التوبہ ،٥٩

٣٧۔ القرآن ،الانفال،١ 

٣٨۔ نجفی ،محسن علی،بلاغ القرآن ،ص٢٣٦

ولایت، اعمال کا معیار

ولایت، اعمال کا معیار

📌روایت میں ہے کہ كُونُوا دُعَاةَ النَّاسِ‏ بِغَيْرِ أَلْسِنَتِكُمْ (کافی، ج 2، ص 78) یعنی "لوگوں کو اپنی زبان کے بغیر دعوت دینے والے بنو".

📖پیغمبر اکرمؐ نے اپنی زبان سے علیؑ ابن ابی طالبؑ کی ولایت کی طرف دعوت دی اور فرمایا مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ یعنی "جس جس کا میں مولا ہوں علیؑ بھی اس کے مولا ہیں".

💭پیغمبر اکرمؐ نے عمل کے ذریعے بھی لوگوں سے یہ چاہا کہ وه حضرت علیؑ کی بیعت کریں، حتی عورتوں سے بھی. امام علیؑ نے اپنا ہاتھ پانی میں رکھا اور پھر عورتوں سے فرمایا "اپنے ہاتھ کو اس پانی میں لگاؤ". لیکن اس کے باوجود ہم نے دیکھا کہ ان لوگوں نے کیا کیا. کہا کہ لوگ قبول نہیں کر رہے اور بہانے پیش کیے.

👈اسلام ایک مجموعہ ہے جس کی مثال عدد کی طرح ہے اور ولایت اس کی مثبت یا منفی علامت ہے مثلاً -3 یا +3؛ نماز و رزوه و خمس و زکات و امر بالمعروف و نهی عن المنکر و جهاد سب کے سب عدد ہیں لیکن ولایت ان کی مثبت یا منفی علامت ہے.

📜اب یا الله کی ولایت ہے جو مثبت + علامت ہے یا طاغوت کی ولایت ہے جو منفی – علامت ہے. اگر کسی کی نماز و عبادات کی تعداد ایک ارب ہو گئی ہو جو کہ ایک بڑی مقدار ہے لیکن اگر طاغوت کی ولایت میں ہو تو اس طرح لکھا جائے گا "منفی ایک ارب" اور اگر خدا کی ولایت میں ہو تو "مثبت ایک ارب".

📋اسلام میں جان داؤ پر لگانے سے زیاده اہم کوئی چیز نہیں. جان داؤ پر لگانا بھی دو طرح سے ہے:

1️⃣ایک جان داؤ پر لگانا الہی ولایت کے سائے میں ہے اور اس ولایت الله میں صبر کرنے کی اہمیت ایک ارب کی ہے.
2️⃣لیکن جان داؤ پر لگانے کی دوسری قسم بھی پائی جاتی ہے. وه جو خود کو ظالمانہ کاروائی میں دھماکے سے اڑا لیتا ہے وه بھی ایک ارب کا صبر کرتا ہے لیکن اس ایک ارب کے عدد کے ساتھ – منفی کی علامت لگائی جاتی ہے.

آیت الله محی الدین حائری شیرازیؒ

#محرم_و_صفر، #قیام_حسینی، #هیهات_من_الذلة، #لبیک_یا_حسینؑ

عراقی پارلیمانی انتخابات

عراق کے پارلیمانی انتخابات میں اسلام پسند جماعتوں کی کامیابی اور مغرب نواز قوتوں کی شکست.
✍️ تجزیاتی رپورٹ: سید محمد رضوی. 

عراق میں اتوار کے دن پانچواں پارلیمانی الیکشن منعقد ہوا. 
عراقی پارلیمنٹ کی کل 329 نشستیں ہیں. 
نئی قانون اصلاحات کے تحت ملک کو 83 حلقوں میں تقسیم کیا گیا ہے، اور 18 صوبوں میں سے ہر ایک کو آبادی کے لحاظ سے سیٹیں دی گئی ہیں، جن میں سب سے زیادہ سیٹیں صوبہ بغداد کے حصے میں آئی ہیں.  
جب کہ اس سے پہلے متناسب نمائندگی کا قانون نافذ تھا اور صوبوں کی تعداد کے مطابق ملک کے 18 انتخابی حلقے تھے. 
اور رائے دہندگان صوبے کی تمام نشستوں کے لئے اپنی پسند کے امیدواروں کو ووٹ دیتے تھے. 

الیکشن کے ابتدائی نتائج کے مطابق شیعہ جماعتوں میں مقتدی الصدر کی جماعت التيار الصدري 73 نشستوں کے ساتھ سرفہرست ہے. 
سابق وزیر اعظم نوری المالکی کے الائنس دولة القانون کو 37 سیٹیں ملی ہیں. 
ہادی العامري کا الفتح الائنس 14، الامتداد (تسلسل) تحریک 19 اور العزم اتحاد 15 سیٹوں پر کامیاب ہوئے ہیں. 
عمار الحکیم کی جماعت تیار الحکمت اور سابق وزیر اعظم حیدر العبادي کی پارٹی النصر کو 2، 2 نشستیں ملی ہیں. 
سابق اسپیکر محمد الحلبوسی کا سنی اتحاد التقدم (ترقی) الائنس 38 نشستوں پر کامیاب ہوا ہے. 
جب کہ کرد آبادی والے حلقوں میں نچروان بارزانی کی کرد ڈیموکریٹک پارٹی کو 32 نشستیں ملی ہیں اور طالبانی کی کرد نیشنلسٹ پارٹی نے 15 سیٹیں جیتی ہیں. 
اس کے علاوہ متعدد آزاد امیدواروں کو بھی کامیابی حاصل ہوئی ہے. 

الیکشن کی خاص بات یہ ہے کہ شیعہ حلقوں میں اسلام پسند سیاسی اتحادوں کو کامیابی ملی ہے اور غیر متوقع طور پر امریکہ اور مغربی طاقتوں کے حمایت یافتہ امیدواروں کو بری طرح شکست ہوئی ہے. 
ان میں نجف کے سابق گورنر عدنان الزرفی بھی شامل ہیں. 
ان امیدواروں پر مغربی و عرب ممالک نے گزشتہ چند سالوں میں بڑی سرمایہ کاری کی تھی. 

شیعہ اسلامی جماعتیں پارلیمنٹ میں اکثریتی اتحا تشکیل دے کر حکومت بناسکتی ہیں. 
کرد رہنما نچروان بارزانی نے بھی حکومت کے قیام میں شیعہ جماعتوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے. 
 
واضح رہے کہ عراقي صدر کی طرف سے شیعہ اکثریتی جماعت کو وزیر اعظم کے عہدے اور حکومت کی تشکیل کی  دعوت دی جاتی ہے اور اسپیکر کا عہدہ سنیوں کو دیا جاتا ہے، جب کہ صدارت کا عہدہ کردوں کو ملتا ہے. 

لہذا وزیراعظم متوقع طور پر تیار الصدري کا کوئی رہنما بن سکتا ہے. 
جب کہ محمد الحلبوسی کا دوبارہ  اسپیکر بننا تقریباً یقینی ہے. 
مگر اس مرتبہ بارزانی کی کرد ڈیموکریٹک پارٹی نے صدارت کے عہدے کے لئے دیگر کرد جماعتوں کو مراعات دینے کے بجائے یہ عہدہ خود رکھنے کا عندیہ دیا ہے. 
اس سے پہلے صدر کا عہدہ کرد حلقوں کی باہمی مفاہمت سے طالبانی کی جماعت کرد نیشنلسٹ پارٹی کو ملتا تھا. 

نئی عراقی حکومت کو کرپشن کی روک تھام اور بجلی، گیس و دیگر ضروریات کی فراہمی کو یقینی بناتے ہوئے اقتصادی صورتحال بہتر بنانے کے علاوہ ملک کو مغربی اور عرب ممالک کی طرف سے درپیش چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا، جن میں سرفہرست صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کے قیام کا مسئلہ ہے. 
لیکن جن سیاسی پارٹیوں کو کامیابی حاصل ہوئی ہے، وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مخالف ہیں. 
جہاں تک امریکی فوج کے انخلا کا تعلق ہے، موجودہ وزیر اعظم مصطفی الکاظمی کے اعلان کے مطابق اس سال کے آخر تک فوجی مشیروں کے سوا امریکی فورسز عراق چھوڑ کر چلی جائیں گی. 
عراق سے امریکی افواج کے انخلا کی قرارداد گزشتہ پارلیمنٹ میں منظور ہوئی تھی.

خاتون آھن

خاتون آھن🥀

      بانو مرضیہ حدید چی دباغ 

ساواک کے عقوبت خانے میں انقلابیوں پر کیا گزری 🔥


        قسط نمبر 5✍️


وہ پہلی رات جیل میں  رضوانہ کے لیے انتہای بھیانک  رات تھی اسکا پورا وجود خوف سے لرز رہا تھا ۔
اور وہ اپنے ہاتھوں کو میرے ہاتھوں سے مسل رہی تھی.
 ان جلادوں نے ہمارے سر سے چادر کھینچ لی،
  ہم نے جلدی سے کمبل سے سر ڈھانپ لیے. 
تو انہوں نے ہمارا بہت مذاق اڑایا وہ ہم سے کہہ رہے تھے؛ اپنے خمینی

 سے کہو تمہاری چادر واپس دلایں.
 جس رات یہ لوگ رضوانہ کو گرفتار کرکے لاے ہیں انہوں نے چند موٹے موٹے چوہے ہمارے کمرے  میں چھوڑ دیئے،
 رات بھر یہ چوہے اس چھوٹے سے تاریک کمرے کی دیوار سے اوپر نیچے دوڑتے رہے اور رضوانہ خوف سے چیخیں مارتی مجھ سے لپٹی رہی . 
اور ماما  ماما  کرتی رہی. 
میں نے رضوانہ کو اپنے کمبل میں لے لیا اور آھستہ آھستہ اسے آنے والے  کڑے امتحان کے لئیے آمادہ کرنے لگی. 

وہ بھیانک  رات کسی طرح ختم ہوی
. صبح ہوتے ہی یہ جلاد ہمیں لینے اگیئے. 
ہم نے کمبل سے اپنے سر ڈھانپ لیے. ان خبیثوں نے ہمارے سر سے کمبل بھی اتار لیئے اور مسلسل ہمارا مذاق بناتے رہے.
 انہوں نے لاتوں،  گھونسوں سے ہمارا حال برا کیا؛میں تو پہلے  ہی اتنی زخمی تھی ۔ 
انہوں نے رضوانہ سے پوچھ گچھ شروع کی ۔ 
 اس بچی کے پاس کہنے کے لیئے کچھ بھی نہیں تھا، اسے کسی قسم کی اطلاعات نہیں تھیں اور نہ ہی وہ سیاسی سرگرمیوں میں تھی. 
انہیں جب رضوانہ سے  کچھ حاصل نہیں ہوا تو انہوں نے رضوانہ کو مجھ سے الگ کر دیا. 
کچھ دیر بعد ہی رضوانہ کی دلخراش چیخوں سے جیل کے در و دیوار ہل رہے تھے ۔.

ادھر میں اس کی دلخراش چیخوں سے تڑپ رہی تھی
 اور خدا سے اپنے اور اس بچی کے لیئے  موت طلب کررہی تھی 
. میرے جسم پر لگے زخم سڑ  گیے تھے ۔ ان میں پس پڑ گئ تھی ۔
 اور ان میں سے تعفن اٹھ رہا تھا اس حد تک کہ یہ جلاد بھی میرے پاس کھڑے ہونے سے گریز کر رہے تھے.
 وہ کچھ دیر بعد رضوانہ کو زخمی حالت میں  سسکتا ہوا میرے پاس پھینک گیئے میں نے رضوانہ کو اپنے سے لپٹا لیا ۔
 اپنی تکلیفیں بھول کر رضوانہ کو تسلیاں دیتی رہی. 
دن ڈھلا، بھیانک رات پھر اپنے بال بکھیرے ہمارے سر پر آکھڑی ہوی. 
یہ درندے آکر رضوانہ کو گھسیٹ کر لے جانے لگے. رضوانہ مجھے چمٹتی تھی؛ اور ماما مجھے بچالو، ماما مجھے بچالو کی آوازیں لگا تی  تھی. 

اے خدا مجھے میری بچی سے ملا دے. مجھے موت دے دے مجھ سے اپنی بچی کی یہ تکلیف برداشت نہیں ہورہی ۔ میں تڑپ رہی تھی اور اپنا سر کمرے کے دروازے سے ٹکرا رہی تھی ۔

اچانک......... 

مجھے دلنشین آواز میں تلاوت قرآن کی آواز سنای دی

 《واستعینوا بالصبر الصلوۃ و انھا لکبیرہ الاعلی الخاشیعین 》
آیت اللہ ربانی شیرازی، جو اسی کوریڈور کے ایک کمرے میں قید تھے، 
اپنی دلسوز اور درد ناک آواز میں قرآن پاک کی تلاوت کرکے، مجھے اس طرح سے تسلی دے رہے تھے. 
جس جلتی ہوی آگ میں، میں کھڑی تھی، اس آواز نے میرے اوپر پانی سا ڈال دیا. 
میں زمین پر بیٹھتی چلی گئ. میں کچھ پرسکون سی بھی ہو گئ اور شرمندہ بھی، 
کیا میرے اوپر پڑنے والے مصائب، میری شھزادی زینب کے مصائب سے زیادہ ہیں . 
جو میں اس طرح سے نالہ و فریاد کررہی ہوں.
 میں نے ایک بار پھر اپنے آپ کو سمیٹا اور خدا سے ہمت اور صبر کی دعا کرنے لگی، 
صبح ہوی تو  یہ لوگ مجھے جیل میں بنے ہاسپٹل میں ڈال گئے، 
مجھے رضوانہ کا کچھ پتا نہیں تھا کہ وہ کہاں ہے اور کس حال میں ہے. 🌷🍃 

(جاری ہے۔۔۔۔ )

صحیح طرز حیات کا مرکز

❄️صحیح طرز حیات کا مرکز: قرآن❄️

📖ذلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ (سوره بقرة: 02)

👈اس با عظمت کتاب کی حقانیت میں کوئی شک و شبہہ موجود نہیں؛ یہ پوری کی پوری کتاب پرہیزگاروں کے لیے ہدایت ہے. یعنی یہ کتاب ہدایت کا سرچشمہ ہے اور ہمیں سیدھے راستے پر جینا سکھاتی ہے.

✅قرآن مجید انبیاء، صدیقین، شہداء، صالحین اور صحیح زندگی گزرانے سے متعلق دیگر تعلیمات کے بیان کرنے کے ذریعے یہ کوشش کرتا ہے کہ *حیات طیبہ* کو پسند کرنے والے انسان کو منزل مقصود کی طرف رہنمائی کرے.

☀️اسی لیے قرآنی تعلیمات کی طرف توجہ کرنا اسلامی اور قرآنی معاشرے کو مادّی اور غیر قرآنی معاشروں سے مختلف بنا دیتا ہے.

*📌امام خمینیؒ کے مطابق:*
قرآن مجید سے، اس الہی صحیفے اور ہدایت کی کتاب سے انس حاصل کرنے سے غفلت نہ برتیں کیونکہ پوری طول تاریخ میں مسلمانوں کے پاس جو کچھ بھی رہا ہے اور آئنده بھی ہاتھ آئے گا سب کا سب اس مقدس کتاب کی برکتوں سے سرشار ہے.

📚قرآنی طرز زندگی، ص 27
مؤلف: حجت الاسلام ابوالقاسم دولابی

#تفسیر_قرآن - 193
#سپاره_1_کے_منتخب_پیغامات - 10