خاتون آھن 💫

بانو مرضیہ حدید چی دباغ 

ساواک  کے عقوبت خانے  میں  انقلابیوں پر کیا گزری 🔥

 قسط نمبر  6    ✍️

رات دوبارہ مجھے کوٹھڑی میں لاکر ڈال دیا ۔

رات  کا کچھ پہر گزرا  تھا کہ مجھے رضوانہ  کی چیخوں کی آوازیں سنای دینے لگیں ۔ میں تڑپ گئ 
      
میں اس کی چیخیں سن کر، ایک زخمی سانپ کی مانند زمین پر لوٹ رہی تھی. 
کبھی دریچہ کے چھوٹے سے سوراخ سے دیکھنے کی کوشش کرتی، مگر  کوریڈور  میں اندھیرا  سا ہونے کی وجہ سے کچھ پتا نہیں چل رہا تھا کہ کسے لے کر گیئے ہیں اور کسے لاے ہیں. 

رضوانہ کی دلخراش چیخیں، میرے دل کو لرزا  رہی تھیں، میں اس وقت اپنے آپ کو بلکل بے بس محسوس کررہی تھی ۔ 
 میں کبھی زمین پر لوٹتی، کبھی اپنے آپ کو دیوار پر مارتی، مگر کچھ بھی نہیں کرسکتی تھی. 
اچانک رضوانہ کی چیخوں کی آواز آنا بند ہوگئ. خدایا کیا ہوا، ؟ 
ان لوگوں نے میری بچی کا کیا حشر کیا،؟ کیا  رضوانہ  مر گئ ?
میرا پورا وجود لرز رہا تھا. جب بہت دیر تک اس کی آواز نہیں آی تو میں نے سمجھ لیا کہ میری بچی مر گئ،
 میں نے خدا کا شکر کیا کہ ان درندوں سے اس بچی کی جان چھوٹ گئ. 
صبح کے قریب زنجیروں کے ھلنے کی آواز سنای دی، میں تڑپ کر دروازے پر آئ اور دریچہ کے سوراخ سے کوریڈور میں دیکھنے لگی. 
اے میرے خدا ؛! یہ میری رضوانہ ہے؛ 

جسے دو جلاد زمین پر گھسٹتے ہوے جارہے تھے،
 یہ گوشت کا لوتھڑا - میری جگر پارہ ہے، 
میرے اندر جتنی طاقت تھی میں بے تحاشہ دروازے پر سر ٹکرانے لگی میرے نالہ و فریاد  سے زمین ہل رہی تھی مگر وہاں کوی سننے والا نہ تھا. 
ان ملعونوں نے اسے بلکل میرے دروازہ پر لا کر ڈالا اور پانی بھر بھر کے اس کو ہوش میں لانے کے لیئے اس پر ڈالنے لگے۔
 مگر رضوانہ ہوش میں نہیں آی، انہیں  معلوم تھا کہ میں  دروازے  کے سوراخ سے یہ سب دیکھ رہی تھی . 
میں اپنے منہ پر طمانچے مار رہی تھی، اپنے بالوں کو نوچ رہی تھی. 
اور ان جلادوں کو کوس رہی تھی. 
جب ان وحشیوں  نے دیکھا کہ یہ ہوش میں نہیں آتی، تو کوریڈور سے رضوانہ کے بے جان بدن کو کمبل میں لپیٹ کر لے گیئے. 
میں نے پھر سے چیخنا چلانا شروع کیا،
 خدا کے لیئے اس پر رحم کرو، مجھے بھی اس کے ساتھ لے جاو، قاتلو تم نے میری بچی کے ساتھ کیا کیا؟ 
پھر میں نے کہنا شروع کیا : اے خدا مجھے بھی موت دے دے، مجھے بھی اس دنیا سے اٹھالے. مجھے یہ زندگی نہیں چاہیے ۔ 
کہ مجھے پھر سے . 

 دلنشین آواز میں تلاوت قرآن کی آواز سنای دی

 《واستعینوا بالصبر الصلوۃ و انھا لکبیرہ الاعلی الخاشیعین 》
آیت اللہ ربانی شیرازی، 
اپنی دلسوز اور درد ناک آواز میں قرآن پاک کی تلاوت کرکے، مجھے  تسلی دینا  چاہ رہے تھے ۔ 
میں وہیں دروازے  سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئ اور اللہ سے صبر و استقامت  کی دعا  کرنے لگی ۔

جاری ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ 🍀