امام کاظم(علیہ السلام) اور نھی عن المنکر

بسم اللہ الرحمن الرحیم
     اسلام اور احکام کی تبلیغ میں کوشش کرنا ہر مسلمان کا دینی فریضہ ہے، اچھے کاموں سے لوگوں کو آشنا کروانا اور برے کاموں سے منع کرنا تمام مسلمانوں پر واجب ہے۔ اگر کسی کو دیکھیں کہ اپنے وظیفہ پر عمل نہیں کررہا ہے تو اس کو انجام دینے کے لئے آمادہ کرنا چاہئے۔
     لوگوں کو برائی سے روکنے کے خاص طریقے ہیں جن کی رعایت کرنا ہر شخص کے لئے ضروری ہے ایسا نہ ہو کہ کوئی شخص کسی کو برائی سے روکنے کی کوشش کررہا ہو لیکن اس کا برائی سے روکنے کا انداز صحیح نہ ہو، اس کا ایک نقصان یہ ہوسکتا ہے کہ وہ شخص جو برائی کررہا ہے وہ کبھی بھی اس برائی کو ترک نہیں کریگا، اسی لئے ہمیں چاہئے کہ ہم لوگوں کو برائی سے اس طرح روکے جس طرح ہم سے اسلام نے کہا ہے نہ کہ ہم جیسا چاہتے ہیں اس طرح۔ اگر ہمیں  معلوم کرنا ہے کہ اسلام نے لوگوں کو برائی سے کس طرح روکنے کے لئے کہا ہے تو ہمیں معصومین(علیہم السلام) کی سیرت کو دیکھنا ہوگا۔ اسی بات کو معلوم کرنے کے لئے یہاں پر نمونہ کے طور پر ساتویں امام، امام موسی کاظم(علیہ السلام) کے ایک واقعہ کوبیان کیا جارہا ہے کہ امام(علیہ السلام) نے کس طرح ایک گناہگار کی ہدایت فرمائی۔
     امام کاظم(علیہ السلام) کی زندگی میں ایسے بہت زیادہ واقعات موجود ہیں کہ کس طرح امام(علیہ السلام) نے اپنے اخلاق کے ذریعہ لوگوں کی ہدایت فرمائی۔ روایت میں نقل ہوا ہے کہ ایک دن امام(علیہ السلام) بشر حافی کے گھر کے قریب سے گذر رہے تھے، اس کے گھر سے گانے بجانے کے آوازیں آرہی تھیں، امام(علیہ السلام) نے دیکھا کہ اس کے گھر سے ایک کنیز کچرا باہر پہینکنے کے لئے آئی ہے۔
امام(علیہ السلام) نے اس کنیز سے پوچھا: اس گھر کا مالک آزاد ہے یا بندہ؟
کنیز نے کہا: آزاد ہے۔
امام(علیہ السلام) نے فرمایا: تو نے سچ کہا اس گھر کا مالک آزاد ہے اسی لئے اس طرح کے گناہ کو انجام دیرہا ہے، اگر بندہ ہوتا تو وہ اپنے  مالک سے ڈرتا۔
جب کنیز واپس گھر میں داخل ہوئی، تو بشر حافی نے کنیز سے پوچھا کہ تجھے اتنی دیر کیوں ہوئی؟
کنیز نے پورا ماجر اس  کو بیان کیا۔ جب بشر حافی نے امام(علیہ السلام) کے اس کلام کو سنا تو وہ پابرہنہ امام(علیہ السلام) کی خدمت میں دوڑا اور بڑی پشیمانی اور شرمندگی کے ساتھ امام(علیہ السلام) سے معافی طلب  کرتے ہوئے اس نے توبہ کیا[
۱]۔

نتیجہ:
     امام(علیہ السلام) جو خداوند متعال کی جانب سے لوگوں کی ہدایت کے لئے بھیجے گئے تھے، انھوں نے اس کام کو پوری ذمہ داری کے ساتھ انجام دیا۔ آپ نے اپنے اخلاق کے ذریعہ لوگوں کی اس طرح اصلاح فرمائی کہ لوگ آپ کے کردار کو دیکھ کر توبہ کرلیا کرتے تھے۔ ہمیں بھی اپنے امام کی اتباع کرتے ہوئے ان ہی کے بتائے ہوئے انداز اور طریقوں سے لوگوں کی ہدایت کرنا چاہئے جس میں ہماری ذاتی کوئی غرض موجود نہ ہو۔ خدا ہم سب کو دین اسلام کی صحیح طریقی سے سمجھنے اور تبلیغ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

……………………………
حوالہ:
[
۱] منتهی الآمال فی تواریخ النبی و الآل‏، شیخ عباس قمى، ج۳، ص۱۴۷۹،‏ دلیل ما، قم، ۱۳۷۹ش‏۔

چند اخلاقی اقدار حضرت امام محمد تقی (علیہ السلام) کی نظر میں

خلاصہ: حضرت امام محمد تقی (علیہ السلام) سے جو اخلاقیات کے سلسلے میں احادیث نقل ہوئی ہیں ان میں سے چند کو یہاں پر ذکر کرتے ہوئے، ان کی مختصر وضاحت کی ہے۔

چند اخلاقی اقدار حضرت امام محمد تقی (علیہ السلام) کی نظر میں

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مقدمہ
اخلاقیات کا انسانی زندگی میں اتنا اہم کردار ہے کہ جس کے بغیر نہ دنیا میں سکون رہتا ہے اور نہ آخرت کی کامیابی ممکن ہے۔ کیونکہ آدمی جتنا بھی عابد ہو لیکن اگر اچھے اخلاق کا زیور اس کے وجود پر نہ ہو تو وہ عبادت بھی ضائع ہوجائے گی۔
اہل بیت (علیہم السلام) نے مختلف اخلاقی عناوین پر گفتگو فرمائی ہے، جن میں سے ایک حضرت امام محمد تقی (علیہ السلام) ہیں، آپؑ سے جو اخلاقی احادیث نقل ہوئی ہیں، ان میں سے چند کا یہاں پر تذکرہ کرتے ہوئے، بعض کی مختصر وضاحت پیش کرتے ہیں:

اخلاص
حضرت امام محمد تقی (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "أفْضَلُ الْعِبادَۃِ الاْخْلاصُ"[1]، "سب سے زیادہ بافضیلت عبادت، اخلاص ہے"۔
وضاحت: اخلاص کے معنی یہ ہیں کہ نیت کو غیراللہ سے صاف کردیا جائے اور عمل کو صرف اللہ کے لئے بجالایا جائے۔ خالص اس چیز کو کہا جاتا ہے جس کی کسی دوسری چیز سے ملاوٹ نہ ہو۔ اخلاص کے کئی درجات ہیں اور اخلاص کے ساتھ عبادت اور نیک اعمال کو انجام دینے کے کئی فائدے ہیں۔ اخلاص کی نشانیاں اور علامات میں سے بعض یہ ہیں: ظاہر و باطن اور زبان و کردار کا ایک جیسا ہونا، اللہ کے علاوہ ہر چیز سے ناامیدی اور اپنے گناہ کے علاوہ کسی چیز سے نہ ڈرنا، اللہ کے علاوہ دوسروں سے اپنے اعمال کی تعریف سننے کی توقع نہ رکھنا۔

محبوبیت کے اسباب
حضرت امام محمد تقی (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "ثَلاثُ خِصال تَجْتَلِبُ بِهِنَّ الْمَحَبَّةُ: الاْنْصافُ فِي الْمُعاشَرَةِ، وَ الْمُواساةُ فِي الشِّدِّةِ، وَ الاْنْطِواعُ وَ الرُّجُوعُ إلي قَلْب سَليم"۔[2] "تین صفات ہیں جن کے ذریعے محبت جذب ہوتی ہے: (لوگوں سے) معاشرت میں انصاف کرنا اور مشکلات میں (ان سے) ہمدردی کرنا اور قلب سلیم سے بہرہ مند ہونا"۔

چار غلطیوں کے نتائج
حضرت امام جواد (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "تَأخيرُ التَّوبَةِ إغترارٌ وَ طُولُ التَّسويفِ حَيَرةٌ، وَ الاِعْتِذارُ عَلَی اللهِ هلکةٌ وَ اَلإصرارُ عَلَى الذَّنبِ أمنٌ لِمَكرِ اللّه «فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ»“[3]،[4] توبہ میں تاخیر کرنا اپنے آپ کو دھوکہ دینا ہے، اور (کاموں میں)  آج کل کرنا، سرگردانی ہے، اور اللہ کے سامنے عذر تراشی کرنا ہلاکت ہے، اور گناہ پر ڈٹے رہنا، اللہ کی تدبیر سے مطمئن رہنا ہے "اور اللہ کی تدبیر سے صرف گھاٹے میں رہنے والے مطمئن رہتے ہیں"۔

نعمت کا شکر
حضرت امام محمد تقی (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "نِعمَةٌ لا تُشكَرُ كَسَيِّئةٍ لا تُغفَرُ"[5]، "جس نعمت کا شکر ادا نہ ہو، وہ ایسے گناہ کی طرح ہے جو معاف نہیں ہوتا"۔
نیز آپؑ فرماتے ہیں" :لايَنقطِعُ المزيدُ مِن اللهِ حَتّي يَنقَطِعَ الشُّكْرُ مِنَ العِبادِ"[6]، "اللہ کی طرف سے ­(نعمتوں میں) اضافہ رکتا نہیں، یہاں تک کہ بندوں کا شکر رک جائے"۔
وضاحت: عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ شکر زبان سے ہوتا ہے، جبکہ شکر صرف زبان تک محدود نہیں بلکہ شکر کی تین قسمیں ہیں: پہلا مرحلہ یہ ہے کہ ہمیں غور کرنا چاہیے کہ نعمت دینے والا کون ہے اور اس کی طرف توجہ کریں، دوسرا مرحلہ زبانی شکر ہے، تیسرا مرحلہ عملی شکر ہے، یعنی اس بات پر غور و خوض کریں کہ ہر نعمت ہمیں کس مقصد سے عطا کی گئی ہے اور اس نعمت کو اسی مقصد تک پہنچنے کے لئے استعمال کریں، اگر ایسا نہ کیا تو کفران نعمت اور ناشکری کی ہے۔ مثال کے طور پر آنکھیں جو اللہ تعالی کی اتنی عظیم نعمت ہیں، اللہ نے کیوں عطا فرمائی ہیں؟ اس لیے کہ لوگ ان آنکھوں سے اللہ کی مخلوقات کو دیکھیں اور ان میں غور و فکر کریں، واقعات کو دیکھ کر عبرت حاصل کریں، جن چیزوں کو دیکھنا ثواب کا باعث ہے، ان کو دیکھ کر اللہ تعالی سے ثواب حاصل کریں، لیکن آنکھوں سے گناہ کرنے والا آدمی اللہ کی اس بڑی نعمت کی ناشکری کرتا ہوا نہ اس بات پر توجہ کرتا ہے کہ اس کو یہ نعمت دینے والا کون ہے تو کیسے نعمت دینے والے کی معرفت حاصل کرے گا، نہ زبان سے اللہ کا شکر ادا کرتا ہے کہ اللہ تعالی نے اسے دو آنکھیں صحیح و سلامت عطا فرمائی ہیں، نہ ان آنکھوں کو اس مقصد کے لئے استعمال کرتا ہے جس مقصد کے لئے اللہ نے خلق کیا ہے تو آنکھوں سے جو عمل ممکن ہے، ان آنکھوں سے عملی شکر بجا نہیں لاتا۔ اسی طرح اللہ کی عطا کی ہوئی تمام نعمتوں کے بارے میں اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ انسان کو یہ نعمتیں دے کر پروردگار نے آزاد نہیں چھوڑ دیا، بلکہ اسے ان نعمتوں کے بدلہ میں کچھ ذمہ داریاں ادا کرنی ہیں۔ لہذا نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے ورنہ نعمتیں چھن جائیں گی اور اگر آدمی شکر کرتا رہے تو نعمتیں بڑھتی رہیں گی اور اس میں اضافہ کا سلسلہ رکتا نہیں مگر یہ کہ آدمی شکر کرنا روک دے۔

خواہشات کی پیروی کا برا نتیجہ
حضرت امام جواد (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "رَاكِبُ الشَّهَوَاتِ لَاتُسْتَقَالَ لَهُ عَثْرَةٌ"[7]، "جو شخص شہوات کی سواری پر سوار ہوجائے، اس کی لغزشیں ناقابل تلافی ہیں"۔
وضاحت: جب انسان شہوت پرستی میں پڑجائے اس کی عقل پر پردہ پڑجاتا ہے اور عقل کی حکومت برکنار ہوتے ہوئے شہوت حکمران بن جاتی ہے اور جب انسان کے اعمال کی باگ ڈور عقل سے چھن جائے اور خواہشات کے قبضہ میں آجائے تو اس شخص کے لئے ہر طرح کی بدبختی یا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں: "الْعَقْلُ وَ الشَّهْوَةُ ضِدَّانِ وَ مُؤَيدُ الْعَقْلِ الْعِلْمُ وَ مُزَيِّنُ الشَّهْوَةِ الْهَوَى وَ النَّفْسُ مُتَنَازَعَةٌ بَينَهُمَا فَأَيهُمَا قَهَرَ كَانَتْ فِى جَانِبِهِ‌"[8]، "عقل اور شہوت ایک دوسرے کی ضد ہیں اور عقل کا مددگار علم ہے اور شہوت کو نفسانی خواہش زینت دینے والی ہے اور نفس ان دو کے درمیان کشمکش میں ہوتا ہے تو ان دونوں میں سے جو غالب ہوجائے، نفس اس کے پاس ٹھہر جاتا ہے"۔

برے آدمی کی ہمنشینی سے پرہیز
حضرت امام محمد تقی (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "إيّاكَ و مُصاحَبَةَ الشِّرِّيرِ؛ فإنّهُ كالسَّيفِ المَسلولِ يَحسُنُ مَنظَرُهُ و يَقبَحُ أثَرُهُ ."[9]، "شریر آدمی سے ہمنشینی کرنے سے پرہیز کرو کیونکہ وہ غلاف سے نکالی ہوئی تلوار کی طرح خوبصورت اور بد اثر ہے"۔
وضاحت: انسان کے وجود میں خالق کائنات کی طرف سے ایک صفت جو قرار دی گئی ہے، وہ کسی سے دوستی اور ہمنشینی اختیار کرنا ہے، جس طرح دیگر اخلاقی اچھی اور بری صفات میں یہ کیفیت پائی جاتی ہے کہ حق اور باطل، صحیح اور غلط، ہدایت اور گمراہی کے راستے پائے جاتے ہیں، اسی طرح اس انسانی فطرت میں بھی یہ کیفیت پائی جاتی ہے کہ انسان کسی دوسرے آدمی کی ہمنشینی اختیار کرتا ہے، لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ کیسے انسان کی ہمنشینی اختیار کرنی چاہیے اور کیسے آدمی کی ہمنشینی سے پرہیز کرنی چاہیے؟ حضرت امام محمد تقی (علیہ السلام) اس نورانی کلام میں شریر آدمی کی ہمنشینی اختیار کرنے سے منع فرماتے ہیں کیونکہ ایسے آدمی میں کچھ ظاہری دلکش کام اور باتیں دکھائی دیں گی جسے انسان دیکھ کر اس سے دوستی کر لے گا اور اس کی ہمنشینی اختیار کرلے گا، مگر اس کی حقیقت اور باطن سے غافل ہے کہ اس کا ضمیر کتنا ناپاک ہے، اس کا دل کتنا شرارتوں سے رچا ہوا ہے اور مختلف حالات کے بدلنے کے موقع پر اس کی بری صفات منظر عام پر آجاتی ہیں تب واضح ہوجاتا ہے کہ یہ تو تلوار کی طرح کاٹ دینے والا ہے جبکہ ظاہری طور پر خوبصورت لگ رہا تھا اور اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو اس کی کئی مثالیں کھل کھل کر سامنے آئیں گی۔ جیسا کہ حضرت لقمان (علیہ السلام) نے اپنے فرزند سے فرمایا: "من قارن قرین السوء لا یسلم"[10] ، "جو شخص برے آدمی کے ساتھ رہے، وہ امان میں نہیں رہتا"۔

نتیجہ:
 اخلاقی اقدار ایسی صفات ہیں جن کو اپنانے سے آدمی انسانی کمالات کی بلندی پر پہنچ جاتا ہے، معصومین حضرات (علیہم السلام) جن میں سے ایک عظیم ہستی حضرت امام محمد تقی (علیہ السلام) ہیں، آپؑ عالم انسانیت کی کامیابی اور ہدایت پانے کے لئے انتہائی جد و جہد کرتے رہے اور مختلف طریقوں سے لوگوں کی راہنمائی کرتے رہے جن میں سے ایک طریقہ آپؑ کے حکمت آمیز فرامین ہیں جو اخلاقیات کے شعبہ میں گمراہی کی اندھیری رات میں ہدایت کا چراغ ہیں، جن پر آدمی عمل کرتے ہوئے دوسرے کے لئے بھی نمونہ عمل بن سکتا ہے۔
...................................................
حوالہ جات
[1] بحارالانوار، ج 67، ص 245، ح 19۔
[2] ميزان الحكمہ ، ج2، ص414۔
[3] دانشنامه امام جواد علیه السلام ، ج1، ص175۔
[4] سورہ اعراف، آیت 99۔
[5] سیرالائمه، ج 4، ص 171۔
[6] تحف‌العقول، ص 480۔
[7] بحارالانوار، ج 67، ص 78، ح 11۔
[8] غررالحكم، ح448۔
[9] بحار الانوار : 24/198/74۔
[10] الکافی، ج۲، ص642، ح9۔

واقعہ حدیث قرطاس

حدیث قرطاس یا حدیث قلم و کاغذ، رسول خدا کےآخری ایام کے اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جس میں آپ نے اپنے بعد مسلمانوں کو گمراہی سے محفوظ رکھنے کا نسخہ لکھنے کیلئے صحابہ سے قلم اور دوات مانگی جسے عمربن خطاب نے یہ کہہ کر رد کیا کہ "یہ شخص بیماری کی وجہ سے ہذیان کہہ رہا ہے”۔ یوں رسول اللہ امت کو گمراہی سے محفوظ رکھنے کے حوالے سے اپنی وصیت نہ لکھ سکے۔

اس واقعے میں خلیفہ دوم کی جانب سے رسول اللہؐ کے حکم کی تعمیل نہ کرنا، خاص کر آپ کی طرف ہذیان کی نسبت دینے کو قرآن کریم اور اسلامی تعلیمات کی منافی سمجھتے ہوئے بعض مسلمان مصنفین نے خلیفہ دوم کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس واقعے کو شیعہ سنی تاریخی اور حدیثی منابع میں مصیبت عظمی سے یاد کیا گیا ہے۔

اہل تشیع کے مطابق اس موقع پر پیغمبر اکرمؐ اپنے بعد حضرت علیؑ کی جانشینی سے متعلق کچھ لکھنا چاہتے تھے۔

واقعے کی تفصیل

تاریخی اور حدیثی کتابوں کے مطابق یہ 25 صفر سنہ 11 ہجری کا واقعہ ہے کہ پیغمبر اکرمؐ اپنی زندگی کے آخری ایام میں بستر بیماری پر تھے اور اصحاب آپ کے اردگرد جمع تھے اس وقت آپؐ نے حاضرین سے فرمایا: مجھے قلم اور دوات دو تا کہ میں تمہیں ایک ایسی چیز لکھ دوں، جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہیں ہو نگے۔

پیغمبر اکرمؐ کا قلم دوات مانگنے کا واقعہ مختلف عبارتوں میں نقل ہوا ہے جن میں سے بعض مندرجہ ذیل ہیں:

  • ائتونی بدواة و کتف أکتب لکم کتابا لا تضلّوا بعده أبدا؛ دوات اور شانے کی ایک ہڈی لے آئیں تا کہ تمہیں ایسی چیز لکھ دوں کہ میرے بعد کبھی گمراہ نہیں ہوجاؤ گے۔(مفید، الارشاد، ۱۳۷۲ش، ج۱، ص۱۸۴؛ بخاری، صحیح البخاری، ۱۴۰۱ق، ج۴، ص۶۶؛ مسلم، صحیح مسلم، دارالفکر، ج۵، ص۷۶.)
  • هلُمّ اکتب لکم کتابا لا تضلون بعده؛ آئیں تمہیں ایسی تحریر لکھ دوں کہ اس کے بعد گمراہ نہیں ہوجاوگے۔(مسلم، صحیح مسلم، دارالفکر، ج۵، ص۷۶.)
  • ائتونی بدواة وصحیفة أکتب لکم کتابا لا تضلوا بعده أبدا؛ دوات اور ایک صحیفہ لے آو تاکہ ایک تحریر لکھ دوں اور تم اس کے بعد گمراہ نہیں ہوجاو گے۔(ابن سعد، الطبقات الکبری، دارالصادر، ج۲، ص۲۴۲.)
  • ائتونی بالکتف والدواة أکتب لکم کتابا لا تضلوا بعده أبدا۔(ابن سعد، الطبقات الکبری، دارالصادر، ج۲، ص۲۴۳.)

آپ کا یہ مطالبہ حاضرین میں سے عمر بن خطاب نے یہ کہہ کر رد کیا: پیغمبرؐ بے ہوشی کے عالم میں ہیں اور بیماری کی شدت کی وجہ سے آپؐ ہذیان گوئی کر رہے ہیں، ہمارے لئے خدا کی کتاب کافی ہے۔

خلیفہ دوم کا عکس العمل مختلف عبارتوں کے ساتھ نقل ہوا ہے:

  • إن نبی الله لیهجر؛ اللہ کے رسول ہذیان بول رہے ہیں۔(ابن سعد، الطبقات الکبری، دارالصادر، ج۲، ص۱۸۷.)
  • إن رسول الله یهجر؛ اللہ کے رسول ہذیان بول رہے ہیں۔(مسلم، صحیح مسلم، دارالفکر، ج۵، ص۷۶.)
  • ان الرجل لیهجر؛ یہ مرد ہذیان بول رہا ہے۔(اربلی، کشف الغمة، الشریف الرضی، ج۱، ص۴۰۲؛ ابن تیمیه، منهاج السنة، ۱۴۰۶ق، ج۶، ص۱۹.)
  • أهجر رسول الله؟؛ کیا رسول اللہ نے ہذیان بولا ہے؟(ابن تیمیه، منهاج السنة، ۱۴۰۶ق، ج۶، ص۲۴.)
  • ما شأنه؟ أهجر؟ استفهموه؛ انہیں کیا ہوا ہے؟ کیا ہذیان بولا ہے؟ ان سے پوچھو۔(مراجعہ کریں: بخاری، صحیح البخاری، ۱۴۲۲ق، ج۶، ص۹؛ نووی، صحیح مسلم بشرح النووی، ۱۴۰۷ق، ج۱۱، ص ۹۳.)
  • إنّ النّبی قد غلب علیه (غلبه) الوجع و عندکم القرآن حسبنا کتاب الله؛ رسول اللہ پر درد مسلط ہوا ہے، تمہارے پاس قرآن موجود ہے اور ہمارے لیے کتاب اللہ کافی ہے۔(مراجعہ کریں:بخاری، صحیح البخاری، ۱۴۲۲ق، ج۶، ص۹، ج۷، ص۱۲۰؛ نووی، صحیح مسلم بشرح النووی، ۱۴۰۷ق، ج۱۱، ص۹۰.)

عمر بن خطاب کی باتوں سے صحابہ کے درمیان نزاع شروع ہو گئی۔ پیغمبر نے جب یہ صورت حال دیکھی تو فرمایا میرے پاس سے اٹھ کر چلے جاؤ۔ اکثر مآخذ کے مطابق پیغمبرؐ کی مخالفت کرنے والا شخص عمر ابن خطاب تھا۔[1] لیکن بعض مآخذ میں اس کی طرف اشارہ نہیں کیا گیا. [2]

شیعہ علماء کے مطابق، پیغمبر اکرمؐ اس موقع پر اپنے بعد حضرت علیؑ کی جانشینی سے متعلق تاکید کرنا چاہتے تھے۔ وہاں موجود بعض حاضرین کو بھی اس بات کا خدشہ تھا اس بنا پر وہ آپؐ کو اس کام سے روکنا چاہتا تھا۔ [3] عمر ابن خطاب اور ابن عباس کے درمیان ہونے والی ایک گفتگو میں خود عمر اس بات کا اظہار یوں کرتا ہے: پیغمبر اکرمؐ بیماری کی حالت میں اپنے بعد علیؑ کی جانشینی اور خلافت کے بارے میں کچھ لکھنا چاہتے تھے لیکن میں نے اسلام سے دلسوزی اور اس کی تحفظ کی خاصر پیغمبر اکرمؐ کو اس کام سے منع کیا۔[4]

اس حدیث کے منابع

یہ واقعہ اپنی تمام تر جزئیات لیکن مختلف عبارات کے ساتھ شیعہ سنی منابع میں نقل ہوا ہے۔ اہل سنت منابع میں سے صحیح بخاری،[5] صحیح مسلم،[6] مسند احمد،[7] سنن بیہقی[8] اور طبقات ابن سعد[9] میں اس واقعے کی تفصیل موجود ہے۔ اسی طرح شیعہ منابع میں الارشاد[10]، اوائل المقالات[11]، الغیبۃ نعمانی[12] اور المناقب ابن شہر آشوب[13] کا نام اس حوالے سے قابل ذکر ہیں۔

اس سے متعلق مختلف مؤقف

شیعہ نقطہ نظر

علمائے شیعہ اس واقعہ کو مصیبت عظمی سے تعبیر کرتے ہیں کیونکہ اس واقعے سے جہاں امت کو گمراہی سے محفوظ رکھنے کے سلسلے میں پیغمبر اکرمؐ کی وصیت پر عمل نہیں ہوا وہاں رسول اللہ کی شأن اقدس میں گستاخی ہوئی جو قرآن و سنت کی رو سے گناہ کبیرہ میں سے ہے۔[14] اہل سنت کے بعض منابع میں بھی آیا ہے کہ ابن عباس اس واقعے کو جس میں رسول اللہ کی امت کو گمراہی سے محفوظ رکھنے کے حوالے سے لکھی جانے والی وصیت کو مکمل نہیں ہونے دیا، عظیم مصیبت سے تعبیر کرتے ہوئے گریہ کرتے تھے۔[15]

علامہ شرف الدین عاملی کتاب المراجعات میں قرآنی آیات کے تناظر میں حضرت عمر کے اس کام پر چند اعتراض کرتے ہیں:[16]

  1. رسول خداؐ کے حکم کی نافرمانی اور مخالفت کی۔
  2. حضرت عمر اپنے آپ کو رسول اللہ سے زیادہ دانا تر سمجھتے تھے۔
  3. پیغمبر اکرمؐ کی طرف ہذیان گوئی کا الزام لگایا۔

شیعوں کے نزدیک حضرت عمر کا یہ رویہ قرآن کی بہت سی آیات کے مخالف تھا مثلا:

  • وَمَا آتَاکمُ الرَّ‌سُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاکمْ عَنْهُ فَانتَهُواآیت ۷سورہ حشر

جو کچھ رسول تمہیں دے اسے لے لو اور جس سے منع کرے اس سے رک جاؤ۔

  • مَا ضَلَّ صَاحِبُکمْ وَمَا غَوَیٰ ﴿۲﴾ وَمَا ینطِقُ عَنِ الْهَوَیٰ ﴿۳﴾ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْی یوحَیٰ ﴿۴﴾ عَلَّمَهُ شَدِیدُ الْقُوَیٰ ﴿۵﴾سورہ نجم

کہ تمہارا یہ ساتھی پیغمبرِ اسلامؐ نہ گمراہ ہوا ہے اور نہ بہکا ہے۔ (2) اور وہ (اپنی) خواہشِ نفس سے بات نہیں کرتا۔ (3) وہ تو بس وحی (بات کرتا) ہے جو ان کی طرف کی جاتی ہے۔ (4)

اہل سنت کا مؤقف

علمائے اہل سنت اس واقعے کی مختلف توجیہات پیش کرتے ہیں مثلا:

  • بعض اس روایت کو واقعے کو صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ذکر ہونے کے باوجود اسے ضعیف اور غیر معتبر سمجھتے ہیں۔[17]
  • بعض اس حدیث کا ایک اور معنا ذکر کرتے ہیں۔ مثلا: «ہجر» کا لفظ چھوڑنے اور ترک کرنے کے معنی میں ہیں اور اس سے خلیفہ دوم کی مراد یہ تھی کہ پیغمبر اکرمؐ ہمیں چھوڑ کر جا رہے ہیں۔[18]
  • یا حضرت عمر کی گفتگو استفہام انکاری ہے یعنی پیغمبر ہذیان نہیں کہتا ہے۔[19]
  • حضرت عمر کی طرف سے حسبنا کتاب اللہ کہنا حقیقت میں دینی تعلیمات پر ان کی تسلط اور دقت نظر کی دلیل ہے۔[20]
  • بعض مآخذوں کے مطابق پیغمبر اکرمؐ کو اس کام سے منع کرنے والا ایک شخص نہیں تھا بلکہ کئی افراد مراد ہیں۔[21]

حضورؐ کے لکھنے کا ارادہ ترک کرنے کی وجہ

بعض شیعہ علماء کے مطابق، پیغمبر اکرمؐ کا اپنی وصیت کو تکمیل کرنے سے باز رہنے کی علت اور دلیل وہی گفتگو تھی جو آپ کے سامنے ہوئی تھی، کیونکہ اب اس گفتگو کے بعد ظاہرا اس وصیت کی کوئی حیثیت نہیں تھی سوائے اس کے کہ حضور اکرمؐ کی وفات کے بعد امت میں اختلاف کا باعث بن جائے۔ اس صورتحال میں اگر پیغمبر اکرمؐ لکھ بھی دیتے تو لوگ یہی کہتے کہ یہ تو پیغمبر اکرمؐ نے بے ہوشی کے عالم میں لکھوایا تھا بنا براین اس وصیت پر عمل کرنا امت پر واجب نہیں۔[

حوالہ جات

  1.  بخاری، صحیح البخاری، ۱۴۰۱ق، ج۱، ص۳۷، ج۴، ص۶۶، ج۵، ص۱۳۷-۱۳۸، ج۷، ص۹؛ مسلم، صحیح مسلم، دارالفکر، ج۵، ص۷۵-۷۶؛ ابن سعد، الطبقات الکبری، دارالصادر، ج۲، ص۲۴۲-۲۴۵.
  2.  ابن حنبل، مسند الامام احمد بن حنبل، ۲۰۰۸م، ج۲، ص۴۵؛ بیہقی، السنن الکبری، دارالفکر، ج۹، ص۲۰۷.
  3.  شرف الدین، المراجعات، المجمع العالمی لاہل البیت، ص۵۲۷.
  4.  ابن ابی‌الحدید، شرح نہج البلاغہ، ۱۳۷۸ق، ج۱۲، ص ۲۰-۲۱.
  5.  بخاری، صحیح البخاری، ۱۴۰۱ق، ج۱، ص۳۷، ج۴، ص۶۶، ج۵، ص۱۳۷-۱۳۸، ج۷، ص۹.
  6.  مسلم، صحیح مسلم، دارالفکر، ج۵، ص۷۵-۷۶.
  7.  ابن حنبل، مسند الامام احمد بن حنبل، ۲۰۰۸م، ج۲، ص۴۵.
  8.  بیہقی، السنن الکبری، دارالفکر، ج۹، ص۲۰۷.
  9.  ابن سعد، الطبقات الکبری، دارالصادر، ج۲، ص۲۴۲-۲۴۵.
  10.  شیخ مفید، الإرشاد، ۱۳۷۲ش، ج۱، ص۱۸۴.
  11.  شیخ مفید، اوائل المقالات، الموتمر العالمی، ص۴۰۶.
  12.  نعمانی، الغیبۃ، ۱۳۹۹ق، ص۸۱-۸۲.
  13.  ابن شہرآشوب، مناقب آل ابی‌طالب، علامہ، ج۱، ص۲۳۶.
  14. جوہري، مقتضب الأثر، ص1
  15.  صحیح البخاری، ج۵، صص۱۳۷-۱۳۸؛ صحیح مسلم، ج۵، ص۷۶.
  16.  شرف الدین، المراجعات، ص۲۴۴؛ ترجمہ فارسی: مناظرات، ص۴۳۵.
  17.  ابن حنبل، مسند الامام احمد بن حنبل، ۱۴۲۱ق، ج۲، ص۱۰۵.
  18.  قرطبی، المفہم لما اشکل من تخلیص کتاب مسلم، ۱۴۱۷ق، ج۴، ص۵۶۰.
  19. ابن حجر عسقلانی، فتح الباری، ۱۳۹۷ق، ج۸، ص۱۳۳.
  20.  بیہقی، دلائل النبوة، ۱۴۰۸ق، ج۷، ص۱۸۳.
  21.  ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، دار الکتب، ج۳، ص۳۲۰.

رسول اللہ (ص) کی زہر سے شھادت ہوئی؟

رسول اللہ (ص) کی زہر سے شھادت ہوئی؟ 

السلام علیکم ، فیس بک پر موجود ایک نام نہاد خود کو علمی ٹولہ تصور کرنے والوں کی جانب سے کئی بار مکتب تشیع کے حقیقی نظریات پر حملہ کیا جا چکا ہے، اسی شرپسند جاہل ٹولے میں سے ایک علی اصدق نامی شخص نے مظلومیتِ رسول اللہ (ص) پر حملہ کرنے کی ناکام کوشش کی جس پر ہمارے برادر عزیز جناب ابوعبداللہ نے بھرپور رسول اللہ کی مظلومیت کا دفاع کرتے ہوئے ان جاہلوں کا علمی انداز میں جواب دیا ۔

بس جواب کا دیا جانا تھا کہ ان شرپسندوں نے فوری طور پر انہیں اپنے پیج سے نا صرف بلا گ کیا بلکہ ان کے کیے گئے کمنٹس تک کو اپنے پیج سے ہٹا دیا ۔ تبھی اب ضروری ہو گیا کہ ان لوگوں کو کربلا ویوز کے پلیٹ فارم سے علمی انداز میں رد کیا جائے تا کہ مومنین و مومنات کے نظریات پر کوئی ضرب نہ لگا سکے ۔۔

علماء شیعہ کا نظریہ و تحقیق شيخ مفيد رضوان الله تعالی عليہ نے لکھا ہے کہ:

رسول الله صلي الله عليه و آله محمد بن عبد الله… و قبض بالمدينة مسموما يوم الاثنين لليلتين بقيتا من صفر…. رسول خدا 28 صفر پیر کے دن مدینہ میں مسموم ہو کر دنیا سے رخصت ہوئے تھے۔ الشيخ المفيد، محمد بن محمد بن النعمان ابن المعلم أبي عبد الله العكبري البغدادي (متوفی413 هـ)، المقنعة، ص456، تحقيق و نشر: مؤسسة النشر الإسلامي التابعة لجماعة المدرسين ـ قم

شيخ طوسی نے اپنی كتاب تهذيب الأحكام ميں لکھا ہے کہ:

محمد بن عبد الله… و قبض بالمدينة مسموما يوم الاثنين لليلتين بقيتا من صفر سنة عشرة من الهجرة. محمد بن عبد الله رسول خدا (ص) 28 صفر پیر کے دن مدینہ میں مسموم ہو کر دنیا سے رخصت ہوئے تھے۔ الطوسي، الشيخ ابوجعفر، محمد بن الحسن بن علي بن الحسن (متوفی460هـ)، تهذيب الأحكام، ج6 ص2، تحقيق: السيد حسن الموسوي الخرسان، ناشر: دار الكتب الإسلامية ـ طهران

علامہ حلي نے تحرير الأحكام ميں بھی کہا ہے کہ زھر دیا گیا تھا: محمد بن عبد الله… و قبض بالمدينة مسموما يوم الاثنين لليلتين بقينا من صفر سنة عشرين من الهجرة. الحلي الأسدي، جمال الدين أبو منصور الحسن بن يوسف بن المطهر (متوفی 726هـ)، تحرير الأحكام، ج2 ص118، تحقيق: الشيخ إبراهيم البهادري، ناشر: مؤسسة الإمام الصادق ( عليه السلام ) ـ قم

مسموميت پيامبر (صلى الله عليه وآله وسلم)
استفتاء:
آيا اين مطلب كه رسول گرامى اسلام (صلى الله عليه وآله وسلم) به خاطر مسموميت از دنيا رفته اند، صحيح مى باشد؟
جواب:
باسمه جلت اسمائه؛ نتيجه تحقيقات به دست آمده اين است كه: رسول گرامى (صلى الله عليه وآله وسلم) روز دوشنبه 28 صفر سال يازدهم هجرى در 63 سالگى و در مدينه مسموم شده و رحلت نمودند. روايات ويژه اى بر اين مطلب دلالت مى كند و روايت عامِ «هيچ يك از ما نيست مگر اينكه كشته و يا مسموم شده باشد» (1)، كه داراى سند معتبرى نيز مى باشد، همين مطلب را تأييد مى كند.
—————————————————————
1- ما منّا إلاّ مقتولٌ أو مسمومٌ; كنايه الأثر، ص 227; من الامام الصادق (عليه السلام) أنه قال: ما منّا إلاّ مقتول أو شهيدٌ، الفصول المهمه، ص 278; و در بحار با حذف (أو) آمده است كه مناسب تر مى نمايد. ج 29، ص 209.
آیت اللہ سعید الحکیم کا فتوی کہ زھر دیا گیا تھا ( صلي الله عليه وآله وسلم ) مات موت اعتيادي ، وبعد معرفة ديني واهتدائي بالأئمة المعصومين ( عليهم السلام ) سمعت صديقي يقول : أن الرسول ( صلي الله عليه وآله وسلم ) مات مسموماً ، مستنداً إلي حديث يقوله : ( ما مات منا إلا مسموماً أو شهيداً ) . وإن صح ذلك فهل تعلمون من هي التي سمت الرسول ( صلي الله عليه وآله وسلم ) ، فقد سمعنا بعض الأقاويل من الأصحاب المعروفين بالتدين ولا أريد الخوض فيها ؟ جواب 17 ورد في بعض الروايات أن المرض الذي توفي الرسول ( صلي الله عليه وآله وسلم ) كان من كتف شاة مسمومة قدمته له امرأة يهودية