امام حسن المجتبی ع کی حالات زندگی

حسن بن علی بن ابی طالب (3-50ھ) امام حسن مجتبیؑ کے نام سے مشہور شیعوں کے دوسرے امام ہیں۔ آپ حضرت علیؑ اور حضرت زہراؑ کے پہلے فرزند اور پیغمبر اکرمؐ کے بڑے نواسے ہیں۔ آپ کی امامت کا دورانیہ دس سال (40-50ھ) پر محیط ہے۔ آپ تقریبا 7 مہینے تک خلافت کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ اہل سنت آپ کو خلفائے راشدین میں آخری خلیفہ مانتے ہیں۔
تاریخی شواہد کی بنا پر پیغمبر اکرمؐ نےآپ کا اسم گرامی "حسن" رکھا اور حضورؐ آپ سے بے انتہا پیار کرتے تھے۔ آپ نے اپنی عمر کے 7 سال اپنے نانا رسول خداؐ کے ساتھ گزارے، بیعت رضوان اور نجران کے عیسائیوں کے ساتھ مباہلہ میں اپنے نانا کے ساتھ شریک ہوئے۔
خلیفہ دوم کی طرف سے خلیفہ منتخب کرنے کیلئے بنائی گئی چھ رکنی کمیٹی میں آپ بطور گواہ حاضر تھے۔ اس کے علاوہ خلیفہ اول اور دوم کے زمانے میں آپ کی زندگی کے بارے میں کوئی خاص بات تاریخ میں ثبت نہیں ہوئی ہیں۔ خلیفہ سوم کے دور میں ہونے والی بعض جنگوں میں بھی آپ کی شرکت کے حوالے سے تاریخ میں بعض شواہد ملتے ہیں۔ حضرت عثمان کے خلاف لوگوں کی بغاوت کے دوران امام علیؑ کے حکم سے آپ عثمان کے گھر کی حفاظت پر مأمور ہوئے یہاں تک کہ کہا جاتا ہے کہ اس واقعے میں آپ زخمی بھی ہوئے تھے۔ امام علیؑ کی خلافت کے دروان آپ اپنے والد گرامی کے ساتھ کوفہ تشریف لائے اور جنگ جمل اور جنگ صفین میں اسلامی فوج کے سپہ سالاروں میں سے تھے۔
21 رمضان 40ھ کو امام علیؑ کی شہادت کے بعد آپ امامت و خلافت کے منصب پر فائز ہوئے اور اسی دن تقریبا 40 ہزار سے زیادہ لوگوں نے آپ کی بیعت کیں۔ معاویہ نے آپ کی خلافت کو قبول نہیں کیا اور شام سے لشکر لے کر عراق کی طرف روانہ ہوئے۔ امام حسنؑ نے عبید اللہ بن عباس کی سربراہی میں ایک لشکر معاویہ کی طرف بھیجا اور آپؑ خود ایک گروہ کے ساتھ ساباط کی طرف روانہ ہوئے۔ معاویہ نے امام حسن کے سپاہیوں کے درمیان مختلف شایعات پھیلا کر صلح کیلئے زمینہ ہموار کرنے کی کوشش کیا۔ یہاں تک کہ ایک خوارج کے ہاتھوں امام پر سوء قصد بھی کیا گیا جس کے نتیجے میں آپؑ زخمی ہوئے اور علاج کیلئے آپ کو مدائن لے جایا گیا۔ اسی دوران کوفہ کے بعض سرکردگان نے معاویہ کو خط لکھا جس میں امامؑ کو گرفتار کر کے معاویہ کے حوالے کرنے یا آپ کو شہید کرنے کا وعدہ دیا گیا تھا۔ معاویہ نے کوفہ والوں کے خطوط کو بھی امامؑ کی طرف بھیجا اور آپ کو صلح کرنے کی پیشکش کی۔ امام حسنؑ نے وقت کے تقاضوں کو دیکھتے ہوئے معاویہ کے ساتھ صلح کرنے اور خلافت کو معاویہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا لیکن اس شرط کے ساتھ کہ معاویہ قرآن و سنت پر عمل پیرا ہوگا، اپنے بعد کسی کو اپنا جانشین مقرر نہیں کرے کا اور تمام لوگوں خاص کر شیعیان علیؑ کو امن کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرے گا۔ لیکن بعد میں معاویہ نے مذکورہ شرائط میں سے کسی ایک پر بھی عمل نہیں کیا۔ معاویہ کے ساتھ ہونے والے صلح کی وجہ سے بعض شیعہ آپ سے ناراض ہوگئے یہاں تک کہ بعض نے آپ کو "مذلّ المؤمنین" (مؤمنین کو خوار و ذلیل کرنے والا) کے نام سے یاد کرنے لگا۔
صلح کے بعد آپ سنہ 41ھ کو مدینہ واپس آئے اور زندگی کے آخری ایام تک یہیں پر مقیم رہے۔ مدینہ میں آپؑ علمی مرجعیت کے ساتھ ساتھ سماجی اور اجتماعی طور پر بھی مقام و منزلت کے حامل تھے۔
معاویہ نے جب اپنے بیٹے یزید کی بعنوان ولیعہد بیعت لینے کا ارادہ کیا تو امام حسنؑ کی زوجہ جعدہ کیلئے سو دینار بھیجا تاکہ وہ امام کو زہر دے کر شہید کریں۔ کہتے ہیں کہ آپؑ زہر سے مسموم ہونے کے 40 دن بعد شہید ہوئے۔ ایک قول کی بنا پر آپؑ نے اپنے نانا رسول خداؑ کے جوار میں دفنائے جانے کی وصیت کی تھی لیکن مروان بن حکم اور بنی امیہ کے بعض دوسرے لوگوں نے اس کام سے منع کیا یوں آپ کو بقیع میں سپرد خاک کیا گیا۔
شیعہ اور اہل سنت منابع میں امام حسنؑ کے فضائل اور مناقب کے سلسلے میں بہت سی احادیث نقل ہوئی ہیں۔ آپؑ اصحاب کسا کے چوتھے رکن ہیں جن کے متعلق آیہ تطہیر نازل ہوئی ہے جس کی بنا پر شیعہ ان ہستیوں کو معصوم سمجھتے ہیں۔ آیہ اطعام، آیہ مودت اور آیہ مباہلہ بھی انہی ہستیوں کی شان میں نازل ہوئی ہیں۔
آپ نے دو دفعہ اپنی ساری دولت اور تین دقعہ اپنی دولت کا نصف حصہ خدا کی راہ میں عطا کیا۔ آپ کی اسی بخشندگی کی وجہ سے آپ کو "کریم اہل بیت" کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ نے 20 یا 25 دفعہ پیدل حج ادا کیا۔
آپؑ کی احادیث اور مکتوبات کا مجموعہ نیز آپ کے 138 راویوں کا نام مسند الامام المجتبیؑ نامی کتاب میں جمع کیا گیا ہے۔

ماه مبارک رمضان کےچودھویں دن کی دعا:

بسم اللہ الرحمن الرحیم
اَللّهُمَّ لاتُؤاخِذْني فيہ بالْعَثَراتِ وَاَقِلْني فيہ مِنَ الْخَطايا وَالْهَفَواتِ وَلا تَجْعَلْني فيہ غَرَضاً لِلْبَلايا وَالأفاتِ بِعزَّتِكَ يا عِزَّ المُسْلمينَ۔
اے میرے معبود! آج کے دن میری لغزشوں پر میرا مؤاخدہ نہ فرما اور خطاؤں اور گناہوں سے دوچار ہونے سے دور رکھ، مجھے آزمائشوں اور آفات کا نشانہ قرار نہ دے، تیری عزت کے واسطے، اے مسلمانوں کی عزت۔
التماس دعا

تیرہوین دن کی دعا

بسم اللہ الرحمن الرحیم
 اَللّهُمَّ طَہرْني فيہ مِنَ الدَّنسِ وَالْأقْذارِ وَصَبِّرْني فيہ عَلى كائِناتِ الْأَقدارِ وَوَفِّقْني فيہ لِلتُّقى وَصُحْبَة الْأبرارِ بِعَوْنِكَ ياقُرَّة عَيْن الْمَساكينِ اے معبود اس مہینے مجھے آلودگیوں اور ناپاکیوں سے پاک کر دے اور مجھے صبر دے ان چیزوں پر جو میرے لئے مقدر ہوئی ہیں، اور مجھے پرہیزگاری اور نیک لوگوں کی ہم نشینی کی توفیق دے، تیری مدد کے واسطے اے بےچاروں کی آنکھوں کی ٹھنڈک
التماس دعا

بارہویں دن کی دعا:

بسم اللہ الرحمن الرحیم
 اَللّٰھُمَّ زَیِّنِّی فِیہِ بِالسِّتْرِ وَالْعَفافِ، وَاسْتُرْنِی فِیہِ بِلِباسِ الْقُنُوعِ وَالْکَفافِ وَاحْمِلْنِی فِیہِ عَلَی الْعَدْلِ وَالْاِنْصافِ وَآمِنِّی فِیہِ مِنْ کُلِّ مَا ٲَخافُ بِعِصْمَتِکَ یَا عِصْمَۃَ الْخائِفِینَ ۔
اےمیرے معبود! آج کے دن مجھے پردے اور پاکدامنی سے زینت عطا فرما اور قناعت اور خودداری کے لباس سے ڈھانپ دے اس دن میں مجھے عدل و انصاف پر آمادہ فرما اے خائفین کی امید مجھے ان تمام چیزوں سے جن سے میں ڈرتا ہوں امان عطا فرما ۔
التماس دعا

گیارہویں دن کی دعا:

بسم اللہ الرحمن الرحیم
 اَللّٰھُمَّ حَبِّبْ إلَیَّ فِیہِ الْاِحْسانَ وَکَرِّہْ إلَیَّ فِیہِ الْفُسُوقَ وَالْعِصْیانَ وَحَرِّمْ عَلَیَّ فِیہِ السَّخَطَ وَالنِّیرانَ، بِعَوْ نِکَ یَا غِیاثَ الْمُسْتَغِیثِین
اے  میرےمعبود! آج کے دن مجھے بھلائی کی محبت اور گناہ اور نا فرمانی سے نفرت عطا فرما اور مجھ پر اپنے غیظ و غضب کو حرام کر دے اپنی حمایت کے ساتھ اے فریادیوں کے فریاد رَس۔
التماس دعا

دسویں دن کی دعا: 

بسم اللہ الرحمن الرحیم
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِی فِیہِ مِنَ الْمُتَوَکِّلِینَ عَلَیْکَ، وَاجْعَلْنِی فِیہِ مِنَ الْفائِزِینَ لَدَیْکَ، وَاجْعَلْنِی فِیہِ مِنَ الْمُقَرَّبِینَ إلَیْکَ، بِإحْسانِکَ یَا غایَۃَ الطَّالِبِینَ
اے میرےمعبود! آج کے دن مجھے ان لوگوں میں سے بنا جو تجھ پر بھروسہ کرتے ہیں اور جو تیرے حضورکامیاب ہیں اے طلبگاروں کے مقصود اپنے احسان کے ذریعے آج مجھے اپنے مقربین میں سے قرار دے  ۔
التماس دعا

ماہ مبارک رمضان کے روزے کی فضیلت قرآن کی روشنی میں

یا أیّھا الّذین آمنوا کتب علیکم الصّیام کما کتب علی الّذین من قبلکم لعلّکم تتّقون۔

ترجمہ:اے صاحبان ایمان تمہارے اوپر روزے اسی طرح لکھ دیئے گئے ہیں جس طرح تمہارے پہلے والوں پر لکھے گئے تھے شاید تم اس طرح متّقی بن جاؤ. 

رمضان کا مہینہ ایک مبارک اور باعظمت مہینہ ہے یہ وہ مہینہ ہے جس میں مسلسل رحمت پروردگار نازل ہوتی رہتی ہے اس مہینہ میں پروردگار نے اپنے بندوں کو یہ وعدہ دیا ہے کہ وہ ان کی دعا کو قبول کرے گا یہی وہ مہینہ ہے جس میں انسان دنیا و آخرت کی نیکیاں حاصل کرتے ہوئے کمال کی منزل تک پہنچ سکتا ہے، اور پچاس سال کا معنوی سفر ایک دن یا ایک گھنٹہ میں طے کر سکتا ہے۔ اپنی اصلاح اور نفس امارہ پر کنٹرول کی ایک فرصت ہے، جو خداوند متعال نے انسان کو دی ہے، خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں ایک بار پھر ماہ مبارک رمضان نصیب ہوا اور یہ خود ایک طرح سے توفیق الہی ہے تا کہ انسان خدا کی بارگاہ میں آ کر اپنے گناہوں کی بخشش کا سامان کر سکے ، ورنہ کتنے ایسے لوگ ہیں جو  پچھلے سال ہمارے اور آپ کے ساتھ تھے، لیکن آج وہ اس دار فنا سے دار بقاء کی طرف منتقل ہو چکے ہیں۔

 ماہ مبارک عبادت و بندگی کا مہینہ ہے، امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :

قال اللہ تبارک و تعالٰی : یا عبادی الصّدیقین تنعموا بعبادتی فی الدّنیا فانّکم تتنعّمون بھا فی الآخرة،

خداوند متعال فرماتا ہے: اے میرے سچے بندو ! دنیا میں میری عبادت کی نعمت سے فائدہ اٹھاؤ تا کہ اس کے سبب آخرت کی نعمتوں کو پا سکو۔

یعنی اگر آخرت کی بے بہا نعمتوں کو حاصل کرنا چاہتے ہو تو پھر دنیا میں میری نعمتوں کو بجا لاؤ اس لیے کہ اگر تم دنیا میں میری نعمتوں کی قدر نہیں کرو گے تو میں تمہیں آخرت کی نعمتوں سے محروم کر دوں گا، اور اگر تم نے دنیا میں میری نعمتوں کی قدر کی تو پھر روز قیامت میں تمھارے لیے اپنی نعمتوں کی بارش کر دوں گا۔

انہیں دنیا کی نعمتوں میں سے ایک ماہ مبارک اور اس کے روزے ہیں کہ اگر حکم پروردگار پر لبیک کہتے ہوئے روزہ رکھا ، بھوک و پیاس کو تحمل کیا تو جب جنّت میں داخل ہو گے تو آواز قدرت آئے گی:

ترجمہ: اب آرام سے کھاؤ پیو کہ تم نے گذشتہ دنوں میں ان نعمتوں کا انتظام کیا ہے۔

ماہ مبارک کے روز و شب انسان کے لیے نعمت پروردگار ہیں جن کا ہر وقت شکر ادا کرتے رہنا چاہیے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان بابرکت اوقات اور اس زندگی کی نعمت کا کیسے شکریہ ادا کیا جائے، امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

جس شخص نے صبح اٹھتے وقت چار بار کہا : الحمد للہ ربّ العالمین اس نے اس دن کا شکر ادا کر دیا اور جس نے شام کو کہا اس نے اس رات کا شکر ادا کر دیا۔

کتنا آسان طریقہ بتادیا امام علیہ السلام نے اور پھر اس مہینہ میں تو ہر عمل دس برابر فضیلت رکھتا ہے ایک آیت کا ثواب دس کے برابر ، ایک نیکی کا ثواب دس برابر، امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں :

من قرء فی شھر رمضان آیة من کتاب اللہ کان کمن ختم القرآن فی غیرہ من الشّھور،

 جو شخص ماہ مبارک میں قرآن کی ایک آیت پڑھے تو اس کا اجر اتنا ہی ہے جتنا دوسرے مہینوں میں پورا قرآن پڑھنے کا ہے۔

 کسی شخص نے رسول اکرم (ص) سے سوال کیا :

یا رسول اللہ ! ثواب رجب أبلغ أم ثواب شھر رمضان ؟ فقال رسول اللہ: لیس علی ثواب رمضان قیاس،

یا رسول اللہ! رجب کا ثواب زیادہ ہے یا ماہ رمضان کا ؟ تو رسول خدا نے فرمایا : ماہ رمضان کے ثواب پر قیاس نہیں کیا جا سکتا.گویا خداوند متعال بہانہ طلب کر رہا ہے کہ کسی طرح میرا بندہ میرے سامنے آ کر جھکے تو سہی . کسی طرح آ کر مجھ سے راز و نیاز کرے تو سہی تا کہ میں اس کو بخشش دوں۔

رسول خدا (ص) ماہ مبارک کی فضیلت بیان فرماتے ہیں:

انّ شھر رمضان ، شھر عظیم یضاعف اللہ فیہ الحسنات و یمحو فیہ السیئات و یرفع فیہ الدرجات۔

ماہ مبارک عظیم مہینہ ہے جس میں خداوند متعال نیکیوں کو دو برابر کر دیتا ہے. گناہوں کو مٹا دیتا اور درجات کو بلند کرتا ہے.

اگر کوئی شخص ماہ مبارک میں سالم رہے تو پورا سال صحیح و سالم رہے گا اور ماہ مبارک کو سال کا آغاز شمار کیا جاتا ہے۔ اب یہ حدیث مطلق ہے جسم کی سلامتی کو بھی شامل ہے اور اسی طرح روح کی بھی، یعنی اگر کوئی  شخص اس مہینہ میں نفس امارہ پر کنٹرول کرتے ہوئے اپنی روح کو سالم غذا دے تو خداوند متعال کی مدد اس کے شامل حال ہو گی اور وہ اسے اپنی رحمت سے پورا سال گناہوں سے محفوظ رکھے گا۔ اسی لیے تو علمائے اخلاق فرماتے ہیں کہ:

رمضان المبارک خود سازی کا مہینہ ہے تہذیب نفس کا مہینہ ہے، اس ماہ میں انسان اپنے نفس کا تزکیہ کر سکتا ہے، اور اگر وہ پورے مہنیہ کے روزے صحیح آداب کے ساتھ بجا لاتا ہے تو اسے اپنے نفس پر قابو پانے کا ملکہ حاصل ہو جائے گا اور پھر شیطان آسانی سے اسے گمراہ نہیں کر پائے گا۔

جو نیکی کرنی ہے وہ اس مہینہ میں کر لیں ، جو صدقات و خیرات دینا چاہتے ہیں وہ اس مہینہ میں حقدار تک پہنچائیں اس میں سستی مت کریں۔ مولائے کائنات امیر المؤمنین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:

اے انسان تیرے پاس تین ہی تو دن ہیں ایک کل کا دن جو گذر چکا اور اس پر تیرا قابو نہیں چلتا اس لیے کہ جو اس میں تو نے انجام دینا تھا دے دیا، اس کے دوبارہ آنے کی امید نہیں اور ایک آنے والے کل کا دن ہے، جس کے آنے کی تیرے پاس ضمانت نہیں ، ممکن ہے زندہ رہے، ممکن ہے اس دنیا سے جانا پڑ جائے، تو بس ایک ہی دن تیرے پاس رہ جاتا ہے اور وہ آج کا دن ہے جو کچھ بجا لانا چاہتا ہے اس دن میں بجا لا، اگر کسی غریب کی مدد کرنا ہے تو اس دن میں کر لے ، اگر کسی یتیم کو کھانا کھلانا ہے تو آج کے دن میں کھلا لے ، اگر کسی کو صدقہ دینا ہے تو آج کے دن میں دے ، اگر خمس نہیں نکالا تو آج ہی کے اپنا حساب کر لے ، اگر کسی ماں  یا بہن نے آج تک پردہ کی رعایت نہیں کی تو جناب زینب سلام اللہ علیھا کا واسطہ دے کر توبہ کر لے،  اگر آج تک نماز سے بھاگتا رہا تو آج اس مبارک مہینہ میں اپنے ربّ کی بارگاہ میں سر جھکا لے خدا رحیم ہے تیری توبہ قبول کر لے گا، اس لیے کہ اس نے خود فرمایا ہے:

أدعونی أستجب لکم،

اے میرے بندے مجھے پکار میں تیری دعا قبول کروں گا۔

یہ مہینہ دعاؤں کا مہینہ ہے بخشش کا مہینہ ہے، اور پھر خود رسول مکرم اسلام (ص) فرماتے ہیں:

رمضان المبارک کو رمضان اس لیے کہا جاتا ہے چونکہ وہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے،

آئیں مل کر دعا کریں کہ اے پالنے والے تجھے اس مقدس مہینے کی عظمت کا واسطہ ہم سب کو اس ماہ میں اپنے اپنے نفس کی تہذیب و اصلاح اور اسے اس طرح گناہوں سے پاک کرنے کی توفیق عطا فرما جس طرح تو چاہتا ہے اس لیے کہ تیری مدد کے بغیر کوئی کام ممکن نہیں ہے۔

امام صادق علیہ السلام اپنے فرزند ارجمند کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

اذا دخل شھر رمضان ، فاجھدوا أنفسکم فانّ فیہ تقسیم الأرزاق و تکتب الآجال و فیہ یکتب وفد اللہ الّذین یفدون الیہ و فیہ لیلة العمل فیھا خیر من العمل فی ألف شھر۔

جب ماہ مبارک آ جائے تو سعی و کوشش کرو اس لیے کہ اس ماہ میں رزق تقسیم ہوتا ہے تقدیر لکھی جاتی ہے اور ان لوگوں کے نام لکھے جاتے ہیں جو حج سے شرفیاب ہوں گے، اور اس ماہ میں ایک رات ایسی ہے کہ جس میں عمل ہزار مہینوں کے عمل سے بہتر ہے۔

رسول خدا (ص) اس مقدس مہینہ کے بارے میں فرماتے ہیں:

أنّ شھرکم ھذا لیس کالشّھور ، أنّہ اذا أقبل الیکم أقبل بالبرکة و الرّحمة، و اذا أدبر عنکم أدبر بغفران الذّنوب ، ھذا شھر الحسنات فیہ مضاعفة ، و اعمال الخیر فیہ مقبولة۔

یہ مہینہ عام مہینوں کے مانند نہیں ہے، جب یہ مہینہ آتا ہے تو برکت و رحمت لیکر آتا ہے اور جب جاتا ہے تو گناہوں کی بخشش کے ساتھ جاتا ہے ، اس ماہ میں نیکیاں دو برابر ہو جاتی ہیں اور نیک اعمال قبول ہوتے ہیں،

یعنی اسکا آنا بھی مبارک ہے اور اس کا جانا بھی مبارک بلکہ یہ مہینہ پورے کا پورا مبارک ہے لہذا اس ماہ میں زیادہ سے زیادہ نیک عمل کرنے کی کوشش کریں،کوئی لمحہ ایسا نہ ہو جو ذکر خدا سے خالی ہو اور یہی ہمارے آئمہ ہدٰی علیہم السلام کی سیرت ہے۔ امام سجاد علیہ السلام کے بارے میں ملتا ہے:

جب رمضان المبارک کا مہینہ آتا تو امام زین العابدین علیہ السلام کی زبان پر دعا، تسبیح ، استغفار اور تکبیر کے سوا کچھ جاری نہ ہوتا تھا۔

وہ خدا کتنا مہربان ہے کہ اپنے بندوں کی بخشش کے لیے ملائکہ کو حکم دیتا ہے کہ اس ماہ میں شیطان کو رسیوں سے جکڑ دیں تا کہ کوئی مؤمن اس کے وسوسہ کا شکار ہو کر اس ماہ کی برکتوں سے محروم نہ رہ جائے لیکن اگر اسکے بعد بھی کوئی انسان اس ماہ مبارک میں گناہ کرے اور اپنے نفس پر کنٹرول نہ کر سکے تو اس سے بڑھکر کوئی بدبخت نہیں ہے. رسولخدا (ص) کا فرمان ہے:

قد وکّل اللہ بکلّ شیطان مرید سبعة من الملائکة فلیس بمحلول حتّیٰ ینقضی شھرکم ھذا،

خداوند متعال نے ہر فریب دینے والے شیطان پر سات فرشتوں کو مقرر کر رکھا ہے تا کہ وہ تمہیں فریب نہ دے سکے، یہاں تک کہ ماہ مبارک ختم ہو۔

کتنا کریم ہے وہ ربّ کہ اس مہینہ کی عظمت کی خاطر اتنا کچھ اہتمام کیا جا رہا ، اب اس کے بعد چاہیے تو یہ کہ کوئی مؤمن شیطان رجیم کے دھوکے میں نہ آئے اور کم از کم اس ماہ میں اپنے آپ کو گناہ سے بچائے رکھے اور نافرمانی خدا سے محفوظ رہے ورنہ غضب خدا کا مستحق قرار پائے گا۔ اسی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:

من أدرک شھر رمضان فلم یغفرلہ فأبعدہ اللہ،

جوشخص ماہ رمضان المبارک کو پائے مگر بخشا نہ جائے تو خدا اسے راندہ درگاہ کر دیتا ہے۔

اس میں کوئی ظلم بھی نہیں اس لیے کہ ایک شخص کے لیے آپ تمام امکانات فراہم کریں اور کوئی مانع بھی نہ ہو اس کے باوجود وہ آپکی امید پر پورا نہ اترے تو واضح ہے کہ آپ اس سے کیا برتاؤ کریں گے؟؟؟

اس مبارک مہینہ سے خوب فائدہ اٹھائیں اسلیے کہ نہیں معلوم کہ آئندہ سال یہ سعادت نصیب ہو یا نہ ہو ؟ تا کہ جب یہ ماہ انتہاء کو پہنچے تو ہمارا کوئی گناہ باقی نہ رہ گیا ہو۔ جب رمضان المبارک کے آخری ایّام آتے تو رسول گرامی اسلام (ص) یہ دعا فرمایا کرتے تھے:

اللّھمّ لا تجعلہ آخر العھد من صیامی شھر رمضان ، فان جعلتہ فاجعلنی مرحوما و لا تجعلنی محروما۔

خدایا! اس ماہ رمضان کو میرے روزوں کا آخری مہینہ قرار نہ دے ، پس اگر یہ میرا آخری مہینہ ہے تو مجھے اپنی رحمت سے نواز دے اور اس سے محروم نہ رکھ ۔

ماه میارک رمضان کےنویں دن کی دعا: 

بسم اللہ الرحمن الرحیم
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ لِی فِیہِ نَصِیباً مِنْ رَحْمَتِکَ الْواسِعَۃِ وَاھْدِنِی فِیہِ لِبَراھِینِکَ    السّاطِعَۃِ، وَخُذْ بِناصِیَتِی إلی مَرْضاتِکَ الْجامِعَۃِ، بِمَحَبَّتِکَ یَا ٲَمَلَ الْمُشْتاقِینَ۔
اے میرےمعبود! آج کے دن مجھے اپنی وسیع رحمت میں سے حصہ عطا فرمااور اپنی واضح دلیلوں کی طرف ہدایت فرما اور میری مہار پکڑ کے مجھے اپنی تمام رضاؤں کی طرف رہنمائی فرما اپنی محبت سے اے شوق رکھنے والوں کی آرزو.
التماس دعا

وہ چیزیں جو روزے دار کے لیے مکروہ ہیں 

روزے دار کے لیے چند چیزیں مکروہ ہیں من جملہ:

1۔ پورے سر کو پانی میں ڈبونا کہ یہ کام روزے کو باطل نہیں کرتا لیکن شدید کراہت رکھتا ہے اور احتیاط مستحب ہے کہ اس کام کو ترک کرے۔

2۔ آنکھ میں دوا ڈالنا، سرمہ لگانا اگر اس کا مزہ یا بو حلق تک پہونچ جائے۔

3۔ ہر اس کام کو انجام دینا جو کمزوری کا باعث ہو جیسے خون نکالنا، حمام جانا۔

4۔ ناک میں دوا ڈالنا اگر یہ نہ جانتا ہو کہ حلق تک پہونچ جائے گا لیکن اگر معلوم ہو کہ حلق تک پہونچ جائے گا تو جائز نہیں ہے۔

5۔ خوشبو دار گھاس کو سونگھنا ، لیکن روزے میں عطر کا استعمال جائز ہے مکروہ نہیں ہے۔

6۔ عورت کا پانی میں بیٹھنا۔

7۔ شیاف (suppository) کا استعمال ۔

8۔ بدن پر موجود لباس کا تر کرنا۔

9۔ دانت کا اکھڑوانا اور ہر وہ چیز جس سے منھ سے خون آئے۔

10۔ تر لکڑی سے مسواک کرنا۔

11۔ بے وجہ پانی یا کسی اور سیال چیز کا منھ میں ڈالنا۔

12۔ انسان منی خارج کرنے کا قصد کئے بغیر کوئی ایسا (جائز)کام کرے جس سے اس کی شہوت بھڑکے

آیت اللہ العظمی سیستانی حفظہ اللہ

ماه مبارک رمضان کےآٹھواں دن کی دعا:

بسم اللہ الرحمن الرحیم
 اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنِی فِیہِ رَحْمَۃَ الْاَیْتامِ وَ إطْعامَ الطَّعامِ وَ إفْشائَ السَّلامِ وَصُحْبَۃَ الْکِرامِ، بِطَوْ لِکَ یَا مَلْجَٲَ الاْمِلِینَ.
اے میرے معبود! آج کے دن مجھے یتیموں پر رحم کرنے، کھانا کھلانے ،  سب کو سلام کہنےاور اچھے لوگوں کے پاس بیٹھنے کی توفیق عطا فرما  اپنے فضل کے صدقے اے آرزومندوں کی پناہ گاہ ۔
التماس دعا

ماہ مبارک رمضان کے ساتویں دن کی دعا: 

بسم اللہ الرحمن الرحیم
اَللّٰھُمَّ ٲَعِنِّی فِیہِ عَلَی صِیامِہِ وَقِیامِہِ، وَجَنِّبْنِی فِیہِ مِنْ ھَفَواتِہ وَآثامِہِ، وَارْزُقْنِی فِیہِ ذِکْرَکَ بِدَوامِہِ، بِتَوْفِیقِکَ یَا ھادِیَ الْمُضِلِّینَ ۔
اے میرے معبود! آج کے دن مجھے روزہ رکھنے اور عبادت کرنے میں مدد دے اور  مجھے بے کار باتوں اور گناہوں سے بچائے رکھ اور اس میں مجھے یہ توفیق دے کہ ہمیشہ تیرے ذکر میں مصروف رہوں اے گمراہوں کو ہدایت دینے والے۔
التماس دعا

ماه مبارک رمضان کےچھٹے دن کی دعا:

بسم اللہ الرحمن الرحیم
 اَللّٰھُمَّ لاَ تَخْذُلْنِی فِیہِ لِتَعَرُّضِ مَعْصِیَتِکَ وَلاَ تَضْرِبْنِی بِسِیاطِ نَقِمَتِکَ وَزَحْزِحْنِی فِیہِ مِنْ مُوجِباتِ سَخَطِکَ، بِمَنِّکَ وَٲَیادِیکَ یَا مُنْتَہی رَغْبَۃِ الرَّاغِبِینَ
اے میرے معبود! آج کے دن مجھے چھوڑ نہ دینا کہ تیری نا فرمانی کروں اور نہ ہی مجھے اپنے غضب کے تازیانہ کا شکار بنانا اے رغبت کرنے والوں کی آخری امید آج کے دن مجھے اپنے احسان و نعمت کے ذریعے اپنی ناراضگی سے بچائے رکھ.
 التماس دعا

ماہ مبارک رمضان کے پانچویں دن کی دعا: 

بسم اللہ الرحمن الرحیم
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِی فِیہِ مِنَ الْمُسْتَغْفِرِینَ، وَاجْعَلْنِی فِیہِ مِنْ عِبادِکَ الصَّالِحِینَ الْقانِتِینَ وَاجْعَلْنِی فِیہِ مِنْ ٲَوْلِیائِکَ الْمُقَرَّبِینَ بِرَٲْفَتِکَ یَا ٲَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
اے میرے معبود! آج کے دن مجھے استغفار کرنے والوں اوراپنے نیکوکار عبادت گزار بندوں میں سے قرار دے اور اپنی محبت کے صدقے آج کے دن مجھے اپنے مقربین میں سے قرار دے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے
التماس 

ماہ مبارک رمضان کے چوتھے دن کی دعا:

بسم اللہ الرحمن الرحیم
 اَللّٰھُمَّ قَوِّنِی فِیہِ عَلَی إقامَۃِ ٲَمْرِکَ وَٲَذِقْنِی فِیہِ حَلاوَۃَ ذِکْرِکَ وَٲَوْزِعْنِی فِیہِ لاِدائِ شُکْرِکَ بِکَرَمِکَ وَاحْفَظْنِی فِیہِ بِحِفْظِکَ وَسَتْرِکَ یَا ٲَبْصَرَ النَّاظِرِینَ

اے میرےمعبود! آج کے دن مجھے اپنے حکم کی تعمیل کی طاقت اور اپنے ذکر کی مٹھاس کا مزہ عطا فرما آج کے دن اپنے کرم سے مجھے  شکر ادا کرنے کی توفیق دے اور مجھے اپنی نگہداری اور پردہ پوشی کی حفاظت میں رکھ اے دیکھنے والوں میں سب سےزیادہ دیکھنے والے۔
التماس دعا

رمضان المبارک کے تیسرے دن کی دعا:

  بسم اللہ الرحمن الرحیم

اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنِی فِیہِ الذِّھْنَ وَالتَّنْبِیہَ، وَباعِدْنِی فِیہِ مِنَ السَّفاھَۃِ وَالتَّمْوِیہِ، وَاجْعَلْ لِی نَصِیباً مِنْ کُلِّ خَیْرٍ تُنْزِلُ فِیہِ، بِجُودِکَ یَا ٲَجْوَدَ الْاَجْوَدِین
اےمیرے معبود! آج کے دن مجھے ہوش اور آگاہی عطا فرما مجھے ہر طرح کی نا سمجھی اور بے راہ روی سےبچا کے رکھ اور مجھے آج کے دن اپنی عطا سے نازل ہونے والی  ہر بھلائی میں سے حصہ عطا فرما اے سب سے زیادہ عطا کرنے والے۔

رمضان المبارک کے دوسرے دن کی دعا:

 اَللّٰھُمَّ قَرِّبْنِی فِیہِ إلی مَرْضاتِکَ وَجَنِّبْنِی فِیہِ مِنْ سَخَطِکَ وَنَقِماتِکَ وَوَفِّقْنِی فِیہِ لِقِرائَۃِ آیاتِکَ، بِرَحْمَتِکَ یَا ٲَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ ۔
  اے میرے پروردگار! اس مہینے میں مجھے اپنی خوشنودی سے قریب تر فرما اور اپنی ناراضگی اور انتقام سے دور رکھ، اور مجھے اپنی آیات کی  تلاوت  کی توفیق عطا فرما، اپنی رحمت کے صدقے اے  سب سے زیادہ مہربان۔

ماه مبارک رمضان کے پہلے دن کی دعا:

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ صِیامِی فِیہِ صِیامَ الصَّائِمِینَ وَقِیامِی فِیہِ قِیامَ الْقائِمِینَ وَنَبِّھْنِی فِیہِ عَنْ نَوْمَةِ الْغافِلِینَ، وَھَبْ لِی جُرْمِی فِیہِ یَا إِلہَ الْعالَمِینَ، وَاعْفُ عَنِّی یَا عافِیاً عَنِ الْمُجْرِمِینَ
اے میرے پروردگار ! میرے آج کے روزے کوحقیقی روزے داروں جیسا بنا  میری عبادت کوسچے عبادت گزاروں جیسی قرار دے آج  کے دن مجھے خواب غفلت سے  بیدار کردے اور آج میرے گناہوں کو بخش دے اے جہانوں کے پالنے والے اورمجھ سے درگزر کر اے گناہگاروں سے درگزر کرنے والے

ماه مبارک رمضان کے پہلے دن کی دعا:

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ صِیامِی فِیہِ صِیامَ الصَّائِمِینَ وَقِیامِی فِیہِ قِیامَ الْقائِمِینَ وَنَبِّھْنِی فِیہِ عَنْ نَوْمَةِ الْغافِلِینَ، وَھَبْ لِی جُرْمِی فِیہِ یَا إِلہَ الْعالَمِینَ، وَاعْفُ عَنِّی یَا عافِیاً عَنِ الْمُجْرِمِینَ
اے میرے پروردگار ! میرے آج کے روزے کوحقیقی روزے داروں جیسا بنا  میری عبادت کوسچے عبادت گزاروں جیسی قرار دے آج  کے دن مجھے خواب غفلت سے  بیدار کردے اور آج میرے گناہوں کو بخش دے اے جہانوں کے پالنے والے اورمجھ سے درگزر کر اے گناہگاروں سے درگزر کرنے والے

افطاری اور سحری کےمستحبات

: افطار میں دیر نہ کرنا
-
قال رسول الله‏ صلى‏الله‏علیه‏و‏آله: لا یَزالُ النّاسُ بِخَیرٍ ما عَجَّلُوا الفِطرَ (1) ؛
لوگ جب تک افطار میں جلدی کریں گے خیر اور نیکی میں ہیں۔
-
قال رسول الله‏ صلى‏الله‏علیه‏و‏آله: عَجِّلُوا الإِفطارَ و أخِّرُوا السَّحورَ .(2)
افطار کو جلدی کرو اور سحری کو دیر تک کھاو۔
-
قال رسول الله صلى‏الله‏علیه‏و‏آله: مِن فِقهِ الرَّجُلِ فی دینِهِ تَعجیلُ فِطرِهِ و تَأخیرُ سَحورِهِ(3) ؛
انسان کی دینی معرفت رکھنے میں سے ایک یہ ہے کہ جلدی افطار کرتا ہے اور دیر تک سحری کھاتا ہے۔
پہلے نماز پھر افطار
فی تهذیب الأحكام عن زرارة و فضیل عن الإمام الباقر علیه‏السلام:

«فی رَمَضانَ تُصَلّی ثُمَّ تُفطِرُ ، إلاّ أن تَكونَ مَعَ قَومٍ یَنتَظِرونَ الإِفطارَ، فَإِن كُنتَ مَعَهُم فَلا تُخالِف عَلَیهِم و أفطِر ثُمَّ صَلِّ، و إلاّ فَابدَأ بِالصَّلاةِ.» 
قُلتُ: ولِمَ ذلِكَ؟ قالَ: «لِأَنَّهُ قَد حَضَرَكَ فَرضانِ: الإِفطارُ وَالصَّلاةُ، فَابدَأ بِأَفضَلِهِما، و أفضَلُهُمَا الصَّلاةُ.» 
ثُمَّ قالَ: «تُصَلّی و أنتَ صائِمٌ فَتُكتَبُ صَلاتُكَ تِلكَ فَتُختَمُ بِالصَّومِ، أحَبُّ إلَیَّ.»(
4
تہذیب الاحکام میں زرارہ اور فضیل نے امام باقر علیہ السلام سے روایت نقل کی ہے کہ فرمایا: ماہ مبارک رمضان میں پہلے نماز پڑھو پھر افطار کرو مگر یہ کہ ایسے افراد کے ساتھ ہو جو افطار کے منتظر ہوں۔ اگر ان کے ساتھ ہو ان کے عمل کے کے برخلاف عمل نہ کرو۔ افطار کرو پھر نماز پڑھو۔ ورنہ پہلے نماز بہتر ہے۔" میں نے کہا کیوں؟
فرمایا: اس لیے کہ تمہارے اوپر دو واجب کام عاید ہوئے ہیں افطار اور نماز۔ تو پہلے اسے انجام دو جو بہتر ہے اور نماز افضل اور بہتر ہے۔
اس کے بعد فرمایا: "نماز پڑھو اس حال میں کہ روزہ ہو پس وہ نماز روزہ کے ساتھ تمام ہو گی یہ میرے نزدیک محبوب تر ہے۔"
-
قال الإمام الباقر علیه‏السلام: تُقَدِّمُ الصَّلاةَ عَلَى الإِفطارِ، إلاّ أن تَكونَ مَعَ قَومٍ یَبتَدِئونَ بِالإِفطارِ فَلا تُخالِف عَلَیهِم و أفطِر مَعَهُم، و إلاّ فَابدَأ بِالصَّلاةِ؛ فَإِنَّها أفضَلُ مِنَ الإِفطارِ، و تُكتَبُ صَلاتُكَ و أنتَ صائِمٌ أحَبُّ إلَیَّ. (5)
نماز کو افطار پر مقدم کرو مگر یہ کہ کسی گروہ کے ساتھ بیٹھے ہو جو پہلے افطار پسند کرتے ہیں۔ پس ان کی مخالفت نہ کرو اور ان کے ساتھ افطار کرو اس کے علاوہ پہلے نماز پڑھو۔ اس لیے کہ نماز افطار سے برتر ہے۔ اور تمہاری نماز روزہ کی حالت میں لکھی جائے گی۔ اور یہ میرے نزدیک محبوب تر ہے۔
-
قال الإمام الصادق علیه‏السلام: یُستَحَبُّ لِلصّائِمِ ـ إن قَوِیَ عَلى ذلِكَ ـ أن یُصَلِّیَ قَبلَ أن یُفطِرَ(6)؛ 
روزہ دار کے لیے مستحب ہے کہ اگر ممکن ہو پہلے نماز پڑھے پھر افطار کرے۔
صدقہ دینا
افطار کے وقت صدقہ دینے کا ثواب

- قال الإمام الرضا علیه‏السلام: مَن تَصَدَّقَ وَقتَ إفطارِهِ عَلى مِسكینٍ بِرَغیفٍ، غَفَرَ الله‏ُ لَهُ ذَنبَهُ، و كَتَبَ لَهُ ثَوابَ عِتقِ رَقَبَةٍ مِن وُلدِ إسماعیلَ(9)
جو شخص افطار کرنے سے پہلے ایک ٹکڑا روٹی کا کسی مسکین کو صدقہ دے گا خداوند عالم اس کے گناہوں کو معاف کر دے گا اور اس کے حق میں اولاد اسماعیل میں سے ایک غلام کے آزاد کونے کا ثواب لکھے گا۔
-
قال الإمام الصادق علیه‏السلام: كانَ عَلِیُّ بنُ الحُسَینِ علیهماالسلام إذا كانَ الیَومُ الَّذی یَصومُ فیهِ أمَرَ بِشاةٍ فَتُذبَحُ و تُقطَعُ أعضاءً و تُطبَخُ، فَإِذا كانَ عِندَ المَساءِ أكَبَّ عَلَى القُدورِ حَتّى یَجِدَ ریحَ المَرَقِ و هُوَ صائِمٌ، ثُمَّ یَقولُ: «هاتُوا القِصاعَ، اِغرِفوا لاِلِ فُلانٍ وَاغرِفوا لاِلِ فُلانٍ»، ثُمَّ یُؤتى بِخُبزٍ و تَمرٍ فَیَكونُ ذلِكَ عَشاءَهُ، صَلَّى الله‏ُ عَلَیهِ و عَلى آبائِهِ(10)
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: امام سجاد علیہ السلام ہر روز جب روزہ رکھتے تھے حکم دیتے تھے کہ ایک گوسفند کو ذبح کیا جائے اور اسے کاٹ کر پکایا جائے اور جب عصر کا وقت ہوتا تھا دیگ پر جھک کر اس کی خوشبو سونگھتے تھے اس کے بعد حکم دیتے تھے کہ برتن لائے جائیں اور فلاں گھر والوں کے لیے، فلاں گھر والوں کے لیے نکالا جائے ۔ [ تمام کھانے کو لوگوں کے درمیان تقسیم کر دیا جاتا تھا] اس کے بعد خشک روٹی اور خرما لایا جاتا تھا آپ اس سے افطار فرماتے تھے۔ اور یہی آپ کا کھانا ہوتا تھا۔ اللہ کا درود ہو آپ اور آپ کے پاک آباو و اجداد پر۔
سور قدر کی تلاوت

- قال الإمام زین العابدین علیه‏السلام: «إِنَّـآ أَنزَلْنَـهُ فِى لَیْلَةِ الْقَدْرِ» عِندَ فُطورِهِ و عِندَ سَحورِهِ، كانَ فیما بَینَهُما كَالمُتَشَحِّطِ بِدَمِهِ فی سَبیلِ الله‏ِ تَعالى(11)
امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص افطاری اور سحر کے وقت سورہ قدر کی تلاوت کرے ان دو اوقات کے درمیان ایسے شخص کی طرح ہو گا جو راہ خدا میں اپنے خون میں لت پت ہے۔
دعا کرنا

- قال رسول الله‏ صلى‏الله‏علیه‏و‏آله: إنَّ لِلصّائِمِ عِندَ فِطرِهِ لَدَعوَةً ما تُرَدُّ(12)
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: روزہ دار کی افطار کے وقت ایک دعا قبول ہوتے ہیں۔

- قال رسول الله‏ صلى‏الله‏علیه‏و‏آله: إنَّ لِكُلِّ صائِمٍ دَعوَةً، فَإِذا هُوَ أرادَ أن یُفطِرَ فَلیَقُل عِندَ أوَّلِ لُقمَةٍ: یا واسِعَ المَغفِرَةِ اغفِر لی(13)؛ 
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہر روزہ دار کی ایک دعا قبول ہوتی ہے پس جب افطار کرنا چاہے گا پہلے لقمہ کھانے وقت کہے: مغفرت کے وسیع کرنے والے مجھے بخش دے۔
- قال رسول الله صلى‏الله‏علیه‏و‏آله: لِكُلِّ عَبدٍ صائِمٍ دَعوَةٌ مُستَجابَةٌ عِندَ إفطارِهِ، اُعطِیَها فِی الدُّنیا أو ذُخِرَ لَهُ فِی الآخِرَةِ (14) ؛
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہر روزہ دار شخص کی افطار کے وقت ایک دعا مستجاب ہوتی ہے کہ یا دنیا میں اسے مل جاتا ہے یا آخرت کے لیے ذخیرہ کیا جاتا ہے۔
- قال رسول الله صلى‏الله‏علیه‏و‏آله: ثَلاثَةٌ لا تُرَدُّ دَعوَتُهُم: الصّائِمُ حَتّى یُفطِرَ، وَالإِمامُ العادِلُ، و دَعوَةُ المَظلومِ(15)
تین لوگ ہیں جن کی دعا رد نہیں ہوتی : روزہ دار جب تک روزہ کو افطار نہ کر دے۔ امام عادل اور مظلوم۔

- قال رسول الله صلى‏الله‏علیه‏و‏آله: أربَعَةٌ لا تُرَدُّ لَهُم دَعوَةٌ حَتّى تُفتَحَ لَهُم أبوابُ السَّماءِ و تَصیرَ إلَى العَرشِ: ... وَالصّائِمُ حَتّى یُفطِرَ (16)؛
چار لوگ ایسے ہیں جن کی دعا رد نہیں ہوتی۔ یہاں تک کہ آسمان کے دروازے ان پر کھل جاتے ہیں۔ اور ان کی دعا عرش تک پہنچ جاتی ہے۔ ۔۔۔۔ ان میں سے ایک روزہ دار ہے جب تک کہ افطار نہ کردے۔
افطار سے پہلے دعا کرنا

- إنَّ النَّبِیَّ صلى‏الله‏علیه‏و‏آله كانَ إذا أفطَرَ قالَ: 
بِسمِ اللهِ، اللّهُمَّ لَكَ صُمتُ و عَلى رِزقِكَ أفطَرتُ، تَقَبَّل مِنّی إنَّكَ أنتَ السَّمیعُ العَلیمُ (17)
؛
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب افطار کرتے تھے یہ دعا پڑھتے تھے:
خدا کے نام سے، خدایا میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تیرے رزق سے افطار کیا، مجھ سے قبول کر بتحقیق تو سننے اور جاننے والا ہے۔

- عمل الیوم واللیلة عن ابن عبّاس: كانَ رَسولُ الله‏ِ صلى‏الله‏علیه‏و‏آله إذا أفطَرَ یَقولُ
اللّهُمَّ لَكَ صُمنا و عَلى رِزقِكَ أفطَرنا، فَتَقَبَّل مِنّا إنَّكَ أنتَ السَّمیعُ العَلیمُ(18) ؛
ابن عباس نے نقل کیا ہے کہ پیغمبر اکرم [ص] جب افطار کرتے تھے یہ دعا فرماتے تھے: خدایا میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تیرے رزق سے افطار کیا۔ پس ہم سے قبول کر تو بہترین سننے والا اور جاننے والا ہے۔
-
قال رسول الله‏ صلى‏الله‏علیه‏و‏آله: إذا قُرِّبَ إلى أحَدِكُم طَعامٌ و هُوَ صائِمٌ فَلیَقُل: 
بِاسمِ الله‏ِ وَالحَمدُللهِ، اللّهُمَّ لَكَ صُمتُ و عَلى رِزقِكَ أفطَرتُ و عَلَیكَ تَوَكَّلتُ، سُبحانَكَ و بِحَمدِكَ، تَقَبَّل مِنّی إنَّكَ أنتَ السَّمیعُ العَلیمُ(19)
؛
رسول خدا [ص] نے فرمایا: جب تم روزہ داروں کے پاس کھانا لایا جائے،تو یہ کہو:
خدا کے نام سے۔ تمام تعریف اللہ کی ہے۔خداوندا تیرے لیے روزہ رکھا ہے اور تیرے رزق سے افطار کیا ہے اور تجھ پر بھروسہ کیا ہے تو پاک و پاکیزہ ہے اور تیری تعریف کرتا ہوں مجھ سے قبول کر بےشک تو سننے والا اور جاننے والا ہے۔

- عمل الیوم واللیلة عن معاذ: كانَ رَسولُ الله‏ِ صلى‏الله‏علیه‏و‏آله إذا أفطَرَ قالَ: 
الحَمدُلله‏ِِ الَّذی أعانَنی فَصُمتُ، و رَزَقَنی فَأَفطَرتُ(20)

پیغمبر خدا [ص] جب افطار کرتے تھے تو پڑھتے تھے : حمد و ثنا اس خدا کی جس نے میری مدد کی تو میں روزہ رکھ سکا اور مجھے رزق دیا تاکہ میں افطار کر سکوں۔
- قال رسول الله‏ صلى‏الله‏علیه‏و‏آله: إنَّ لِلصّائِمِ عِندَ فِطرِهِ دَعوَةً: اللّهُمَّ إنّی أسأَلُكَ بِرَحمَتِكَ الَّتی وَسِعَت كُلَّ شَیءٍ أن تَغفِرَ لی ذُنوبی(21)
رسول خدا [ص] نے فرمایا: روزہ دار کی افطار کے وقت یہ دعا ہونا چاہیے: خدایا میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری رحمت کے واسطے جو ہر چیز سے وسیع ہے کہ تو میرے گناہوں کو بخش دے۔
رسول خدا صلی اللہ الیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: روزہ دار شخص کی افطاری کے وقت دعا قبول ہوتی ہے کہ جو اسے یا دنیا میں عطا کر دی جائے گا اور یا اس کی آخرت کے لیے ذخیرہ ہو گی۔

قال رسول الله صلى‏الله‏علیه‏و‏آله: ما مِن عَبدٍ یَصومُ فَیَقولُ عِندَ إفطارِهِ: «یا عَظیمُ یا عَظیمُ؛ أنتَ إلهی لا إلهَ لی غَیرُكَ، اِغفِر لِیَ الذَّنبَ العَظیمَ؛ إنَّهُ لا یَغفِرُ الذَّنبَ العَظیمَ إلاَّ العَظیمُ» إلاّ خَرَجَ مِن ذُنوبِهِ كَیَومَ وَلَدَتهُ اُمُّهُ(22)؛ 
کوئی ایسا آدمی نہیں ہے جو روزہ رکھے اور افطار کے وقت کہے: " اے عظیم ، اے عظیم تو میرا معبود ہے اور کوئی معبود تیرے سوا نہیں ہے میرے عظیم گناہ کو معاف کر دے بتحقیق عظیم گناہ کو عظیم کے علاوہ کوئی معاف نہیں کر سکتا''۔مگر یہ کہ وہ اس طرح گناہوں سے باہر آئے گا جیسے مان کے پیٹ سے پاک پیدا ہوا ہو۔
-
قال الإمام الباقر علیه‏السلام: جاءَ قَنبَرٌ مَولى عَلِیٍّ علیه‏السلام بِفِطرِهِ إلَیهِ ... فَلَمّا أرادَ أن یَشرَبَ قالَ
بِاسمِ اللهِ، اللّهُمَّ لَكَ صُمنا و عَلى رِزقِكَ أفطَرنا، فَتَقَبَّل مِنّا إنَّكَ أنتَ السَّمیعُ العَلیمُ(
23)
امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: قبر امیر المومنین علیہ السلام افطاری لے کر آئے ۔۔۔ جب آپ نے تناول کا ارادہ کیا تو فرمایا: اللہ کے نام سے۔ خداوندا میں نے تیرے لیے روزہ رکھا ہے اور تیرے رزق سے افطار کیا پس تو مجھ سے قبول کر بیشک تو سننے والا ہے۔
-
قال الإمام الكاظم عن آبائه علیهم‏السلام: إذا أمسَیتَ صائِما فَقُل عِندَ إفطارِكَ: «اللّهُمَّ لَكَ صُمتُ و عَلى رِزقِكَ أفطَرتُ و عَلَیكَ تَوَكَّلتُ» یُكتَب لَكَ أجرُ مَن صامَ ذلِكَ الیَومَ(24)
امام کاظم علیہ السلام نے اپنے آباء سے نقل کرتے ہوئے فرمایا: جب روزہ رکھو تو افطار کے وقت کہو:خدایا میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تیرے رزق سے افطار کیا اور تجھ پر بھروسہ کیا۔ تا کہ تمہارے اس شخص کا ثواب لکھا جائے جس نے اس دن روزہ رکھا۔
-
قال الإمام الرضا علیه‏السلام: مَن قالَ عِندَ إفطارِهِ: «اللّهُمَّ لَكَ صُمنا بِتَوفیقِكَ و عَلى رِزقِكَ أفطَرنا بِأَمرِكَ، فَتَقَبَّلهُ مِنّا وَاغفِر لَنا إنَّكَ أنتَ الغَفورُ الرَّحیمُ» غَفَرَ الله‏ُ ما أدخَلَ عَلى صَومِهِ مِنَ النُّقصانِ بِذُنوبِهِ (25)؛
امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص افطاری کے وقت کہے ؛ خدایا میں نے تیری توفیق سے تیرے لیے روزہ رکھا اور تیرے حکم سے تیرے رزق کے ذریعے افطارکیا پس اسے مجھ سے قبول کر لے اور مجھے بخش دے بتحقیق تو بخشننے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ " خداوند عالم ان کمیوں کو جو گناہوں نے روزہ کے اندر پیدا کیں دور کر دیتا ہے۔
روزہ کا افطار خرما، کشمش یا شیرینی اور دودھ یا ہلکے گرم پانی کے ساتھ۔

- قال رسول الله‏ صلى‏الله‏علیه‏و‏آله: أفضَلُ ما یَبدَأُ بِهِ الصّائِمُ بِزَبیبٍ أو شَیءٍ حُلوٍ(26) ؛ 
بہترین چیز جس سے روزہ دار کو افطار کرنا چاہیے کشمش یا کوئی میٹھی چیز ہے۔
- قال الإمام الصادق علیه‏السلام: كانَ رَسولُ الله‏ صلى‏الله‏علیه‏و‏آله أوَّلُ ما یُفطِرُ عَلَیهِ فی زَمَنِ الرُّطَبِ الرُّطَبُ، و فی زَمَنِ التَّمرِ التَّمرُ(27) ؛‌
پہلی چیز جس سے پیغمبر اسلام روزہ افطار کرتے تھے خرما کے زمانے میں خرما اور کھجور کے زمانے میں کھجور تھی۔
- قال رسول الله‏ صلى‏الله‏علیه‏و‏آله: مَن أفطَرَ عَلى تَمرٍ حَلالٍ، زیدَ فی صَلاتِهِ أربَعُمِئَةِ صَلاةٍ(28) ؛ 
جو شخص حلال خرما سے روزہ افطار کرے گا اس کی نماز کے ثواب میں چار سو نمازوں کا ثواب اضافہ ہو جائے گا۔
- قال الإمام الباقر علیه‏السلام: كانَ رَسولُ الله‏ صلى‏الله‏علیه‏و‏آله إذا صامَ فَلَم یَجِدِ الحَلواءَ أفطَرَ عَلَى الماءِ(29) ؛ 
پیغمبر خدا [ص] روزہ سے ہوتے تھے اور کوئی شیرینی دستیاب نہیں ہوتی تھی تو ہلکے گرم پانی سے روزہ افطار کرتے تھے۔
-
قال الإمام الصادق علیه‏السلام: كانَ رَسولُ الله‏ صلى‏الله‏علیه‏و‏آله إذا أفطَرَ بَدَأَ بِحَلواءَ یُفطِرُ عَلَیها، فَإِن لَم یَجِد فَسُكَّرَةٍ أو تَمَراتٍ، فَإِذا أعوَزَ ذلِكَ كُلُّهُ فَماءٍ فاتِرٍ، و كانَ یَقولُ: یُنَقِّی المَعِدَةَ وَالكَبِدَ، ...(30)
پیغمبر خدا جب روزہ افطار کرتے تھے حلوا [شیرینی] سے آغازکرتے تھے اگر حلوا نہیں ہوتا تھا تو شکر یا خرما سے افطار کرتے تھے۔ اگر ان میں کچھ نہیں دستیاب ہوتا تھا تو گرم پانی سے افطار کرتے تھے۔ اور فرماتے تھے: گرم پانی معدہ اور پھیپھڑے کو صاف کرتا ہے منہ کی بدبو کو ختم کرتا ہے اور دانتوں کو مضبوط کرتا ہے ۔۔۔ بلغم کو ختم کرتا ہے گناہوں کو دھو دیتا ہے معدہ کی گرمی کو آرام دیتا ہے اور سر درد کو ٹھیک کرتا ہے۔
- قال الإمام الباقر علیه‏السلام: إنَّ عَلِیّا علیه‏السلام كانَ یَستَحِبُّ أن یُفطِرَ عَلَى اللَّبَنِ(31)
امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: علی علیہ السلام مستحب سمجھتے تھے کہ روزہ کو دودھ کے ساتھ افطار کریں۔
-
قال الامام الصادق علیه‏السلام: الإِفطارُ عَلَى الماءِ یَغسِلُ الذُّنوبَ مِنَ القَلبِ (32) ؛ 
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: پانی سے افطار دل سے آلودگیوں کو دھو دیتا ہے۔

ماہ رمضان کی اہميت اورفضیلت احادیث کی روشنی میں

خلاصہ

ماہ رمضان کی اہميت: قال رسول الله صلى الله علیه و آله و سلم:لو يعلم العبد ما فى رمضان لود ان يكون رمضان السنة رسول خدا صلى الله علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: اگر بنده «خدا» کو معلوم ہوتا کہ رمضان کا مہینہ کیا ہے، (اور یہ کن برکتوں اور رحمتوں کا مہینہ ہے) وه چاہتا کہ پورا سال ہی روزہ رمضان ہوتا.[1]

روزہ کی اہمیت اور فضیلت کے بارے میں چند احادیث

ماہ رمضان کی اہميت:

قال رسول الله صلى الله علیه و آله و سلم: لَوْ يَعْلَمُ الْعَبْدُ مَا فِي رَمَضَانَ لَوَدَّ أَنْ يَكُونَ رَمَضَانُ السَّنَة

رسول خدا صلى الله علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: اگر بنده «خدا» کو معلوم ہوتا کہ رمضان کا مہینہ کیا ہے، (اور یہ کن برکتوں اور رحمتوں کا مہینہ ہے) وه چاہتا کہ پورا سال ہی روزہ رمضان ہوتا.[1]

قال رسول الله صلى الله علیه و آله وسلم :الصوم فى الحَرِّ جہاد

رسول خدا صلى الله عليہ و آلہ و سلم نے فرمایا: گرمی میں روزه رکهنا جہاد ہے[4]

رمضان رحمت کا مہینہ:

قال رسول اللہ صلى اللہ علیه و آله و سلم هُوَ شَهْرٌ أَوَّلُهُ رَحْمَةٌ وَ أَوْسَطُهُ مَغْفِرَةٌ وَ آخِرُهُ الْإِجَابَةُ وَ الْعِتْقُ مِنَ النَّار

رسول خدا صلى اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:رمضان وہ مہینہ ہے جس کا آغاز رحمت، درمیانے ایام مغفرت اور انتہا دوزخ کی آگ سے آزادی ہے[2]

قرآن اور ماه مبارک رمضان

قال الرضا علیه السلام

 مَنْ قَرَأَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ آيَةً مِنْ كِتَابِ اَللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ كَانَ كَمَنْ خَتَمَ اَلْقُرْآنَ فِي غَيْرِهِ مِنَ اَلشُّهُورِ

جو شخص رمضان کے مہینے مین قرآن کی ایک آیت کی تلاوت کرے گویا اس نے دوسرے مہینوں میں پورے قرآن کی تلاوت کی ہے[3]

روزه کی اہميت

مؤمنوں کی بہار

قال رسول اللہ صلى اللہ علیه و آله و سلم : الشتاء ربيع المؤمن يطول فيه ليلہه فيستعين به على قيامه و يقصر فيه نهارہ فيستعين به على صيامه.

الإمامُ الصّادقُ عليه السلام : الشِّتاءُ رَبِيعُ المُؤمِنِ، يَطُولُ فيهِ لَيلُهُ فَيَستَعِينُ بهِ على قِيامِهِ، و يَقصُرُ فيهِ نَهارُهُ فَيَستَعِينُ بهِ على صِيامِهِ

رسول خدا صلى اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: سردیوں کا موسم مؤمن کی بہار ہے جس کی طویل راتوں سے وہ عبادت کے لئے استفادہ کرتا ہے اور اس کے چهوٹے دنوں مین روزے رکهتا ہے[5]

روزه بدن کی زكواة

قال رسول الله صلى الله علیه و آله وسلم :لكل شيئى زكاة و زكاة الابدان الصيام.

رسول خدا صلى الله علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ہر چیز کے لئے زکواة ہے اور بدن کی زکاة روزه ہے[6]

روزه آتش دوزخ کی ڈهال

قال رسول الله صلى الله علیه و آله وسلم :الصَّومُ جُنَّةٌ مِن النارِ

رسول خدا صلى الله علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: روزه جہنم کی آگ کے مقابلے میں ڈهال کی حیثیت رکهتا ہے. «يعنى روزه رکهنے کے واسطے سے انسان آتش جہنم سے محفوظ ہو جاتا ہے[7].»

روزے کی جزا

قال رسول اللہ صلى اللہ علیه و آله و سلم: قال اللہ تعالى الصوم لى و انا اجزى به

رسول خدا نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے: روزہ میرے لئے ہے (اور میرا ہے) اور اس کی جزا میں ہی دیتا ہوں[8]

خوشا بحال صائمین

قال رسول اللہ صلى اللہ علیه و آله و سلم : طُوبى لِمَنْ ظَمَأَ أَوْجاعَ لِلّهِ اُولئِكَ الَّذينَ يَشْبَعُونَ يَوْمَ الْقِيامَةِ.

رسول خدا صلى اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: خوش بخت ہیں وہ لوگ جو خدا کے لئے بهوکے اور پیاسے ہوئے ہیں یہ لوگ قیامت کی روز سیر و سیراب ہونگے[9]

طعام و شرابِ جنت نوش کرنے والے

قال رسول اللہ صلى اللہ علیه و آله و سلم:مَنْ مَنَعَهُ اَلصِّيَامُ مِنْ طَعَامٍ يَشْتَهِيهِ كَانَ حَقّاً عَلَى اَللَّهِ تَعَالَى أَنْ يُطْعِمَهُ مِنْ طَعَامِ اَلْجَنَّةِ وَ يَسْقِيَهُ مِنْ شَرَابِهَا

رسول خدا صلى اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: جس شخص کو روزہ اس کی مطلوبہ غذاؤں سے منع کرکے رکهے خدا کی ذمہ داری ہے کہ اس کو جنت کی غذائیں کهلائے اور انہیں جنیتی شراب پلا دے[10]

جنت اور روزہ ‏داروں کا دروازہ

قال رسول اللہ صلى اللہ علیه و آله و سلم :إنَّ لِلجَنّةِ بابا يُدعى «الرَّيّانَ»، لا يَدخُلُ مِنهُ إلاّ الصّائمونَ

رسول خدا صلى اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: جنت کا ایک دروازہ ہے جس کا نام ریان ہے اور اس دروازے سے صرف روزہ دار ہی داخل ہونگے[11]

ماہ رمضان کی فضيلت

قال رسول اللہ صلى اللہ علیه و آله و سلم:إنَّ أبوابَ السَّماءِ تُفتَحُ فی أوَّلِ لَیلَةٍ مِن شَهرِ رَمَضانَ و لاتُغلَقُ إلى آخِرِ لَیلَةٍ مِنهُ.

رسول خدا صلى الله علیہ و آلہ و سلم فرمود: آسمان کے دروازے ماه رمضان کے پہلی رات کو کهلتے ہیں اور آخری رات تک بند نہیں ہوتے[12]

روزه اور قيامت کی یاد دہانی

امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:لوگوں کو روزہ رکهنے کا امر ہؤا ہے تا کہ وه بهوک اور پیاس کے دکھ کو جان لیں اور اس طرح آخرت کی ناداری اور حاجتمندی کا ادراک کریں[13]

اعضا و جوارح کا روزه

عن فاطم‍‍ة الزهرا سلام الله علیها:ما يَصْنَعُ الصّائِمُ بِصِيامِهِ اِذا لَمْ يَصُنْ لِسانَهُ وَ سَمْعَهُ وَ بَصَرَهُ وَ جَوارِحَهُ

حضرت زهرا سلام اللہ علیھا نے فرمایا:وه روزه دار جس نے اپنی زبان، کان، آنکھ اور اعضاء و جوارح کو (گناہوں سے) محفوظ نہیں رکها ہے اس کا روزه کس کام کا ، جس کی کوئی قیمت نہیں[14]

شب قدر کا احياء

عن فضيل بن يسار قال:كَانَ أَبُو جَعْفَرٍ علیه السلام إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ إِحْدَى وَ عِشْرِينَ وَ لَيْلَةُ ثَلَاثٍ وَ عِشْرِينَ أَخَذَ فِي الدُّعَاءِ حَتَّى يَزُولَ اللَّيْلُ فَإِذَا زَالَ اللَّيْلُ صَلَّى‏

فضيل بن يسار کہتے ہیں:امام باقر (علیہ السلام) ماہ رمضان کے اکیسیویں اور تئیسویں کی راتوں کو دعا اور عبادت میں مصروف ہوجایا کرتے تهے حتی کہ صبح ہوجاتی اور جب رات گزرجاتی نماز فجر ادا فرمایا کرتے[15]


[1]بحار الانوار، ج 93، ص 346

[2]بحار الانوار، ج 93، ص 342

[3]بحار الانوار ج 93، ص 346

[4]بحار الانوار، ج 96، ص 257

[5]وسائل الشیعة، ج 7 ص 302، ح 3

[6]الكافى، ج 4، ص 62، ح 3

[7]الكافى، ج 4 ص 162

[8]وسائل الشیعة ج 7 ص 294، ح 15 و 16 ; 27 و 30

[9]وسائل الشیعة، ج 7 ص 299، ح‏2

[10]بحار الانوار ج 93 ص 331

[11]وسائل الشیعة، ج 7 ص 295، ح‏31. معانى الاخبار ص 116

[12]بحار الانوار، ج 93، ص 344

[13]وسائل الشیعة، ج 4 ص 4 ح 5 علل الشرايع، ص 10

[14]بحار، ج 93 ص 295

[15]وسائل الشیعة، ج 7، ص 260، ح