💠غیبی امداد کی قرآنی شرائط 💠

📌غیبی امداد اپنی کوشش کر لینے کے بعد حاصل ہوتی ہے اور اگرچہ الله تعالی جس کی چاہے اس کی مدد کر سکتا ہے لیکن اس مدد کی کچھ شرائط ہیں.

📝اس مطلب کو سمجھنا، "ظہور اور امام مہدی (عج) کی عدل و انصاف پر مبنی عالمی حکومت کی تشکیل کی کامیابی" کے معاملے میں غیبی امداد کے کردار کو سمجھنے کے لیے انتہائی مفید ثابت ہو گا.

📖قرآن مجید میں الہی مدد اور نصرت کی کچھ شرائط یہ ہیں:

*1️⃣صبر و استقامت:*
صابر انسان الله کا محبوب، اس کی پناه میں اور اس کی الہی امداد کا مستحق قرار پاتا ہے.

👈قرآن فرماتا ہے: وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ (سوره بقره: 249). ایک اور جگہ اولیاء الہی کے بارے میں فرماتا ہے کہ: فَصَبَرُوا عَلَىٰ مَا كُذِّبُوا وَأُوذُوا حَتَّىٰ أَتَاهُمْ نَصْرُنَا (سوره انعام: 34) یعنی "تو انہوں نے اس تکذیب اور اذیت پر صبر کیا ہے یہاں تک کہ ہماری مدد آگئی".

📃اسی طرح سوره آل عمران کی آیت نمبر 125 میں فرمایا کہ: إِن تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا وَيَأْتُوكُم مِّن فَوْرِهِمْ هَٰذَا يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُم بِخَمْسَةِ آلَافٍ مِّنَ الْمَلَائِكَةِ مُسَوِّمِينَ

💭یعنی "یقینا اگر تم صبر کرو گے اور تقوٰی اختیار کرو گے اور دشمن فی الفور تم تک آجائیں گے تو خدا پانچ ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا جن پر بہادری کے نشان لگے ہوں گے".

*2️⃣دین خدا کی مدد:*
قرآن کریم الہی امداد کی ایک اہم شرط دین کی مدد اور اسی کے ذیل میں خدا کے ولی کی مدد کرنے کو قرار دیتا ہے:

📖يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ (سوره محمد: 07)

📝یعنی "ایمان والو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ بھی تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم بنا دے گا".

*3️⃣دشمن سے جہاد اور مقابلہ:*
درحقیقت جنگ کا میدان بھی الہی امداد کے نزول کا ذریعہ ہے کیونکہ قرآن کریم یہ فرماتا ہے کہ:

📖قاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ (سوره توبہ: 14)

📝یعنی "ان سے جنگ کرو اللہ انہیں تمہارے ہاتھوں سے سزا دے گا اور رسوا کرے گا اور تمہیں ان پر فتح عطا کرے گا"

*4️⃣خدا کا تقوی اختیار کرنا:*
الله کا تقوی اور پرہیزگاری اختیار کرنا جس کے بارے میں قرآن بہت زیاده عظمت کا قائل ہے.

🌟تقوی کے دیگر آثار کے ساتھ ساتھ ایک مبارک اثر یہ بھی ہے کہ تقوی الله کی رحمت اور خاص مدد کے حصول کا ذریعہ بھی بنتا ہے.

📖خداوند عالم سوره آل عمران کی آیت نمبر 125 میں فرماتا ہے کہ: بَلَىٰ ۚ إِن تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا وَيَأْتُوكُم مِّن فَوْرِهِمْ هَٰذَا يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُم بِخَمْسَةِ آلَافٍ مِّنَ الْمَلَائِكَةِ مُسَوِّمِينَ

📃یعنی "یقینا اگر تم صبر کرو گے اور تقوٰی اختیار کرو گے اور دشمن فی الفور تم تک آجائیں گے تو خدا پانچ ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا جن پر بہادری کے نشان لگے ہوں گے".

*5️⃣کوشش اور جہاد:*
قرآنی تہذیب میں انسان کے کوشش کرنے کو اس کی سچائی کی نشانی سمجھا جاتا ہے اور یہی سچائی ہے جو غیبی امداد کے نزول کا باعث بنتی ہے.

📖جیسے کہ قرآن فرماتا ہے کہ: وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ (سوره عنکبوت: 69)

📃یعنی "اور جن لوگوں نے ہمارے حق میں جہاد کیا ہے ہم انہیں اپنے راستوں کی ہدایت کریں گے اور یقینا الله حسن عمل والوں کے ساتھ ہے".

#فصیحی_ٹی_وی