روزه و دروغ
🔰 *روزے کی حالت میں خدا اور معصومین سے جھوٹی بات منسوب کرنے سے بچیں* 🤫
👈 جس طرح جھوٹ بولنا حرام اور گناہ ہے اسی طرح کسی سے جھوٹی بات منسوب کرنا بھی حرام اور گناہ ہے؛ *لیکن اگر کوئی شخص خدا ، رسول ص یا ائمہ معصومین ع یا حضرت زہراء ع یا دیگر انبیاء ع سے کوئی جھوٹی بات منسوب کرے تو اس کا گناہ اور بھی زیادہ ہے؛ اور اگر ایسا کرنے والا شخص روزہ دار ہو تو اُس کا روزہ بھی باطل ہے*۔
🌟 واضح رہے کہ اگر روزہ دار شخص، خدا، رسول ص، ائمہ معصومین ع یا حضرت زہرا ع کی طرف جھوٹ منسوب کرے اور بعد میں توبہ کرلے اور اقرار کر لے کہ میں نے جھوٹی نسبت دی ہے، پھر بھی اس کا روزہ باطل ہے۔
🌟 *مخفی نہ رہے کہ خدا اور معصومین کے ساتھ جھوٹ منسوب کرنے میں*:
💫زبان سے جھوٹ بولنا یا جھوٹی بات منسوب کرنا؛
💫 لکھنا؛
💫 اشارہ کرنا؛
💫 ایس ایم ایس(Sms)؛ یا ای میل(Email) کرنا؛
💫 میسج فاروڈ(Frwd) کرنا؛
💫یا کسی کی جھوٹی بات کی تائید یا لائیک اور شیئر کرنا وغیرہ
*سب کام شامل ہیں۔*
💥 لہذا: روزے کی حالت میں قرآن و حدیث بیان کرتے ہوئے نہایت احتیاط سے کام لیں؛ *اگر جان بوجھ کر کوئی جھوٹی بات معصومین ع سے منسوب کی تو روزہ باطل ہے۔*
🌟 البتہ
*اگر ایسی روایت اور قول معصوم نقل کرنا چاہے جس کے بارے میں معلوم نہ ہو کہ سچ ہے یا جھوٹ، تو اُسے (کتاب یا بیان کرنے والے کے) حوالے کے ساتھ نقل کریں تو روزہ باطل نہیں ہو گا۔*
وَ السَّلام
✍ *مولانا ڈاکٹر سید توقیر عباس کاظمی*
🔻۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منجانب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🔻
فصیحی_ٹی_وی
این وبلاگ درباره قرآن ومفاهیم آن می باشد.به امید اینکه مورد استفاده علاقه مندان قرار گیرد و گامی کوچک در راستای نشر فرهنگ اسلام باشد.