یا أیّھا الّذین آمنوا کتب علیکم الصّیام کما کتب علی الّذین من قبلکم لعلّکم تتّقون۔
ترجمہ:اے صاحبان ایمان تمہارے اوپر روزے اسی طرح لکھ دیئے گئے ہیں جس طرح تمہارے پہلے والوں پر لکھے گئے تھے شاید تم اس طرح متّقی بن جاؤ.
رمضان کا مہینہ ایک مبارک اور باعظمت مہینہ ہے یہ وہ مہینہ ہے جس میں مسلسل رحمت پروردگار نازل ہوتی رہتی ہے اس مہینہ میں پروردگار نے اپنے بندوں کو یہ وعدہ دیا ہے کہ وہ ان کی دعا کو قبول کرے گا یہی وہ مہینہ ہے جس میں انسان دنیا و آخرت کی نیکیاں حاصل کرتے ہوئے کمال کی منزل تک پہنچ سکتا ہے، اور پچاس سال کا معنوی سفر ایک دن یا ایک گھنٹہ میں طے کر سکتا ہے۔ اپنی اصلاح اور نفس امارہ پر کنٹرول کی ایک فرصت ہے، جو خداوند متعال نے انسان کو دی ہے، خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں ایک بار پھر ماہ مبارک رمضان نصیب ہوا اور یہ خود ایک طرح سے توفیق الہی ہے تا کہ انسان خدا کی بارگاہ میں آ کر اپنے گناہوں کی بخشش کا سامان کر سکے ، ورنہ کتنے ایسے لوگ ہیں جو پچھلے سال ہمارے اور آپ کے ساتھ تھے، لیکن آج وہ اس دار فنا سے دار بقاء کی طرف منتقل ہو چکے ہیں۔
ماہ مبارک عبادت و بندگی کا مہینہ ہے، امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :
قال اللہ تبارک و تعالٰی : یا عبادی الصّدیقین تنعموا بعبادتی فی الدّنیا فانّکم تتنعّمون بھا فی الآخرة،
خداوند متعال فرماتا ہے: اے میرے سچے بندو ! دنیا میں میری عبادت کی نعمت سے فائدہ اٹھاؤ تا کہ اس کے سبب آخرت کی نعمتوں کو پا سکو۔
یعنی اگر آخرت کی بے بہا نعمتوں کو حاصل کرنا چاہتے ہو تو پھر دنیا میں میری نعمتوں کو بجا لاؤ اس لیے کہ اگر تم دنیا میں میری نعمتوں کی قدر نہیں کرو گے تو میں تمہیں آخرت کی نعمتوں سے محروم کر دوں گا، اور اگر تم نے دنیا میں میری نعمتوں کی قدر کی تو پھر روز قیامت میں تمھارے لیے اپنی نعمتوں کی بارش کر دوں گا۔
انہیں دنیا کی نعمتوں میں سے ایک ماہ مبارک اور اس کے روزے ہیں کہ اگر حکم پروردگار پر لبیک کہتے ہوئے روزہ رکھا ، بھوک و پیاس کو تحمل کیا تو جب جنّت میں داخل ہو گے تو آواز قدرت آئے گی:
ترجمہ: اب آرام سے کھاؤ پیو کہ تم نے گذشتہ دنوں میں ان نعمتوں کا انتظام کیا ہے۔
ماہ مبارک کے روز و شب انسان کے لیے نعمت پروردگار ہیں جن کا ہر وقت شکر ادا کرتے رہنا چاہیے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان بابرکت اوقات اور اس زندگی کی نعمت کا کیسے شکریہ ادا کیا جائے، امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
جس شخص نے صبح اٹھتے وقت چار بار کہا : الحمد للہ ربّ العالمین اس نے اس دن کا شکر ادا کر دیا اور جس نے شام کو کہا اس نے اس رات کا شکر ادا کر دیا۔
کتنا آسان طریقہ بتادیا امام علیہ السلام نے اور پھر اس مہینہ میں تو ہر عمل دس برابر فضیلت رکھتا ہے ایک آیت کا ثواب دس کے برابر ، ایک نیکی کا ثواب دس برابر، امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں :
من قرء فی شھر رمضان آیة من کتاب اللہ کان کمن ختم القرآن فی غیرہ من الشّھور،
جو شخص ماہ مبارک میں قرآن کی ایک آیت پڑھے تو اس کا اجر اتنا ہی ہے جتنا دوسرے مہینوں میں پورا قرآن پڑھنے کا ہے۔
کسی شخص نے رسول اکرم (ص) سے سوال کیا :
یا رسول اللہ ! ثواب رجب أبلغ أم ثواب شھر رمضان ؟ فقال رسول اللہ: لیس علی ثواب رمضان قیاس،
یا رسول اللہ! رجب کا ثواب زیادہ ہے یا ماہ رمضان کا ؟ تو رسول خدا نے فرمایا : ماہ رمضان کے ثواب پر قیاس نہیں کیا جا سکتا.گویا خداوند متعال بہانہ طلب کر رہا ہے کہ کسی طرح میرا بندہ میرے سامنے آ کر جھکے تو سہی . کسی طرح آ کر مجھ سے راز و نیاز کرے تو سہی تا کہ میں اس کو بخشش دوں۔
رسول خدا (ص) ماہ مبارک کی فضیلت بیان فرماتے ہیں:
انّ شھر رمضان ، شھر عظیم یضاعف اللہ فیہ الحسنات و یمحو فیہ السیئات و یرفع فیہ الدرجات۔
ماہ مبارک عظیم مہینہ ہے جس میں خداوند متعال نیکیوں کو دو برابر کر دیتا ہے. گناہوں کو مٹا دیتا اور درجات کو بلند کرتا ہے.
اگر کوئی شخص ماہ مبارک میں سالم رہے تو پورا سال صحیح و سالم رہے گا اور ماہ مبارک کو سال کا آغاز شمار کیا جاتا ہے۔ اب یہ حدیث مطلق ہے جسم کی سلامتی کو بھی شامل ہے اور اسی طرح روح کی بھی، یعنی اگر کوئی شخص اس مہینہ میں نفس امارہ پر کنٹرول کرتے ہوئے اپنی روح کو سالم غذا دے تو خداوند متعال کی مدد اس کے شامل حال ہو گی اور وہ اسے اپنی رحمت سے پورا سال گناہوں سے محفوظ رکھے گا۔ اسی لیے تو علمائے اخلاق فرماتے ہیں کہ:
رمضان المبارک خود سازی کا مہینہ ہے تہذیب نفس کا مہینہ ہے، اس ماہ میں انسان اپنے نفس کا تزکیہ کر سکتا ہے، اور اگر وہ پورے مہنیہ کے روزے صحیح آداب کے ساتھ بجا لاتا ہے تو اسے اپنے نفس پر قابو پانے کا ملکہ حاصل ہو جائے گا اور پھر شیطان آسانی سے اسے گمراہ نہیں کر پائے گا۔
جو نیکی کرنی ہے وہ اس مہینہ میں کر لیں ، جو صدقات و خیرات دینا چاہتے ہیں وہ اس مہینہ میں حقدار تک پہنچائیں اس میں سستی مت کریں۔ مولائے کائنات امیر المؤمنین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:
اے انسان تیرے پاس تین ہی تو دن ہیں ایک کل کا دن جو گذر چکا اور اس پر تیرا قابو نہیں چلتا اس لیے کہ جو اس میں تو نے انجام دینا تھا دے دیا، اس کے دوبارہ آنے کی امید نہیں اور ایک آنے والے کل کا دن ہے، جس کے آنے کی تیرے پاس ضمانت نہیں ، ممکن ہے زندہ رہے، ممکن ہے اس دنیا سے جانا پڑ جائے، تو بس ایک ہی دن تیرے پاس رہ جاتا ہے اور وہ آج کا دن ہے جو کچھ بجا لانا چاہتا ہے اس دن میں بجا لا، اگر کسی غریب کی مدد کرنا ہے تو اس دن میں کر لے ، اگر کسی یتیم کو کھانا کھلانا ہے تو آج کے دن میں کھلا لے ، اگر کسی کو صدقہ دینا ہے تو آج کے دن میں دے ، اگر خمس نہیں نکالا تو آج ہی کے اپنا حساب کر لے ، اگر کسی ماں یا بہن نے آج تک پردہ کی رعایت نہیں کی تو جناب زینب سلام اللہ علیھا کا واسطہ دے کر توبہ کر لے، اگر آج تک نماز سے بھاگتا رہا تو آج اس مبارک مہینہ میں اپنے ربّ کی بارگاہ میں سر جھکا لے خدا رحیم ہے تیری توبہ قبول کر لے گا، اس لیے کہ اس نے خود فرمایا ہے:
أدعونی أستجب لکم،
اے میرے بندے مجھے پکار میں تیری دعا قبول کروں گا۔
یہ مہینہ دعاؤں کا مہینہ ہے بخشش کا مہینہ ہے، اور پھر خود رسول مکرم اسلام (ص) فرماتے ہیں:
رمضان المبارک کو رمضان اس لیے کہا جاتا ہے چونکہ وہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے،
آئیں مل کر دعا کریں کہ اے پالنے والے تجھے اس مقدس مہینے کی عظمت کا واسطہ ہم سب کو اس ماہ میں اپنے اپنے نفس کی تہذیب و اصلاح اور اسے اس طرح گناہوں سے پاک کرنے کی توفیق عطا فرما جس طرح تو چاہتا ہے اس لیے کہ تیری مدد کے بغیر کوئی کام ممکن نہیں ہے۔
امام صادق علیہ السلام اپنے فرزند ارجمند کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
اذا دخل شھر رمضان ، فاجھدوا أنفسکم فانّ فیہ تقسیم الأرزاق و تکتب الآجال و فیہ یکتب وفد اللہ الّذین یفدون الیہ و فیہ لیلة العمل فیھا خیر من العمل فی ألف شھر۔
جب ماہ مبارک آ جائے تو سعی و کوشش کرو اس لیے کہ اس ماہ میں رزق تقسیم ہوتا ہے تقدیر لکھی جاتی ہے اور ان لوگوں کے نام لکھے جاتے ہیں جو حج سے شرفیاب ہوں گے، اور اس ماہ میں ایک رات ایسی ہے کہ جس میں عمل ہزار مہینوں کے عمل سے بہتر ہے۔
رسول خدا (ص) اس مقدس مہینہ کے بارے میں فرماتے ہیں:
أنّ شھرکم ھذا لیس کالشّھور ، أنّہ اذا أقبل الیکم أقبل بالبرکة و الرّحمة، و اذا أدبر عنکم أدبر بغفران الذّنوب ، ھذا شھر الحسنات فیہ مضاعفة ، و اعمال الخیر فیہ مقبولة۔
یہ مہینہ عام مہینوں کے مانند نہیں ہے، جب یہ مہینہ آتا ہے تو برکت و رحمت لیکر آتا ہے اور جب جاتا ہے تو گناہوں کی بخشش کے ساتھ جاتا ہے ، اس ماہ میں نیکیاں دو برابر ہو جاتی ہیں اور نیک اعمال قبول ہوتے ہیں،
یعنی اسکا آنا بھی مبارک ہے اور اس کا جانا بھی مبارک بلکہ یہ مہینہ پورے کا پورا مبارک ہے لہذا اس ماہ میں زیادہ سے زیادہ نیک عمل کرنے کی کوشش کریں،کوئی لمحہ ایسا نہ ہو جو ذکر خدا سے خالی ہو اور یہی ہمارے آئمہ ہدٰی علیہم السلام کی سیرت ہے۔ امام سجاد علیہ السلام کے بارے میں ملتا ہے:
جب رمضان المبارک کا مہینہ آتا تو امام زین العابدین علیہ السلام کی زبان پر دعا، تسبیح ، استغفار اور تکبیر کے سوا کچھ جاری نہ ہوتا تھا۔
وہ خدا کتنا مہربان ہے کہ اپنے بندوں کی بخشش کے لیے ملائکہ کو حکم دیتا ہے کہ اس ماہ میں شیطان کو رسیوں سے جکڑ دیں تا کہ کوئی مؤمن اس کے وسوسہ کا شکار ہو کر اس ماہ کی برکتوں سے محروم نہ رہ جائے لیکن اگر اسکے بعد بھی کوئی انسان اس ماہ مبارک میں گناہ کرے اور اپنے نفس پر کنٹرول نہ کر سکے تو اس سے بڑھکر کوئی بدبخت نہیں ہے. رسولخدا (ص) کا فرمان ہے:
قد وکّل اللہ بکلّ شیطان مرید سبعة من الملائکة فلیس بمحلول حتّیٰ ینقضی شھرکم ھذا،
خداوند متعال نے ہر فریب دینے والے شیطان پر سات فرشتوں کو مقرر کر رکھا ہے تا کہ وہ تمہیں فریب نہ دے سکے، یہاں تک کہ ماہ مبارک ختم ہو۔
کتنا کریم ہے وہ ربّ کہ اس مہینہ کی عظمت کی خاطر اتنا کچھ اہتمام کیا جا رہا ، اب اس کے بعد چاہیے تو یہ کہ کوئی مؤمن شیطان رجیم کے دھوکے میں نہ آئے اور کم از کم اس ماہ میں اپنے آپ کو گناہ سے بچائے رکھے اور نافرمانی خدا سے محفوظ رہے ورنہ غضب خدا کا مستحق قرار پائے گا۔ اسی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:
من أدرک شھر رمضان فلم یغفرلہ فأبعدہ اللہ،
جوشخص ماہ رمضان المبارک کو پائے مگر بخشا نہ جائے تو خدا اسے راندہ درگاہ کر دیتا ہے۔
اس میں کوئی ظلم بھی نہیں اس لیے کہ ایک شخص کے لیے آپ تمام امکانات فراہم کریں اور کوئی مانع بھی نہ ہو اس کے باوجود وہ آپکی امید پر پورا نہ اترے تو واضح ہے کہ آپ اس سے کیا برتاؤ کریں گے؟؟؟
اس مبارک مہینہ سے خوب فائدہ اٹھائیں اسلیے کہ نہیں معلوم کہ آئندہ سال یہ سعادت نصیب ہو یا نہ ہو ؟ تا کہ جب یہ ماہ انتہاء کو پہنچے تو ہمارا کوئی گناہ باقی نہ رہ گیا ہو۔ جب رمضان المبارک کے آخری ایّام آتے تو رسول گرامی اسلام (ص) یہ دعا فرمایا کرتے تھے:
اللّھمّ لا تجعلہ آخر العھد من صیامی شھر رمضان ، فان جعلتہ فاجعلنی مرحوما و لا تجعلنی محروما۔
خدایا! اس ماہ رمضان کو میرے روزوں کا آخری مہینہ قرار نہ دے ، پس اگر یہ میرا آخری مہینہ ہے تو مجھے اپنی رحمت سے نواز دے اور اس سے محروم نہ رکھ ۔