غیبی امداد

💠غیبی امداد کی قرآنی شرائط 💠

📌غیبی امداد اپنی کوشش کر لینے کے بعد حاصل ہوتی ہے اور اگرچہ الله تعالی جس کی چاہے اس کی مدد کر سکتا ہے لیکن اس مدد کی کچھ شرائط ہیں.

📝اس مطلب کو سمجھنا، "ظہور اور امام مہدی (عج) کی عدل و انصاف پر مبنی عالمی حکومت کی تشکیل کی کامیابی" کے معاملے میں غیبی امداد کے کردار کو سمجھنے کے لیے انتہائی مفید ثابت ہو گا.

📖قرآن مجید میں الہی مدد اور نصرت کی کچھ شرائط یہ ہیں:

*1️⃣صبر و استقامت:*
صابر انسان الله کا محبوب، اس کی پناه میں اور اس کی الہی امداد کا مستحق قرار پاتا ہے.

👈قرآن فرماتا ہے: وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ (سوره بقره: 249). ایک اور جگہ اولیاء الہی کے بارے میں فرماتا ہے کہ: فَصَبَرُوا عَلَىٰ مَا كُذِّبُوا وَأُوذُوا حَتَّىٰ أَتَاهُمْ نَصْرُنَا (سوره انعام: 34) یعنی "تو انہوں نے اس تکذیب اور اذیت پر صبر کیا ہے یہاں تک کہ ہماری مدد آگئی".

📃اسی طرح سوره آل عمران کی آیت نمبر 125 میں فرمایا کہ: إِن تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا وَيَأْتُوكُم مِّن فَوْرِهِمْ هَٰذَا يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُم بِخَمْسَةِ آلَافٍ مِّنَ الْمَلَائِكَةِ مُسَوِّمِينَ

💭یعنی "یقینا اگر تم صبر کرو گے اور تقوٰی اختیار کرو گے اور دشمن فی الفور تم تک آجائیں گے تو خدا پانچ ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا جن پر بہادری کے نشان لگے ہوں گے".

*2️⃣دین خدا کی مدد:*
قرآن کریم الہی امداد کی ایک اہم شرط دین کی مدد اور اسی کے ذیل میں خدا کے ولی کی مدد کرنے کو قرار دیتا ہے:

📖يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ (سوره محمد: 07)

📝یعنی "ایمان والو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ بھی تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم بنا دے گا".

*3️⃣دشمن سے جہاد اور مقابلہ:*
درحقیقت جنگ کا میدان بھی الہی امداد کے نزول کا ذریعہ ہے کیونکہ قرآن کریم یہ فرماتا ہے کہ:

📖قاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ (سوره توبہ: 14)

📝یعنی "ان سے جنگ کرو اللہ انہیں تمہارے ہاتھوں سے سزا دے گا اور رسوا کرے گا اور تمہیں ان پر فتح عطا کرے گا"

*4️⃣خدا کا تقوی اختیار کرنا:*
الله کا تقوی اور پرہیزگاری اختیار کرنا جس کے بارے میں قرآن بہت زیاده عظمت کا قائل ہے.

🌟تقوی کے دیگر آثار کے ساتھ ساتھ ایک مبارک اثر یہ بھی ہے کہ تقوی الله کی رحمت اور خاص مدد کے حصول کا ذریعہ بھی بنتا ہے.

📖خداوند عالم سوره آل عمران کی آیت نمبر 125 میں فرماتا ہے کہ: بَلَىٰ ۚ إِن تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا وَيَأْتُوكُم مِّن فَوْرِهِمْ هَٰذَا يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُم بِخَمْسَةِ آلَافٍ مِّنَ الْمَلَائِكَةِ مُسَوِّمِينَ

📃یعنی "یقینا اگر تم صبر کرو گے اور تقوٰی اختیار کرو گے اور دشمن فی الفور تم تک آجائیں گے تو خدا پانچ ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا جن پر بہادری کے نشان لگے ہوں گے".

*5️⃣کوشش اور جہاد:*
قرآنی تہذیب میں انسان کے کوشش کرنے کو اس کی سچائی کی نشانی سمجھا جاتا ہے اور یہی سچائی ہے جو غیبی امداد کے نزول کا باعث بنتی ہے.

📖جیسے کہ قرآن فرماتا ہے کہ: وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ (سوره عنکبوت: 69)

📃یعنی "اور جن لوگوں نے ہمارے حق میں جہاد کیا ہے ہم انہیں اپنے راستوں کی ہدایت کریں گے اور یقینا الله حسن عمل والوں کے ساتھ ہے".

#فصیحی_ٹی_وی 

8شوال انہدام بقیع

🏴🏴🏴🏴🏴
⊰✿ *👈8شوال انہدام بقیع👉*✿⊱
 *🏴کے موقع پہ انتہائی دکھ و درد کا اظہار اور تعزیت پیش کرتے ہیں🏴*
جنۃ البقیع
جنت البقیع یا بقیع الغَرقَد مدینے کا پہلا اور قدیم اسلامی قبرستان جہاں شیعوں کے چار ائمہؑ اور پیغمبر اکرمؐ کے بعض رشتہ دار دفن ہیں۔ اسلام سے پہلے یہ جگہ حجاز کے شہر یثرب کے اطراف میں ایک باغ پر مشتمل زمین تھی۔ پہلی صدی ہجری سے مسلمانوں نے یہاں اپنے اموات کو دفنانا شروع کیا اور اسلام کی اہم اور بزرگ شخصیات یہاں مدفون ہیں۔ مختلف ادوار میں یقیع حکمرانوں کا مرکز توجہ رہی اور بعض قبور پر گنبد اور مقبرے تعمیر کئے گئے۔ لیکن حجاز پر وہابیوں کے قبضے کے بعد 8 شوال سنہ 1344ھ کو تمام مقبروں کو مسمار کر دیا گیا جسے انہدام بقیع کہا جاتا ہے اور اس دن کو یوم انہدام بقیع کے نام سے منایا جاتا ہے۔ اس وقت بقیع مسجد نبوی کے نزدیک ایک ہموار زمین کی شکل میں موجود ہے جہاں قبور کی نشاندہی کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔

نام اور حدود اربعہ
بقیع کا لفظ ایسی وسیع زمین کیلئے استعمال ہوتا ہے جس میں گھاس کے مختلف پودے اگتے ہوں؛[1]
بقیع الزبیر، بقیع الخیل و بقیع الخَبْجَبَۃ یثرب کے انہی باغات میں سے تھے۔[2]
چنانچہ "بقیع الغرقد" اس زمین کو کہا جاتا تھا جو غرقد کے درخت کے پودے[3] [نوٹ 1] اور دوسری جڑی بوٹیوں سے ڈھکا ہو۔ ظہور اسلام کے بعد یہ باغ بطور قبرستان استعمال ہونے لگا۔

جنت البقیع میں اگنے والا غرقد کا پودا
مسلمانوں کا قدیمی ترین قبرستان مسجد نبوی کے قریب اور شہر کے اطراف میں تھا[4]
اور سنہ 1269 میں بنایا گیا مدینہ کا نقشہ بھی یہی ظاہر کرتا ہے۔[5]
 لیکن آج کل مسجد نبوی اور قبرستان بقیع دونوں میں توسیع کی وجہ سے آپس میں متصل ہوچکے ہیں اور مدینہ شہر کے درمیان میں قرار پائے ہیں۔

قبرستان بقیع کے چاروں طرف دیوار کھڑی کی گئی ہے اور اس کا مغربی حصہ جہاں قبرستان کا مین گیٹ بھی ہے، حرم نبوی سے متصل ہے جس کے جنوب میں ابوایوب انصاری روڑ اور مشرقی جانب ملک فیصل روڑ اور شمالی طرف میں عبدالعزیز روڑ ہے۔[6] پہلے ان سڑکوں کے کوئی اور نام تھے۔[7]

مدفون شخصیات

عثمان
حلیمہ سعدیہ
ابراہیم
فرزند رسول خدا
عقیل بن ابی طالب
عبداللہ بن جعفر
امام جعفر صادقؑ امام محمد باقر امام سجاد امام حسن مجتبیؑ
فاطمہ بنت اسد
عباس بن عبد المطلب
ام البنین
عاتکہ بنت عبد المطلب
صفیہ بنت عبد المطلب
پیغبر اکرم کی بیٹیاں
ازواج پیغمبر
شہداء احد

بقیع مسلمانوں کی اہم قبرستان ہے
جس میں اسلام کے ابتدائی دنوں سے اب تک ہزاروں مسلمان دفن ہوچکے ہیں۔ بقیع میں دفن ہونے والی شخصیات میں سے مندرجہ ذیل شخصیات قابل ذکر ہیں:

اہل بیتِ پیغمبرؑ اور ائمۂ شیعہ میں سے چار امام يعنی امام حسنؑ، امام سجادؑ، امام باقرؑ اور امام صادقؑ
پیغمبر اکرمؐ کے بعض رشتہ دار؛ چچا، پھوپھیاں، ازواج اور اولاد؛
پیغمبر اکرمؐ کے اصحاب؛ انصار، مہاجر اور تابعین
علما، شہدا، سیاسی اور سماجی شخصیات، اور خواتین۔
تاریخ کے مختلف ادوار میں بعض شخصیات کی قبور پر زیارتگاہ بنائے گئے تھے۔ اور بعض لوگ بقیع کے گھروں میں دفن ہوئے تھے۔ ائمہ بقیع کا مزار بھی انہیں میں سے تھا جسے بعد میں وہابیوں نے مسمار کردیا۔ ائمۂ بقیع اور پیغمبر اکرمؐ کے چچا عباس بن عبدالمطلب، عقیل کے گھر میں دفن ہوئے تھے۔[8]

اکثر تاریخی منابع کے بر خلاف، بعض اہل سنت مورخوں نے آنحضرتؐ کی بیٹی حضرت زہراؑ[9]،
 آپؐ کے داماد امیرالمؤمنین علی بن ابیطالب،[10]
 اور آپ کے نواسے امام حسینؑ کا سر مبارک[11]
بقیع میں دفن ہونے کے بارے میں کہا ہے۔ ایک متن حضرت زہراؑ کا مزار بقیع میں ہونے کے بارے میں ذکر ہوا ہے۔[12] [نوٹ 2]
البتہ بعض تحریریں کچھ لوگوں کا آپس میں ہمنام ہونے کی وجہ سے لکھی گئی ہیں جیسا کہ ائمۂ بقیع کے مقبرے میں موجود قبر فاطمہ بنت اسد کی ہے کیونکہ امام حسنؑ نے وصیت کی تھی کہ اگر نانا رسول اللہ کے پہلو میں دفن کرنے سے منع کیا جائے تو دادی فاطمہ بنت اسد کے پہلو میں دفنایا جائے۔[13]

فضیلت اور زیارت
اس قبرستان کی فضیلت کے بارے میں شیعہ اور اہل سنت دونوں طرف سے متعدد روایات نقل ہوئی ہیں یہاں تک کہ بعض کتابوں میں تو اسی کے لیے علیحدہ بھی باب مختص کیا گیا ہے۔[14]ایک روایت کے مطابق پیغمبر اکرمؐ کو بقیع میں مدفون افراد کے لئے طلب مغفرت کا حکم ہوا ہے۔[15] چنانچہ آنحضرتؐ ہر شب جمعہ بقیع جاکر وہاں مدفون افراد کے لیے دعا کرتے تھے۔[16] آپؐ سے منقول ایک روایت میں آیا ہے کہ کل قیامت کے دن ستر ہزار لوگ نیک صفات کے ساتھ بقیع سے محشور ہونگے[17]اور جو لوگ بقیع میں دفن ہوئے ہیں ان کو آپ شفاعت کی بشارت دینگے۔[18] بعض احادیث میں آنحضرتؐ کا بقیع حاضر ہونے[19] اور آپ کی طرف سے بعض نمازیں جیسے نماز استسقاء[20] اور نماز عید[21]کا بقیع میں ادا کی جانے کی حکایت ہوئی ہے۔ ایک اور حدیث کے مطابق آپؐ اپنی عمر کے آخری سال اصحاب کے ایک گروہ کے ہمراہ بقیع تشریف لے گئے اور وہاں مدفون مُردوں سے خطاب کرتے ہوئے اپنی رحلت کی خبر دی۔[22]

بقیع پر پیغمبر اکرمؐ کے خاندان کی خاص توجہ تھی اور وہ لوگ وہاں زیارت کو جاتے تھے۔[23] امام صادق(ع) سے نقل ہوا ہے کہ آپؐ عقیل کے گھر کی جگہ پر کھڑے ہوکر بقیع میں مدفون مرحومین کے لیے دعا کرتے تھے۔[24]بہت سارے شیعہ[25] اور سنی[26] علماء نے بقیع کی زیارت کے بارے میں استحباب کا فتوا دیا ہے۔

اسلام سے پہلے
اسلام سے پہلے بقیع نامی کسی قبرستان کے بارے میں کوئی سند یا روایت موجود نہیں ہے۔ اس بارے میں سب سے قدیمی ادبی اثر، عمرو بن النعمان البیاضی کا شعر ہے[27] جو قبیلہ خزرج اور انصار میں سے تھا[28]، جس میں مدینہ سے دس میل کے فاصلے پر واقع عقیق نامی باغ[29] اور بقیع الغرقد کے درمیان اپنے دوستوں کے قتل کے بارے میں لکھا ہے۔[نوٹ 3] ابن اثیر نے بھی «یوم البقیع»‌ کے لفظ کے ذیل میں اس مقام پر اوس اور خزرج کی لڑائی اور اوس والوں کی کامیابی کا تذکرہ کیا ہے۔[30]مدینہ کے یہودی اپنے مردوں کو بقیع کے جنوب مشرق میں حش کوکب نامی باغ میں دفناتے تھے۔[31]بقیع میں بھیڑ بکریاں اور اونٹ بھی چرائے جاتے تھے۔[32]

صدر اسلام اور خلفاء کا دور
پیغمبر اکرمؐ کی مدینہ ہجرت اور حکومت اسلامی کی بنیاد رکھنے کے بعد مسلمانوں کے لیے ایک قبرستان کی ضرورت تھی اور یہ جگہ پیغمبر اکرمؐ نے معین کیا[33]خاص کر جب آنحضرت نے مشرکوں کے قبرستان کو ختم کر کے مسجد نبوی بنائی۔[34]مہاجرین میں سب سے پہلا صحابی، جو اس قبرستان میں مدفون ہوئے عثمان بن مظعون[35] اور انصار میں سے اسعد بن زرارہ خزرجی [36]دفن ہوئے۔ البتہ تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس باغ میں صرف مردے دفن نہیں ہوتے تھے بلکہ بعض مہاجرین نے وہاں پر گھر بنایا تھا بعد میں وہ جگہ بعض شخصیات یا خاندان کے لوگ دفن کرنے سے مختص ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ اس زمین کو پیغمبر اکرمؐ نے لوگوں کو گھر بنانے کےلیے تقسیم کیا تھا۔[37]اس دور کے مشہور گھروں میں سے ایک عقیل بن ابی‌ طالب کا گھر تھا۔[38]وہاں کچھ چھوٹے مکان بھی بنائے گئے تھے جہاں پر مردوں کو دفن کیا جاتا تھا اسی طرح ہر قبیلے نے اپنی مردوں کو دفن کرنے کے لیے بقیع میں ایک مکان بنا رکھا تھا۔[39].

بیت الاحزان بھی بقیع میں بننے والے گھروں میں سے ایک تھا جسے امیرالمؤمنین نے بنت رسول کو عزاداری کرنے کے لیے بنایا تھا۔[40] «الروحاء» بھی بقیع کے درمیان ایک مشہور مقبرے کا نام تھا۔[41]

کہا گیا ہے کہ امیرالمؤمنینؑ نے عقیل کے گھر کے ساتھ میں مردوں سے ہمجواری کے لیے ایک مکان بنایا اور اس کی وجہ مردوں کا جھوٹ نہ بولنا قرار دیا ہے۔[42]

ایک جگہ ایسی بھی تھی جہاں جنازوں کو دفن کرنے سے پہلے رکھے جاتے تھے جسے «موضع الجنائز» کہا جاتا تھا۔[43]شاید یہ جگہ لوگ جمع ہونے کے لیے، یا غسل میت اور کفن دینے اور نماز میت پڑھنے کے لیے تھا۔[44]

بنی امیہ کا دور (41 تا 132 ھ)
امویوں کے دور میں بھی بقیع کی زمین اور باغ لوگوں کی توجہ کا مرکز رہا اور مدینہ کی توسیع میں بعض لوگوں نے وہاں مکان بنایے۔ اور ساتھ ہی مردوں کو بھی دفن کیا جاتا رہا۔ محمد حنفیہ نے عبدالملک بن مروان کے دور میں بقیع میں ایک گھر بنایا[45]اور خود بھی بقیع میں دفن ہوئے ہیں۔[46]ابن افلح [47]، محمد بن زید [48]، سعید بن عثمان[49]اور دیگر دسیوں گھر بھی بقیع میں بنایے گئے اور خرید و فروخت اور مکانات تعمیر ہوئے۔

تیسرے خلیفے کو بقیع میں دفنانے سے روکا گیا تو انہیں یہودیوں کے قبرستان، حش کوکب میں دفنایا گیا[50]مدینہ کے والی مروان بن حکم کے دور میں حش کوکب اور بقیع کے درمیان دیوار ہٹائی گئی اور پیغمبر اکرمؐ کے ہاتھ سے عثمان بن مظعون کی قبر پر نصب شدہ تختی کو وہاں سے عثمان ابن عفان کی قبر پر منتقل کیا![51]

امام سجاد علیہ السلام کا گھر بھی بقیع میں واقع تھا[52]شاید وہی عقیل یا امام علی کا گھر تھا جس کی مرمت ہوئی تھی۔[53]

بنی عباس کا دَور (131 تا 656 ھ)
پیغمبر اکرمؐ کے چچا عباس بن عبدالمطلب کا عقیل کے گھر دفن ہونے،[54][نوٹ 4]اور اسی طرح امام حسنؑ،[55] امام سجادؑ اور امام باقرؑ بھی وہاں پر دفن ہونے کی وجہ سے[56] بنی عباس نے بنی امیہ کی سیاست کی مخالفت میں اور علویون خاص کر بنی حسن کو اپنی طرف جلب کرنے کی خاطر اس مقام پر مقبرہ تعمیر کیا اور اسے مسجد اور زیارت گاہ قرار دیا۔[57]

مشہور ہے کہ اس بارگاہ کو بنانے میں ہارون الرشید (حکومت: ۱۷۰ تا ۱۹۳) کا بھی کردار رہا ہے۔[58] لیکن تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ائمہ بقیع کے مقبرے کی مرمت سلجوقیوں کے دور میں شروع ہوئی۔ برکیارق سلجوقی (متوفی ۴۹۸ھ) کے شیعہ وزیر مجد الملک ابوالفضل اسعد بن محمد بن موسی البراوستانی القمی] (۴۹۲ھ) نے قم کے ایک معمار کو ائمہ بقیع کا گنبد بنانے پر مامور کیا لیکن وزیر کے قتل ہونے کے بعد مدینہ کے امیر کی سازشوں کے تحت قتل ہوا۔[59]

ایلخانیوں کا دور (654 تا 750 ھ)
مشہور سیاح ابن بطوطہ[60] نے آٹھویں صدی ہجری کے وسط میں جو کچھ دیکھا وہ یوں تھا: "مالک بن انس کی قبر پر چھوٹا سا گنبد تھا، ابراہیم بن محمدؐ پر سفید رنگ کا گنبد تھا، ازواج رسولؐ اور امام حسنؑ اور عباس بن عبدالمطلب کے مقبروں پر اونچا اور نہایت مستحکم گنبد تعمیر ہوا تھا، خلیفۂ ثالث کی قبر پھر اونچا گنبد تھا اور ان کے قریب ہی فاطمہ بنت اسد کی قبر پر بھی گنبد تھا۔ صفَدی[61] نے بھی اشارہ کیا ہے کہ چار ائمہ شیعہ اور رسول خداؐ کی قبروں پر گنبد تعمیر کیا گیا تھا۔

عثمانی حکومت کا دَور (698 تا 1337 ھ)

جنت البقیع اور مسجد نبوی
خاندان قاجار کے شہزادے فرہاد میرزا نے سنہ 1914 عیسوی میں اور محمد حسین خان فراہانی نے 1924 عیسوی میں بقیع کے اپنے مشاہدات یوں بیان کئے ہیں: ایک بقعہ چار ائمہؑ اور عباس کی قبروں موجود تھا اور ریشمی کپڑے کی چادر، جس پر سونے اور چاندی کی زرتاروں سے برجستہ پھولوں کے نقش بنے ہوئے تھے، حضرت فاطمہؑ سے منسوب قبر پر چڑھی ہوئی تھی۔ یہ چادر عثمان بادشاہ سلطان احمد عثمانی نے سنہ 1131 ہجری میں بطور ہدیہ بھجوائی تھی؛ ایک بقعہ رسول اللہؐ کی بیٹیوں کی قبروں پر بنا ہوا تھا، ایک بقعہ ازواج رسولؐ کی قبروں پر اور کئی دوسرے بقعے۔[62]۔[63] تاہم مغربی مستشرق جان لوئیس برکھاٹ[64] جنہوں نے وہابیوں کے برسر اقتدار آنے کے بعد حجاز کا سفر کیا ہے، بقیع کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہوئے لکھا ہے: بقیع مشرقی دنیا کے حقیر ترین قبرستان کی شکل اختیار کرگیا ہے۔ یہ قبرستان احد میں مقبرہ حمزہ یا قبا کے مقام پر اسلام کی پہلی مسجد مسجد قبا کی طرح مقدس ہے اور ان مقامات مقدسہ میں شمار ہوتا ہے جن کی زیارت کو حجاج اپنے عبادی اعمال میں شمار کرتے ہیں۔[65]

جنت البقیع کا موجودہ حدود

حالیہ برسوں شہر میں توسیعی منصوبوں کی وجہ سے بقیع مدینہ کے مرکز میں قرار پایا ہے نیز مسجد النبی کی بھی توسیح کی وجہ سے مسجد اور قبرستان کے درمیان صرف ایک سڑک حائل رہ گئی ہے۔

وہابیت اور بقیع کا انہدام

ائمہ بقیع کے مزار
اولیاء الہی سے توسل اور قبور کی زیارت کو شرک قرار دیتے ہوئے قبور کو مسمار کرنا تاریخی اعتبار سے اگرچہ وہابی افکار میں پہلے سے ملتا بھی ہے[66] لیکن ابن تیمیہ اور اس کے بعد عبدالوہاب نجدی نے اس کو مزید پروان چڑھایا۔[67] حجاز کے وہابیوں نے سنہ 1220 ہجری کو مدینہ پر پہلا حملہ کیا[68]جنہیں نابود کرنے کے لئے عثمانی حکومت کے حکمران (سلطان محمود دوم) نے 2022 ذی القعدہ کو انہیں نابود کرنے کیلیے مصر کے گورنر محمد علی پاشا کو حکم دیا۔[69]اور آخر کار وہابی فتنے کو بروز بدھ 8 ذی القعدہ 1233 کو خاموش کیا[70]اور مسمار شدہ آثار کو دوبارہ سے تعمیر کیا۔[71]صفر 1344 ہجری کو وہابیوں نے مدینہ پر ایک بار پھر سے حملہ کیا اور قبروں پر مزار بنانے اور زیارت پڑھنے کو بدعت قرار دیتے ہوطے مذہبی مقامات کو منہدم کرنے لگے اس کے خلاف تمام اسلامی ممالک نے شدید احتجاج کیا اور اور ایران کی قومی اسمبلی میں آیت اللہ مدرس نے اس موضوع کی تحقیق کے لیے ایک کمیشن تشکیل دیا[72] اسی طرح ایرانی حکومت نے 16 صفر، 1344ھ (۱۳۰۴ش) کو بقیع کی ہتک حرمت پر سوگ کا اعلان کیا۔[73] سعودی حکومت نے مسلمانوں کے غم و غصے سے بچنے کے لیے بعض اسلامی ممالک کے نمایندوں کو مکہ بلایا لیکن سعودی حکومت کی سہل انگاری اور سازش کے تحت اس بات کی پیگیری نہیں ہوئی۔[74] اسی سال وہابی قاضی القضات عبداللہ بن سلیمان بن بلیہد خود مکہ سے مدینہ پہنچا اور مقبروں کو منہدم کرنے کے لیے زمینہ سازی کی اور ان کے فتوے کے تحت 8 شوال 1345 ھ کو بقیع کے مقبرے منہدم ہوگئے۔[75]

اس فتوے کے آنے پر وہابیوں نے8 شوال 1345 ھ کو تمام عمارتوں، گنبدوں اور بارگاہوں کو مسمار کیا[76] جس کی وجہ سے دنیا بھر کے مسلمانوں نے احتجاج کیا اور ہر سال مختلف ممالک میں "یوم انہدام جنت البقیع" کے موقع پر جلسے اور جلوس ہوتے ہیں اور مسمار شدہ مقابر کی تعمیر نو کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ بقیع کی از سر نو تعمیر نہ کرنے پر سعودی عرب کے ساتھ ایران کے سیاسی روابط بھی کئی سالوں تک ختم ہوئے اور ایران نے سعودی حکومت کو غیر مشروع قرار دیا۔اس کے بعد بھی کئی سالوں تک باہمی روابط سرد پڑے رہے۔[77][78]

بقیع کی تعمیر نو

بقیع کو دوبارہ سے بنانے کے لیے سعودی بادشاہ عبدالعزیز کا حکم نامہ
گزرتی تاریخ کے ساتھ ساتھ بقیع میں تعمیرات بھی زیاد ہوئی ہیں۔ لیکن وہابیوں کے توسط منہدم ہونے کے بعد بہت ساروں نے بقیع کو دوبارہ بنانے کی کوشش کی ہے۔

سنہ 1220 ہجری کو پہلی مرتبہ بقیع ویران ہونے کے بعد سلطان محمود دوم عثمانی، نے 1233 ھ کو بقیع کی مرمت کی۔[79] 8 شوال 1344 ھ کو دوسری مرتبہ بقیع مسمار ہونے کے بعد یہ دن یوم الہدم سے مشہور ہوا اور مسلمانوں نے حج پہ جانے سے انکار کیا لیکن شیخ عبدالرحیم فصولی حائری اسی سال یا دوسرے سال شیعوں کے ایک گروہ کے ساتھ شام کے راستے سے حج کے سفر پر نکلے اور عبد العزیز بن عبدالرحمن بن سعود نے بڑا استقبال کیا تو انہوں نے اس موقعے کو غنیمت سمجھتے ہوئے انہدام بقیع پر اعتراض کیا اور عبدالعزیز نے بھی ظاہری طور پر اس کام کی مذمت کی اور اسے ہویدا کے باپ میرزاحبیب اللہ بہایی جو اس وقت جدہ میں مقیم اور ایرانی حاجیوں کی سرپرستی کرتے تھے اس کی سازش قرار دیا۔ جبکہ ایک اور سند کے مطابق حبیب اللہ خان ہویدا سے منقول ہے کہ عبدالعزیز نے ان مکانات کے انہدام کو «عرب جاہل بدووں» کی طرف نسبت دی ہے اور خود کے اس سے بری جانا۔[80] شیخ عبدالرحیم فصولی تجویز کہ سنگ مرمر کے دو چبوترے بنا دیئے جائیں جو قبروں پر ہوں اور ایک ان سے نیچے جہاں زائرین کھڑے ہوکر زیارت پڑھ سکیں۔ اور ان چبوتروں کے اطراف میں زائرین کو آرام کرنے اور بیٹھنے کی جگہ بنائی جائے جو سونا اور چاندی سے مزین نہ ہو۔ اس ملاقات کا نتیجہ میں ایک تو ائمہ بقیع کی قبروں کا نشان باقی رہا اور عبدالعزیز کا ایک سرکاری خط۔[81] [82]

سنہ 1371 ھ کو کراچی میں اسلامی کانگرس (مؤتمر عالم الاسلام) منعقد ہوئی جس میں آیت اللہ بروجردی کے پاکستان میں نمایندے حجت الاسلام شریعت‌ زادہ اصفہانی نے بقیع کی عمارتوں کا کانگرس میں مسئلہ اٹھایا اور دیگر شیعہ علما نے بھی اس پر آواز اٹھائی جس کے نتیجے میں سعودی حکومت نے طویل گفت و شنید کے بعد بقیع میں مقبرے بنانے کی رضایت کا اظہار کیا۔

اس طرح سے آیت اللہ کاشف الغطاء، فلسطین کے مفتی اعظم حاجی سید امین الدین الحسینی اور سید العراقین طہرانی جو اس کانگرس کے اعضا تھے، پر مشتمل ایک وفد تشکیل ہوا جو حجاز کی حکومت سے مذاکرت کریں۔

ان تینوں شخصیات اور آیت اللہ بروجردی کے نمایندے حجت الاسلام حاج سید محمد تقی طالقانی نے ایرانی وزیر خارجہ اور نجد و حجاز کے وزیر سے تفصیلی گفتگو کی اور وہابی حکومت کو ان مقبروں پر ایک مسجد بنانے کے لیے راضی کیا اور نیز ائمہ بقیع کی قبور پر بھی چھت چڑھائیں۔

ان مذاکرات کے نتیجے میں امیر فیصل، نایب السلطنہ حجاز اور سعودیہ میں ایرانی سفیر مظفر اعلم مدینہ پہنچے اور مدینہ کے گورنر کے حضور بروز ولادت امیرالمؤمنین علیہ السلام (13 رجب 1371 کو بقیع کی تجدید بنا کے افتتاحی پروگرام میں شرکت کی۔

سید محمد تقی طالقانی خود بھی اور حجاز کی بعض دیگر شیعہ شخصیات کے ہمراہ ہاتھ میں مٹی سے پر بالٹی لیے بقیع کی مرمت کے لیے رضاکار کے طور پر مزدورں کے صف میں شامل ہوئے۔ نیز یہ بھی طے ہوا کہ ازواج نبی، پیغمبر اکرمؐ کے بیٹے قاسم اور ابراہیم، پیغمبرؐ کے چچا عباس اور بعض دیگر صحابہ کے قبور کی تعمیر ہوجائے اور ان پر واضح کوئی نشانی رکھی جائے لیکن عملی طور پر اس پر کوئی اقدام نہیں ہوا اور صرف ائمہ بقیع کی قبروں کے اردگرد پتھر لگانے، سایہ بان اور زایرین کی رفت آمد کے لیے پکا راستہ تک بن گیا۔[83] کہا گیا ہے کہ عراق کے بعض متعصب شیعوں کی بعض تحریک آمیز باتوں سے سعودیہ والوں کو بہانہ مل گیا اور مزید کام کرنے سے انکار کیا۔ حاج سید محمد تقی طالقانی بھی 12 شعبان 1372 کو مدینہ، نخاولہ میں سعودی بادشاہ کے قصر البیضاء میں شرکت کے بعد اچانک وفات پاتا ہے۔[84]

اسی طرح امام موسی صدر نے بھی 28 محرم 1394 ھ کو ایک خط کے ذریعے امیر محسن عبدالمحسن بن عبدالعزیز سعودی کو گزشتہ مذاکرات کی یاد دہانی کرائی اور بقیع کی تعمیر نو کا مطالبہ کیا۔[85] اس خط کے ترجمہ میں یوں ذکر ہوا ہے:‌ «شیعہ اماموں کی قبور پر گنبد بنانا تمام مسلمان فقہاء کا اتفاق نہیں ہے اس لیے اس کا مطالبہ نہیں کرتے ہیں تاکہ حرج پیش نہ آئے۔ لیکن قبرستان کو منظم کرنا، راستے کو پکا کرنا اور اردگرد درخت لگا کر اسے ایک باغ کی طرح بنانا، فوارے اور لگانا، دیواروں کی مرمت اور ان کو خوبصورت پتھروں سے مزین کرنا، اردگرد سایبان بنانا اور اس طرح کے دیگر اقدامات تو تمام فقہاء کے نزدیک مورد اتفاق ہے اور لاکھوں زائر اور عمرہ کرنے والوں اور حاجیوں اور محبوں کا احترام بھی ہے۔»[86]

اسی طرح آیت اللہ گلپایگانی سے منقول ہے کہ 1362 شمسی کو بعض تیونس والوں نے بقیع کی تعمیر کی مخالفت کی اور اس کی علت بھی حضرت زہرا کی قبر پر مقبرہ بنانے کو قرار دیا گیا ہے کیونکہ یہ حضرت کی قبر کو شیعہ عقیدے کے مطابق مخفی ہونے کے مخالف ہے۔ [87]

ملک فہد بن عبدالعزیز کے دور میں بقیع کی دیوار کی مرمت ہوئی اور سنہ 1418 ھ کو بقیع کے اندر راستے بنائے گیے۔[88]

  حوالہ جات
↑ یاقوت حموی،‌ المعجم البلدان، ذیل واژہ بقیع
↑ یاقوت حموی، المعجم البلدان، کلمہ بقیع الزبیر، بقیع الخیل و بقیع الخبجبہ کے ذیل میں
↑ یاقوت حموی،‌ المعجم البلدان، کلمہ بقیع کے ذیل میں
↑ رفعت پاشا، مرآت الحرمین (ترجمہ)، نشر مشعر، ۱۳۷۷ش، ص۴۴۷
↑ میراث اسلامی ما، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام ۱۳۹۳ ص۱۲۹
↑ ہوائی نقشہ
↑ رجوع کریں: نقشۂ مدینہ جو کایتانی نے "سالنامۂ اسلام" ج2، ص173 میں شائع کیا ہے۔
↑ السمہودی، وفاء الوفاء بأخبار‌ دار المصطفی،ج۳،ص ۹۲ و ۹۵
↑ سفرنامہ ابن جبیر،۱۳۷۰ش‍، ص۲۴۵
↑ السمہودی، وفاء الوفاء بأخبار‌ دار المصطفی،ج۳،ص۹۵
↑ سفرنامہ ابن جبیر،۱۳۷۰ش‍، ص۲۴۵
↑ سال ۳۳۲ق نقل از مسعودی در مروج الذہب وفاء الوفاء ج۳ ص۹۲
↑ شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۴، ج۲، ص۱۷
↑ مراجعہ کریں: السمہودی، وفاء الوفاء بأخبار دار المصطفى‌، کتابخانہ آیت اللہ مرعشی نجفی،‌ج۳ باب فضل بقیع
↑ مفید،ج۱، ص۱۸۱؛ سمہودی،۱۹۷۱م، ج۳، ص۷۷.
↑ ابن قولویہ، ص۵۲۹.
↑ تاریخ المدینہ، ج۱، ص۸۹-۹۰؛ وفاء الوفاء، ج۳، ص۷۹.
↑ تاریخ المدینہ، ج۱، ص۹۷.
↑ فرات الکوفی، ص۲۰۰.
↑ المتقی الہندی، کنزالعمال،۱۴۰۱ہ‍، ج۸، ص۴۳۶.
↑ کلینی، ج۳، ص۴۶۰؛ طوسی ج۳، ص۱۲۹؛ سمہودی،۱۹۷۱م، ج۳، ص۶.
↑ دیلمی، ج۱، ص۳۳.
↑ ابن کثیر، ج۸، ص۲۲۸.
↑ سمہودی، وفاءالوفاء،‌۱۹۷۱م، ج۳، ص۸۹۰
↑ مثلا: ابن براج، ج، ص۲۸۳؛ محقق حلی، ج، ص۲۱۰.
↑ مثلا: شربینی، ج، ص۵۱۳؛ بہوتی، ج۲، ص۶۰۱؛ ابن الحاج، ج، ص۲۶۵.
↑ معجم البلدان، یاقوت حموی، ج۱، ص۴۷۳
↑ ابن حجر،الأصابہ،۱۴۱۵ہ‍، ج۴، ص۵۷۵
↑ ابن سعد، الطبقات الکبری،۱۴۱۰ہ‍ ،‌ج ۶، ص۹۲
↑ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ۱۳۸۵ق‍،‌ج۱، ص۶۷۳
↑ ابن ابی الحدید، شرح نہج‌البلاغہ، ۱۴۰۴ق‍ ج۱۰ ص۶
↑ ابن سعد، الطبقات الکبری،۱۴۱۰ہ‍ ، ج۳ ص۱۰۱
↑ ابن سعد،الطبقات الکبری،۱۴۱۰ہ‍ ،ج۳، ص۳۰۳
↑ ابن نجار، أخبار المدینة، ص۸۶ و قرطبی، الجامع لأحکام القرآن،بی‌تا، ج۱۰ ص۵۲
↑ ابن سعد، الطبقات الکبری،۱۴۱۰ق ، ج۳، ص۳۰۳
↑ ابن سعد، الطبقات الکبری،۱۴۱۰ہ‍ ، ج۳ ص۴۵۹
↑ نجمی، تاریخ حرم ائمہ، ۱۳۸۰، ص۶۵
↑ ابن سعد، الطبقات الکبری،۱۴۱۰ہ‍، ج۴ ص۳۳
↑ سمہودی،وفاءالوفاء،‌۱۹۷۱م، ج۳، ص۸۳
↑ سمہودی، وفاءالوفاء،۱۹۷۱م، ج۳، ص۹۰۷
↑ سمہودی، وفاءالوفاء،۱۹۷۱م، ج۳، ص۸۳
↑ المتقی الہندی، کنز العمال،۱۴۰۱ق‍ ، ج۱۵، ص۷۵۹
↑ ابن سعد، الطبقات الکبری،۱۴۱۰ہ‍ ، ج۵ ص۴۶۹ و ج۸، ص۶۹
↑ ابن شبہ، تاریخ مدینہ منورہ (ترجمہ)،۱۳۸۰ش‍‌ ، ص۱۷
↑ سمہودی،وفاءالوفاء،‌۱۹۷۱م،ج۳، ص۸۴ و ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۰ہ‍ ، ج۵، ص۸۳
↑ ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۰ہ‍ ،ج۵، ص۸۷
↑ طبری،‌ تاریخ طبری، (دورہ ۱۱ جلدی)بی‌تا، ج۷، ص۵۸۷
↑ سمہودی،وفاءالوفاء،‌۱۹۷۱م،ج۳، ص۸۳
↑ سمہودی،وفاءالوفاء،‌۱۹۷۱م،ج۳، ص۸۴
↑ سمہودی، وفاءالوفاء،۱۹۷۱م، ج۳،ص۹۸
↑ سمہودی، وفاءالوفاء،‌۱۹۷۱م، ج۳، ص۸۴ و ۹۹ و پژوہشکدہ حج و زیارت، بقیع در آینہ تاریخ، مشعر، تہران، بقیع در آیینہ تاریخ ص۲۶۷
↑ پژوہشکدہ حج و زیارت، بقیع در آینہ تاریخ، مشعر، تہران، ص۲۸۰
↑ بروجردی، سید علی، طرائف المقال،۱۴۱۰ ہ‌ق، ‌ج۲،ص۵۹۰
↑ ابن شبہ، تاریخ مدینہ منورہ (ترجمہ)،۱۳۸۰ش‍‌ ، ص۶۷۶
↑ ابن‌ شبہ، تاریخ مدینہ منورہ (ترجمہ)،۱۳۸۰ش‍ ، ص۱۱۶
↑ ابن نجار، اخبار المدینہ، ص۱۶۶
↑ نجمی، تاریخ حرم ائمہ، ۱۳۸۰ش، ص۸۶
↑ نجمی، تاریخ حرم ائمہ، ۱۳۸۰، ص۸۸
↑ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ۱۳۸۵ق‍، ج۱۰، ص۳۵۲
↑ سفرنامہ ابن بطوطہ،ج 1، ص128۔
↑ الوافی بالوفیات، ج 4، ص103، ج 11، ص127۔
↑ سفرنامہ فرہاد میرزا معتمدالدولہ، ص170ـ173، 190۔
↑ سفرنامہ میرزامحمدحسین حسینی فراہانی،ص 228ـ 234۔
↑ جان لوئیس برکھارٹ (Johann Ludwig (also known as John Lewis, Jean Louis) Burckhardt)، ولادت 24 نومبر 1784، وفات 15 اکتوبر 1817 عیسوی، نے عرب کا مشہور سفر نامہ، سفر نامہ حجاز لکھا۔
↑ برکھارٹ، (فارسی ترجمہ) سفرنامہ حجاز ص222 تا 226۔
↑ نجمی، تاریخ حرم ائمہ، ۱۳۸۰، بخش پیشگفتار
↑ نجمی، تاریخ حرم ائمہ، ۱۳۸۰، بخش پیشگفتار
↑ جبرتی عبدالرحمن، تاریخ عجائب الآثار فی التراجم و الأخبار المعروف بتاریخ الجبرتی،۱۴۱۷ق، ج۳، ص۶۳
↑ المحامی،‌ محمد فریدبک، تاریخ الدولة العلیة العثمانیة، بیروت ۱۴۰۸ق، ص۴۰۶
↑ ادوارد جوان، مصر فی القرن التاسع عشر، ترجمہ بہ عربی محمد مسعود، ۱۳۴۰ق، ص ۵۸۱
↑ پنجاہ سفرنامہ، ج۳، ص۱۹۶.
↑ جلسہ: ۱۹۳ صورت مشروح مجلس یوم ہشتم شہریور ہزار و سیصد و چہار مطابق ۱۰ صفر ۱۳۴۴
↑ حسین مکی، مدرس قہرمان آزادی، ۱۳۵۹، ج۲ ص۶۸۲
↑ تخریب و بازسازی بقیع، ص۵۸.
↑ نجمی، تاریخ حرم ائمہ، ۱۳۸۰، ص۵۱
↑ نجمی، تاریخ حرم ائمہ، ۱۳۸۰، ص۵۱
↑ جنگ ایدئولوژیک ایران و عربستان تا چہ اندازہ جدی است؟
↑ اسناد روابط ایران و عربستان سعودی (۱۳۰۴-۱۳۵۷ہ‍.ش)، ص۶۱، ش۱۸، ۱۲نیسان ۱۹۲۵م.
↑ رفعت پاشا، مرآت الحرمین (ترجمہ)، نشر مشعر، ۱۳۷۷ش، ص۴۷۸
↑ محقق، اسناد و تاریخ دیپلماسی، اسناد روابط ایران و عربستان سعودی (۱۳۰۴-۱۳۵۷ہ‍.ش)، چاپ و انتشارات وزارت امور خارجہ، ص۴۶-۵۴.
↑ خبرگزاری فارس، شمایل فعلی قبور ائمہ بقیع را چہ کسی ساخت؟
↑ میراث اسلامی ما، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام ۱۳۹۳، ص۱۷۶
↑ اسناد روابط ایران و عربستان، ص۲۴۸-۲۶۰؛ تخریب و بازسازی بقیع، ص۹۸-۱۴۷.
↑ ر.ک: خبرگزاری رسا؛ نمایندہ مرجع، کارگر بقیع!
↑ سایت امام صدر؛ ادبیات متفاوت امام موسی صدر در نامہ‌ای بہ شاہزادہ سعودی دربارۂ بقیع
↑ سایت امام صدر
↑ مراجعہ کریں: موسسہ مطالعات تاریخ معاصر ایران، مصاحبہ با فرزند آیت اللہ گلپایگانی
↑ آثار اسلامی مکہ و مدینہ، ص۳۳۲.

 🏴🏴🏴🏴
زوجہ رسول( ص)فرماتی ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ والہ نے مجھے قبور کی زیارت کی  تعلیم دی اور فرمایا:
*فامرنی ربی آتی البقیع فاستغفرلهم قلت کیف اقول یارسول الله قال قولی: السلام علی اهل دیار من المومنین والمسلمین یرحم الله المستقدمین منا والمستاخرین وانا انشاالله بکم لاحقون*
میرے پروردگار نے مجھے حکم دیا ہے کہ بقیع آؤں اور ان کے لئے طلب بخشش کی دعا کروں ۔
زوجہ نے کہا:میں کس طرح کہوں اے اللہ کے رسول (ص)۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا:کہو :
اے اہل دیار  مومنین و مسلمین میں سے تم پر سلام ہو ،اللہ تعالی ھمارے گذشتہ اور آنے والوں پہ رحمت فرمائے 
اور ہم بھی بہت جلد تم سے ملحق ہو جائیں گے ۔
📚سنن نسائی ج3 ص76
📚صحیح مسلم ج 3 باب (ما يقال عند دخول القبور) ص64
📚آئیں وہابیت ص113
◼️◼️◼️◼️◼️◼️◼️◼️
*نوٹ _ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے بارے میں پانچویں قسط_جاری ہے

•┈┈•┈•┈•⊰✿✿⊱•┈•┈•┈┈•
*❣#الـلَّهُــــمَّ عَجِّـــلْ لِوَلِیِّکَـــ الْفَـــــــــرَجْ❣*

*🌹اللھم صل علی محمد و آل محمد و اصحابہ المنتخبین و المنتجبین و العن علی اعداھم اجمعین*🌹
•┈┈•┈•┈•⊰✿✿⊱•┈•┈•┈┈•

تیسویں دن کی دعا کی شرح

رمضان المبارک کی روزانہ دعاؤں کی شرح 

تیسویں دن کی دعا

اللّٰهُمَّ اجْعَلْ صِيامِى فِيهِ بِالشُّكْرِ وَالْقَبُولِ عَلَىٰ مَا تَرْضاهُ وَيَرْضاهُ الرَّسُولُ، مُحْكَمَةً فُرُوعُهُ بِالْأُصُولِ، بِحَقِّ سَيِّدِنا مُحَمَّدٍ وَآلِهِ۔
اے معبود میرے اس ماہ کے رزوں کو پسندیدہ اور قبول کیے ہوۓ قرار دے۔ اس صورت میں جس کو تو اور تیرا رسول پسند فرماتا ہے۔ کہ اس کے فروع اس کے اصول سے پختہ تعلق رکھتے ہوں۔ بواسطہ ہمارے سردار حضرت محمد اور ان کی پاکیزہ آل کے۔ اورحمد ہے خدا کے لیے جو جہانوں کا رب ہے۔
الفاظ کے معانی اور مختصر شرح
اللّٰهُمَّ:پروردگارا!
اجْعَلْ:قرار دے
صِيامِى: میرے روزے کو
فِيهِ:اس دن 
بِالشُّكْرِ:پسندیدہ
وَالْقَبُولِ:قبول کئے ہوۓ
ہر طاعت و عبادت کا قدر و قیمت اس کی قبولیت میں ہے۔ جب تک نماز بارگاہ الہی میں قبول نہ ہوجاۓ، اوپر نہ جاے  اور ترقی کے راہوں کو طی نہیں کرتی، اس نماز کی کوئی خاص اہمیت نہیں ۔
جب تک روزہ بارگاہ الہی میں قبول نہ ہوجاۓ، اس کا خاص اثر نہیں ۔ اعمال کی قبولیت کا دار و مدار، نیت، اخلاص، حکم الہی کی اطاعت  اور اسکی بندگی ھے ۔
آج ہم تیس دن روزے رکھنے  ، نماز،دعا اور مناجات کرنے کے بعد  خداوند متعال سے درخواست کرتے ہیں ہماری عبادتوں کو اپنی بارگاہ شرف قبولیت بخشے۔
عَلَىٰ مَا تَرْضاهُ: جسے تو راضی ہو
وَيَرْضاهُ الرَّسُولُ:اور رسول پسند فرماتا ہے
ہمارے روزوں کو ایسا روزہ قرار دے جس  سے پروردگار! تو اور تیرا رسول راضی ہو۔
جی ہاں! خداوند متعال ایسے روزوں کی قدر کرتا ہے اور اپنی بارگاہ میں قبول کرتا ہے جو پرہیزکاری اور ایمان کے ساتھ رکھا ہو۔ جو اطاعت اور عبادت جو گناہ سے آلودہ ہو اس کی کوئی حیثیت نہیں ۔
تقوا: خدا کے راہ پر قائم رھنا ، اس کا  مطیع ہونا، راہ خدا پر چلنا اور محرمات سے پرہیز کرنے کا نام ہے۔ خداوند متعال ان صفات کے حامل افراد کے روزوں  کو قبول کرتا ہے۔
مُحْكَمَةً:پختہ اور محکم
فُرُوعُهُ: اس کی فروع
بِالْأُصُولِ:اصول سے
جزئیات اور فروع کو اس کے اصل سے استوار اور پختہ کرنا۔ میرے ماہ مبارک رمضان کی جو کیفیت  ہے اس کو میری زندگی کے تمام  لمحات پر اثر گذار فرما۔
روزہ دار شخص خدا سے یہی درخواست کرتا ہے کہ اس کے روزہ داری کے لمحات اور حالات کو اس کی زندگی کے تمام لحظوں اور لمحات میں جاری و ساری رکھے، اور یہ کیفیت اس کی زںدگی کے دیگر لمحوں اور لحظوں میں سرایت کرجاۓ تاکہ ماہ مبارک رمضان کے طرح، حرام اور گناہ سے پرہیز کرے اور اس کے تمام حرکات و سکنات دینی دستورات کے مطابق انجام پاۓ۔

(28)پارے​ کے پیغامات

🕌🔵  سفينة النجاة 🔵🕌

🌙#ماه#رمضان #ماه_بہار
 🌙ماہ #قرآن
✍ (28)پارے​ کے عناوین کا تعارف🕯
 ✍ اس پارے میں نو سورے موجود ہیں

🔰 (1)سورہ مجادلہ:
خولہ بنت ثعلبہ کے شوہر نے ان سے "ظہار" کر لیا. جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ "عورت اپنے شوہر کے لئے حرام ہوگئی"، خولہ پریشان ہوئی کہ اب کیا ہو گا چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ و آله و سلم) کے پاس آئ اور اپنی فریاد پیش کیا اور بار بار پیش کیا ہر بار آپ صلی اللہ علیہ و آله و سلم یہی فرماتے رہے کہ تو اپنے شوہر کے لئے حرام ہوگئی. آخر اس عورت نے اپنا ہاتھ رب کی طرف اٹھا دیا تو رب نے فوراً لبیک کہا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ و آله و سلم) پر یہ سورہ نازل کی جس میں "ظہار کے کفارہ" کا بیان ہے؛
 یا تو ایک غلام آزاد کیا جائے،
یا مسلسل دو ماہ کے روزے،
یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے.

🔰 (2)سورہ حشر:
1- بنونضیر قبیلے نے جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ و آله) کو دھوکے سے قتل کرنا چاہا تو آپ نےان پر چڑھائی کیا، کئی دنوں کے محاصرے کے بعد وہ لوگ وہاں سے نکلنے پر تیار ہوئے چنانچہ انہیں جلاوطن کیا گیا اور یہ پہلی جلاوطنی تھی جو خیبر کی جانب ہوئی پھر خلیفه دوم کے دور میں ملک شام کی طرف نکال دیا گیا.
2- ایک صحابی رسول (صلی اللہ علیہ و آله) کے مہمان، رسول کی ضیافت کا بیان، اور میزبان کی تعریف ہے.
3- الله تعالى کے بعض صفات کا بیان ہے.

🔰 (3)سورہ ممتحنہ:
اس سوره میں کئی باتیں ہیں:
1- مسلمانوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ اسلام کے دشمنوں سے دوستی نہ کریں، کیونکہ ان سے اسلام کو ہمیشہ تکلیف ہی پہنچی ہے.
2- جب عورتیں ہجرت کر کے مدینہ منورہ آنے لگیں تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ و آله وسلم) کو حکم دیا گیا کہ ان سے اس بات پر بیعت لیں کہ وہ شرک نہیں کریں گی، چوری نہیں کریں گی، زنا نہیں کریں گی؟ اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی، اور بہتان تراشی نہیں کریں گی.

🔰 (4)سورہ صف:
1- جس چیز کی نصیحت کی جائے اس پر پہلے عمل کیا جائے، ورنہ داعی مجرم ہوگا.
2- جہاد کرنے والے اللہ کی نگاہ میں محبوب ہیں.
3- کوئی کتنی ہی طاقت صرف کردے لیکن نور الہی (یعنی اسلام، ایمان، ولایت) مٹا نہیں سکتا ہے.

🔰 (5)سورہ جمعہ:
1- جمعہ کی فضیلت اور اس کے بعض آداب کا بیان ہے... 
ایک مرتبہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آله وسلم خطبہ دے رہے تھے، مال تجارت آیا لوگ آپ کو قیام کی حالت میں چهوڑ کر چلے گئے جس پر سورہ نازل ہوا.
2- بے عمل دانشوروں کا بیان؛
 کہ وہ مثل گدھے کے مانند ہیں جس پر بوجھ لدا ہوا ہے لیکن اسے یہ نہیں معلوم کہ یہ بوجھ کس چیز کا ہے.

🔰 (6)سورہ منافقون:
اس بات کا بیان ہے کہ منافقین رسالت کی گواہی دینے میں جهوٹے ہیں، نیز نبی اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور مسلمانوں کو ان کی چالبازیوں سے ہشیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے.
نیز غزوہ احد کے موقع پر رئیس المنافقين (عبداللہ بن ابی) نے یہ کہا تھا کہ مدینہ میں ہم رہیں گے نبی اور مسلمان نہیں، عزت والے ہم ہیں نبی اور مسلمان نہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب اس سورت میں دیا ہے
2- مومنوں کو اس بات کی تنبیہ کی گئی ہے کہ کہیں یہ مال اور اولاد تمہاری بربادی کا ذریعہ نہ بن جائیں.

🔰 (7)سورہ تغابن:
1-قیامت کے دن، وہ لوگ جو جہنم میں چلے گئے ان کا بھی گهر جنت میں بنایا گیا ہے، اب ان کے جہنم میں جانے کی وجہ سے جنت والاگهر خالی رہے گا تو جنتی اس پر قبضہ جما لیں گے، اسی وجہ سے اس دن کا ایک نام یوم التغابن بهى پڑ گیا.
2- مومنوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ تمہاری بیویوں اور اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں، تمہیں ان سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے.

🔰 (8)سورہ طلاق:
1- طلاق کے بعض مسائل کا بیان.
2- مختلف قسم کی عورتوں کی عدت کا بیان کہ:
الف) نابالغہ اور آئسہ کی عدت تین ماہ،
ب) حمل والیوں کی عدت وضع حمل 
وغیرہ ...
3- متقیوں کو پریشانی سے نجات ملے گی، بے حساب رزق ملے گا، ان کے معاملات آسان ہونگے، ان کے گناہ مٹائے جائیں گے، اور اجرعظیم ملے گا.

🔰 (9)سورہ تحریم:
1- نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآله) زینب بنت جحش کے پاس کچھ دیر ٹھہرتے اور وہاں شہد پیتے حفصہ اور عائشہ نے وہاں معمول سے زیادہ ٹھہر نے سے روکنے کے لئے اسکیم تیار کی کہ ان میں سے جس کے پاس بھی نبی آئیں تو وہ ان سے یہ کہے کہ آپ کے منہ سے مغافیر کی بو آرہی ہے! 
چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا آپ نے فرمایا : میں نے تو زینب کے صرف شہد پیا ہے اب میں قسم کھاتا ہوں کہ یہ نہیں پیوں گا؟ لیکن یہ بات تم کسی کو مت بتلانا ! اس پر یہ سوره نازل ہوئی ... 
[البتہ اور دوسرے شان نزول بھی تاریخی کتب میں موجود ہیں.]
2- "دو جہنمی عورتوں" کا بیان ہے اور یہ دونوں نبی کی عورتیں ہیں: (یعنی حضرت نوح اور حضرت لوط علیہما السلام)، اور ان کا "کافروں کے لئے بطور مثال" ہے. 
اور "مومنین کے لئے دو عورتوں کی مثال" بیان کی گئی ہے: 
ایک فرعون کی بیوی جناب آسیہ(س)، اور دوسری جناب عمران علیہ السلام کی بیٹی جناب مریم(س).
*التماس دعا*
•┈┈•┈•┈•⊰✿✿⊱•┈•┈•┈┈•
🌹اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم🌹
•┈┈•┈•┈•⊰✿✿⊱•┈•┈•┈┈•

چوبیسویں پارے​کے پیغامات

🕌🔵 *سفينة النجاة*🔵🕌

*🌙#ماه#رمضان #ماه_بہار*
          *🌙ماہ #قرآن* 
✍ *#چوبیسویں پارے​کے عناوین کا تعارف*🕯

✍ *پارہ چوبیسویں کے تین حصے ہیں*

🔻 *1* -سورہ زمر ( بقیہ حصہ )
🔻 *2* -سورہ مؤمن (مکمل )
🔻 *3* -سورہ حم السجدة ( ابتدائی حصہ )

✍ *سورہ زمر کے بقیہ حصے میں کئی باتیں ہیں*

1⃣ - الله کی ربوبیت کا بیان
آسمان و زمین تمام کا خالق صرف اللہ ہی ہے اس کے قائل تمام انسان ہیں
 2⃣ - الله کی رحمت کی وسعت کا بیان
انسان کو کبھی بھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیئے
 3⃣- جہنمیوں اور جنتیوں کے جہنم اور جنت میں داخل ہونے کی کیفیت کا بیان

✍ *سورہ مؤمن میں کئی باتوں کا بیان ہے*

1⃣ *مومن کا بیان*

جب موسیٰ علیہ السلام کے قتل کی سازش فرعون کے دربار میں ہورہی تھی تو ایک مومن جو اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تها ، کہا: *اتقتلون رجلا ان یقول ربی الله* اس نے فرعون اور اس کے درباروں کو موسی علیہ السلام کے قتل سے ڈرایا اور کہا کہ اس کا انجام بہت برا ہوگا

2⃣ فرعون کے کبر و غرور کا بیان ہے کہ اس نے رب العزت کو دیکھنے کی ناپاک جسارت کرتے ہوئے ہامان کو ایک محل کی تعمیر کا حکم دیا۔

3⃣ الله سے اعراض کرنے والوں کی سزا کا بیان ہے *سیدخلون جهنم داخرین*

4⃣ انسان کی تخلیق کا بیان

🔖انسان کبھی مٹی تها پهر نطفہ بنا پهر علقہ بنا پهر بچہ بنا پهر جوان ہوا پهر بوڑھا ہوا پهر مرا۔۔۔۔

✍ *سورہ حم السجدة میں کئی باتیں ہیں*

1⃣-آسمان و زمین کی تخلیق
اللہ نے زمین اور اس کے اندر کی ساری چیزیں چار دن میں بنائیں اور آسمان کو دو دن میں بنایا
 2⃣- کافروں کی شرارت کا ذکر کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم قرآن مجید کی تلاوت کرتے تو یہ لوگ شور مچا تے تاکہ لوگ تلاوتِ قرآن مجید کو نہ سن سکیں
 3⃣- داعي کا بیان کہ اس سے بہتر بات کسی کی نہیں ہوسکتی اور داعی کو کون سا اسلوب استعمال کرنا چاہیے اس کا بیان ہے۔
*التماس دعا*
•┈┈•┈•┈•⊰✿✿⊱•┈•┈•┈┈•
🌹اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم🌹
•┈┈•┈•┈•⊰✿✿⊱•┈•┈•┈┈•

نزول قرآن

عَلِيٌّ مَعَ الْقُرْآنِ، وَالْقُرْآنُ مَعَ عَلِيٍّ  
علی۔ ع۔ قرآن کے ساتھ ہیں اور قرآن  علی۔ ع۔ کے ساتھ ہے
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿

صاحب نہج البلاغہ مفسر اور وارث حقیقی قرآن امام المتقین مولا کائنات امام علی ابن ابی طالب  علیہما السلام کے قرآن مجید  کے بارے گوھر نایاب خطبہ جس میں مولا نےقرآن کی بہترین اور خوبصورت تعریف و توصیف کی ہے جو نہج البلاغہ خطبہ 196 کے آخری حصے میں مذکور ہے شب قدر شب نزول قرآن کی مناسبت پر مولا کے چاہنے والوں کی خدمت میں خوبصورت انداز میں ترتیب دے کر پیش کرنے کا شرف حاصل کر رہے ہیں امید ہے کہ قرآن مجید اور اھل بیت سے محبت اور مودت رکھنے والے  اس سے استفادہ کریں گے 
"""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""""

1 ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَیْهِ الْكِتَابَ نُوْرًا لَّا تُطْفَاُ مَصَابِیْحُهٗ
اللہ نے میرے رسول ۔ص۔ پر ایک ایسی کتاب نازل فرمائی جو ایسا نور ہے جس کی روشنی کبھی ختم نہیں ہوسکتی
 2 *وَسِرَاجًا لَّا یَخْبُوْ تَوَقُّدُهٗ* 
اور یہ قرآن ایسا چراغ ہے جس کی لو خاموش نہیں ہوتی
3 *وَ بَحْرًا لَّا یُدْرَكُ قَعْرُهٗ*
اور یہ قرآن ایسا دریا ہے جس کی تہہ تک رسائی نہیں ہوتی
 4 *وَ مِنْهَاجًا لَّا یُضِلُّ نَهْجُهٗ*
اور  ایسا راستہ ہے جس میں مسافر کو بے راہ نہیں کرتی
 5 *وَ شُعَاعًا لَّا یُظْلِمُ ضَوْؤُهٗ*
ایسی کرن ہے جس کی روشنی مدھم نہیں پڑتی
 6 *وَ فُرْقَانًا لَّا یُخْمَدُ بُرْهَانُهٗ*
اور یہ قرآن ایسا حق و باطل میں فرق کرتا ہے جس کی دلیل کمزور نہیں ہوتی 
7 *وَ تِبْیَانًا لَّا تُهْدَمُ اَرْكَانُهٗ*
ایسا کھول کر بیان کرنے والا ہے جس کے ستون منھدم نہیں کیا جاسکتا 
 8 *وَ شِفَآءً لَّا تُخْشٰۤی اَسْقَامُهٗ*
اور قرآن  سراسر شفا ہے 
 9 *وَ عِزًّا لَّا تُهْزَمُ اَنْصَارُهٗ*
اور یہ قرآن اپنے پڑھنے اور عمل کرنے والوں کو  ایسا عزت و غلبہ عطا کرتا ہے کہ جس کے یار و مددگار شکست نہیں کھاتے   
10 *وَ حَقًّا لَّا تُخْذَلُ اَعْوَانُهٗ*
یہ سراپا حق ہے جس کے اعوان بے یار و مددگار نہیں ہو سکتے 
11 *فَهُوَ مَعْدِنُ الْاِیْمَانِ وَ بُحْبُوْحَتُهٗ* 
قرآن ایمان کا معدن و مرکز ہے 
12 *وَ یَنَابِیْعُ الْعِلْمِ وَ بُحُوْرُهٗ*
اور اس سے علم کے چشمے پھوٹتے ہیں 
 13 *وَ رِیَاضُ الْعَدْلِ وَ غُدْرَانُهٗ* 
اس میں عدل کے چمن اور انصاف کے حوض ہے
14 *وَاَثَافِیُّ الْاِسْلَامِ وَبُنْیَانُهٗ*
قرآن اسلام کا سنگ بنیاد اور اس کی اساس ہے
15 *وَ اَوْدِیَةُ الْحَقِّ وَ غِیْطَانُهٗ*
قرآن حق کی وادی اور اس کا ہموار میدان ہے
16 *وَبَحْرٌ لَّا یَنْزِفُهُ الْمُسْتَنْزِفُوْنَ*
قرآن ایسا دریا ہے جسے پانی بھرنے والے ختم نہیں کرسکتے 
17 *وَ عُیُوْنٌ لَّا یُنْضِبُهَا الْمَاتِحُوْنَ*
قرآن ایسا چشمہ ہے کہ پانی الچنے والے اسے خشک نہیں کر سکتے 
18 *وَ مَنَاهِلُ لَا یُغِیْضُهَا الْوَارِدُوْنَ*
قرآن ایسا گھاٹ ہے کہ اس پر اترنے والوں سے اس کا پانی گھٹ نہیں سکتا 
19 *وَ مَنَازِلُ لَا یَضِلُّ نَهْجَهَا الْمُسَافِرُوْنَ*
قرآن ایسی منزل ہے کہ جس کی راہ میں کوئی راہرو بھٹکتا نہیں 
20 *وَ اَعْلَامٌ لَّا یَعْمٰی عَنْهَا السَّآئِرُوْنَ*
قرآن ایسا نشان ہے کہ راہ چلنےوالے کی نظر سے اوجھل نہیں ہوتا 
21 *وَ اٰكَامٌ لَّا یَجُوْزُ عنْهَا الْقَاصِدُوْنَ*
قرآن ایسا ٹیلہ ہے کہ حق کا قصد کرنے والے اس سے آگے نہیں گزر نہیں سکتے 
22 *جَعَلَهُ اللهُ رِیًّا لِّعَطَشِ الْعُلَمَآءِ*
اور اللہ نے اس قرآن کو علماء کی تشنگی کے لیے سیرابی کا ذریعہ قرار دیا ہے 
23 *وَ رَبِیْعًا لِّقُلُوْبِ الْفُقَهَآءِ*
اور اللہ نے اس قرآن کو فقھاء کے دلوں کے لیے بہار قرار دیا  ہے 
 24 *وَ مَحَاجَّ لِطُرُقِ الصُّلَحَآءِ* 
اور نیکوں کی رہ گزر کے لیے شاہراہ قرار دیا ہے 
25 *وَ دَوَآءً لَّیْسَ بَعْدَهٗ دَآءٌ*
اور قرآن ایسی دوا ہے جس سے کوئی  بیماری باقی نہیں رہتی
26 *وَ نُوْرًا لَّیْسَ مَعَهٗ ظُلْمَةٌ*
ایسا نور ہے جس کے ساتھ ظلمت کا تصور نہیں ہو سکتا 
27 *وَ حَبْلًا وَّثِیْقًا عُرْوَتُهٗ*
قرآن ایسی رسی ہے جس کے حلقے مضبوط ہے 
28 *وَ مَعْقِلًا مَّنِیْعًا ذِرْوَتُهٗ*
اور ایسی چھوٹی ہے کہ جس کی پناہ گاہ محفوظ ہے 
29 *وَ عِزًّا لِّمَنْ تَوَلَّاهُ*
اور جو اس قرآن سے وابستہ ہو اس کے لیے سرمایہ عزت ہے 
30 *وَ سِلْمًا لِّمَنْ دَخَلَهٗ*
جو اس کے حدود میں داخل ہو اس کے لیے پیغام صلح و امن ہے
 31 *وَ هُدًی لِّمَنِ ائْتَمَّ بِهٖ*
اور جو اس پر عمل کریں اس کے لیے  مکمل ھدایت ہے
32 *وَ عُذْرًا لِّمَنِ انْتَحَلَهٗ*
جو اسے اپنی طرف نسبت دے اس کے لیے حجت ہے 
33 *وَ بُرْهَانًا لِّمَنْ تَكَلَّمَ بِهٖ*
جو اس قرآن کی روشنی میں بات کرے اس کے لیے دلیل اور برھان ہے
 34 *وَ شَاهِدًا لِّمَنْ خَاصَمَ بِهٖ*
جو اس کی بنیاد پر بات بحث و مناظرہ کرے اس کے لیے گواہ ہے 
35 *وَ فَلْجًا لِّمَنْ حَاجَّ بِهٖ*
جو اسے حجت کے طور پر پیش کرے اس کے لیے فتح و کامرانی ہے
36 *وَ حَامِلًا لِّمَنْ حَمَلَهٗ*
جو اس قرآن کا بار اٹھائے یہ اس کا بوجھ بٹانے والا ہے 
37 *وَ مَطِیَّةً لِّمَنْ اَعْمَلَهٗ*
جو اس سے اپنا دستور عمل بنائے اس کے لیے مرکب ۔ تیز گام۔ ہے
38 *وَ اٰیَةً لِّمَنْ تَوَسَّمَ*
قرآن حقیقت شناسی کے لیے ایک واضح نشان ہے 
39 *وَ جُنَّةً لِّمَنِ اسْتَلْاَمَ*
اور جو( ظلم و ضلالت سے ٹکرانے کے لیے سلاح بند ہو اس کے لیے بہترین  سپر ہے
 40 *وَ عِلْمًا لِّمَنْ وَّعٰی*
جو اس قرآن کی ہدایت کو گرہ میں باندھ لے اس کے لیے علم و دانش ہے
41  *وَ حَدِیْثًا لِّمَنْ رَّوٰی*
اور قرآن بیان کرنے والوں کے لیے بہترین کلام ہے 
42 *وَ حُكْمًا لِّمَنْ قَضٰی*
اور یہ قرآن فیصلہ کرنے والوں  کے لیے قطعی حکم ہے 

 اقتباس
 نہج البلاغہ خطبہ 196
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
 #فصیحی_ٹی_وی #FASIHI_TV 

اکیسویں پارے​ کے پیغامات

🕌🔵 *سفينة النجاة*🔵🕌

🌙#ماه#رمضان #ماه_بہار
  🌙ماہ #قرآن
✍ #اکیسویں پارے​* کے عناوین کا تعارف🕯

✍ پارہ بیکے پانچ حصے ہیں

🔻 *۱* ۔ سورۂ عنکبوت بقیہ حصہ ( آیت  45 سے 69 )
🔻 *۲* ۔ سورۂ روم (مکمل)
🔻 *۳* ۔ سورۂ لقمان (مکمل)
🔻 *۴* ۔ سورۂ سجدہ (مکمل)
🔻 *۵* ۔ سورۂ احزاب ابتدائی حصہ ( آیت 1 سے 30 )

✍ *(۱) سورۂ عنکبوت کے بقیہ حصے میں چار باتیں یہ ہیں:*

✅1⃣۔ تلاوت اور نماز کا حکم
✅2⃣۔ نماز کی فضیلت (کہ یہ برائی اور بے حیائی سے روکتی ہے)  (آیت 45)
✅3⃣۔ معاندین اور ان کی ہٹ دھرمیوں کا ذکر
✅4⃣ ۔ دنیا کی بے ثباتی 
( آیت 64 )
⚠️دنیا کی زندگی کھیل کود کے سوا کچھ نہیں، اصل گھر آخرت کا ہے 
⚠️دنیا برائے دنیا کی زندگی آپ کو مقصد سے دور ایک خیالی منزل کی طرف لے جاتی ہے۔

✍ *(۲) سورۂ روم میں چار باتیں یہ ہیں:*

1⃣۔ *دو پیش گوئیاں* 
( آیت 2--5)
🔅پیغمبر اسلام ص نے ایران اور روم کے بادشاہوں کو خط لکھا جس میں انہیں اسلام کی دعوت دی گئی تھی بادشاہ ایران نے رسول خدا ص کے خط کو پھاڑ دیا لیکن روم کے بادشاہ نے احترام کیا ۔
🔅جب  جنگ میں رومیوں کو شکست ہوئی  جس کی وجہ سے مسلمان  بہت پریشان ہوئے  خداوندمتعال نے اس آیت کو نازل کیا اور مسلمانوں کو بشارت دی  کہ آئندہ جلد روم کامیاب ہوجاے گا اور یہ کامیابی مومنین کی خوشی کا باعث بنے گی

🔻 *1* ۔ نو سال کے اندر اندر روم کے اہل کتاب (عیسائی) ایران کے بت پرستوں کو شکست دے دیں گے۔
🔻 *2* ۔ اسی عرصے میں مسلمان مشرکینِ قریش پر فتح کی خوش منارہے ہوں گے۔ (یہ بدر کی صورت میں ظاہر ہوئی)

2⃣۔ *توحید کے ضمن میں اللہ کی عظمت کی سات نشانیاں* 

🔖 *1* ۔اشیاء کو اضداد سے پیدا کرنا (زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے)
🔖 *2* ۔ انسان کی پیدائش مٹی سے
🔖 *3* ۔ زوجین کی محبت
🔖 *4* ۔ زمین و آسمان کی پیدائش
🔖 *5*۔ رات اور دن کی نیند اور روزگار کی تلاش
🔖 *6*۔ بجلی کی چمک ، بارش اور اس سے غلے کی پیداوار
🔖 *7*۔ زمین اور آسمان کا مستحکم نظام
3⃣ ۔ *پیامبر ص کو حکم* ( آیت 31--32)
🔅1.    دین فطرت کی طرف اپنی توجہ مرکوز رکھو۔
🔅2.    اللہ کی طرف رجوع کرو۔
🔅3.    تقوی اختیار کرو۔
🔅4.    نماز قائم کرو۔
🔅5.    مشرکین میں سے نہ ہونا۔
🔅6.    جنہوں نے اپنے دین میں پھوٹ ڈالی اور جو گروہوں میں بٹ گئے، ہر فرقہ اس پر خوش ہے جو اس کے پاس ہے
4⃣ ۔ *قرابت داروں کا حق* ( آیت 38)
🌷پس تم قریبی رشتہ داروں کو اور مسکین اور مسافر کو ان کا حق دے دو، 
🌷یہ ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو اللہ کی رضامندی چاہتے ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔

✍ *(۳) سورۂ لقمان میں چار باتیں یہ ہیں:​*

1⃣ *فلاح پانے والے کون* ؟ ( آیت 3--5)
🌟 نماز کو قائم کرنے والے
🌟 زکوۃ ادا کرتے ہے
🌟 آخرت پر یقین رکھتے ہے
🌟    ھدایت پر ہے
2⃣ ۔ *توحید* (اللہ کی قدرت کے چار دلائل)

🔖 1۔ بغیر ستون کا آسمان
🔖 2۔ مضبوط و محکم پہاڑ
🔖 3۔ رینگنے والے مویشی اور حشرات
🔖 4۔ برسنے والی بارش

3⃣ ۔ *حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو پانچ وصیتیں* ( آیت 12سے 20)

🔖 *1* ۔ شرک نہ کرو۔
🔖 *2* ۔ اللہ تعالیٰ ہر چھوٹی بڑی چیز اور عمل کو آخرت میں سامنے لے آئے گا
🔖 *3* ۔ نماز ، امر بالمعروف ، نہی عن المنکر ، آزمائش میں صبر۔
🔖 *4* ۔ عاجزی اختیار کرو ، تکبر سے بچو۔
🔖 *5* ۔ معتدل چلو ، مناسب آواز میں بات کرو۔
 
4⃣۔ *توحید کے ضمن میں یہ بتایا گیا کہ پانچ چیزوں کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے* 

🔖1۔ بارش کہاں اور کتنی برسے گی؟
🔖2 ۔ قیامت کب آئے گی؟
🔖3 ۔ پیٹ میں بچہ کن اوصاف کا حامل ہے؟
🔖 4۔ موت کب اور کہاں آئے گی؟
🔖5۔ انسان کل کیا کرے گا؟

✍ *(۴) سورۂ سجدہ میں پانچ باتیں یہ ہیں:*

1⃣۔ *قرآن کی عظمت*

🔖قرآن فضائل و مناقب، برتری پر مشتمل ہے جس کے ادنی اور نچلےمرتبہ تک بھی ہر عالم کی رسائی نہیں ہے۔ عام انسان کا طائر فکر تحیل اس کے کمال و معارف تک پرواز نهیں کرسکتا، انسان اس کے معانی کی گہرائیوں تک پہونچنے سے عاجز و بے بس ہے۔ اور وہ اس کے حقائق سے پردہ نہیں اٹھا سکتا اور اس کے باطن کا ادراک نہیں کرسکتا اور نہ خود کو اس کا معلم، بیان کرنے والا اور مفسر نہیں کہہ سکتا۔ جز  اس کے کہ وہ یہ اعتراف کرے اس کے مطالب، مفاہیم اور معانی کو محمد و آل محمد کے کوئی بھی نهیں سمجھ سکتا۔

2⃣ - *توحید*

 🔖آسمان و زمین کا خالق وہی ہے ، 
🔖ہر کام کی تدبیر وہی کرتا ہے۔
3⃣  *انسانی تخلیق کے مراحل:*( آیت 7--10)
🌷    جس نے ہر اس چیز کو جو اس نے بنائی بہترین بنایا اور انسان کی تخلیق مٹی سے شروع کی۔
🌷    پھر اس کی نسل کو حقیر پانی کے نچوڑ سے پیدا کیا
🌷    پھر اسے معتدل بنایا اور اس میں اپنی روح میں سے پھونک دیا 
🌷    اور تمہارے لیے کان، آنکھیں اور دل بنائے، تم لوگ بہت کم شکر کرتے ہو۔

4⃣ ۔ *قیامت*

 🔖مجرم اس دن سرجھکائے کھڑے ہوں گے، 
🔖ان پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی ، 
🔖وہ دنیا میں واپس آنے کی تمنا کریں گے، 
🔖مومنین جو دنیا میں اللہ کے لیے اپنی راحتوں کو قربان کرتے ہیں ، 
🔖اللہ نے آخرت میں ان کے لیے ایسی نعمتیں تیار کر رکھی ہیں جنھیں کوئی نہیں جانتا۔

5⃣۔ *رسالت*

 (حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تورات دیے جانے کا ذکر ہے۔)

✍ *(۵) سورۂ احزاب کے ابتدائی حصے میں تین باتیں یہ ہیں:*

1⃣۔ زمانۂ جاہلیت کے تین غلط خیالات کی تردید کی گئی ہے:

✅۔ ان کا خیال تھا کہ بعض لوگوں کے سینے میں دو دل ہوتے ہیں ، بتایا کہ دل تو بس ایک ہی ہوتا ہے ، یا اس میں ایمان ہوگا ، یا کفر ہوگا۔

✅۔ کلماتِ ظہار کہنے سے بیوی ہمیشہ کے لیے حرام نہیں ہوتی بلکہ کفارہ دینے سے حلال ہوجائے گی۔

✅۔ منہ بولا بیٹا شرعی احکام میں حقیقی بیٹے کی طرح نہیں ہوتا۔

2⃣۔ دو غزووں 
(غزوۂ احزاب اور غزوۂ بنی قریظہ) کا ذکر ہے۔
 3⃣۔ *ازواج المطھرات کے بارے میں حکم* ( آیت 28--30) 
🔸1.     دنیا کی آسائش اور زوجیت پیامبر ساتھ ساتھ نہیں :اے نبی! اپنی ازواج سے کہدیجئے: اگر تم دنیاوی زندگی اور اس کی آسائش کی خواہاں ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ مال دے کر شائستہ طریقے سے رخصت کر دوں۔ ( آیت 28)
🔸2۔     پیامبر کی چاہت میں ہی خدا کی چاہت ہے :  لیکن اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور منزل آخرت کی خواہاں ہو تو تم میں سے جو نیکی کرنے والی ہیں ان کے لیے اللہ نے یقینا اجر عظیم مہیا کر رکھا ہے۔ ( آیت 29)
🔸3۔دگنا عذاب : اے نبی کی بیویو! تم میں سے جو کوئی صریح بے حیائی کی مرتکب ہو جائے اسے دگنا عذاب دیا جائے گا اور یہ بات اللہ کے لیے آسان ہے۔ (آیت 30)
التماس دعا

#فصیحی_ٹی_وی #FASIHI_TV 
•┈┈•┈•┈•⊰✿✿⊱•┈•┈•┈┈•

بسلسلہ شہادت امام علی ع

🏴🕋ایام شہادت امیر المومنین ع🕋🏴 
بسلسلہ شہادت امام علی ع

شھادت علیؑ کے واقعات میں جہاں غلاف کعبہ پکڑ کر قتل کےقسم کھا عہد کیے گے تھے وھاں اک کردارقطامہ لعینہ کا بھی ھے

قَطَامِ بِنْتُ شَجْنَۃَ بْنِ عَدِيّ بْنِ عَامِر کا تعلق قبیلہ تیم الرباب سے تھا۔ اس کے باپ کے نام میں اختلاف ہے۔لہذا بلاذری ایک جگہ اس کے باپ کا نام علقمہ اور دوسری جگہ شجنہ ذکر کرتا ہے۔ جبکہ بعض مصادر میں اخضر بن شجنہ لکھا گیا ہے پس اس بنا پر شجنہ اس کے باپ کا نام نہیں بلکہ دادا کا نام ہے۔ جبکہ بعض نے احضر اس کے بھائی کا نام لکھا ھے
قطامہ لعینہ کے خوبصورتی، دلربائی اورجمال نے اسے شھر میں رباب کے نام سے مشہور کررکھا تھا۔بلعمی نے اسے کوفہ کی خوبصورت ترین عورت کہا ہے(تاریخ نامہ طبری،ج۴،ص:۶۷۳ )جبکہ مسعودی اور ابوالفرج اصفہانی اسے اپنے زمانے کی زیبا ترین خاتون شمار کرتے ہیں۔(مسعودی، مروج الذہب، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۴۱۱؛ مقاتل الطالبیین، ص:۴۶ )
نہروان میں اپنےباپ اوربھائیوں کے قتل کے بعد امام علی ؑ کے مخالفین میں شمارہوتی تھی۔ سعید 20سال کا جوان تھا،اپنی جوانی کے ایام اپنے دادا ابورحاب کے ہمراہ حضرت عثمان کے گھر میں گزارے، ان کے قتل کے بعد انتقام لینے کا خواہاں تھا، جنگ جمل میں شکست کے بعد سعید مکہ میں لوٹ آیا ۔یہ اسی انتقام کے جذبے کے تحت کوفہ معلومات اکٹھی کرنے آیا،یہاں اس نے نقاب میں رباب کو دیکھا تو اس کے عشق میں گرفتارہوگیا۔رباب کا اصل نام قطام تھا۔قطام نے اسے اپنے جال میں پھنسایا اورامام علی ؑ کے قتل پہ آمادہ کرلیا اوراس سے معاہدہ لکھوا لیا۔اچانک اسے واپس مکہ اپنے بوڑھے داداسے ملنے جانا پڑا،جہاں اس کے دادا نے اسے حقیقت سے آشنا کرایا اورقتل علی ؑ سے باز رہنے کی نصیحت کی اوراس سے عہد کیا کہ وہ ان کی نصیحتوں پہ عمل کرے گا۔رات کو مکہ میں کعبہ میں گیا جہاں اس نے تین افراد کی خفیہ باتیں سنیں جوامام علیؑ اورکچھ دوسرے افرادکوقتل کرنے کا منصوبہ بنارہے تھے۔ایک نے کوفہ ایک نے مصر اورایک نے شام جانا تھا انہوں نے غلاف خانہ کعبہ کو پکڑکے اس کام کو کرنے کاوعدہ کیا سعید کوشش کے باوجود انہیں نہ پہچان سکا صرف یہ پتہ چلا کہ ان میں سے ایک مصرکا ہے۔سعید کوفہ گیا تاکہ قطام کو کسی نہ کسی طرح اس کام سے بازرکھنے کےلئے راضی کرسکے۔وہاں اس نے قطام سے ملاقات کی اور اسےاپنے داداسے ملاقات، خانہ کعبہ کے واقعہ کا قصہ سنانے کے بعد اپنے دادا کی فراہم کردہ معلومات میں سے یہ بھی بتایا کہ مصر میں امام علی ؑ کے مخلص فدا کارجمعہ کے دن ایک خفیہ مقام پہ میٹنگ کرتے ہیں اورقیام کے لئے مکمل آمادگی رکھتے ہیں ۔یہ سب اس نے اپنی اندھی محبت کے زیر اثر کہہ دیا ۔قطام نے نازونخرے اورحیلہ ومکر سےاسے فریب دیااوراپنے ارادے سے بازرہنے اورشادی کا دھوکہ دے کے اسے رخصت کیا۔سعید اس مصری قاتل کی تلاش کرنے کےلئے شہر فسطاط جانے سے پہلے قطام سے ملا اوریہ ساری کہانی اسے سنائی۔ان کے جانے کے بعد قطام نے اپنے غلام وردان کوکہا کہ وہ مصر جائے اورسعید کے پہنچنے سے پہلے وہاں عمرعاص کواس کے قتل کی خبر پہنچائے اورسعیداوراس کے کزن عبداللہ کے بارے بتائےتاکہ وہ سعید کو قتل کردے یا پھر قید تاکہ وہ تاریخ آپہنچے جس دن ان تین افراد نے ان تین افراد کو قتل کرنا ہے اورسعید یہ خبرعلی ؑ تک نہ پہنچا سکےا س طرح کسی کو ان کی ارادے کی خبر بھی نہ ہوپاتی اوران کا کام بھی ہوجاتا۔جانے سے پہلے انہوں نے کسی طرح سعید کے ہاتھ کا لکھا ہوا معاہدہ امام علی ؑ کےقریبی افراد میں سے کسی کے حوالے کردیا۔سعید اپنے کزن عبداللہ کے ساتھ فسطاط پہنچا اورمحبان علی ؑ میں سے کسی کو تلاش کرنے لگا۔عین الشمس میں اس کا کزن عبداللہ جب خفیہ جلسہ میں امام علی ؑ کے بارے کیے گئے منصوبہ کے بارے بتارہا تھا ، اسی لمحہ چھاپا پڑا اورسب گرفتارہوگئے کیونکہ ان سے پہلے قطام کا غلام وہاں پہنچ چکا تھا۔سعید عبداللہ کی تلاش میں عین الشمس کی طرف گیا۔راستے میں ایک اورحادثہ ہوا اوراس کی ملاقات خولہ نامی ایک لڑکی سے ہوئی جس کے باپ نے عبدالرحمن ملجم مرادی کے لئے ہزاردرہم میں تلوار بنا کے دی تھی اورہزاردرہم کے زہر اس پہ لگایا تھا۔اس نے سعید کو اپنے باپ اورابن ملجم مرادی کی ملاقات کی تفصیلات بتائیں۔ سعید نےوہاں سے خولہ کی مدد سے اپنی جان بچائی۔
وہاں کوفہ میں ابن ملجم کو قطام نے اپنی خوبصورتی کے جال میں پھنسا لیا تھا اوراس سے شادی کا مہر امام علی ؑ کا سر رکھا تھا۔ابن ملجم نے اسے بتایا کہ وہ اسی کام کے لئے یہاں آیا ہے۔فسطاط سے سعید خولہ کے غلام بلال کے ساتھ کوفہ امام علی ؑ کو خبردینے کے لئے آرہا تھا اوریہاں سے قطام نے اپنے غلام وردان کو کہا تھا کہ وہ کوفہ سے باہر فسطاط سے آنے والے راستے میں ہی ان کا کام تمام کردے مگر یہ نہ ہوسکا۔ابن ملجم ماہ مبارک رمضان کی انیس کی شب مسجد کوفہ میں پہنچ گیا۔جب سعید رات کو دیر گئے یہ خبر دینے کےلئے وہاں پہنچا تو اسے اس کے سابقہ معاہدہ کی کاپی ملنے کی وجہ سے گرفتارکرلیا گیا ،اس کی کوئی بات نہ سنی گئی اوراس طرح ابن ملجم اپنے کام کو کرگزرااورامام علی ؑ شہید ہوگئے۔صبح جب سعید کو کمرے سے نکالا گیا تو پھر فائدہ نہ تھا۔امام علی ؑ کی شہادت کے بعد قطام لبابہ کے ساتھ خولہ سے بدلہ لینے کے لئے فسطاط کی طرف گئی اوروہاں عمروعاص سے ملاقات کی۔جہاں بعد میں خولہ نے ان کے تمام منصوبہ سے بہت بہادری کے ساتھ پردہ چاک کیا۔عمروعاص نے انہیں زندان میں ڈال دیا۔جہاں سے قطام کے غلام نے انہیں حفاظت پہ مامورافراد کوقتل کرنے کے بعد آزاد کرایا۔زندان میں قطام نے اپنے غلام کے ساتھ مل کےلبابہ کوقتل کردیا۔نہروان میں شکست کے بعد اس کے کچھ رشتہ داردمشق میں چلے گئے تھے وہ ان کی طرف جانے والے راستے میں غوط کے مقام پہ پہنچی جہاں سعید اپنے دوستوں کے ساتھ پہلے سے رکا ہوا تھا۔کسی کو ایک دوسرے کے وہاں موجود ہونے کی خبر نہ تھی۔خولہ کے غلام بلال نے انہیں وہاں دیکھ لیا۔موقع پاکے اس نے پیچھے سے قطام کو پکڑکے جالیا۔اس لمحہ قطام نے بلال سے کہا کہ میں جوان ہوں اورایک تیرے جیسے جوان کو چاہتی ہوں بلال اس کے جال میں نہ پھنسا۔بلال نے کہا یہ علی ابن ابی طالب ؑ کے قتل کا انتقام ہے یہ کہا اوراس کا سرکاٹ کےعبداللہ کے پاس لے آیا۔وہ فوراً وہاں سے فسطاط کے لئے روانہ ہوگئے۔جہاں اس کی خولہ سے شادی ہوگئ۔کچھ عرصہ وہاں رہنے کے بعد یہ سب مکہ واپس آئے ۔عبداللہ نے وہاں اپنے چچا کی بیٹی سے شادی کرلی۔اوروہیں سکونت اختیارکرلی۔
اس واقعہ کے پیچھے تمام کرداروں کو عوام کے سامنےفاش کرنا آج بھی محقیقین اورعاشقان اھل بیت ؑ کے لئے ایک چیلنچ ہے۔کہتے ہیں کہ اس واقعہ کی ڈوریں بھی اسی گروہ خبیث یہود کی طرف ہی جاتی ہیں۔
یہ مضمون جرجی زیدان کی لکھی گئی کتاب قطام اورامام علی ؑ کی شہادت میں اس کا کردارکو سامنے رکھ کرلکھا گیا ہے۔
قطام (لعینہ )جس نہ صرف ملعون ابن ملجم کو نیا لالچ دیا بلکہ قطامہ نے ” وردان بن مجالد” نامی شخص کے ساتھ اپنے قبیلےکے دو آدمی اسکی مدد کیلۓ روانہ کیے.
اشعث بن قیس کندی جو کہ امام علی (ع) کے ناراض سپاہیوں اور اپنے زمانے کا زبردست چاپلوس اور منافق آدمی تھا ،حضرت امام علی (ع) کو قتل کرنے کی سازش میں ان کی رہنمائی کی اور انکا حوصلہ بڑھاتا رہا جب آپ محراب میں داخل ہوئے اور نماز شروع کی تو پہلے سجدے سے ابھی سر اٹھا ہی رہے تھے کہ شبث بن بجرہ نے شمشیر سے حملہ کیا مگر وہ محراب کے طاق کو جا لگی
البتہ شہادت امام علی میں قطام کا ماجرا تاریخی اعتبار سے ضد و نقیض اخبار پر مشتمل ہونے کی وجہ سے سید جعفر شہیدی کی طرف سے ساختگی اور جعلی قرار دیا گیا ہے وہ لکھتے ہیں: گویا اس داستان کو بنایا گیا اور اس میں ابن ملجم کے ساتھ دو اور افراد ملائے گئے تا کہ اس کے ذریعے لوگوں کے اذہان میں اسے بہتر طریقے سے بٹھایا جا سکے شہیدی، ص۱۶۴؛

سید جعفر شہیدی ایک ہی وقت میں خوارج میں سے تین افراد :علی ،معاویہ اور عمرو بن عاص، کے قتل کے نقشے کو بھی تردید کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان کے نزدیک کوفہ میں امام علی کے قتل اور شام میں (معاویہ) کے قتل کو (اشعث بن قیس) میں دیکھنا چاہئے۔صص ۱۵۸-۱۵۹.
باقی اگلی قسط میں۔۔۔

وصیت امیرالمؤمنین

وصیت امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابیطالب علیہما السلام

انیس رمضان المبارک، مسجد کوفہ، نماز فجر، حالت سجدہ، محراب مسجد سے ایک آواز بلند ہوتی ہے، فزت برب کعبہ، رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا. اس دن دنیا کے شقی ترین شخص نے، دنیا کے متقی ترین شخص پر زہر سے بجھی تلوار سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں حضرت علی علیہ السلام زخمی ہوگئے. وہی علی جو کعبے میں پیدا ہوئے اور رسول اللہ کی گود میں پلے بڑھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی اسلام کی راہ میں نچھاور کردی، ان کی شہادت کے لئے بھی خدا نے اپنا ہی گھر چنا.
اپنی شہادت کے وقت بھی آپ لوگوں کی ہدایت سے غافل نہ ہوئے اور وصی رسول اور خلیفہ رسول ہونے کا حق ادا کیا. یہاں نہج البلاغہ میں موجود امام حسن اور امام حسین علیہ السلام کے نام آپ کی وصیت پیش کررہا ہوں. اس کی تشریح کے لئے کتابیں لکھی جاسکتی ہیں. انشاءاللہ پھر کبھی اس کی مختصر وضاحت پیش کروں گا
ملاحظہ فرمائیں

حضرت علیؑ کی وصیت

ضربت کے بعد حسنینؑ شریفین اور ان کے چاہنےوالوں کے نام حضرت علی علیہ السلامؑ کی وصیت:

اُوْصِیْکُمَا بِتَقْوَی اللّٰہِ۔

میں تم دونوں کو خدا سے ڈرتے رہنے کی وصیت کرتا ہوں۔

وَاِنْ لَا تَبْغِیَاالدُّنْیَا وَاِنْ بَغَتْکُمَا۔

اور دنیا کی طرف مائل نہ ہونا خواہ وہ تمہاری طرف مائل ہو۔

وَلَا تَأَسَفًا عَلیٰ شَیْ ءٍ مِنْھَا زُوِیَ عَنْکُمَا۔

اور دنیا کی جو چیز تم سے روک لی جائے اس پر افسوس نہ کرنا۔

وَقُوْلَا بِالْحَقِّ۔

اور جو بھی کہنا حق کے لئے کہنا۔

وَاعْمَلَا لِلْاَجْرِ۔

اور جو کچھ کرنا ثواب کے لئے کرنا۔

وَکُوْنَا لِلظَالِمِ خَصْمًا وَلِلمَظْلُوْمِ عَوْنًا۔

اور ظالم کے دشمن اور مظلوم کے مددگار رہنا۔

اُوْصِیْکُمَا وَجَمِیْعَ وَلَدِیْ وَاَھْلِیْ وَمَنْ بَلَغَہُ کِتَابِیْ بِتَقْوَی اللّٰہِ وَنَظْمِ اَمْرِکُمْ۔

میں تم دونوں کو، اپنی دوسری اولادوں کو، اپنے کنبے کے افرادکواور جن لوگوں تک میرایہ نوشتہ پہنچے، اُن سب کو وصیت کرتا ہوں کہ اللہ سے ڈرتے رہنا اور اپنے امور کو منظم رکھنا۔

وَصَلَاحِ ذَاتِ بَیْنِکُمْ۔ فَاِنِّیْ سَمِعْتُ جَدَّکُمَاصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ یَقُوْلُ:صَلَاحُ ذَاتِ الْبَیْنِ اَفْضَلُ مِنْ عَامَۃِ الصَّلٰوۃِ وَالصِّیَامِ۔

اورباہمی تعلقات کو سلجھائے رکھنا، کیونکہ میں نے تمہارے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ:آپس کی کشیدگیوں کومٹانا عام نماز روزے سے افضل ہے۔

وَاللّٰہَ اللّٰہَ فِیْ الْاَیْتَامِ، فَلاَ تُغِبُّوْاأَفْوَاہَہُمْ وَلَا یَضِیْعُوْا بِحَضْرَتِکُمْ۔

دیکھو! یتیموں کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہناان پر فاقے کی نوبت نہ آئے اور تمہارے ہوتے ہوئے وہ برباد نہ ہوں۔

وَاللّٰہَ اللّٰہَ فِیْ جِیْرَانِکُمْ، فَاِنَّھُمْ وَصِیَّۃُ نَبِیِّکُمْ، مَازَالَ یُوْصِیْ بِھِمْ، حَتَّی ظََنَنَّا أَنَّہُ سَیُوَرِّثُھُمْ۔
دیکھو! اپنے ہمسایوں کے بارے میں خدا سے ڈرتے رہنا، کیونکہ ان کے بارے میں تمہارے نبیؐ نے برابر ہدایت کی ہےآپ ؐان کے بارے میں اس قدر تاکید فرماتے تھے کہ ہمیں یہ گمان ہونے لگا تھا کہ آپ ؐاُنھیں بھی ورثہ دلائیں گے۔

وَاللّٰہَ اللّٰہَ فِیْ الْقُرْاٰنِ، لَا یَسْبِقُکُمْ بِالْعَمَلِ بِہٖ غَیْرُکُمْ۔

اور قرآن کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا، کہیں ایسا نہ ہو کہ دوسرے اس پر عمل کرنے میں تم پر سبقت لے جائیں۔

وَاللّٰہَ اللّٰہَ فِیْ الصَّلوٰۃِ، فَاِنَّھَاعَمُودُ دِیْنِکُمْ۔

نماز کے بارے میں اللہ سے ڈرنا کیونکہ وہ تمہارے دین کا ستون ہے۔

وَاللّٰہَ اللّٰہَ فِیْ بیْتِ رَبِّکُمْ، لَا تُخْلُوْہُ مَابَقِیْتُمْ۔

اور اپنے رتب کے گھر کے بارے میں خدا سے ڈرتے رہنا، جیتے جی اسے خالی نہ چھوڑنا۔

فَاِنَّہُ اِنْ تُرِکَ لَمْ تُناظَرُوْا۔

کیونکہ اگریہ خالی چھوڑ دیا گیا توپھر (عذاب سے) مہلت نہ پاؤ گے۔

وَاللّٰہَ اللّٰہَ فِی الْجِہَادِ بِاَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ وَاَلْسِنَتِکُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ۔

اپنے اموال، جان اور زبان سے راہِ خدا میں جہاد کے سلسلے میں خدا سے ڈرتے رہنا۔

وَعَلَیْکُمْ بِالتَّوَاصُلِ وَالتَّبَاذُلِ، وَاِیَّاکُمْ وَالتَّدَابُرَوَالتَّقَاطُعَ۔

تم پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے میل ملاپ رکھناا ور ایک دوسرے کی اعانت کرناخبردار ایک دوسرے سے قطع تعلق سے پرہیز کرنا۔

لَا تَتْْرُکُواالْاَمْرَ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّہْیَ عَنِ الْمُنْکَرِ، فَیُوَلَّیٰ عَلَیْکُمْ شِرَارُکُمْ، ثُمَّ تَدْعُوْنَ فَلَا یُسْتَجَابُ لَکُمْ۔

دیکھو!امربالمعروف اور نہی عن المنکرکو ترک نہ کرنا، ورنہ بد کردار تم پر مسلّط ہوجائیں گے اور پھر اگر تم دعا مانگوگے تو وہ قبول نہ ہوگی۔

یَا بَنِیْ عَبْدِالْمُطَّلِبِ! لَا اُلْفِیَنَّکُمْ تَخُوْضُوْنَ دِمَآءَ الْمُسْلِمِیْنَ، خَوْضًا تَقُوْلُوْنَ: قُتِلَ اَمِیْرُالْمُؤْمِنِیْنَ۔

اے عبدالمطلب کے بیٹو! ایسا نہ ہو کہ تم، امیرالمو منین قتل ہوگئے، امیر المومنین قتل ہوگئے کے نعرے لگاتے ہوئے مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے لگو۔

أَلاَ لاَ تَقْتُلُنَّ بِیْ اِلَّا قَاتِلِیْ۔

دیکھو! میرے بدلے میں صرف میرا قاتل ہی قتل کیاجائے۔

اُنْظُرُوْااِذَاأَ نَامُتُّ مِنْ ضَرْبَتِہِ ہٰذِہٖ، فَاضْرِبُوْہُ ضَرْبَۃً بِضَرْبَۃٍ، وَلَا تُمَثِّلُ بِالرَّجُلِ، فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہُ (صَلّی اللّٰہ عَلیْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ) یَقُوْلُ: ”
اِیَّاکُمْ وَالْمُثْلَۃَ وَلَوْبِالْکَلْبِ الْعَقُوْرِ۔

دیکھو! اگر میں اس ضرب سے مر جاؤں، تو تم اس ایک ضرب کے بدلے میں اسے ایک ہی ضرب لگانا، اور اس شخص کے ہاتھ پیرنہ کاٹنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہے کہ: خبردار کسی کے ہاتھ پیر نہ کاٹنا، خواہ وہ کاٹنے والا کتّا ہی کیوں نہ ہو۔
نہج البلاغہ، مکتوب:47۔

9️⃣1️⃣انیسواں پارے کے پیغامات

ماه مبارک رمضان 🌙

بہار قرآن کریم 🌹📗🌹

▪🥀 *اعظم اللہ اجورکم* 🥀▪

◼◼ایام شہادت مولائے کائنات حضرت امام علی علیہ السلام کی مناسبت سے عرض تسلیت و تعزیت پیش کرتاہوں اور شبہای قدر میں آپ کی دعاوں کا طلبگار ہوں._
9️⃣1️⃣انیسواں پارہ

اس پارے میں تین حصے ہیں:
۱۔ سورۂ فرقان (بقیہ حصہ)
۲۔ سورۂ شعراء (مکمل)
۳۔ سورۂ نمل (ابتدائی حصہ)

🔰 (۱) سورۂ فرقان کے بقیہ حصے میں چار باتیں یہ ہیں:

1۔ قیامت

2۔ توحید
(آسمان ، زمین اور رات دن کا خالق اللہ ہی ہے۔)

3۔ رسالت
 (نبی کو بشیر و نذیر بنا کر بھیجا گیا ہے۔)

4۔ عباد الرحمٰن کی صفات:
(عاجزی سے چلنا ، جاہلوں سے اعراض ،
راتوں کو عبادت ،
جہنم کے عذاب سے پناہ مانگنا ،
خرچ کرنے میں اعتدال ،
نہ فضول خرچی نہ بخل ،
شرک سے اجتناب ،
قتل ناحق سے بچنا ،
زنا اور بدکاری سے پرہیز ،
جھوٹی گواہی سے احتراز ،
بری مجالس سے پہلو تہی ،
کتاب اللہ سے متاثر ہونا ،
نیک بیوی بچوں کی دعا
اور یہ دعا کہ ہمیں ہادی اور مہتدی بنا.)

🔰 (۲) سورۂ شعراء میں تین باتیں یہ ہیں:

۱۔ سات انبیائے کرام کے قصے؛
 (حضرت موسیٰ علیہ السلام ،
حضرت ابراہیم علیہ السلام ،
حضرت نوح علیہ السلام ،
حضرت ہود علیہ السلام ،
حضرت صالح علیہ السلام ،
حضرت لوط علیہ السلام ،
حضرت شعیب علیہ السلام)

۲۔ قرآن کی حقانیت:
(اسے رب العالمین نے اتارا ہے ،
روح الامین حضرت جبرائیل علیہ السلام کے واسطے سے ،
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآله سلم کے قلب پر ،
لوگوں کو متنبہ کرنے کے لیے ،
واضح عربی زبان میں۔)

۳۔ وه شعراء کی مذمت کہ ان کے پیچھے تو بے راہ لوگ چلتے ہیں ، یہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں ،ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں ہیں ، البتہ وہ لوگ مستثنی ہیں جو ایمان لائے اور نیک اعمال اختیار کیے اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا۔

🔰 (۳) سورۂ نمل کے ابتدائی حصے میں دو باتیں یہ ہیں:​

(۱) قرآن کی عظمت

(۲) پانچ انبیائے کرام کا ذکر:
(حضرت موسیٰ علیہ السلام ،
حضرت داؤد علیہ السلام ،
حضرت سلیمان علیہ السلام ،
حضرت صالح علیہ السلام ،
حضرت لوط علیہ السلام۔
بالخصوص واقعۂ نمل ،
واقعۂ ہدہد،
اور واقعۂ ملکہ سبا).

التماس دعا