اٹھارویں پارے​ کے پیغامات

🕌🔵 *سفينة النجاة*🔵🕌

*#ماه_بہار🌙#ماه#رمضان*
✍ *#اٹھارویں پارے​ کے عناوین کا تعارف🕯
✍ *پارہ 8️⃣1️⃣ کے تین حصے ہیں*
 *۱* ۔ سورۂ مؤمنون (مکمل)
 *۲* ۔ سورۂ نور (مکمل)
 *۳* ۔ سورۂ فرقان (ابتدائی حصہ)

✅ *(۱) سورۂ مؤمنون میں سات اھم باتیں*

 *۱* ۔ استحقاقِ جنت (جنت کے حاصل کرنے کا حق)کی سات صفات
 *۲* ۔ تخلیقِ انسان کے نو مراحل
 *۳* ۔ توحید
 *۴* ۔ انبیاء کے قصے
 *۵* ۔ نیک لوگوں کی چار صفات
 *۶* ۔ نہ ماننے والوں کے انکار کی اصل وجہ
 *۷* ۔ قیامت

*1⃣۔ جنت کے مستحق بننے کی سات صفات:*

✨(۱) *ایمان* ، 
✨(۲) *نماز میں خشوع* ، 
✨(۳) *اعراض عن اللغو* (بری اور فالتو باتوں اور کاموں سے بچنا) ، 
✨(۴) *زکوۃ* ، 
✨(۵) *پاکدامنی* ، 
✨(۶) *امانت داری* ، 
✨(۷) *نمازوں کی حفاظت۔*

*2⃣۔ تخلیقِ انسان کے نو مراحل:*

🔻(۱)مٹی 
🔻(۲)منی 
🔻(۳)جما ہوا خون 
🔻(۴)لوتھڑا 
🔻(۵)ہڈی 
🔻(۶)گوشت کا لباس 
🔻(۷)انسان 
🔻(۸)موت 
🔻(۹)دوبارہ زندگی

*3⃣۔ توحید:*

آغازِ سورہ میں توحید کے تین دلائل ہیں:

🔖(۱)آسمانوں کی تخلیق ،
 🔖(۲)بارش اور غلہ جات ،
 🔖(۳)چوپائے اور ان کے منافع۔

*4⃣۔ انبیائے کرام کے قصے:*

🔖 حضرت نوح علیہ السلام اور ان کی کشتی کا ذکر۔
🔖 حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کا ذکر۔
🔖 حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت مریم کا تذکرہ۔

*5⃣۔ نیک لوگوں کی چار صفات:*

🔖 اللہ سے ڈرتے ہیں ،
🔖 اللہ پر ایمان رکھتے ہیں ، 
🔖 شرک اور ریا نہیں کرتے ، 
🔖 نیکیوں کے باوجود دل ہی دل میں ڈرتے ہیں کہ انھیں اللہ کے پاس جانا ہے۔

*6⃣۔ نہ ماننے والوں کے انکار کی اصل وجہ:*

ان کے انکار کرنے اور جھٹلانے کی نہ یہ وجہ ہے کہ آپ کوئی ایسی نئی بات لے کر آئے ہیں جو پچھلے انبیائے کرام لے کر نہ آئے ہوں ، نہ آپ کے اعلیٰ اخلاق ان لوگوں سے پوشیدہ ہیں ، اور نہ یہ سچ مچ آپ کو (معاذاللہ) مجنون سمجھتے ہیں اور نہ ان کے انکار کی یہ وجہ ہے آپ ان سے معاوضہ مانگ رہے ہیں۔ اصل وجہ اس کے برعکس یہ ہے کہ حق کی جو بات آپ لے کر آئے ہیں، وہ ان کی خواہشات کے خلاف ہے ، اس لیے اسے جھٹلانے کے مختلف بہانے بناتے رہتے ہیں۔

*7⃣۔ قیامت:*

روزِ قیامت جس کے اعمال کا ترازو وزنی ہوگا وہ کامیاب ہے اور جس کےنيک اعمال کا ترازو ہلکا ہوگا وہ ناکام ہے۔


✅ *(۲) سورۂ نور میں دو باتیں یہ ہیں:*

🔖۱۔ سولہ احکام و آداب
🔖۲۔ اہل حق اور اہل باطل کی تین مثالیں


✨ *۱۔ 16 احکام و آداب:​*

🔖زانی اور زانیہ کی سزا سو کوڑے ہیں۔ (احادیث سے ثابت ہے کہ یہ حکم غیرشادی شدہ کے لیے ہے)
🔖بدکار مرد یا عورت کو نکاح کے لیے پسند کرنا مسلمانوں پر حرام ہے۔
🔖عاقل ، بالغ ، پاکدامن مرد یا عورت پر بغیر گواہوں کے زنا کی تہمت لگانے والے کی سزا اسی کوڑے ہیں۔
🔖میاں بیوی کے لیے بجائے گواہوں کے لعان کا حکم ہے۔
🔖کسی کے گھر میں بلا اجازت داخل نہ ہوا کریں ،
 🔖اجازت سے پہلے سلام بھی کرلینا چاہیے۔
🔖آنکھوں اور شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔
🔖نکاح کی ترغیب۔
🔖جو غلام یا کنیز کچھ روپیہ پیسہ ادا کرکے آزادی حاصل کرنا چاہتے ہوں ان کے ساتھ یہ معاہدہ کرلیا کریں۔
🔖کنیزوں کو اجرت کے بدلے زنا پر مجبور نہ کریں۔
🔖چھوٹے بچوں اور گھر میں رہنے والے غلاموں اور کنیزوں کو حکم ہے کہ اگر وہ نماز فجر سے پہلے ، دوپہر کے قیلولے کے وقت اور نماز عشاء کے بعد تمھارے خلوت والے کمرے میں داخل ہوں تو اجازت لے کر داخل ہوں ، کیونکہ ان تین اوقات میں عام طور پر عمومی استعمال کا لباس اتار کر نیند کا لباس پہن لیا جاتا ہے۔
🔖بچے جب بالغ ہوجائیں تو دوسرے بالغ افراد کی طرح ان پر بھی لازم ہے کہ وہ جب بھی گھر میں آئیں تو اجازت لے کر یا کسی بھی طریقے سے اپنی آمد کی اطلاع دے کر آئیں۔
🔖وہ عورتیں جو بہت بوڑھی ہوجائیں اور نکاح کی عمر سے گزر جائیں اگر وہ پردے کے ظاہری حجاب اتار دیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
🔖گھر میں داخل ہوکر گھر والوں کو سلام کریں۔
🔖اجازت کے بغیر اجتماعی مجلس سے نہ اٹھیں۔
🔖اللہ کے رسول کو ایسے نہ پکاریں جیسے آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہیں۔

✅ *۲۔ اہل حق اور اہل باطل کی تین مثالیں:*

 🔖 *پہلی مثال* 
میں مومن کے دل کے نور کو اس چراغ کے نور کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جو صاف شفاف شیشے سے بنی ہوئی کسی قندیل میں ہو ...۔ یہی حال مومن کے دل کا ہے کہ وہ حصولِ علم سے قبل ہی ہدایت پر عمل پیرا ہوتا ہے پھر جب علم آجائے تو نور علی نور کی صورت ہوجاتی ہے۔

 🔖 *دوسری مثال*
 اہل باطل کے اعمال کی ہے جنھیں وہ اچھا سمجھتے تھے، فرمایا کہ ان کی مثال سراب جیسی ہے، جیسے پیاسا شخص دور سے سراب کو پانی سمجھ بیٹھتا ہے، لیکن جب قریب آتا ہے تو وہاں پانی کا نام و نشان بھی نہیں ہوتا ، یہی حال کافر کا ہے کہ وہ اپنے اعمال کو نافع سمجھتا ہے، لیکن جب موت کے بعد اللہ کے سامنے پیش ہوگا تو وہاں کچھ بھی نہیں ہوگا، اس کے اعمال غبار بن کر اڑچکے ہوں گے۔

🔖 *تیسری مثال*
 میں ان کے عقائد کو سمندر کی تہ بہ تہ تاریکیوں کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے ، جہاں انسان کو  اپنا ہاتھ تک دکھائی نہیں دیتا، یہی حال کافر کا ہے جو کفر اور ضلالت کی تاریکیوں میں سرگرداں رہتا ہے۔

✍ *(۳) سورۂ فرقان کے ابتدائی حصے میں چار باتیں یہ ہیں:*

🔻( *۱* ) توحید
🔻( *۲* ) قرآن کی حقانیت
🔻( *۳* ) رسالت
🔻( *۴* ) قیامت

*1⃣ توحید:*

اللہ وہ ذات ہے جو آسمانوں اور زمین کا بادشاہ ہے ، نہ اس کا کوئی بیٹا ہے ، نہ کوئی شریک ہے ، اس نے ہر چیز کو پیدا کرکے اسے ایک نپا تلا انداز عطا کیا ہے۔

*2⃣ قرآن کی حقانیت:*

کافروں کی قرآن کے بارے میں دو قسم کی غلط بیانیاں ذکر کی ہیں:
 🔖 ۔ یہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا افتراء اور اپنی تخلیق ہے جس میں کچھ دوسرے لوگوں نے تعاون کیا ہے۔
 🔖 ۔ یہ گزشتہ قوموں کے قصے اور کہانیاں ہیں جو اس نے لکھوالی ہیں۔

*3⃣ رسالت:*

کفار کا خیال تھا کہ رسول بشر نہیں بلکہ فرشتہ ہوتا ہے اور اگر بالفرض انسانوں میں سے کسی کو نبوت و رسالت ملے بھی تو وہ دنیاوی اعتبار سے خوشحال لوگوں کو ملتی ہے ، کسی غریب اور یتیم کو ہرگز نہیں مل سکتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس باطل خیال کی تردید واضح دلائل سے کی ہے۔

*4⃣ قیامت:*

روزِ قیامت کافروں کے معبودانِ باطلہ سے اللہ تعالیٰ پوچھےگا کہ کیا تم نے میرے ان بندوں کو بہکایا تھا یا یہ راستے سے خود بھٹکے تھے؟ تو وہ اپنے پیروکاروں  کو جھٹلادیں گے اور ان کی غفلت کا اقرار کریں گے ، پھر ان کافروں کو بڑے بھاری عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔
*🌹اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم🌹*
•┈┈•┈•┈•⊰✿✿⊱•┈•┈•┈┈•

سترھواں پارہے کے پیغامات

ماه مبارک رمضان 🌙

بہار قرآن کریم

 سترھواں پارہ​

اس پارے میں دو حصے ہیں:
۱۔ سورۂ انبیاء
۲۔ سورۂ حج

🔰 (۱) سورۂ انبیاء میں تین باتیں یہ ہیں:
۱۔ قیامت
۲۔ رسالت
۳۔ توحید

۱۔ قیامت:
 بتایا گیا ہے کہ قیامت کا وقوع اور حساب کا وقت بہت قریب آگیا ہے، لیکن اس ہولناک دن سے انسان غفلت میں پڑے ہوئے ہیں.(۱)
 نیز قربِ قیامت میں یاجوج اور ماجوج کو کھول دیا جائے گا اور وہ رہ بلندی سے اتر رہے ہوں گے.(۹۶)
 نیز مشرکین اور ان کے اصنام قیامت کے دن دوزخ کا ایندھن بنیں گے۔(۹۸)

۲۔ رسالت:
رسالت کے ضمن میں سترہ انبیائے کرام علیہم السلام کا ذکر ہے: 
(۱)حضرت موسیٰ علیہ السلام ،
(۲)حضرت ہارون علیہ السلام ،
(۳)حضرت ابراہیم علیہ السلام ، 
(۴)حضرت لوط علیہ السلام، 
(۵)حضرت اسحاق علیہ السلام ، 
(۶)حضرت یعقوب علیہ السلام ، 
(۷)حضرت نوح علیہ السلام ، 
(۸)حضرت داؤد علیہ السلام ، 
(۹)حضرت سلیمان علیہ السلام ، 
(۱۰)حضرت ایوب علیہ السلام ، 
(۱۱)حضرت اسماعیل علیہ السلام ،
(۱۲)حضرت ادریس علیہ السلام ، 
(۱۳)حضرت ذی الکفل علیہ السلام ، 
(۱۴) حضرت یونس علیہ السلام ، 
(۱۵)حضرت زکریا علیہ السلام ، 
(۱۶)حضرت یحییٰ علیہ السلام،
(۱۷)حضرت عیسیٰ علیہ السلام.

 ان سترہ میں سے کچھ انبیائے کرام علیہم السلام کے قصے قدرے تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں اور باقیوں کا اجمالی ذکر ہے۔
 انبیائے سابقہ کے قصے بیان کرنے کے بعد بتایا گیا کہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) دین اور دنیا میں سارے جہانوں کے لیے رحمت ہیں، آپ نے اللہ کا پیغام انسانوں تک پہنچا دیا، مگر جب ہر قسم کے دلائل پیش کرنے کے بعد بھی لوگ نہ سمجھے تو آپ نے اللہ سے دعا کی ، اسی دعا پر یہ سورہ ختم ہوتی ہے ، دعا یہ ہے:
”رَبِّ احْكُم بِالْحَقِّ ۗ وَرَبُّنَا الرَّحْمنُ الْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ“؛
”اے میرے پروردگار! حق کا فیصلہ کر اور ہمارا پروردگار بڑی رحمت والا ہے ، اور جو باتیں تم بناتے ہو ان کے مقابلے میں اسی کی مدد درکار ہے۔

۳۔ توحید:
توحید پر چھ دلائل ذکر کیے گئے ہیں:
1) آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے، ہم نے دونوں کو جدا جدا کردیا۔
2) ہم نے ہر جاندار چیز کو پانی سے بنایا ہے۔
3) ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے، تاکہ لوگوں کے بوجھ سے زمین ہلنے نہ لگے۔
4) ہم نے زمین میں کشادہ راستے بنائے، تاکہ لوگ ان پر چلیں۔
5) ہم نے آسمان کو محفوظ چھت بنایا۔
6) رات دن ، سورج اور چاند کا نظام بنایا، ہر ایک اپنے اپنے مدار میں انتہائی تیز رفتاری سے گھوم رہا ہے، نہ ان میں ٹکراؤ ہوتا ہے اور نہ ہی وہ خلط ملط ہوتے ہیں۔


🔰 (۲) سورۂ حج میں چھ باتیں یہ ہیں:​

۱۔ قیامت:
 (قیامت کی ہولناکیوں کے دل دہلانے والی منظر کشی کی گئی ہے۔)

۲۔ تخلیق انسان کے سات مراحل:
 (۱)مٹی 
(۲)منی 
(۳)خون کا لوتھڑا 
(۴)بوٹی 
(۵)بچہ 
(۶)جوان 
(۷)بوڑھا 

۳۔ ملل اور مذاہب کے لحاظ سے چھ گروہ:
1. مسلمان ، 
2. یہودی ، 
3. صابئی(ستارہ پرست) ، 
4. عیسائی ، 
5. مجوسی(سورج، چاند اور آگ کا پجاری) ، 
6. مشرک(بت پرست)

۴۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اعلان حج:

 (حضرت ابرہیم علیہ السلام نے کوه "ابی قیس" پر کھڑے ہوکر حج کا اعلان کیا تھا ، یہ اعلان اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے زمین و آسمان میں رہنے والوں تک پہنچادیا تھا۔)

۵۔ مؤمنوں کی چار علامات:
(۱)اللہ کا خوف ، 
(۲)مصائب پر صبر ، 
(۳)نماز کی پابندی ، 
(۴)نیک مصارف میں خرچ کرنا.

۶۔ دیگر احکامات:
مثلا:
1.  مناسک حج ، 
2. اقامتِ صلوۃ ، 
3. ادائیگیٔ زکوۃ ، 
4. جانوروں کی قربانی 
5. جہاد 
و غیرہ۔.........

التماس دعا

سولہویں پارے​ کے پیغامات

🕌🔵 *سفينة النجاة*🔵🕌

*#ماه_بہار🌙#ماه#رمضان*
✍ *سولہویں پارے​* کے عناوین کا تعارف🕯
✍ *پارہ 6️⃣1️⃣کے تین حصے ہیں*
 *۱* ۔ سورۂ کہف کا بقیہ حصہ
 *۲* ۔ سورۂ مریم مکمل
 *۳* ۔ سورۂ طٰہٰ مکمل

*(1⃣) سورۂ کہف کے بقیہ حصے میں دو باتیں یہ ہیں:*

 *۱* ۔ حضرت موسٰی اور خضر علیہما السلام کا قصہ
(جو پندرھویں پارے کے آخر میں شروع ہوکر سولھویں پارے کے شروع میں ختم ہورہا ہے)

 *۲* ۔  ذوالقرنین  کا قصہ

*1⃣۔ حضرت موسٰی اور خضر علیہما السلام کا قصہ:*
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جب اللہ کی طرف سے یہ اطلاع ہوئی کہ سمندر کے کنارے ایک ایسے صاحب رہتے ہیں جن کے پاس ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں تو آپ ان کی تلاش میں چل پڑے، چلتے چلتے آپ سمندر کے کنارے پہنچ گئے، یہاں آپ کی ملاقات حضرت خضر علیہ السلام سے ہوئی اور آپ نے ان سے ساتھ رہنے کی اجازت مانگی، انھوں نے اس شرط کے ساتھ اجازت دی کہ آپ کوئی سوال نہیں کریں گے، پھر تین عجیب واقعات پیش آئے، پہلے واقعے میں حضرت خضر علیہ السلام نے اس کشتی کے تختے کو توڑ ڈالا جس کے مالکان نے انھیں کرایہ لیے بغیر بٹھالیا تھا، دوسرے واقعے میں ایک معصوم بچے کو قتل کردیا، تیسرے واقعے میں ایک ایسے گاؤں میں گرتی ہوئی بوسیدہ دیوار کی تعمیر شروع کردی جس گاؤں والوں نے انھیں کھانا تک کھلانے سے انکار کردیا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام تینوں مواقع پر خاموش نہ رہ سکے اور پوچھ بیٹھے کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تیسرے سوال کے بعد حضرت خضر علیہ السلام نے جدائی کا اعلان کردیا کہ اب آپ میرے ساتھ نہیں چل سکتے، البتہ تینوں واقعات کی اصل حقیقت انھوں نے آپ کے سامنے بیان کردی، فرمایا کشتی کا تختہ اس لیے توڑا تھا کیونکہ آگے ایک ظالم بادشاہ کے کارندے کھڑے تھے جو ہر سالم اور نئی کشتی زبردستی چھین رہے تھے، جب میں نے اسے عیب دار کردیا تو یہ اس ظالم کے قبضے میں جانے سے بچ گئی، یوں ان غریبوں کا ذریعۂ معاش محفوظ رہا۔ بچے کو اس لیے قتل کیا کیونکہ یہ بڑا ہوکر والدین کے لیے بہت بڑا فتنہ بن سکتا تھا ، جس کی وجہ سے ممکن تھا وہ انھیں کفر کی نجاست میں مبتلا کردیتا، اس لیے اللہ نے اسے مارنے کا اور اس کے بدلے انھیں باکردار اور محبت و اطاعت کرنے والی اولاد دینے کا فیصلہ فرمایا۔ گرتی ہوئی دیوار اس لیے تعمیر کی کیونکہ وہ دو  یتیم بچوں کی ملکیت تھی، ان کے والد اللہ کے نیک بندے تھے، دیوار کے نیچے خزانہ پوشیدہ تھا، اگر وہ دیوار گر جاتی تو لوگ خزانہ لوٹ لیتے اور نیک باپ کے یہ دو یتیم بچے اس سے محروم ہوجاتے، ہم نے اس دیوار کو تعمیر کردیا تاکہ جوان ہونے کے بعد وہ اس خزانے کو نکال کر اپنے کام میں لاسکیں۔

*2⃣۔ ذوالقرنین کا قصہ:*
یہ بڑا زبردست وسائل والا بادشاہ تھا، اس کا گزر ایک قوم پر ہوا جو ایک دوسری وحشی قوم کے ظلم کا نشانہ بنی ہوئی تھی، جسے قرآن نے ” *یاجوج* “ اور ” *ماجوج* “ کا نام دیا ہے۔ ذوالقرنین نے یاجوج ماجوج پر دیوار چن دی، اب وہ قربِ قیامت میں ہی ظاہر ہوں گے۔

*(2⃣) سورۂ مریم میں تقریبا گیارہ انبیائے کرام علیہم السلام کا تذکرہ ہے:​*

✅تین انبیائے کرام علیہم السلام کا ذکر قدرے تفصیلی ہے:

۱۔ حضرت یحی علیہ السلام کی ولادت (اللہ تعالیٰ نے زکریا علیہ السلام اور ان کی اہلیہ کو بڑھاپے میں بیٹا عطا فرمایا جسے نبوت سے بھی سرفراز فرمایا)

۲۔ حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت (اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا فرمایا اور انھیں بچپن میں ہی گویائی عطا فرمادی)

۳۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اپنے چچا کو دعوت توحید دینا (که شرک نہ کریں، اللہ نے مجھے علم دیا ہے میری بات مان لیں، شیطان کی بات نہ مانیں، وہ اللہ کا نافرمان ہے ، اس کے مانیں گے تو اللہ کا عذاب آئے گا۔)

باقی آٹھ انبیائے کرام علیہم السلام کا یا تو بہت مختصر ذکر ہے یا صرف نام آیا ہے:
۴۔حضرت موسیٰ علیہ السلام
۵۔حضرت ہارون علیہ السلام
۶۔حضرت اسماعیل علیہ السلام
 ۷۔حضرت اسحاق علیہ السلام
۸۔حضرت یعقوب علیہ السلام
۹۔حضرت ادریس علیہ السلام
۱۰۔حضرت آدم علیہ السلام
۱۱۔حضرت نوح علیہ السلام

*3⃣ سورۂ طٰہٰ میں تین باتیں یہ ہیں:​*

 *۱* ۔ تسلی رسول
 *۲* ۔ حضرت موسی علیہ السلام کا قصہ
 *۳* ۔ حضرت آدم علیہ السلام کا قصہ

*1⃣۔ تسلی رسول(ص):*

حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قرآن کی تلاوت اور دعوت دونوں میں بے پناہ مشقت اٹھاتے تھے، راتوں کو نماز میں اتنی طویل قراءت فرماتے کہ پاؤں مبارک میں ورم آجاتا اور پھر انسانوں تک قرآن کے ابلاغ اور دعوت میں بھی اپنی جان جوکھوں میں ڈالتے تھے اور جب کوئی اس دعوت پر کان نہ دھرتا تو آپ کو بے پناہ غم ہوتا ، اسی لیے رب کریم نے کئی مقامات پر آپ کو تسلی دی ہے، یہاں بھی یہی سمجھایا گیا کہ آپ اپنے آپ کو زیادہ مشقت میں نہ ڈالیں، اس قرآن سے ہر کسی کا دل متاثر نہیں ہوسکتا ، یہ تو صرف اس شخص کے لیے نصیحت ہے جو دل میں اللہ کا خوف رکھتا ہو۔

*2⃣۔ حضرت موسی علیہ السلام کا قصہ:*

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے جو حالات اس سورت میں بیان کیے گئے ہیں ان کو ذہن نشین کرنے کے لیے چند عنوانات قائم کیے جاسکتے ہیں، یعنی باری تعالیٰ کے ساتھ شرفِ ہم کلامی ، دریا میں ڈالا جانا، تابوت کا فرعون کو ملنا، پوری عزت اور احترام کے ساتھ رضاعت کے لیے  حقیقی والدہ کی طرف آپ کو لوٹا دینا، آپ سے ایک قبطی کا قتل ہونا لیکن اللہ کا آپ کو قصاص سے نجات دلانا، آپ کا کئی سال مدین میں رہنا، اللہ کی طرف سے آپ کو اور آپ کے بھائی حضرت ہارون علیہما السلام کو فرعون کے پاس جانے کا حکم، فرعون کے ساتھ موعظہ حسنہ کے اصول کے تحت مباحثہ، اس کا مقابلے کے لیے جادوگروں کو جمع کرنا، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی فتح، ساحروں کا قبولِ ایمان، راتوں رات بنی اسرائیل کا اللہ کے نبی کی قیادت میں مصر سے خروج، فرعون کا مع لاؤ لشکر تعاقب اور ہلاکت ، اللہ کی نعمتوں کے مقابلے میں بنی اسرائیل کا ناشکراپن ، سامری کا بچھڑا بنانا اور اسرائیلیوں کی ضلالت، تورات لے کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کوه طور سے واپسی اور اپنے بھائی پر غصے کا اظہار ، حضرت ہارون علیہ السلام کا وضاحت کرنا وغیرہ۔

*3⃣۔ حضرت آدم علیہ السلام کا قصہ:*

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرماکر مسجودِ ملائک بنایا ، سب فرشتوں نے سجدہ کیا مگر شیطان نے سجدہ کرنے سے انکار کردیا ، اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے فرمایا اب یہ تمھارا اور تمھاری بیوی کا دشمن ہے ...
•┈┈•┈•┈•⊰✿✿⊱•┈•┈•┈┈•
#فصیحی_ٹی_وی #FASIHI_TV 
•┈┈•┈•┈•⊰✿✿⊱•┈•┈•┈┈•

پندرھواں پارے کے پیغامات

ماه مبارک رمضان 🌙

بہار قرآن کریم🌹📗🌹

💠(ولادت باسعادت حضرت امام حسن مجتبی علیه السلام کے پرمسرت موقع پر، آپ کو اور بالخصوص امام زمان عج کی خدمت میں مبارک باد پیش کرتے ہیں.)

 پندرھواں پارہ

اس پارے میں دو حصے ہیں:​
۱۔ سورۂ بنی اسرائیل (مکمل​)
۲۔ سورۂ کہف کا زیادہ تر حصہ​

🔰 (۱) سورۂ بنی اسرائیل میں چار باتیں یہ ہیں:
۱۔ واقعہ معراج
۲۔ بنی اسرائیل کا فتنہ وفساد
۳۔ اسلامی آداب و اخلاق
۴۔ دیگر مضامین

۱۔ واقعہ معراج:
معراج جسمانی ہوئی اور جاگنے کی حالت میں۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآله وسلم) کو رات کے وقت مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ اور پھر وہاں سے آسمانوں پر لے جایا گیا تھا۔

۲۔ بنی اسرائیل کا فتنہ و فساد:
بنی اسرائیل کو پہلے سے بتادیا گیا تھا کہ تم لوگ دو مرتبہ زمین میں فساد مچاؤ گے، چنانچہ ایک دفعہ حضرت شعیب علیہ السلام کو ایذا پہنچائی تو بخت النصر کو ان پر مسلط کردیا گیا، دوسری بار حضرت زکریا اور یحییٰ علیہما السلام کو شہید کردیا تو بابل کا بادشاہ ان پر مسلط ہوگیا۔

۳۔ اسلامی آداب و اخلاق: (آیات: ۲۳ تا ۳۹)
اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، 
والدین کے ساتھ بھلائی کرتے رہو، 
رشتہ داروں ، مسکینوں اور مسافروں کو ان کا حق دو، 
مال کو فضول خرچی میں نہ اڑاؤ، 
نہ بخل کرو، نہ ہاتھ اتنا کشادہ رکھو کہ کل کو پچھتانا پڑے، 
اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو، 
کسی جاندار کو ناحق قتل نہ کرو، 
یتیم کے مال میں ناجائز تصرف نہ کرو، 
وعدہ کرو تو اسے پورا کرو، 
ناپ تول پورا پورا کیا کرو، 
جس چیز کے بارے میں تحقیق نہ ہو اس کے پیچھے نہ پڑو،
 زمین پر اکڑ کر نہ چلو، 
اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔

۴۔ دیگر مضامین:
قرآن کریم کی عظمت ، 
اس کے نزول کے مقاصد، 
اس کا معجزہ ہونا، 
اللہ کی طرف سے انسان کو تکریم دیا جانا ، 
اسے روح اور زندگی جیسی نعمت کا عطا ہونا، 
نبی اکرم (صلوات الله علیه وآله) کو نمازِ تہجد کا حکم، 
حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا قصہ ، 
قرآن کریم کے تھوڑا تھوڑا نازل ہونے کی حکمت، 
اللہ تعالیٰ کا شریک اور اولاد سے پاک ہونا 
اور اسمائے حسنی کے ساتھ متصف ہونا۔

🔰 (۲) سورۂ کہف کے ابتدائی حصے میں دو باتیں یہ ہیں:
۱۔ دو قصے
۲۔ دو مثالیں

۱۔ دو قصے:
1. پہلا قصہ اصحاب کہف کا:
 یہ وہ چند صاحب ایمان جوان تھے جنھیں دقیانوس نامی بادشاہ، بت پرستی پر مجبور کرتا تھا، وہ ہر ایسے شخص کو قتل کردیتا تھا جو اس کی شرکیہ دعوت کو قبول نہیں کرتا تھا، ان جوانوں کو ایک طرف مال و دولت کے انبار ، اونچے عہدوں پر تقرر اور معیارِ زندگی کی بلندی جیسی ترغیبات دی گئیں اور دوسری طرف ڈرایا دھمکایا گیا اور جان سے مار دینے کی دھمکیاں دی گئیں، ان جوانوں نے ایمان کی حفاظت کو ہر چیز پر مقدم جانا اور اسے بچانے کی خاطر نکل کھڑے ہوئے، چلتے چلتے شہر سے بہت دور ایک پہاڑ کے غار تک پہنچ گئے، راستے میں ایک کتا بھی ان کے ساتھ شامل ہوگیا، انھوں نے اس غار میں پناہ لینے کا ارادہ کیا، وہ جب غار میں داخل ہوگئے تو اللہ نے انھیں گہری نیند سلادیا، یہاں وہ تین سو نو سال تک سوتے ہرے، جب نیند سے بیدار ہوئے تو کھانے کی فکر ہوئی، انمیں سے ایک کھانا خریدنے کے لیے شہر آیا، وہاں اسے پہچان لیا گیا، تین صدیوں میں حالات بدل چکے تھے، اہلِ شرک کی حکومت کب کی ختم ہوچکی تھی اور اب موحد برسر اقتدار تھے، ایمان کی خاطر گھربار چھوڑنے والے یہ نوجوان ان کی نظر میں قومی ہیروز کی حیثیت اختیار کرگئے۔

2. دوسرا قصہ حضرت موسٰی اور خضر علیہما السلام کا:
 اس کا ذکر اگلے پارے کے شروع میں ہوگا۔

۲۔ دو مثالیں:
1. پہلی مثال:
دو شخص تھے، ایک کے باغات تھے اور دوسرا غریب تھا، باغات والا اکڑتا تھا، غریب نے کہا اکڑ نہیں ماشاء اللہ کہا کر، وہ نہ مانا اللہ کا عذاب آیا اور اس کے باغات جل گئے وہ شرمندہ ہوگیا۔

2. دوسری مثال:
دنیاوی زندگی کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان سے پانی برسا، زمین سرسبز ہوگئی، کچھ عرصے بعد سب کچھ سوکھ کر چورا چورا ہوگیا۔

التماس دعا

چودھویں پارے کے پیغامات

🕌🔵 *سفينة النجاة*🔵🕌

*#ماه_بہار🌙#ماه#رمضان*

📌 *#چودھویں پارے کے عناوین*
✍ *پارہ 4️⃣1️⃣کے دو حصے ہیں*#ماہ_مبارک رمضان🌙
#بہار_قرآن 📖

 *۱* ۔ سورۂ حجر مکمل
 *۲* ۔ سورۂ نحل مکمل

✅ *سورۂ حجر میں چار باتیں یہ ہیں:​*

 1⃣  *کفار کی آرزو*
(آخرت میں جب کفار مسلمانوں کو مزے میں اور خود کو عذاب میں دیکھیں گے تو تمنا کریں گے کہ کاش وہ بھی مسلمان ہوجاتے)

 *2⃣* *قرآن کی حفاظت* (اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لیے قرآن کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے)

 *3⃣* ۔ *انسان کی تخلیق*

 (اللہ تعالیٰ نے انسان کو خشک کھنکتی ہوئی مٹی سے خلق کیا، اسے فرشتوں کا مسجود بنایا، شیطان راندہ بہشت ہوا اور  اس نے قیامت تک انسانوں کو گمراہ کرنے کی قسم کھالی)

 *4⃣* ۔ تین قصے

🔻 *پہلا قصہ:*
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو فرشتوں نے بیٹے کی خوشخبری دی، اس وقت ان کی اہلیہ بہت بوڑھی تھیں، بظاہر یہ ولادت کی عمر نہ تھی، اس لیے آپ کو بیٹے کی خوشخبری سن کر خوشی بھی ہوئی اور تعجب بھی ہوا، فرشتوں نے کہا ہم آپ کو سچی خوشخبری سنا رہے ہیں آپ مایوس نہ ہوں، آپ نے فرمایا کہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہونا تو صرف گمراہوں کا کام ہے۔
 🔻 *دوسرا قصہ:*
فرشتے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خوشخبری سنا کر حضرت لوط علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے درخواست کی کہ آپ اپنے گھر والوں کو ساتھ لے کر رات ہی کو اس بستی سے نکل جائیے، کیونکہ آپ کی بستی والے گناہوں کی سرکشی میں اتنے آگے نکل گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ناپاک وجود سے زمین کو پاک کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، ان لوگوں کی جڑ صبح صبح ہوتے ہوتے کاٹ دی جائے گی۔
🔻 *تیسرا قصہ*:
اصحاب الحجر ، ان سے مراد قوم ثمود ہے، یہ لوگ بھی ظلم اور زیادتی کی راہ پر چل نکلے تھے اور بار بار سمجھانے کے باوجود بت پرستی کو چھوڑنے کے لیے آمادہ نہیں ہورہے تھے، انھیں مختلف معجزات دکھائے گئے بالخصوص پہاڑی چٹان سے اونٹنی کی ولادت کا معجزہ جو کہ حقیقت میں کئی معجزوں کا مجموعہ تھا، اونٹنی کا چٹان سے برآمد ہونا، نکلتے ہی اس کی ولادت کا قریب ہونا، اس کی جسامت کا غیر معمولی بڑا ہونا، اس سے بہت زیادہ دودھ کا حاصل ہونا، لیکن ان بدبختوں نے اس معجزے کی کوئی قدر نہ کی، بجائے اس کے کہ وہ اسے دیکھ کر ایمان قبول کرلیتے انھوں نے اس اونٹنی کو ہلاک کردیا، چنانچہ وادی حجر والے بھی عذاب کی لپیٹ میں آکر رہے۔

✍ *_اس سورہ کے بعض اہم نکات:_*

- آیت٤٧، متقیوں کے دلوں میں سے اللہ نے ایکدوسرے کیلئے دشمنی ختم کردی، روایت نے بیان کیا کہ یہ آیت حضرات علی، حمزہ، جعفر، عقیل، ابوذر، سلمان، عمار، مقداد، امام حسن، امام حسین اور اصحاب بدر کی شان میں نازل ہوئی۔
- آیت٦٠، حضرت لوط (ع) کی بیوی نبی کی زوجہ ہونے کے باوجود ہلاک ہونے والوں میں سے قرار پائی۔
- آیت٧٥، کے بارے میں 'متوسمین' سے مراد روایت میں آیا کہ سب سے پہلے آقا علیہ السلام ہیں اور پھر علی، پھر حسن، پھر حسین، پھر علی بن الحسین (امام زین العابدین)، پھر محمد بن علی (امام باقر) اور حضرت علی کی اولادوں میں سے امام ہیں۔
- آیت٩٤، ابن عباس کہتے ہیں کہ اس آیت میں حضور کو جس چیز کی علنی تبلیغ کا حکم دیا گیا وہ قرآن اور اہلبیت کی فضیلت تھی۔


(۲) *سورۂ نحل میں پانچ باتیں یہ ہیں:​*
۱۔ *توحید*
۲۔ *رسالت*
۳۔ *شہد کی مکھی*
۴۔ *جامع آیت*
۵۔ *حضرت ابرہیم علیہ السلام کی تعریف*

1⃣ *توحید:*

اللہ تعالیٰ نے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا، انسان کو نطفے سے پیدا کیا، چوپائے پیدا کیے، جن میں مختلف منافع بھی ہیں اور وہ اپنے مالک کے لیے فخر و جمال کا باعث بھی ہوتے ہیں، گھوڑے، خچر جیسے  جاندار پیدا کیے جو باربرداری کے کام آتے ہیں اور ان میں رونق اور زینت بھی ہوتی ہے۔ بارش وہی برساتا ہے، پھر اس بارش سے زیتون، کھجور، انگور اور دوسرے بہت سارے میوہ جات اور غلے وہی پیدا کرتا ہے۔ رات اور دن، سورج اور چاند کو اسی نے انسان کی خدمت میں لگا رکھا ہے۔ دریاؤں سے تازہ گوشت اور موتی وہی مہیا کرتا ہے۔ سمندر میں جہاز اور کشتیاں اسی کے حکم سے رواں دواں ہیں۔ اگر اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہیں تو شمار نہیں کرسکتے۔

2⃣۔ *رسالت* :

نبی ص کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ لوگوں کو حکمت اور موعظہ حسنہ کے ساتھ اللہ کی طرف بلائیں اور اس کی راہ میں پیش آنے والے مصائب پر صبر کریں۔ نیز آپ کو صبر کرنے اور تنگدل نہ ہونے کی تلقین کی گئی ہے۔

3⃣۔ *شہد کی مکھی* :

شہد کی مکھی کا نظام بہت عجیب ہوتا ہے، یہ اللہ کے حکم سے پہاڑوں اور درختوں میں اپنا چھتہ بناتی ہے، مختلف قسم کے پھلوں کا رس چوستی ہے، پھر ان سے اللہ تعالیٰ کی دی ہوی قدرت سے شہد بناتی ہیں، جس کے رنگ مختلف ہوتے ہیں اور اس شہد میں اللہ نے انسانوں کی بیماریوں کے لیے شفا رکھی ہے۔

4⃣۔ *جامع آیت* :

اس سورت کی آیت نمبر ۹۰ میں تین باتوں کا حکم دیا گیا ہے اور تین باتوں سے منع کیا گیا ہے: _عبادات اور معاملات میں عدل_ ، _ہر ایک کے ساتھ اچھا سلوک اور قرابت داروں کے ساتھ تعاون کرنے کا حکم_ دیا گیا ہے اور کھلی گمراہی ، منع کردہ کاموں اور ظلم کرنے سے روکا گیا ہے۔

5⃣۔ *حضرت ابرہیم علیہ السلام کی تعریف* :

حضرت ابراہیم علیہ السلام زندگی بھر توحیدِ خالص پر جمےرہے.

 ✍ *_اس سورہ کے کچھ اہم نکات_* :

آیت١٦، میں  لفظ 'نجم' کی تفسیر کو روایت نے حضرت علی ع کی  شخصیت  سے تعبیر کیا ہے-
 آیت٢٥، رہنمائی کرنے والے پیروکاروں کے اعمال میں شریک ہیں۔
- آیت٤٣، میں 'اہل ذکر' کی تفسیر میں حضرت علی ع اور امام باقر ع نے فرمایا؛ اس سے مراد ہم (اہلبیت) ہیں۔
- آیت٤٤، قرآن کے تنہا کافی ہونے کی نفی اور اس کیلئے مفسر کی ضرورت کو بیان کر رہی ہے جو کہ خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس ہے اور آنحضرت ص کے بعد حدیث ثقلین کے مطابق 'آل رسول' ہیں ۔
- آیت٧٢، 'خاندان' ایک الہی نعمت ہے۔
- آیت١٠٦، مکتب تشیع کے مطابق 'تقیَّہ' کے جواز پر دلیل یہ آیت بھی ہے۔
- آیت١١٩، توبہ قبول ہونے کی شرائط
- آیت١٢٠، حضرت ابراہیم علیہ السلام تنھا، ایک امت ہیں۔   

🤲 *التماس دعا*🤲🏻
*❣الـلَّهُــــمَّ عَجِّـــلْ لِوَلِیِّکَـــ الْفَـــــــــرَجْ❣*
•┈┈•┈•┈•⊰✿✿⊱•┈•┈•┈┈•
#فصیحی_ٹی_وی #FASIHI_TV 

تیرویں پارےکے پیغامات

🕌🔵  سفينة النجاة 🔵🕌

#ماه_بہار🌙#ماه#رمضان

📌 *#تیرویں پارےکےعناوین
✍ *پارہ 3️⃣1️⃣کے تین حصے ہیں
👈۱۔ سورۂ یوسف کا بقیہ حصہ
👈۲۔ سورۂ رعد مکمل
👈۳۔ سورۂ ابراہیم مکمل

(۱) سورۂ یوسف کا بقیہ حصہ:

اس کی تفصیل پچھلے پارے میں ذکر ہوچکی ہے۔
البتہ ایک اہم نکتہ آیت۹۷و۹۸ میں ذکر ہوا اور وہ اللہ کی بارگاہ میں انبیاء کو وسیلہ بنانا ہے اور پھر اس کی تائید خود حضرت یعقوب ع کی زبانی بھی ہوئی۔
◻اس کے علاوہ خود حضرت رسول خدا(ص) اور انکی پیروی کرنے والے ہی بصیرت رکھتے ہیں۔ روایت میں آیا کہ حضور(ص) کے پیروکار کا کامل اور اتم مصداق حضرت علی(ع) ہیں اور یہ آیت خاص طور پہ حضرت علی(ع) کی شان میں ہی نازل ہوئی ہے۔

 *(۲) سورۂ رعد میں پانچ باتیں یہ ہیں:*

 *۱* ۔ قرآن کی حقانیت
 *۲* ۔ توحید
 *۳* ۔ قیامت
 *۴* ۔ رسالت
 *۵* ۔ متقین کی آٹھ صفات اور اشقیاء کی تین علامات

*1⃣۔ قرآن کی حقانیت:*

یہ نکتہ قابل غور ہے کہ جن سورتوں کا آغاز حروف مقطعات سے ہوتا ہے ان کی ابتدا میں عام طور پر قرآن کا ذکر ہوتا ہے، ان مخالفین کو چیلنج کرنے کے لیے جو قرآن کریم کو معاذ اللہ انسانی کاوش قرار دیتے ہیں۔

*2⃣۔ توحید:*

آسمانوں اور زمین، سورج اور چاند، رات اور دن، پہاڑوں اور نہروں ، غلہ جات اور مختلف رنگوں، ذائقوں اور خوشبوؤں والے پھلوں کو پیدا کرنے والا وہی ہے، موت اور زندگی ، نفع اور نقصان اس اکیلے کے دست قدرت میں ہے۔ اللہ نے انسانوں کی حفاظت کے لیے فرشتے مقرر کر رکھے ہیں۔

*3⃣۔ قیامت:*

مشرکوں کو تو اس پر تعجب ہوتا ہے کہ مردہ ہڈیوں میں زندگی کیسے ڈالی جائے گی، جبکہ درحقیقت باعثِ تعجب بعث(آٹھنا ) بعد الموت نہیں ہے، بلکہ ان لوگوں کا تعجب سے یہ کہنا، باعث تعجب ہے۔

*4⃣۔ رسالت:*

آیت٧، ہر قوم کے لیے کوئی نہ کوئی رہنما اور پیغمبر بھیجا جاتا ہے.  نبی اکرم(ص) نے ارشاد فرمایا کہ 'منذر' میں ہوں اور میرے بعد 'ھادی' (ہدایت کرنے والے) علی(ع) ہیں۔
- رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ) کے اللہ کی طرف سے رسول ہونے کے گواہ "اللہ" اور وہ ہے کہ 'عندہ علم الکتاب' جس کے پاس کتاب کا علم ہے، اس کا مصداق حضور(ص) نے حضرت علی(ع) کی شخصیت بتائی۔

*5⃣۔ متقین کی آٹھ صفات اور اشقیاء کی تین علامات:*

✅ *متقین کی آٹھ صفات* :

(۱) *وفاداری*
(۲) *صلہ رحمی*
(۳) *خوف خدا*
(۴) *خوف آخرت*
(۵) *صبر*
(۶) *نماز کی پابندی*
(۷) *صدقہ* 
(۸) *برائی کا بدلہ اچھائی سے*

✅ *اشقیاء کی تین علامات* :

(۱) *وعدہ خلافی*
(۲) *قطع رحمی*
(۳) *زمین پر فساد*

 *(۳) سورۂ ابراہیم میں پانچ باتیں یہ ہیں:*
۱۔ توحید
۲۔ رسالت
۳۔ قیامت
۴۔ چند اہم باتیں
۵۔ چھ دعائیں

*1⃣۔ توحید:*
تمام آسمانوں اور زمینوں کو "اللہ" (تبارک و تعالی) نے بنایا ہے، اسی نے آسمان سے پانی اتارا ، پھر انسانوں کے لیے زمین سے قسم قسم کے پھل نکالے اور پانی کی سواریوں اور نہروں کو انسانوں کے تابع کردیا اور سورج اور چاند اور رات اور دن کو انسانوں کے کام میں لگادیا، غرض جو کچھ انسانوں نے مانگا اللہ نے عطا کیا، اس کی نعمتیں اتنی زیادہ ہیں کہ ان کی گنتی بھی انسان کے بس کی بات نہیں۔

*2⃣۔ رسالت:*

اس کے ضمن میں کچھ باتیں یہ ہیں:
1⃣۔ نبی علیہ السلام کی تسلی کے لیے بتایا گیا ہے کہ سابقہ انبیاء کے ساتھ بھی ان کی قوموں نے اعراض و انکار اور عداوت و مخالفت کا یہی رویہ اختیار کیا تھا، جو آپ کی قوم اختیار کیے ہوئے ہے۔
2⃣ ۔ ہر نبی اپنی قوم کا ہم زبان ہوتا ہے۔
3⃣۔ پچھلی قوموں کے مکذبین کے کچھ شبہات کا ذکر کیا گیا ہے:

(۱) *اللہ تعالیٰ کے وجود کے بارے میں شک*

(۲) *رسول کوئی بشر نہیں ہوسکتا*

(۳) *تقلید آباء۔*

* ان شبہات کی تردید کی گئی ہے۔

*3⃣۔ قیامت:*
کافروں کے لیے جہنم اور مومنین کے لیے جنت کا وعدہ ہے۔
جنت کی نعمتوں اور جہنم کی ہولناکیوں کا ذکر ہے۔
روزِ قیامت حساب کتاب ہوجانے کے بعد شیطان گمراہوں سے کہے گا کہ جو وعدہ خدا نے تم سے کیا تھا وہ تو سچا تھا اور جو وعدہ میں نے تم سے کیا تھا وہ جھوٹا تھا ، میں نے تم پر زبردستی نہیں کی تھی، تم خود میرے بہکاوے میں آگئے تھے، اب مجھے ملامت کرنے کے بجائے اپنے آپ کو ملامت کرو۔

*4⃣۔ چند اہم باتیں:*
(۱) شکر سے نعمت میں اضافہ ہوتا ہے اور ناشکروں کے لیے اللہ تعالٰی کا سخت عذاب ہے۔
(۲) کافروں کے اعمال کی مثال راکھ کی سی ہے کہ تیز ہوا آئے اور سب اڑا لے جائے۔
(۳) * حق اور ایمان کا کلمہ پاکیزہ درخت کی مانند ہے ، اس کی جڑ بڑی مضبوط اور اس کا پھل بڑا شیریں ہوتا ہے؛
 (روایتوں نے اس آیت کی تفسیر میں شجرہ طیبہ سے مراد حضرت محمد مصطفی(ص) اور اس کی شاخ حضرت علی مرتضی(ع) اور اس کا پھل امام حسن مجتبی(ع) اور امام حسین سیدالشهداء(ع) کو بیان کیا)
* اور باطل اور ضلالت کا کلمہ ناپاک درخت کی مانند ہے ، اس کے لیے قرار بھی نہیں ہوتا اور وہ ہوتا بھی بے ثمر ہے۔
(۴) اللہ تعالیٰ ظالموں کے کرتوتوں سے بے خبر نہیں ہے۔
(۵) آیت۲۷؛ اللہ تعالی نے ایمان لانے والوں کو ان کے قول میں ثابت قدمی عنایت کی ہے۔
* پیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ) نے فرمایا کہ اللہ تعالی اہل ایمان کو ان کے قول میں ثابت قدمی حضرت علی(ع) کے ذریعے دیتا ہے۔

*5⃣۔چھ دعائیں:*

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اپنے رب سے چھ دعاؤں کا ذکر ہے:

 (۱) *امن*
(۲) *بت پرستی سے حفاظت*
(۳) *اقامتِ صلاۃ*
(۴) *دلوں کا میلان*
(۵) *رزق*
(۶) *مغفرت کی درخواست*  

🤲 *التماس دعا*🤲🏻
*❣الـلَّهُــــمَّ عَجِّـــلْ لِوَلِیِّکَـــ الْفَـــــــــرَجْ❣*
•┈┈•┈•┈•⊰✿✿⊱•┈•┈•┈┈•
فصیحی_ٹی_وی FASIHI TV 
•┈┈•┈•┈•⊰✿✿⊱•┈•┈•┈┈•

بارہواں پارے ​کے پیغامات

🕌🔵 *سفينة النجاة*🔵🕌
*#ماه_بہار🌙#ماه#رمضان*

📌 *بارہواں پارے ​کے عناوین*
✍ *پارہ 2️⃣1️⃣کے دو حصے ہیں*

📌👈  *۱* ۔ سورۂ ہود مکمل (اس کی ابتدائی پانچ آیات گیارھویں پارے میں ہیں)
 *۲* ۔ سورۂ یوسف کا کچھ حصہ

 اس پارے میں سورہ ھود کے مطالب سے پہلے پچھلے پارے میں اس سورہ کی آیت ۳ میں اللہ کی طرف سے صاحب فضل کو فضل (فضیلت) دینے کا ذکر ہوا۔ حدیث نے بیان کیا ہے کہ وہ صاحب فضل (فضیلت) حضرت علی علیه السلام کی شخصیت ہے۔

 *(۱) سورۂ ھود میں چار باتیں یہ ہیں:*

۱۔ قرآنِ کریم کی عظمت
۲۔ توحید اور دلائل توحید
۳۔ رسالت اور اس کے اثبات کے لیے سات انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات
۴۔ قیامت کا تذکرہ

*۱۔ قرآن کی عظمت:*

(۱) قرآن اپنی آیات، معانی اور مضامین کے اعتبار سے محکم کتاب ہے اور اس میں کسی بھی اعتبار سے فساد اور خلل نہیں آسکتا اور نہ اس میں کوئی تعارض یا تناقض پایا جاتا ہے، اس کے محکم ہونے کی بڑی وجہ یہی ہے کہ یہ کتاب اس ذات کی طرف سے آئی ہے جو حکیم بھی ہے اور خبیر بھی ہے۔

(۲)منکرین قرآن کو چیلنج دیا گیا ہے کہ اگر واقعی قرآن انسانی کاوش ہے تو تم بھی اس جیسی دس سورتیں بناکر لے آؤ۔

*۲۔ توحید اور دلائل توحید:*

ساری مخلوق کو رزق دینے والا اللہ ہی ہے، خواہ وہ مخلوق انسان ہو یا جنات، چوپائے ہوں یا پرندے، پانی میں رہنے والی مچھلیاں ہوں یا کہ زمین پر رینگنے والے کیڑے مکوڑے، آسمان اور زمین کو اللہ(عزوجل) ہی نے پیدا کیا ہے۔

*۳۔ رسالت اور اس کے اثبات کے لیے سات انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات:*

1️⃣ *حضرت نوح علیہ السلام*:
 ان کی قوم ایمان نہیں لائی سوائے چند لوگوں کے، انھوں نے اللہ کے حکم سے کشتی بنائی، ایمان والے محفوظ رہے، باقی سب غرق ہوگئے۔

2️⃣ *حضرت ہود علیہ السلام*:

ان کی قوم میں سے جو ایمان لے آئے وہ کامیاب ہوئے باقی سب پر (باد صرصر کی صورت میں) اللہ کا عذاب آیا۔

3️⃣ *حضرت صالح علیہ السلام*:

 ان کی قوم کی فرمائش پر اللہ تعالیٰ نے پہاڑ سے اونٹنی نکالی، مگر قوم نے اسے مار ڈالا، ان پر بھی اللہ کا عذاب نازل ہوا۔

4️⃣ *حضرت ابراہیم علیہ السلام*:

 حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زوجہ کو اللہ نے بڑھاپے کی حالت میں بیٹا حضرت اسحاق ع کی صورت میں عطا فرمایا پھر ان کے بیٹے یعقوب ع  ہوئے۔

5️⃣ *حضرت لوط علیہ السلام*:

 ان کی قوم کے لوگ بدکار تھے، عورتوں کے بجائے لڑکوں کی طرف مائل ہوتے تھے، کچھ فرشتے خوبصورت جوانوں کی شکل میں حضرت لوط علیہ السلام کے پاس آئے، ان کی قوم کے بدکار لوگ بھی وہاں پہنچ گئے، حضرت لوط علیہ السلام نے انھیں سمجھایا کہ لڑکیوں سے شادی کرلو، مگر وہ نہ مانے، ان پر اللہ کا عذاب آیا ، اس بستی کو زمین سے اٹھا کر الٹادیا گیا اور ان پر پتھروں کا عذاب نازل کیا گیا۔

6️⃣ *حضرت شعیب علیہ السلام*:

 ان کی قوم کے لوگ ناپ تول میں کمی کرتے تھے، جنھوں نے نبی کی بات مانی بچ گئے، نافرمانوں پر چیخ کا عذاب آیا۔

7️⃣ *حضرت موسی علیہ السلام*:

 فرعون نے ان کی بات نہیں مانی ، اللہ نے اسے اور اس کے ماننے والوں کو ناکام کردیا۔

* ان واقعات میں ایک طرف تو عقل، فہم اور سمع و بصر والوں کے لیے بے پناہ عبرتیں اور نصیحتیں ہیں،
 اور دوسری طرف حضور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اور مخلص اہلِ ایمان کے لیے تسلی اور ثابت قدمی کا سامان اور سبق ہے، اسی لیے یہ واقعات بیان کرتے ہوئے آپ کو استقامت کا حکم دیا گیا ہے۔
روایت میں آیا ہے حضور نے فرمایا کہ _سورہ ھود (کے اس حکم کی وجہ سے) اور سورہ واقعہ نے مجھے بوڑھا کردیا۔ (آیت۱۱۲)

*۴۔ قیامت کا تذکرہ:*

روزِ قیامت انسانوں کی دو قسمیں ہوں گی:

(۱)بد بخت لوگ
(۲)نیک بخت لوگ

*بدبختوں کے لیے ہولناک عذاب ہوگا جب تک اللہ چاہیں گے۔(حالتِ کفر پر مرنے والے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہیں گے)۔*

*نیک بختوں کے لیے اللہ نے جنت میں ہمیشہ ہمیشہ کی بے حساب نعمتیں رکھی ہیں۔*

 *- اس سورے کے مزید اہم نکات اور اہلبیت(علیهم السلام) کی فضیلت کے نکتے:*

1- _آیت۱۲_؛ جس پیغام کو پہنچانے میں حضور پیغمبراسلام(ص) خوف محسوس کر رہے تھے کہ لوگ قبول نہیں کریں گے، وہ حضرت ختمی مرتبت(ص) کے بعد حضرت علی(ع) کے جانشین ہونے کا اعلان تھا۔

2- _آیت۱۷_؛ نبی کریم(ص) کے بینہ (یعنی معجزہ جو کہ قرآن ہے) اللہ کی طرف سے گواہ بھی آیا ہے، جسے حدیث نے حضرت علی(ع) کی شخصیت بتایا۔(قرآن ناطق).

3- _آیت۳۱_؛ انبیاء کیلئے (اللہ سے مستقل) علم غیب کی نفی۔ اس آیت کو سورہ جن کی آیت۲۶ و ۲۷ کے ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔

4- _آیت۴۶_؛ قرآن کی نگاہ میں کسی کا 'اہل' ہونا نسبی رشتے داری کی بنا پر نہیں ہے۔ اسی لئے حضرت نوح(ع) کے بیٹے کو ان کے 'اہل' ہونے کا انکار کیا گیا۔

5- _آیت۱۱۳_؛ ظالموں پر نہ ہی تو اعتماد کیا جائے اور نہ ہی ان کے سہارے رہا جائے۔

*(۲) قصۂ حضرت یوسف علیہ السلام:*

حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹے تھے، حضرت یوسف علیہ السلام ان میں سے غیرمعمولی طور پر حَسِین تھے، ان کی سیرت اور صورت دونوں کے حسن کی وجہ سے ان کے والد حضرت یعقوب علیہ السلام ان سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔
ایک مرتبہ حضرت یوسف علیہ السلام نے خواب دیکھا اور اپنے والدِ گرامی کو اپنا خواب سنایا کہ گیارہ ستارے اور چاند اور سورج مجھے سجدہ کر رہے ہیں، ان کے والد نے انھیں منع کیا کہ اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کو مت بتانا، باپ کی بیٹے سے اس محبت کی وجہ سے بھائی حسد میں مبتلا ہوگئے، وہ اپنے والد کو کھیلنے کا کہہ کر حضرت یوسف علیہ السلام کو جنگل میں لے گئے اور آپ کو کنویں میں گرادیا، وہاں سے ایک قافلہ گزرا، انھوں نے پانی نکالنے کے لیے کنویں میں ڈول ڈالا تو اس ڈول کے ذریعے سے آپ باہر آگئے، قافلے والوں نے آپکو مصر لے جاکر بیچ دیا، عزیزِ مصر نے خرید کر اپنے گھر میں رکھ لیا،
عزیزِ مصر نے بدنامی سے بچنے کے لیے حضرت یوسف ع  کو جیل میں ڈلوادیا،
قیدخانے میں بھی آپ نے دعوتِ توحید کا سلسلہ جاری رکھا، جس کی وجہ سے قیدی آپ کی عزت کرتے تھے،
بادشاہِ وقت کے خواب کی صحیح تعبیر اور تدبیر بتانے کی وجہ سے آپ اس کی نظروں میں جچ گئے، اس نے آپ کو خزانے، تجارت اور مملکت کا خود مختار وزیر بنادیا، مصر اور گردوپیش میں قحط کی وجہ سے آپ کے بھائی غلہ حاصل کرنے کے لیے مصر آئے، ایک دو ملاقاتوں کے بعد آپ نے انھیں بتایا کہ میں تمھارا بھائی یوسف ہوں، پھر آپ کے والدین بھی مصر آگئے اور سب یہیں آکر آباد ہوگئے۔

 *بصائر و عبر از قصۂ حضرت یوسف علیہ السلام:*

1️⃣مصیبت اور سختی کے بعد راحتی ہے۔

2️⃣حسد خوفناک بیماری ہے۔

3️⃣اچھے اخلاق ہر جگہ کام آتے ہیں۔

4️⃣پاکدامنی تمام بھلائیوں کا سرچشمہ ہے۔

5️⃣نامحرم مرد اور عورت کا اختلاط تنہائی میں نہیں ہونا چاہیے۔

6️⃣ایمان کی برکت سے مصیبت آسان ہوجاتی ہے۔

7️⃣معصیت پر مصیبت کو ترجیح دینی چاہیے۔

8️⃣داعی قید میں بھی دعوت دیتا ہے۔

9️⃣مواضع تہمت سے بچنا چاہیے۔

🔟جو حق پر تھا اس کی سب نے شہادت دی: اللہ تعالیٰ نے، خود حضرت یوسف علیہ السلام نے، عزیز مصر کی بیوی نے، عورتوں نے، عزیزِ مصر کے خاندان کے ایک فرد نے۔


( _توجہ: اس خلاصہ تفسیر میں اہل بیت علیهم السلام کے بارے میں نقل کئے جانے والے تمام مطالب، اہلسنت کی کتب میں بھی آئے ہیں۔_)

🤲 *التماس دعا*🤲🏻
*❣الـلَّهُــــمَّ عَجِّـــلْ لِوَلِیِّکَـــ الْفَـــــــــرَجْ❣*
•┈┈•┈•┈•⊰✿✿⊱•┈•┈•┈┈•
فصیحی ٹی وی FASIHI TV 
•┈┈•┈•┈•⊰✿✿⊱•┈•┈•┈┈•

 گیارھواں پارہ کے پیغامات

ماه مبارک رمضان 🌙

بہار_قرآن کریم 🌺📗🌺

 گیارھواں پارہ

اس پارے میں دو حصے ہیں:​
۱۔ سورۂ توبہ کا بقیہ حصہ
۲۔ سورۂ یونس مکمل

🔰 (۱) سورۂ توبہ کے بقیہ حصے میں تین باتیں یہ ہیں:​
۱۔ منافقین کی مذمت
۲۔ حقیقی شہدا کی نو صفات
۳۔ سابقون الاولون سے اللہ کی رضایت کا اعلان
۴۔ غزوۂ تبوک میں شرکت نہ کرنے والے تین صحابہ
۵۔ مومنوں کو 'صادقین' کے ساتھ ہوجانے کا حکم

۱۔ منافقین کی مذمت:
اللہ تعالیٰ نے غزوۂ تبوک میں شریک نہ ہونے کے بارے میں منافقین کے جھوٹے اعذار کی اپنے نبی(ص) کو خبر دے دی، 
نیز منافقین نے مسلمانوں کو تنگ کرنے کے لیے مسجد ضرار بنائی تھی،
 اللہ تعالیٰ نے نبی کو اس میں کھڑا ہونے سے منع فرمایا، 
رسول اکرم(ص) کے حکم سے اس مسجد کو جلا دیا گیا اور منافقین سے منہ پھیرلینے کا حکم دے دیا گیا۔

۲۔ حقیقی شہدا کی نو صفات:
(۱)توبہ کرنے والے 
(۲)عبادت کرنے والے 
(۳)حمد کرنے والے 
(۴)روزہ رکھنے والے 
(۵)رکوع کرنے والے 
(۶)سجدہ کرنے والے 
(۷)نیک کاموں کا حکم کرنے والے 
(۸)بری باتوں سے منع کرنے والے 
(۹)اللہ کی حدود کی حفاظت کرنے والے

۳۔ سابقون الاولون سے اللہ کی رضایت کا اعلان
روایت میں آیا کہ سابقون اولون کا مصداق حضرت موسی(ع) کیلئے یوشع تھے،
 اور حضرت عیسی(ع) کیلئے صاحب یاسین،
 اور رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ کیلئے حضرت علی علیه السلام ہیں۔

۴۔ غزوۂ تبوک میں شرکت نہ کرنے والے تین صحابہ:
(۱)کعب بن مالک 
(۲)ہلال بن امیہ 
(۳)مرارہ بن ربیع
ان تینوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ) کے حکم کے باوجود حضور کے حکم کی خلاف ورزی کی اور جنگ میں نہیں گئے۔
ان تینوں سے پچاس دن کا بائکاٹ کیا گیا، پھر ان کی توبہ کی قبولیت کا اعلان وحی کے ذریعے کیا گیا۔

۵۔ مومنوں کو 'صادقین' کے ساتھ ہوجانے کا حکم) (آیت١١٩)
 روایات میں 'صادقین' کا مصداق حضرت علی(ع) -خصوصا- اور اهل بیت اطهار(ع) کو -عموما- بتایا گیا۔
🔰 (۲) سورۂ یونس میں چار باتیں یہ ہیں:​
۱۔ توحید (رازق ، مالک ، خالق اور ہر قسم کی تدبیر کرنے والا اللہ ہی ہے)۔آیت:۳۱
بتوں کو شفیع قرار دینے کا نظریہ باطل ہے۔آیت۱۸)
۲۔ رسالت (اور اس کے ضمن میں حضرت نوح ، حضرت موسیٰ ، حضرت ہارون اور حضرت یونس علیہم السلام کے قصے مذکور ہیں۔)
اس کے علاوہ ھدایت کرنے والے کا معیار دیا گیا اور حسکانی کہتے ہیں کہ ابن عباس نے فرمایا اس کا مصداق (اللہ اور رسول (ص) کے بعد) علی(ع) ہیں؛ کیونکہ علی(ع) نے بغیر اسکے کہ (رسول کے علاوہ کسی اور سے) تعلیم حاصل کی ہو، صحیح فیصلے کرتے ہیں۔)
۳۔ قیامت (روز قیامت سب کو جمع کیا جائے گا۔آیت:۴ ، کفار کو اس کا یقین نہیں۔ آیت:۱۱)
۴۔ قرآن کی عظمت (یہ بڑی دانائی کی کتاب کی آیات ہیں۔ آیت:۱)

الف) حضرت نوح (ع) کا قصہ:
حضرت نوح (ع) نے اپنی قوم کو دعوت دی، انھوں نے بات نہیں مانی، سوائے کچھ لوگوں کے، اللہ تعالیٰ نے ماننے والوں کو نوح علیہ السلام کی کشتی میں محفوظ رکھا اور باقی سب کو جوکہ نافرمان تھے پانی میں غرق کردیا۔
- یہاں ایک قابل غور نکتہ یہ ہے کہ حضرت ختمی مرتبت(ص) نے بھی اپنی امت کی نجات کیلئے اپنے اہلبیت(ع) کو سفینہ قرار دیا اور اس میں سوار ہونے والوں کی نجات کی ضمانت لی۔

ب) حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کا قصہ:
حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی طرف بھیجا، فرعون اور اس کے سرداروں نے بات نہ مانی، بلکہ فرعون نے خدائی کا دعوی کیا، حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جادوگر بتلایا اور ان کے مقابلے میں اپنے جادوگروں کو لے آیا، جادوگر حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئے، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کو حکم دیا کہ اپنی قوم کے لیے مصر میں گھر اور مسجدیں بنائیں اور مسجدوں میں سب نماز ادا کریں، فرعون اور اس کے ماننے والے بنی اسرائیل کا پیچھا کرتے ہوئے سمندر میں غرق ہوگئے، بنی اسرائیل کے لیے اللہ نے سمندر میں راستے بنادیے۔

ج) حضرت یونس علیہ السلام:
انھی کے نام پر اس سوره کا نام ”سورۂ یونس“ رکھا گیا ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام کا نام قرآن میں چار جگہ(سورۂ نساء ، انعام ، یونس اور صافات میں) صراحۃً یونس آیا ہے،
 اور دو جگہ(سورۂ یونس اور سورۂ قلم میں) اللہ نے ان کا ذکر مچھلی والا (صاحب الحوت / ذا النون) کی صفت کے ساتھ فرمایا ہے۔
حضرت یونس علیہ السلام کے واقعے کے دو رخ ہیں:
1. ایک ان کا مچھلی کے پیٹ میں جانا، اس کا تفصیلی ذکر سورۂ صافات میں ہے۔
2. دوسرا ان کی قوم کا ان کی غیر موجودگی میں توبہ استغفار کرنا، سورۂ یونس میں اس طرف اشارہ ہے۔

قصہ:
حضرت یونس علیہ السلام اپنی قوم کے ایمان سے مایوس اور اللہ کا عذاب آنے کو یقینی دیکھ کر ”نینوی“ کی سر زمین چھوڑ کر چلے گئے، آگے جانے کے لیے جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو سمندر میں طغیانی کی وجہ سے کشتی ڈوبنے لگی، حضرت یونس علیہ السلام نے سمندر میں چھلانگ لگادی، ایک بڑی مچھلی نے انھیں نگللیا، اللہ نے انھیں مچھلی کے پیٹ میں بھی بالکل صحیح و سالم زندہ رکھا، چند روز بعد مچھلی نے انھیں ساحل پر اگل دیا، ادھر یہ ہوا کہ ان کی قوم کے مرد اور عورتیں، بچے اور بڑے سب صحرا میں نکل گئے اور انھوں نے آہ و زاری اور توبہ و استغفار شروع کردیا اور سچے دل سے ایمان قبول کرلیا، جس کی وجہ سے اللہ کا عذاب ان سے ٹل گیا۔

_اس کے علاوہ سورہ یونس میں اہلبیت اطهار(ع) کی فضیلت کے چند نکتے:_
* - آیت۲۵؛ صراط مستقیم روایتوں نے حضرت علی(ع) کو بیان کیا۔
* - آیت۵۳؛ نبی کریم(ص) کو اہل مکہ کے سوال کا جواب۔
ان کا سوال روایتوں نے ذکر کیا کہ حضرت علی(ع) کے امام ہونے کے بارے میں تھا۔
* - آیت۵۸؛ اللہ کے فضل اور رحمت کا ذکر، جسے احادیث نے اللہ کا فضل یعنی رسول خدا(ص) اور اللہ(عزوجل) کی رحمت، حضرت علی(ع) کو بیان کیا۔
* - آیت۶۲؛ اس آیت میں ذکر ہونے والے اولیائے الہی روایت نے حضرات علی(ع)، حمزہ، جعفر و عقیل کو کہا۔
التماس دعا

حضرت خدیجه کبریٰؑ کی وصیتیں

🌹 حضرت خدیجه کبریٰؑ کی وصیتیں 🌹

جب آپ کی بیماری سنجیدہ حالت اختیار کر گئی توآپ نے رسول اللہ ﷺ سے فرمایا:
 "یا رسول اللّه! اِسمَع وصایای‘‘
’’اے رسول خداﷺ! "میری وصیتوں کو سن لیجئے!‘‘

أولا، فإنی قاصرةٌ فی حقِک، فاعفُنی ۔یا رسول اللّه:
پہلی بات یہ کہ میں آپ کا حق ادا کرنے میں  قاصر رھی ھوں؛ آپ سے درخواست ھے کہ مجھے معاف فرمائیں!‘‘».

رسول خداﷺ نے فرمایا:
حاشا و کلا، ما رأیتُ منکِ تقصیرا فقد بلغتِ جهدکِ و تعبتِ فی ولدی غایةَ التعبِ، و لقد بذلتِ أموالَکِ و صرفتِ فی سبیل اللّه مالَکِ۔

ھرگز ایسا نہیں ھے،، نه صرف یہ کہ میں نے آپ سے تمام رفاقت ازدواجی میں معمولی سے بھی کوتاھی و غلطی نہیں دیکھی بلکہ آپ نے بچوں کی تربیت و دیکھ بھال میں اپنی پوری کوشش کی ھے ، اس راہ میں سختیوں کو تحمل کیا ھے اور آپ کے پاس جو بھی مال تھا آپ نے اللہ کی راہ میں خرچ کر دیا۔

حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا نے فرمایا:
یا رسول اللّه! الوصیةُ الثانیةُ؛ أوصیکَ بهذه- أشارت إلى فاطمةَ علیها السّلام- فإنها یتیمةٌ غریبةٌ من بعدی فلا یۆذینها أحدٌ من نساءِ قریش و لا یلطمن خدَّها و لا یصحن فی وجهَها و لا یرینها مکروها۔

میری وصیت دوم  یہ ھے کہ اور اسی وقت  حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی جانب اشارہ کیا، میری یہ بیٹی میری وفات کے بعد  یتیم ، تنہا ور اکیلی ھو جائے گی،اس کا خیال رکھیئے گا کہ قریشی عورتوں میں سے کوئی اسے تنگ نہ کرے، اسے تکلیف نہ دے اس پر ھاتھ نہ اٹھائے کوئی اس کے سامنے آواز بلند نہ کرے(چیخے چلائے نہیں) اور کوئی ایسا کام نہ کرے کہ جس سے فاطمہ زھراء سلام اللہ علیہا ناراض ھو!

"و أما الوصیةُ الثالثةُ، فإنی أقولها لابنتى فاطمة علیها السّلام و هی تقول لک، فإنی مستحیةٌ منکَ یا رسول اللّه"

اورمیری وصیت سوم  یہ ھے کہ جسے میں اپنی نور نظر  فاطمه علیھا السلام سے کہوں گی اور وہ آپ سے کہہ دے گی، اس لئے کہ مجھے آپ سے براہ راست کہتے ھوئے شرم محسوس ھو تی ھے۔

 فقام النبی صلّى اللّه علیه و آله و خرج من الحجرة، فدعت بفاطمة علیها السّلام و قالت:

یہ سننے کے بعدرسول خداﷺکھڑے ھو گئے اور حجرے سے باھر تشریف لے گئے. جناب خدیجه کبریٰ سلام اللہ علیہا نے حضرت فاطمه زهراء علیہاالسّلام کو اپنے نزدیک بلایا اور کہا:

"یا حبیبتی! و قرة عینی، قولی لأبیک: إن أمی تقول: إنی خائفة من القبر، أرید منکَ رداءَکَ الذی تلبِسُه حین نزول الوحی؛ تکفننی فیه"
’’اے عزیز دل من! اوراے میری قلب کی خوشی و راحت کے سامان! اپنے بابا سے کہو کہ میری ماں یہ کہہ رھی ھے :مجھے قبر سے خوف محسوس ھوتا ھے میری آپ سے درخواست ھے کہ آپ مجھے اس عباء کا کفن دیئے گا کہ جس میں آپ  پر وحی نازل ھوئی تھی۔‘‘»

حضرت فاطمه علیہاالسّلام فوراً حجرے سے باھر تشریف لائیں اور اپنی والدہ حضرت خدیجه سلام اللہ علیہا کا پیغام رسول خداﷺ تک پہنچا دیا۔.
حضرت رسول اللہ ﷺ فوراً اٹھے اور آپ نے اپنی عبائے مبارک حضرت  فاطمه علیہاالسّلام  کو دے دی. جب  حضرت زھراء علیہاالسّلام رسول اللہ ﷺ کی وہ  عبا ء حضرت خدیجه علیہاالسّلام کو دی تووہ بہت زیادہ خوش ھوئیں!.

جب  حضرت خدیجه علیہاالسّلام کی رحلت ھو گئی تو  رسول خداﷺ نے خود بنفس نفیس آپ کو غسل دیا اور حنوط کیا۔ جب کفنانے کا وقت آیا تو حضرت جبرئیل امینؑ نازل ھوئے اورعرض کیا:
"یا رسول اللہ ﷺ! *خداوندنے آپ کو ھدیہ سلام دیا ھے اور نہایت خاص صورت میں تحیت و اکرام کیا ھے اورآپ سےفرماتا ھے:
«إن کفن خدیجة من عندنا، فإنها بذلت مالها فی سبیلنا:"

 آپ کی شریکہ حیات خدیجه سلام اللہ علیہا کا کفن ھمارے ذمہ ھےاس لئے کہ اس نے اپنی تمام تر ثروت کو ھماری راہ میں لٹا دیا»

اس کے بعد حضرت جبرئیل نے کفن رسول اکرم ﷺ کو دیا:

"یا رسول اللّه! هذا کفن خدیجة و هو من أکفان الجنة، أهداه اللّه إلیها"

’’اے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! یہ کفن خدیجه الکبریٰ سلام اللہ علیہا ھے کہ جسے اللہ تعالیٰ نے جنتی کپڑوں سے تیار کر کے انہیں ھدیہ کیا ھے!‘‘

حضرت رسول خداﷺ نے پہلے اپنی شریکہ حیات کو اپنی عبا کا کفن دیا اور اس کے بعد جنتی کپڑوں سے تیار کردہ کفن آپ کو دیا۔ یوں حضرت خدیجه سلام اللہ علیہا دو کفنوں کے ساتھ سپرد خاک کی گئیں؛ ایک کفن از طرف خدا اور ایک از طرف رسول اللہ ﷺ!
یہ وہ اعزاز ھے امہات المؤمنین میں سے سوائے ام المومنین حضرت خدیجہ الکبریٰ سلام اللہ علیہا کے کسی کو حاصل نہیں ھوا

📚 حوالہ جات
شجره طوبى، الشیخ محمد مهدی الحائری، ج2، ص 234۔
ابن حجرالاصابه، ج4، ص275۔
شرهانی، حیاة السيدة خديجه، ص 282۔
محلاتی ، ریاحین الشریعه، ج2، ص412۔

✍ پارہ10 کے پیغامات

🕌🔵 *سفينة النجاة*🔵🕌
#ماه_رمضان 🌙 #بہار_قرآن 

✍ پارہ10 کے دو حصے ہیں

☑️ سورۂ انفال کا بقیہ حصہ
☑️سورۂ توبہ کا ابتدائی حصہ

🔰 (۱) سورۂ انفال کے بقیہ حصے میں چھ باتیں یہ ہیں:

۱۔ خمس کا حکم
۲۔ غزوۂ بدر کے حالات
۳۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت کے چار اسباب
۴۔ جنگ سے متعلق ہدایات
۵۔ ہجرت اور نصرت کے فضائل
۶۔ اس دنیا میں انسان کے اختیار رکھنے کی تائید

1️⃣ خمس کا حکم

زکوة کی طرح خمس جو کہ ایک مالی فریضہ ہے، اس کے مصارف بیان ہوئے؛ جو نبی اکرم (صلواة اللہ علیہ وآلہ) اور ان کی آل (یعنی سادات)، یتیم، مسکین، مسافر اور مجاہدین ہیں۔

2️⃣ غزوۂ بدر کے حالات

💠 کفار مسلمانوں کو اور مسلمان کفار کو تعداد میں کم سمجھے اور ایسا اس لیے ہوا کہ اس جنگ کا ہونا اللہ کے ہاں طے ہوچکا تھا۔
💠 شیطان مشرکین کے سامنے ان کے اعمال کو مزین کرکے پیش کرتا رہا، دوسری طرف مسلمانوں کی مدد کے لیے آسمان سے فرشتے نازل ہوئے۔
💠 کفار غزوۂ بدر میں ذلیل و خوار ہوئے۔

3️⃣ اللہ تعالیٰ کی نصرت کے چار اسباب

☑️ میدان جنگ میں ثابت قدمی۔
☑️ اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے۔
☑️ اختلاف اور لڑائی سے بچ کر رہنا۔
☑️ مقابلے میں ناموافق امور پر صبر۔

4️⃣ دشمن سے مقابلے کیلئے ہدایات:

دشمن سے مقابلے کیلئے آیت۴۵-۴۷ میں سات ہدایات دی گئیں۔

5️⃣ ہجرت اور نصرت کے فضائل:

♦️ مہاجرین و انصار سچے مومنین ہیں 
♦️ گناہوں کی مغفرت 
♦️ رزق کریم کا وعدہ

♦️ - اس کے علاوہ آیت۶۲ میں رسول اللہ(ص) کی تائید و نصرت کا ذریعہ،
 اور آیت۶۴ میں حضور(ص) کے تابع کا ذکر کیا، 
 جس کو احادیث نے حضرت علی(ع) کی ہی شخصیت کو بیان کیا ہے۔
 -آیت۷۵ میں بعض رشتے داروں برتر ہونے کا ذکر کیا،
 یہ حکم مھاجرین و انصار کا _"ایکدوسرے کا بھائی بننے کے موقع پہ"_ جب رسول کریم(ص) نے حضرت علی(ع) کو اپنا بھائی بنایا، اس وقت نازل ہوا۔

6️⃣ انسان کا اختیار:

یہ دنیا مکمل جبر و ظلم کے نظام پہ نہیں چل رہی بلکہ انسان خود اپنے اعمال سے نعمتوں کو کھو دیتا ہے۔ (آیت۵۳)
🔰 (۲) سورۂ توبہ کا جو ابتدائی حصہ اس پارے میں ہے اس میں دو باتیں یہ ہیں:

1️⃣مشرکین اور اہل کتاب کے ساتھ جہاد
 اس سورہ _کے "مشرکین سے اعلان برائت"_ کی آیات کا ابلاغ، حضرت رسول اکرم(ص) نے اپنے بھیجے قاصد کے بجائے حضرت علی(ع) کے ذریعے کروایا۔
 مشرکین سے جو معاہدے ہوئے تھے ان سے براءت کا اعلان ہے، 
 مشرکین کو حج بیت اللہ تعالیٰ سے منع کردیا گیا، 
 اہل کتاب کے ساتھ قتال کی اجازت دی گئی۔
 البتہ سوائے حرام مہینوں کے جو کہ "رجب، ذیقعدہ، ذی الحجہ اور محرم" ہیں۔

2️⃣مسلمانوں اور منافقوں کے درمیان امتیاز اور فرقان
منافقوں اور مسلمانوں میں امتیاز کرنے والی بنیادی چیز "غزوۂ تبوک" بنی؛ رومیوں کے ساتھ مقابلہ جو وقت کے سپر پاور تھے، اور شدید گرمی اور فقر و فاقہ کے موقع پر پھل پکے ہوئے تھے، _مسلمان_ سوائے چند کے سب چلے گئے، 
جبکہ _منافقین_ نے بہانے تراشنے شروع کردیے؛ پارے کے آخر تک منافقین کی مذمت ہے، یہاں تک فرمادیا کہ اے پیغمبر! آپ ان کے لیے ستر بار بھی استغفار کریں تو بھی اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت نہیں کرے گا اور اگر ان میں کسی کا انتقال ہوجائے تو آپ اس کی نماز جنازہ بھی نہ پڑھیے گا.
پھر ان مسلمانوں کا بھی ذکر ہے جو کسی عذر کی وجہ سے اس غزوے میں نہ جاسکے۔

💠 اس کے علاوہ چند اہم نکات اس سورہ کے اس پارے میں ذکر ہوئے ہیں اور اہلبیت(علیهم السلام) کی فضیلتیں:

1️⃣جس طرح سے ہدایت کی طرف بلانے والے امام ہیں، اسی طرح سے ائمہ کفر بھی ہیں.

2️⃣ اور حضرت علی(ع) کے دور خلافت میں ان سے جنگ کرنے والے مسلمانوں کے گروہ 'ناکثین' کا ذکر (آیت۱۲)

3️⃣مشرکوں کو مسجد آباد کرنے کا حق نہیں ہے۔(۱۷)

4️⃣مسجد کو آباد کرنے کی اہمیت (۱۸)

5️⃣ مومنین- _کہ جن کا مصداق احادیث نے حضرت علی(ع) اور بعض کتابوں میں ان کے علاوہ عباس بن عبدالمطلب کو بیان کیا_- کیلئے سکینہ (قلبی سکون) کا نزول (۲۶)

6️⃣حاجیوں کے ساقی ہونے اور مسجد کو آباد کرنے سے زیادہ فضیلت، جہاد فی سبیل اللہ کی ہے اور یہ فضیلت حضرت علی(ع) کو حاصل ہے۔ 
اس آیت کا شان نزول بھی حضرت علی(ع) کی اس فضیلت کا بیان ہے۔

7️⃣ اسلام کو پوری دنیا میں مکمل غلبہ پانے کی نوید، جو کہ امام مہدی(عجل اللہ فرجہ الشریف) کے آنے میں متحقق ہوگی۔(۳۳)

8️⃣مصارف زکاة کا بیان (۶۰)

☑️زکوٰۃ کامال آٹھ جگہوں پر خرچ ہوسکتاہے :

۱:)فقیر : وہ شخص جس کے پاس اپنے اوراپنے اہل وعیال کے لئے سال بھرکے اخراجات نہ ہوں فقیرہے۔

۲:)مسکین : وہ شخص جوفقیرسے زیادہ تنگدست ہو،مسکین ہے۔

۳:)عاملین :وہ شخص جوامام علیہ السلام یانائب امام علیہ السلام کی جانب سے اس کام پر مامور ہو کہ زکوٰۃ جمع کرے۔

۴:)وہ کفارجنہیں زکوٰۃ دی جائے تووہ دین اسلام کی جانب مائل ہوں یا جنگ میں یاجنگ کے علاوہ مسلمانوں کی مددکریں ۔

۵:)غلاموں کوخریدکرانہیں آزادکرنا

۶:)وہ مقروض جواپناقرض ادانہ کرسکتاہو۔

۷): فی سبیل اللہ یعنی وہ کام جن کافائدہ تمام مسلمانوں کوپہنچتاہو۔

۸:)ابن السبیل: یعنی وہ مسافرجوسفرمیں ناچارہوگیاہو۔

🌹🤲🏻 *التماس دعا*🤲🏻🌹
✍🏻مزیدتفصیل کےلئے تفاسیرکا مطالعہ فرمائیں 
📕تفسیر نمونه آیت ا... مکارم شیرازی 
📕تفسیر الکوثر شیخ محسن علی نجفی

🤲 *التماس دعا*🤲🏻
*❣الـلَّهُــــمَّ عَجِّـــلْ لِوَلِیِّکَـــ الْفَـــــــــرَجْ❣*
•┈┈•┈•┈•⊰✿✿⊱•┈•┈•┈┈•

#فصیحی_ٹی_وی #FASIHI_TV 
•┈┈•┈•┈•⊰✿✿⊱•┈•┈•┈┈•

نوین پاره کے پیغامات

#ماه_رمضان 🌙 #بہار_قرآن 

✍ پارہ9️⃣ کے دو حصے ہیں
⬅️ 1۔ سورۂ اعراف کا بقیہ حصہ
⬅️ 2۔ سورۂ انفال کا ابتدائی
 حصہ

🟢 1۔سورہ اعراف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
🔷 آسمانوں اور زمین کی برکتوں کے دروازے کھلنے کی شرائط:
🌷 ایمان
🌷 تقویٰ (آیت 96)

🔷 حضرت موسیٰ ع کے واقعات :
🔸 *دربار فرعون۔
حضرت موسیٰ ع نےفرعون سے کہا بنی اسرائیل کو میرے ساتھ جانے دو۔ فرعون نے کہا اگر سچے ہو تو دلیل لاو۔ آپ نےعصا کا اژدھا میں بدلنے کا اور ید بیضاء(چمکتے ہاتھ)کا معجزہ دیکھایا۔ جادوگر سجدے میں گر گئے۔فرعون نے قوم موسی کو 
بیٹوں کے قتل کی دھمکی دی۔
( آیات 103 - 126)
🔸آل فرعون پر قحط سالی اور پیداوار میں کمی کی آزمائشیں آئیں۔۔۔۔۔۔۔
🔸پھر آل فرعون پر مختلف عذاب آئے جیسے طوفان ، ٹڈی دل ، جوؤں ، مینڈکوں اور خون کا عذاب۔۔۔۔۔۔مگر وہ تکبر کرتے رہے۔۔۔۔۔۔ 
🔸اللہ سے عہد کرتے۔۔۔ لیکن جب عذاب دور ہو جاتا تو عہد توڑ دیتے۔۔۔ 
🔸اور بلآخر دریا میں غرق ہوگئے۔۔۔۔۔
🔸بنی اسرائیل نے اللّٰہ کی مدد سے دریا پار کر کے نجات پائی۔وہ ایک بت پرست قوم کے پاس پہنچے۔ 
انھوں نے موسی ع سے کہا کہ ہمیں بھی ایسا معبود  بنا دو۔ موسی ع نے کہا تم جاہل قوم ہو میں  *اللہ کے سوا کیسے کسی کو معبود بناوں*۔
(آیت 103- 140)
🔸 *حضرت موسیٰ ع کا کوہ طور پر چالیس راتوں کا میعاد*
🔸اپنے بھائی حضرت ہارون ع کو اپنا جانشین مقرر کیا۔۔۔
🔸انکے رب نے ان سے کلام کیا۔۔۔۔
🔸تجلی پروردگار اور حضرت موسیٰ ع کا بے ہوش ہونا۔۔۔۔۔
🔸خدا کا توریت کی تختیوں پر نصیحتیں اور دیگر تفصیلات دینا۔۔۔۔۔۔
🔹 *گوسالہ کی پرستش:*
حضرت موسیٰ ع کے کوہ طور پر جانے کے بعد قوم نے حضرت ہارون کی ایک نہ سنی اور گوسالہ کی پوجا شروع کر دی۔۔۔۔۔۔
حضرت موسیٰ ع کا واپس آ کر سخت ناراض ہونا اور قوم کا توبہ کرنا ۔۔۔۔
( آیات 148 -- 154)
🔷 *بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے:*
🌼 خدا کے حکم سے ان کے لئے بارہ چشمے جاری ہوئے۔
🌼ان کے لیے من سلویٰ نازل ہوا۔
🌼پھر بھی خدا کی نافرمانی کی اور ان لوگوں نے اپنے اوپر ظلم کیا۔(آیت 160)

🔷 *یوم سبت کا جرم:* 
🌼بستی (ایلہ) کے لوگ حکم خدا کے بر خلاف ہفتے والے دن مچھلیاں پکڑتے تھے۔کیونکہ اس دن بہت ذیادہ مچھلیاں آتی تھی۔
🌼 *اصحاب سبت* کے بارے میں لوگوں کے دو گروہ ہوگئے۔
🔅وہ جنہوں نے وعظ و نصیحت پر امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کیں
🔅دوسرے گروہ  جس نے عدم تاثیر کا بہانہ کرکے نصیحت نہ کرنے کا عذر پیش کیا۔
پہلے گروہ نے نجات پائی اور دوسرا گروہ غذاب میں مبتلا ہو کر بندر بن گیا۔(آیت 163-166)

🔷 *بنی اسرائیل کے ناخلف لوگ:* 
  یہ گروہ 
🔅کتاب خدا کے وارث بن کر  
🔅دنیاوی مال و متاع سمیٹتے تھے اور 
🔅کہتے تھے کہ بخش دیئے جائیں گئے
🔅یہ لوگ کتاب پڑھ چکے تھے
🔅اور ان سے عہد لیا گیا تھا کہ وہ حق بات کریں گے۔(آیت 169)

🔷 *اصلاح کرنے والوں کی صفات:* 
🌼وہ جو کتاب خدا سے متمسک رہتے ہیں۔
🌼 نماز قائم کرتے ہیں ۔
🌼خدا ان کا اجر ضائع نھیں کرتا(آیت 170)

🔷 *انسان کی فطرت اور جبلت میں اللہ کی ربوبیت کا اقرار:* 
(خالق نے تخلیق اولاد آدم کے وقت خود انکو گواہ بنا کر ان سے پوچھا تھا)کیا میں تمھارا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا تھا: ہاں! ہم اسکی گواہی دیتے ہیں(تو ھمارا رب ہے)۔۔۔۔ 
 🌺 *مطلب:* انسان پیدائشی طور پر اللہ کو پہچانتا ہے۔ دنیا میں آکر اسکی یہ پہچان ضعیف ہو جاتی ہے اور جب اس پر مشکلات آتی ہیں اور وہ دنیا سے منقطع ہوتا ہے تو فقط اللہ کو حاضر جانتا ہے۔

🔷 *بدترین مثال:* 
اور انھیں اس شخص( *بلعم باعور* )کا حال سنا دیجئے جسے ہم نے اپنی آیات (اسم اعظم) دیئے تھے لیکن شیطان نے اسے گمراہ کر دیا تھا، وہ اپنی خواہشات کا تابع ہو گیا تھا لہذا اسکی مثال کتے کی سی ہو گئی۔۔۔
آپ انھیں یہ قصے سنا دیجئے کہ شاید وہ فکر کریں۔
بدترین مثال ان لوگوں کی ہے جو
🔅ہماری آیات کی تکذیب کرتے ہیں اور
🔅اپنے نفسوں پر ظلم کرتے ہیں۔(آیت 175-177) 

🔷 *غافلوں  کی صفات:* 
⁦◼️⁩اکثر جن اور انس جو جہنم ہی کیلئے پیدا کئے گئے ہیں:
🌼ان کے پاس دل ہیں مگر سمجھتے نہیں۔
🌼آنکھیں ہیں مگر دیکھتے نہیں۔
🌼کان ہے مگر سنتے نہیں۔
🌼یہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر ہیں ۔
(آیت 179)

🔷 *زیباترین نام اللّٰہ کے لئے ہیں:* 
اللّٰہ کے لیے اسمائے حسنیٰ ہیں۔ جو ان اسماء کے ساتھ دعا کرے اس کی دعا قبول ہوگی۔
🌸روایات میں اللہ کے 99 نام ہیں۔
یہ آیت دعا کے لیے وسیلہ پر ایک دلیل ہے۔(آیت 180)

🔷 *جماعت حق:* 
🌼یہ جماعت
 حق کے مطابق ہدایت کرتی ہے اور اسی کے مطابق عدل۔(آیت181 )
🌸 حضرت علی ع سے روایت ہے  یہ امت 73 فرقوں میں بٹ جائے گی سب جہنمی ہوں گے سوائے اس فرقے کے جس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔

🔷 *قیامت کے وقت کا علم* صرف خدا کو ہے وہ ایک ناگہاں بڑا حادثہ ہوگا۔۔۔(آیت 187)

🔷 *معجزے کے طلبگاروں کو خدا کا جواب:* 
🌼رسول اکرم ص فقط وحی کے پابند ہیں(نہ کہ کفار کے فرمائشی معجزات کے)۔ قرآن خدا کی طرف سے باعث بصیرت اور مومنین کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔(آیت 203)

🔷 *قرآت قرآن کا ادب:* 
🌼 *قرآن کی آواز سنائی دے رہی ہو تو اس وقت توجہ اور خاموشی کے ساتھ سننا چاہیے شاید یہ باعث رحمت ہو*۔(آیت 204)

🔷 *اللّٰہ کے حضور حاضر ہونے والوں کی صفات:* 
🌸 عبادت کرنے میں نہیں اکڑتے۔
🌸 اللّٰہ کی تسبیح کرتے ہیں۔
🌸 اللّٰہ کے سامنےسجدہ ریز ہوتے ہیں۔(آیت 206)
--------------------------------------

🟢 *2.سوره انفال۔۔۔۔۔۔۔۔*

🔷 *انفال:* 
جنگ میں مال غنیمت کے متعلق سوال کے جواب میں اللہ نے فرمایا
🌼انفال صرف اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔
🌼تم اللہ کا خوف کرو
🌼باہمی تعلقات مصالحانہ رکھو
🌼اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔(آیت 1)
🌸( انفال یعنی زائد چیز۔ جنگی غنیمت کو انفال اس لیے کہا جاتا ہے کہ مسلمان راہ خدا میں لڑتے ہیں اور غنیمت ایک اضافی انعام ہے)

🔷 *حقیقی مومنین کی صفات:* 
🌷 اللہ کے ذکر سے ان کے دل کانپ جاتے ہیں۔
🌷 آیات کی تلاوت سنائی جائے تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔
🌷اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔
🌷 نماز قائم کرتے ہیں۔ 
🌷 راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں۔
🌷 یہی حقیقی مومن ہیں جو اللّٰہ کے پاس درجات ، مغفرت اور باعزت رزق پاتے ہیں (آیت 2-4)

🔷 *جنگ بدر کا قصہ:* 
🌼دو گروہ دشمن کے:
ایک گروه تجارتی قافلے سے تھا دوسرا لشکر قریش سے تھا۔
مسلمان چاہتے تھے تجارتی قافلے پر حملہ کیا جائے (تاکہ سامان ہاتھ آئے۔)
خدا چاہتا تھا کہ لشکر کا مقابلہ کرکے ایک فیصلہ کن جنگ کی جائے۔(آیت 7)
🌼 *خدا کی جانب سے نصرت:*
اللّٰہ نے ایک ہزار فرشتوں اور بارش کے ذریعے سے مدد کی
مسلمانوں کو بشارت اور انھیں اطمینان قلب حاصل ہوا۔اللہ بے فرشتوں کے ذریعے مسلمانوں کو ثابت قدم رکھا اور کافروں کے دلوں میں انکا رعب ڈالا۔۔۔(آیت 9-12)
🌼خداوندعالم نے میدان جنگ  میں ثابت قدم رہنے کا حکم دیا ۔بزدلوں کی طرح جنگ سے بھاگ جانے والوں کو عذاب کا حقدار ٹھہرایا۔(آیت15 -16)
🌼انھیں تم(مسلمانوں)نے قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے قتل کیا اور (اے رسول)آپنے کنکریاں نہیں پھینکیں بلکہ اللہ نے پھینکی تاکہ مومنوں کو بہتر آزمائیں۔(کافروں سے کہہ دیں)تمہاری کثیر جماعت بھی تمھارے کسی کام نہیں آئے گی اور اللہ مومنوں کے ساتھ ہے۔اے ایمان والو! اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کرواور حکم سننے کے بعد اس سے روگردانی نہ کرو۔(آیت 17-20)

🔷 *ایمان والوں کو ہدایت:* 
🌼اے ایمان والو! اللّٰہ اور رسول ص جب حیات آفرین (دینی باتوں) کی طرف بلائیں تو لبیک کہو۔
🌼 اللّٰہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے۔ 
🌼(قیامت میں) سب اللہ کی طرف جمع کئے جاؤ گے۔(آیت 24)

🔷 *اس فتنے سے بچو*
جس کی لپیٹ میں ظالم ہی نہیں بلکہ(سب) آئیں گے۔۔۔۔(آیت 25)
(کچھ برے کام ایسے ہوتے ہیں جس کی لپیٹ میں پورا معاشرہ آتا ہے۔ اللہ نے اسے فتنے سے تعبیر کیا ہے۔)

🔷 *مال اور اولاد خدا کی جانب سے آزمائش ہیں*۔(آیت 28)

🔷 *ہجرت مدینہ:* 
کفار کی جانب سے حضور ص کے قتل کی سازش کے مقابلے میں اللہ کی تدبیر۔۔۔(آیت 30)
🌸 حضرت علی ع ہجرت کی رات حضور کے بستر پہ سو گئے اور آقا ص محفوظ رہے اور اللّٰہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔ 

🔷 *غدیر* کے میدان میں حضرت علی ع کی ولایت کے اعلان کو قبول نہ کرنے والے پر اللہ کی طرف سے آسمان سے عذاب نازل ہونے کا واقعہ۔ (آیت 32)یہ شخص حارث بن نعمان فہری تھا۔ 

🔷اللہ ان پر اس وقت تک (اجتمائی) عذاب نازل نہیں کرے گا جبتک آپ انکے درمیان موجود ہیں اور جب تک وہ استغفار کر رہے ہیں۔(آیت 34)

🔷 *مسجد الحرام کے متولی* بننا متقین کے ذمے  ہے وہ نہیں جو اسکا رستہ روکتے ہیں۔(آیت 34)
 🌸 _روایات نے ان متقیوں کو مشخص کرتے ہوئے حضرات علی، حمزہ، جعفر، عقیل کو بیان کیا اور بعض میں "آلِ محمد" کو بھی کہا گیا۔_ 

🔷 *اسلام کا بنیادی اصول:* 
تم کافروں سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سارا اللہ کیلئے خاص ہو جائے۔(آیت39) 
🤲 التماس دعا
•┈┈•┈•┈•⊰✿✿⊱•┈•┈•┈┈•

پیام پارہ ۸

#ماه_رمضان 🌙
#بہار_قرآن 📗

✍  پارہ 8️⃣ کے دو حصے ہیں

۱۔ سورۂ انعام کا بقیہ حصہ
۲۔سورۂ اعراف کا ابتدائی حصہ

🔰 (پہلا حصہ)

✍🏻سورۂ انعام کے بقیہ حصے میں چار باتیں ہیں:

♦️۱۔ تسلی رسول اکرم(ص)

♦️۲۔ مشرکین کی چار حماقتیں

♦️۳۔ اللہ تعالیٰ کی دو نعمتیں

♦️۴۔ دس وصیتیں

1️⃣ *تسلی رسول اکرم(ص)*:

اس سورہ میں حضرت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ) کو تسلی ہے کہ یہ لوگ ضدی ہیں، معجزات کا بے جا مطالبہ کرتے رہتے ہیں، اگر مردے بھی ان سے باتیں کریں تو یہ پھر بھی ایمان نہ لائیں گے، قرآن کا معجزہ ایمان لانے کے لیے کافی ہے۔

2️⃣ *مشرکین کی چار حماقتیں*:

♦️۱۔ یہ لوگ چوپایوں میں اللہ تعالیٰ کا حصہ اور شرکاء کا حصہ الگ الگ کردیتے، شرکاء کے حصے کو اللہ تعالیٰ کے حصے میں خلط نہ ہونے دیتے، لیکن اگر اللہ تعالیٰ کا حصہ شرکاء کے حصے میں مل جاتا تو اسے برا نہ سمجھتے۔ (آیت:۱۳۵)

♦️۲۔ فقر یا عار کے خوف سے بیٹیوں کو قتل کردیتے۔ (آیت:۱۳۶)

♦️۳۔ چوپایوں کی تین قسمیں کر رکھی تھیں: ایک جو ان کے پیشواؤں کے لیے مخصوص، دوسرے وہ جن پر سوار ہونا ممنوع، تیسرے وہ جنھیں غیر اللہ کے نام سے ذبح کرتے تھے۔ (آیت:۱۳۸)

♦️۴۔ چوپائے کے بچے کو عورتوں پر حرام سمجھتے اور اگر وہ بچہ مردہ ہوتا تو عورت اور مرد دونوں کے لیے حلال سمجھتے۔ (آیت:۱۳۹)

3️⃣ *اللہ تعالیٰ کی دو نعمتیں*:

♦️(۱)کھیتیاں

♦️(۲)چوپائے

4️⃣ *دس وصیتیں*:

(۱)اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے۔ (آیت:۱۵۱)

(۲)ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے۔ (آیت:۱۵۱)

(۳)اولاد کو قتل نہ کیا جائے۔ (آیت:۱۵۱)

(۴)برائیوں سے اجتناب کیا جائے۔ (آیت:۱۵۱)

(۵)ناحق قتل نہ کیا جائے۔ (آیت:۱۵۱)

(۶)یتیموں کا مال نہ کھایا جائے۔ (آیت:۱۵۲)

(۷)ناپ تول پورا کیا جائے۔ (آیت:۱۵۲)

(۸)بات کرتے وقت انصاف کو مد نظر رکھا جائے۔ (آیت:۱۵۲)

(۹)اللہ تعالیٰ کے عہد کو پورا کیا جائے۔ (آیت:۱۵۲)

(۱۰)صراط مستقیم ہی کی اتباع کی جائے۔ (آیت:۱۵۳)

✍🏻#- ان کے علاوہ چار اور اہم نکات کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے:

1️⃣ *_گناہ جیسے ظاہری ہوتے ہیں ویسے ہی باطنی بھی ہوتے ہیں_ (آیت١٢٠)*

2️⃣ 🌹 *ایمان=زندگی* 🌹  

 🔥 *کفر=موت*☠️

♦️(آیت١٢٢).
یہ آیت حضرت حمزہ(ع) کے ایمان لانے کے پس منظر میں نازل ہوئی.

3️⃣ *_"سبیل اللہ" کا آشکار مصداق اہلبیت(ع) ہی ہیں_(آیت١٥٣).*

4️⃣ *_تفرقہ کرانے والوں سے اور تفرقے میں پڑنے والوں سے رسول اکرم(ص) کا کوئی تعلق نہیں ہے_ (آیت۱۵۹).*

🔰 (دوسرا حصہ)

✍🏻سورۂ اعراف کا جو ابتدائی حصہ اس پارے میں ہے اس میں پانچ باتیں ہیں:

♦️۱۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں

♦️۲۔ چار ندائیں

♦️۳۔ جنتی اور جہنمیوں کا مکالمہ

♦️۴۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل

♦️۵۔ پاتچ قوموں کے قصے

1️⃣ *اللہ تعالیٰ کی نعمتیں*:

🌹 *قرآن کریم*

🌹 *تمکین فی الارض*

🌹 *انسانوں کی تخلیق*

🌹 *انسان کو مسجود ملائکہ بنایا.*

♦️انہی کے ضمن میں اعمال کے ترازو کا ذکر کیا کہ جسے روایات نے خود انبیاء اور اہلبیت(علیہم السلام) میں سے اماموں کی شخصیت کو قرار دیا۔

2️⃣ *چار ندائیں*:

♦️صرف اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو چار مرتبہ "يَا بَنِي آدَمَ" کہہ کر پکارا ہے؛
پہلی تین نداؤں میں لباس کا ذکر ہے، اس کے ضمن میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین پر رد کردیا کہ تمھیں ننگے ہوکر طواف کرنے کو اللہ تعالیٰ نے نہیں کہا جیسا کہ ان کا دعوی تھا۔
چوتھی ندا میں اللہ تعالیٰ نے اتباع رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ) کی ترغیب دی ہے۔

3️⃣ *جنتیوں اور جہنمیوں کا مکالمہ*:

 ♦️جنتی کہیں گے: ”کیا تمھیں اللہ تعالیٰ کے وعدوں کا یقین آگیا؟“، جہنمی اقرار کریں گے، جہنمی کھانا پینا مانگیں گے،
مگر جنتی ان سے کہیں گے: ”اللہ تعالیٰ نے کافروں پر اپنی نعمتیں حرام کر دی ہیں۔“
♦️جب جنت اور جہنمیوں کا ایک دوسرے سے سامنا ہوگا اور وہ یہ مکالمہ کرینگے تو اس سے پہلے ایک موذن (ندا دینے والا) ظالموں پر اللہ کی لعنت کا اعلان کرے گا (آیت٤٤)۔

✍🏻احادیث میں حضرت علی(علیہ السلام) کو یہ ندا دینے والی شخصیت بتایا گیا ہے۔
 اس کے علاوہ جنت میں جانے والوں کی قیامت میں ایک نشانی یہ ہوگی کہ انہیں اصحاب اعراف آواز دیں گے (آيت٤٨)۔

✍🏻 احادیث نے اصحاب اعراف کا مصداق بھی حضرت علی(علیہ السلام) کو بیان کیا۔

4️⃣ *اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل*:

(۱) *بلند و بالا آسمان*

(۲) *وسیع و عریض عرش*

(۳) *رات اور دن کا نظام*

(۴) *چمکتے شمس و قمر اور ستارے*

(۵) *ہوائیں اور بادل*

(۶) *زمین سے نکلنے والی نباتات*

5️⃣ *پانچ قوموں کے قصے*:

1️⃣ *قوم حضرت نوح(ع)*

2️⃣ *قوم عاد*

3️⃣ *قوم ثمود*

4️⃣ *قوم حضرت لوط(ع)*

5️⃣ *قوم حضرت شعیب(ع)*

✍🏻 *ان قصوں کی حکمتیں*:

1️⃣ *تسلی رسول اکرم(ص)*

2️⃣ *اچھوں اور بروں کے انجام بتانا.*

3️⃣ *اللہ تعالیٰ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں.*

4️⃣ *رسالت کی دلیل: کہ نبی اکرم(ص) پچھلی قوموں کے قصے بتا رہے ہیں.*

5️⃣ *انسانوں کے لیے عبرت و نصیحت*

♦️( _توجہ: اس خلاصہ میں اہلبیت اطہار(ع) کے بارے میں نقل کئے جانے والے تمام مطالب، اہلسنت کی کتب میں بھی آئیں ہیں._ )
🌹🤲🏻 *التماس دعا* 🤲🏻🌹

❣الـلَّهُــــمَّ عَجِّـــلْ لِوَلِیِّکَـــ الْفَـــــــــرَجْ❣
╔═🍃📖════════╗
فصیحی تی وی FASIHI rv
╚════════🍃📖═╝

ساتواں پارہ​ کےپیغامات

ماه_مبارک رمضان 🌙

بہار_قرآن کریم 🌺📗🌺
ساتواں پارہ​

اس پارے میں دو حصے ہیں:​
۱۔ سورۂ مائدہ کا بقیہ حصہ
۲۔ سورۂ انعام ابتدائی حصہ

🔰 (پہلا حصہ)
سورۂ مائدہ کے بقیہ حصے میں تین باتیں ہیں:​
۱۔ حبشہ کے نصاری کی تعریف
۲۔ ایک رائج معیار کی نفی اور تربیتی نکتہ
٣۔ حلال وحرام کے چند مسائل
٤۔ قیامت اور تذکرۂ حضرت عیسیٰ علیہ السلام

۱۔ حبشہ کے نصاری کی تعریف:
جب ان کے سامنے قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے تو اسے سن کر ان کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہوجاتی ہیں۔

۲۔ ایک رائج معیار کی نفی اور ایک تربیتی نکتہ
 'اکثریت' صحیح ہونے کا معیار نہیں ہے۔
 انبیاء اور رسولوں کا اللہ تعالی کے مقابلے میں ادب کا نمونہ (آیت١٠٩)

٣۔ حلال وحرام کے چند مسائل:
 ۔۔۔ہر چیز خود سے حلال یا حرام نہ بناؤ اور رھبانیت (ترکِ دنیا) کی نفی
 ۔۔۔ لغو قسم پر مؤاخذہ نہیں، البتہ یمین غموس پر کفارہ ہے، یعنی دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلانا یا انھیں پہننے کے لیے کپڑے دینا یا ایک غلام آزاد کرنا اور ان تینوں کے نہ کرسکنے کی صورت میں تین دن روزے رکھنا۔
 ۔۔۔شراب، جوا، بت اور پانسہ حرام ہیں۔
 ۔۔۔حالتِ احرام میں محرم تری کا شکار کرسکتا ہے، خشکی کا نہیں۔
 ۔۔۔حرم میں داخل ہونے والے کے لیے امن ہے۔
 ۔۔۔چار قسم کے جانور مشرکین نے حرام کر رکھے تھے بحیرہ ، سائبہ ، وصیلہ اور حام۔

٤۔ قیامت اور تذکرۂ حضرت عیسیٰ علیہ السلام
 قیامت کے دن حضرات انبیائے کرام علیہم السلام سے پوچھا جائے گا کہ جب تم نے ہمارا پیغام پہنچایا تو تمھیں کیا جواب دیا گیا؟ اسی سوال و جواب کے تناظر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ اپنے احسانات گنوائیں گے، ان احسانات میں مائدہ والا قصہ بھی ہے کہ حواریوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ اللہ تعالیٰ سے کہو ہم پر ایسا دسترخوان اتارے جس میں کھانے پینے کی آسمانی نعمتیں ہوں، چناچہ دسترخوان اتارا گیا، ان احسانات کو گنواکر اللہ تعالیٰ پوچھیں گے اے عیسیٰ! کیا تم نے ان سے کہا تھا کہ تجھے اور تیری ماں کو معبود مانیں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام عرض کریں گے تو پاک ہے، میں نے تو ان سے تیری عبادت کا کہا تھا الی آخرہ۔
 حضرت عیسی علیہ السلام کے ہی تذکرے کے ضمن میں غیر اللہ کیلئے ولایت تکوینی کا باذن اللہ حامل ہونے کا بیان

🔰 (دوسرا حصہ)
سورۂ انعام کا جو ابتدائی حصہ اس پارے میں ہے اس میں تین باتیں ہیں:​
۱۔ توحید
۲۔ رسالت
۳۔ قیامت
٤۔ تربیتی و اخلاقی نکات

۱۔ توحید:
اس سورت میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور عظمت وکبریائی خوب بیان ہوئی ہے۔

۲۔ رسالت:
 رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کے لئے عام انسانوں کے ہمنوع ہونے کا سبب
 نبی اکرم علیہ وآلہ السلام کی دعوت سارے عالَم کیلئے ہے
آیت۵۰ میں انبیاء کیلئے اللہ سے مستقل علم غیب رکھنے کی نفی (جبکہ غیر مستقل طور پہ علم غیب کے حامل ہونے کی تائید قرآن کی دیگر آیات میں ہوئی ہے جیسے کہ سورہ جن کی آیت۲٦ و ۲۷)
 رسول اعظم صلوات الله علیه وآله کی تسلی کے لیے اللہ تعالیٰ نے اٹھارہ انبیائے کرام کا تذکرہ فرمایا ہے:
(۱)حضرت ابراہیم علیہ السلام ، 
(۲)حضرت اسحاق علیہ السلام ، 
(۳)حضرت یعقوب علیہ السلام ، 
(۴)حضرت نوح علیہ السلام ، 
(۵)حضرت داؤد علیہ السلام ، 
(۶)حضرت سلیمان علیہ السلام ، 
(۷)حضرت ایوب علیہ السلام ، 
(۸)حضرت یوسف علیہ السلام ، 
(۹)حضرت موسٰی علیہ السلام ، 
(۱۰)حضرت ہارون علیہ السلام ، 
(۱۱)حضرت زکریا علیہ السلام ، 
(۱۲)حضرت یحیٰ علیہ السلام ، 
(۱۳)حضرت عیسیٰ علیہ السلام ، 
(۱۴)حضرت الیاس علیہ السلام،
(۱۵)حضرت اسماعیل علیہ السلام ، 
(۱۶)حضرت یسع علیہ السلام ، 
(۱۷)حضرت یونس علیہ السلام ، 
(۱۸)حضرت لوط علیہ السلام.

 حضرت ابراہیم کے چچا 'آزر' کو 'اب' کہہ کے ذکر کیا کیونکہ 'اب' کی لفظ بچے کے کفیل کیلئے بھی استعمال ہوتی ہے جبکہ ان کے حقیقی والد کا نام 'تارخ' تھا جیسا کہ روایات اور توارت میں آیا ہے..

۳۔ قیامت:
 ۔۔۔ قیامت کے روز اللہ تمام انسانوں کا جمع کرے گا۔ (آیت:۱۲)
 ۔۔۔ روزِ قیامت کسی انسان سے عذاب کا ٹلنا اس پر اللہ کی بڑی مہربانی ہوگی۔ (آیت:۱۶)
 ۔۔۔ روزِ قیامت مشرکین سے مطالبہ کیا جائے گا کہ کہاں ہیں تمھارے شرکاء؟ (آیت:۲۲)
 ۔۔۔ اس روز جہنمی تمنا کریں گے کہ کاش! انھیں دنیا میں لوٹا دیا جائے تاکہ وہ اللہ رب کی آیات کو نہ جھٹلائیں اور ایمان والے بن جائیں۔(آیت:۲۷)
 ۔۔۔ دنیا کی زندگی تو کھیل اور مشغلہ ہے ، آخرت کی زندگی بدرجہا بہتر ہے۔ (آیت:۳۲)
 اللہ تعالی کو ان ظاہری آنکھوں سے دیکھنے کی نفی (آیت١٠٣)

٤۔ تربیتی و اخلاقی نکات
 توبہ کی حقیقت؛ اصلاح اور گزشتہ کی تلافی
 جس مجلس میں آیات الہی کا تمسخر ہو اس میں جانے سے پرہیز کیا جائے البتہ ایک جگہ اس کی اجازت ہے خاص افراد کیلئے (آیت٦٩)
 سبّ کرنے (گالی دینے اور غیر مناسب لفظوں کے استعمال کیلئے) منع کیا گیا ہے حتی دشمنوں کیلئے بھی۔

التماس دعا

شرح دعای روز ششم ماه رمضان

چھٹے دن کی دعا
اللّٰهُمَّ لَاتَخْذُلْنِى فِيهِ لِتَعَرُّضِ مَعْصِيَتِكَ، وَلَا تَضْرِبْنِى بِسِياطِ نَقِمَتِكَ، وَزَحْزِحْنِى فِيهِ مِنْ مُوجِباتِ سَخَطِكَ، بِمَنِّكَ وَأَيادِيكَ يَا مُنْتَهىٰ رَغْبَةِ الرَّاغِبِينَ۔
اے معبود آج کے دن مجھے چھوڑ نہ دے کہ تیری نافرمانی میں لگ جا‎‎‎ؤں اور نہ مجھے اپنے غضب کا تازیانہ مار۔آج کے دن مجھے اپنی ناراضگی کے کاموں سے بچاۓ رکھ۔ اپنے احسان و نعمت سے اے رغبت کرنے والوں کی آخری امید گاہ۔ اپنی محبت سے اے مشتاقوں کی آرزو۔
الفاظ کے معانی اور مختصر شرح
اللهم‌لا تخذلنی فیه لتعرض معصیتک
اللهم:پرودگارا!
لاتخذلنی:مجھے ذلیل نہ کرے
فیه:اس دن میں
لتعرض:عارض ہوجاۓ
معصیتک:تیری نافرمانی
انسان جب اپنے پروردگار کی نافرمانی کرتا ہے ، زیادہ گناہ انجام دینے کی وجہ سے تو وہ ذلیل اور خوار ہوجاۓ گا۔در حقیقت گناہ یعنی اپنے پرودگار سے جنگ کے لۓ تیار ہونا ہے۔پس آج کی دعا میں پرودگار عالم سے درخواست کرتے ہیں کہ ہمارے گناہوں کی وجہ سے جو ہماری عمر کے لحظہ اور ان میں، ہم سے سرز ہوا ہے، ہمیں ذلیل و خوار نہ کرے اور ہمارے گناہوں کو بخش دے۔
و لا تضربنی بسیاط نقمتک
ولاتضربنی:اور مجھے نہ مارے
بسیاط:اپنے تازیانہ سے
نقمتک:اپنے انتقام کا
خداوند اس سے بلند و بالا ہے ہم اس کی صفات کے بارے میں بحث کریں لیکن یہ بھی جاننا ضروری ہے انسان اس وقت غضب الہی کا مستحق ٹھرتا ہے جب وہ ہمیشہ خدا کی نافرمانی کرتا ہے اور گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔آج کی اس دعا میں خدا سے یہی درخواست کرتے ہیں کہ ہمیں اپنے عذاب اور غضب میں گرفتار نہ کرے۔
و زحزحنی فیه من موجبات سخطک
و زحزحنی:اور مجھے دور کرے
فیه:اس دن میں
موجبات:اسباب سے
سخطک:اپنے غضب سے
پرودگارا! مجھے اپنے غضب کے اسباب سے دور رکھ یعنی ان چیزوں سے دور رکھ جو تیرے غضب کا سبب بنتا ہے۔خداوند ان لوگوں پر غضب کرتا ہے جو شیطان کی پیروی کرتے ہیں
بمنک و ایادیک یا منتهی رغبة الراغبین
بمنک:اپنے فضل اور عطا سے
وایادیک:اور احسان سے
یامنتهی:اے آخری
رغبة:امیدگاہ اور آروز
الراغبین:رغبت کرنے والوں کی
و لا تضربنی بسیاط نقمتک
ولاتضربنی:اور مجھے نہ مارے
بسیاط:اپنے تازیانہ سے
نقمتک:اپنے انتقام کے
خداوند اس سے بلند و بالا ہے ہم اس کی صفات کے بارے میں بحث کریں لیکن یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ انسان اس وقت غضب الہی کا مستحق ٹھرتا ہے جو وہ ہمیشہ خدا کی نافرمانی اور گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔آج کی اس دعا میں خدا سے یہی درخواست کرتے ہیں کہ ہمیں اپنے عذاب اور غضب میں گرفتار نہ کرے۔
و زحزحنی فیه من موجبات سخطک
و زحزحنی:اور مجھے دور کرے
فیه:اس میں
من موجبات:اسباب سے
سخطک:اپنے غضب سے
پرودگارا! مجھے اپنے غضب کے اسباب سے دور رکھ یعنی ان چیزوں سے دور رکھ جن سے تیرے غضب کا سبب بنتا ہے۔خداوند ان لوگوں پر غضب کرتا ہے جو شیطان کی پیروی کرتے ہیں
بمنک و ایادیک یا منتهی رغبة الراغبین
بمنک:اپنے فضل اور عطا سے
و ایادیک:اور احسان سے
یا منتهی:اے آخری
رغبة:امیدگاہ اور آروز
الراغبین:رغبت کرنے والوں کی

پانچواں پارہ

#ماه مبارک رمضان 🌙

#بهار_قرآن کریم 🌺📗🌺

پانچواں پارہ

پچھلے پارے کی بات کے تسلسل میں نکاح موقت (متعہ) کی اجازت "فَمَا _اسْتَمْتَعْتُم_ بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً" (نساء،۲۴)

اس کے علاوہ ‎گیارہ باتیں ہیں:
1. خانہ داری کی تدابیر
2. امامت اور اولیاء کا تعیُّن
3. وسیلے کی تائید
4. حضرت علی(ع) اور اہلبیت(ع) کی فضیلت
5. عدل اور احسان
6. جہاد کی ترغیب
7. منافقین کی مذمت
8. قتل کی سزائیں
9. ہجرت اور صلاۃ الخوف
10. ایک قصہ
11. سیدھے راستے پر چلنے کی ترغیب

🌼توضیح؛👇🏻

1- خانہ داری کی تدابیر:
پہلی ہدایت تو یہ دی گئی کہ مرد سربراہ ہے عورت کا، 
پھر نافرمان بیوی سے متعلق مرد کو تین تدبیریں بتائی گئیں:
ایک یہ کہ اس کو وعظ و نصیحت کرے، 
نہ مانے تو بستر الگ کردے، 
اگر پھر بھی نہ مانے تو انتہائی اقدام کے طور پر حد میں رہتے ہوئے اس سے ایک کم مدت کے لئے اظہار بے رغبتی کرے. (کیونکہ "پٹائی کرنا" جو آیت میں موجود ہے اس کی اپنی خاص تفسیر ہے.)

۲. امامت اور اولیاء کا تعیُّن
آیہ اولی الامر (آیت نمبر ۵۹) میں اللہ، رسول(ص) اور اولی الامر کی ولایت کا اعلان۔ جو کہ خود اہلسنت مفسرین کے مطابق حضرت علی علیه السلام اور ان کی اولاد میں سے معصوم امام(علیهم السلام) ہیں۔

۳. رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ) کو وسیلہ قرار دینے کا ذکر

۴. حضرت علی(ع) اور بقیہ اہلبیت(ع) کی فضیلت
آیت نمبر ۶۹ میں حضرت امام علی(ع)، جناب حمزہ(ع) اور جناب جعفرطیار(ع) کی فضیلت 'شھداء، صدیقین و صالحین' کہہ کے بیان کی گئی۔

5- عدل واحسان:
عدل و احسان کا حکم دیا گیا تا کہ اجتماعی زندگی بھی درست ہوجائے۔

6- جہاد کی ترغیب:
جہاد کی ترغیب دی کہ موت سے نہ ڈرو،وہ تو گھر بیٹھے بھی آسکتی ہے، نہ جہاد میں نکلنا موت کو یقینی بناتا ہے، نہ گھر میں رہنا زندگی کے تحفظ کی ضمانت ہے۔

7- منافقین کی مذمت:
منافقین کی مذمت کرکے مسلمانوں کو ان سے چوکنا کیا ہے کہ خبردار! یہ لوگ تمھیں بھی اپنی طرح کافر بنانا چاہتے ہیں۔

8- قتل کی سزائیں:
قتل کی سزائیں بیان کرتے ہوئے بڑا سخت لہجہ استعمال ہوا کہ مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرنے والا ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں جلے گا، مراد اس سے جائز سمجھ کر قتل کرنے والا ہے۔

9- ہجرت اور صلاۃ الخوف:
جہاد کی ترغیب دی تھی، اس میں ہجرت بھی کرنی پرتی ہے اور جہاد ار ہجرت میں نماز پڑھتے وقت دشمن کا خوف ہوتا ہے، اس لیے صلاۃ الخوف بیان ہوئی۔

10- ایک قصہ:
ایک شخص جو بظاہر مسلمان مگر در حقیقت منافق تھا اس نے چوری کی اور الزام ایک یہودی پر لگادیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ تک یہ واقعہ پہنچا، آپ(ص) پر  آیت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ چور وہ مسلمان نما منافق ہے، چنانچہ وہ چور مکہ بھاگا اور کھلا کافر بن گیا۔

11- سیدھے راستے پر چلنے کی ترغیب:
شیطان کی اطاعت سے بچو، وہ گمراہ کن ہے، ابوالانبیاء ابراہیم علیہ السلام کی اتباع کرو، عورتوں کے حقوق ادا کرو، منافقین کے لیے سخت عذاب ہے۔
التماس دعا

چوتها پاره

ماه مبارک رمضان 🌙

#بہار_قرآن مجید 🌺📗🌺

چوتها پاره

اس پارے میں دو حصے ہیں: 
1 -  بقیہ سورۂ آل عمران
2 - ابتدائے سورۂ نساء

 (پہلا حصہ)
سورۂ آل عمران کے بقیہ حصے میں پانچ باتیں ہیں:​
1 - خانہ کعبہ کے فضائل
 2 ۔ باہمی جوڑ (اتحاد)
3 - امر بالمعروف اور نہی عن المنکر
4 -  تین غزوے
5 - کامیابی کے چار اصول

1 - خانہ کعبہ کے فضائل:
یہ سب سے پہلی عبادت گاہ ہے اور اس میں واضح نشانیاں ہیں جیسے: مقام ابراہیم۔ جو حرم میں داخل ہوجائے اسے امن حاصل ہوجاتا ہے۔ 

 2 ۔ باہمی جوڑ (اتحاد)
اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے تھامو؛ [جو قرآن کریم اور اهل بیت اطہار علیهم السلام ہیں.].

3 - امر بالمعروف اور نہی عن المنکر:
یہ بہترین امت ہے کہ لوگوں کی 
 نفع رسانی کے لیے نکالی گئی ہے، بھلائی کا حکم کرتی ہے، برائی سے روکتی ہے اور اللہ پر ایمان رکھتی ہے۔

4 تین غزوے:
۱ -غزوۂ بدر 
۲۔غزوۂ احد
٣۔غزوۂ حمراء الاسد

5 - کامیابی کے چار اصول:
1-صبر 2- مصابرہ 3-مرابطہ 4- تقوی

مصابرہ ..ایک دوسرے کو کسی صبر کرنے کا کہنا ...
مرابطہ :دشمن کے لیئےتیار رہنا؛ یا آپس کا تعلق بہتر بنانا؛ رابطہ رکھنا...

_(دوسرا حصہ)_
 سورۂ نساء کا جو ابتدائی حصہ اس پارے میں ہے اس میں چار باتیں ہیں:​

1- یتیموں کا حق:
(ان کو ان کا مال حوالے کردیا جائے۔)

2-تعدد ازواج :
(ایک مرد بیک وقت چار نکاح کرسکتا ہے بشرط ادائیگئی حقوق.... )

3 - میراث :
( اولاد ، ماں , باپ ، بیوی ، کلالہ کے حصے بیان ہوئے؛ اس قید کیساتھ کی پہلی وصیت ادا کردی جائے )

4 - محرم عورتیں:
(مائیں ، بیٹیاں ، بہنیں ، پھوپھیاں ، خالائیں ، بھتیجیاں ، بھانجیاں ، رضاعی مائیں ، رضاعی بہنیں ، ساس ، سوتیلی بیٹیاں ، بہویں )

التماس دعا

رمضان المبارک کی روزانہ دعاؤں کی شرح

رمضان المبارک کی روزانہ دعاؤں کی شرح
چوتھے دن کی دعا
اللّٰهُمَّ قَوِّنِى فِيهِ عَلَىٰ إِقامَةِ أَمْرِكَ، وَأَذِقْنِى فِيهِ حَلاوَةَ ذِكْرِكَ، وَأَوْزِعْنِى فِيهِ لِأَداءِ شُكْرِكَ بِكَرَمِكَ، وَاحْفَظْنِى فِيهِ بِحِفْظِكَ وَسِتْرِكَ، يَا أَبْصَرَ النَّاظِرِينَ۔
اے معبود آج کے دن مجھے قوت دے کہ تیرے حکم کی تعمیل کروں اس میں مجھے اپنے ذکر کی مٹھاس کا مزہ دے آج کے دن اپنے کرم سے اپنا شکر ادا کرنے کی توفیق دے۔ مجھے اپنی نگہداری و پردہ پوشی میں رکھ اے دیکھنے والوں میں زیادہ دیکھنے والے۔
الفاظ کے معانی اور مختصر شرح: ذکر خدا کی مٹھاس
اللّٰهُمَّ قَوِّنِى فِيهِ عَلَىٰ إِقامَةِ أَمْرِكَ
اللهم:پرودگارا!
قونی:مجھے قوی بنا دے،مجھے طاقتور بنا دے
فیه:اس دن یا مہینہ میں
علی اقامة أمرک:تیرے حکم کی تعمیل کے لۓ
  اس دعا کے پہلے حصے میں اللہ تعالی ٰسے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں عبادت کی طاقت دے تاکہ صحیح طرح تیری عبادت اور تیرے حکم کی اطاعت کرسکیں۔عبادت کی طاقت، جسمانی طاقت سے جدا ہے ۔امام سجاد علیہ السلام صحیفۂ سجادیہ 44 ویں دعا میں اس طرح خدا سے مناجات فرماتے ہیں: " وَ أَعِنَّا عَلَی صِیامِهِ بِکفِّ الْجَوَارِحِ عَنْ مَعَاصِیک"۔( صحیفۂ سجادیۂ،دعا44) :یعنی پالنے والے ہمیں ماہ رمضان کا روزہ رکھنے میں ہماری مدد فرما۔ اس کے بعد فرماتے ہیں ہماری مدد فرما  جس کے ذریعے بدن کو گناہ میں آلودہ ہونے سے، اور وہ کام جو تیرے نزدیک ناپسند ہے، اجتناب کرسکیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ حقیقی روزہ صرف کھانے اور پینے سے پرہیز کرنا نہیں ہے بلکہ انسان کےتمام  اعضاء و جوارح روزہ دار ہونا چاہیے۔بنابر ایں خدا سے دعا کرتے ہیں اس کے احکامات کی انجام دہی میں ہمیں طافت دے اور ہماری مدد فرماۓ۔ عبادت کی طاقت انسانی جسم سے مربوط نہیں ہے ممکن ہے کہ ایک 70سالہ بوڑھا شخص آذان صبح سے  ایک گھنٹہ پہلے نیند سے بیدار ہوجاۓ اور خدا کی عبادت کرے لیکن ایک طاقتور جوان نماز صبح کے لۓ بیدار نہ ہو۔ اسی لۓ عبادت کرنے کی طاقت خدا سے طلب کرتے ہیں۔
و أذقنی فیه حلاوة ذکرک 
و أذقنی: اور مزہ چکھائے
فیه:اس میں
حلاوة ذکرک:تیرے ذکر کی مٹھاس اور لذت
اس دعا کے دوسرے حصے میں خدا سے دعا کرتے ہیں کہ تیرے ذکر کی  مٹھاس اور لذت ہمیں چھکادے۔ حقیقت میں مناجات اوردعا لذت بخش ہے اور انسان کے دل کو سکون بخشتا ہے مثال کے طور پر دعاۓ کمیل میں ایک ایسے شخص کی حالت  کا ذکر ہے  جو جہنم کے درمیان خدا سے عاشقانہ انداز میں مناجات کر رہا ہے۔  الهی صبرت علی عذابک فکیف اصبر علی فراقک: پرودگارا! تیرے عذاب کو برداشت کر سکتا ہوں  لیکن تجھہ سے جدائی اور فراق کو کیسے برداشت کروں۔ہفتے بھر میں پڑھی جانے والی  یومیہ دعاؤں کو نماز صبج کے بعد پڑھنے میں خاص لذت ہے۔
و أوزعنی فیه لإداء شکرک بکرمک
و_أوزعنی:اور مہیا کرے
فیه:اس میں
لإداء:ادا کرنے کے لۓ
شکرک:تیرا شکر 
بکرمک:تیری بخشش کا واسطہ
شکر یعنی اللہ تعالی کی دی ہوئی نعمتوں کو صحیح طریقے سے استعمال کرنا ؛ان نعمتوں کو خدا کی بندگی اور اطاعت کی راہ میں خرچ کریں اور نہ گناہ اور معصیت کی راہ میں۔آنکھوں کا شکر حرام چیزوں کا نہ دیکھنا ہے اور کان کا شکر حرام چیزوں کا نہ سننا ہے جیسے غیبت اور حرام میوزک، زبان کا شکر یہ ہے کہ انسان دوسروں کی غیبت  اور غلط بیانی نہ کرے ۔
شکر نعمت نعمتت افزون کند۔ نعمت کا شکر، نعمتوں کے زیادہ ہونے کا سبب بنتا ہے۔ 
کفر نعمت از کفت بیرون کند۔ کفران نعمت، نعمتوں کو زائل کر دیتا ہے۔
و احفظنی فیه بحفظک و سترک
واحفظنی: اور میری حفاظت کر
فیه:اس میں
بحفظک:تیری حفاظت سے
وسترک:اور تیری پردہ پوشی سے
جب انسان خدا پر توکل کرتا ہے اور اپنے تمام کاموں کو خدا کے حوالےکر دیتا ہے اسوقت خداوند اس شخص  پرشیطان کو مسلط ہونے سے بچاتا ہے جب انسان شیطان کے وسوسوں سے محفوظ رہا، اس سے گناہ سرزد نہیں ہوتا ہے، اور خداوند ستار العیوب ہے یعنی انسان کے گناہوں کی پردہ پوشی کرتا ہے۔
یا أبصر الناظرین 
یا ابصر:اے سب سے زیادہ دیکھنے والے
الناظرین:دیکھنے والوں میں سے
اس دن  خدا سے جو دیکھنے والوں میں  سب سے زیادہ دیکھنے والا ہے اور ہمارے عمل کو دیکھ رہا ہے اور کنٹرول کر رہا ہے ، دعا کرتے ہیں، ہمیں گناہ اور گناہوں کے ظاہر ہونے سے محفوظ رکھے۔

تیسرا پارہ کےاهم پیغامات

ماه مبارک رمضان 🌙

#بہار_قرآن 🌺📗🌺

3⃣ تیسرا پارہ​

اس پارے میں دو حصے ہیں:
1۔بقیہ سورۂ بقرہ
2۔ابتدائے سورۂ آل عمران

(پہلا حصہ) سورۂ بقرہ کے بقیہ حصے میں تین باتیں ہیں:
۱۔دو بڑی آیتیں 
۲۔دو نبیوں کا ذکر 
۳۔صدقہ اور سود

۱۔ دو بڑی آیتیں:
ایک ”آیت الکرسی“ ہے جو فضیلت میں سب سے بڑی ہے، اس میں سترہ مرتبہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے۔
دوسری ”آیتِ مداینہ“ جو مقدار میں سب سے بڑی ہے اس میں تجارت اور قرض مذکور ہے۔

۲۔ دو نبیوں کا ذکر:
ایک حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نمرود سے مباحثہ اور احیائے موتٰی کے مشاہدے کی دعاء۔
دوسرے عزیر علیہ السلام جنھیں اللہ تعالیٰ نے سوسال تک موت دے کر پھر زندہ کیا۔

۳۔ صدقہ اور سود:
بظاہر صدقے سے مال کم ہوتا ہے اور سود سے بڑھتا ہے، مگر در حقیقت صدقے سے بڑھتا ہے اور سود سے گھٹتا ہے۔

(دوسرا حصہ) سورۂ آل عمران کا جو ابتدائی حصہ اس پارے میں ہے اس میں چار باتیں ہیں:
1۔ سورۂ بقرہ سے مناسبت
2۔اللہ تعالیٰ کی قدرت کے چار قصے
3۔اہل کتاب سے مناظرہ ، مباہلہ اور مفاہمہ
4۔ انبیائے سابقین سے عہد

1۔ سورۂ بقرہ سے مناسبت
مناسبت یہ ہے کہ دونوں سورتوں میں قرآن کی حقانیت اور اہل کتاب سے خطاب ہے۔ سورۂ بقرہ میں اکثر خطاب یہود سے ہے جبکہ آل عمران میں اکثر روئے سخن نصاری کی طرف ہے۔

2۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے چار قصے:
پہلا قصہ جنگ بدر کا ہے، تین سو تیرہ نے ایک ہزار کو شکست دے دی۔
دوسرا قصہ حضرت مریم علیہ السلام کے پاس بے موسم پھل کے پائے جانے کا ہے۔
تیسرا قصہ حضرت زکریا علیہ السلام کو بڑھاپے میں اولاد عطا ہونے کا ہے۔
چوتھا قصہ حضرت عیسی علیہ السلام کا بغیر باپ کے پیدا ہونے، بچپن میں بولنے اور زندہ آسمان پر اٹھائے جانے کا ہے۔

3۔ مناظرہ ، مباہلہ اور مفاہمہ:
اہل کتاب سے مناظرہ ہوا، پھر مباہلہ ہوا کہ تم اپنے اہل و عیال کو لاؤ، میں اپنے اہل و عیال کو لاتا ہوں، پھر مل کر خشوع و خضوع سے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے ہیں کہ ہم میں سے جو جھوٹا ہے اس پر خدا کہ لعنت ہو، وہ تیار نہ ہوئے تو پھر مفاہمہ ہوا، یعنی ایسی بات کی دعوت دی گئی جو سب کو تسلیم ہو اور وہ ہے کلمۂ ”لا الہ الا اللہ“۔

4۔ انبیائے سابقین سے عہد:
انبیائے سابقین سے عہد لیا گیا کہ جب آخری نبی(ص) آئے تو تم اس کی بات مانو گے، اس پر ایمان لاؤ گے اور اگر تمھارے بعد آئے تو تمھاری امتیں اس پر ایمان لائیں۔

التماس دعا
FASIHI TV 

دوسرا پاره کا خلاصه

#رمضان 🌙

#بہار_قرآن 🌺📗🌺

2⃣ *دوسرا پارہ​*

*اس پارے میں چار باتیں ہیں:*

1⃣تحویل قبلہ
2⃣آیت بر اور ابوابِ بر (نیکی)
3⃣قصۂ طاعون
4⃣قصۂ طالوت

*1۔تحویل قبلہ:*

📢ہجرت مدینہ کے بعد سولہ یا سترہ ماہ تک بیت المقدس قبلہ رہا ، آپ ﷺ کی آرزو تھی کہ خانہ کعبہ قبلہ ہو، اللہ تعالیٰ نے آرزو پوری کی اور قبلہ تبدیل ہوگیا۔

*2۔آیتِ بر اور ابوابِ بر:*

♦لَّيْسَ الْبِرَّ أَن تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ ۔۔۔۔ (البقرۃ:۱۷۷)

یہ آیتِ بر کہلاتی ہے، اس میں تمام
✅ احکامات عقائد، 
✅عبادات، 
✅معاملات، 
✅معاشرت
✅ اور اخلاق اجمالی طور پر مذکور ہیں.

♦* آگے ابواب البر میں تفصیلی طور پر ہیں:

۱۔صفا مروہ کی سعی
 ۲۔مردار، خون، خنزیرکا گوشت اور جو غیر اللہ تعالیٰ کے نامزد ہو ان کی حرمت
۳۔قصاص 
۴۔وصیت 
۵۔روزے
۶۔اعتکاف 
۷۔حرام کمائی 
۸۔قمری تاریخ
۹۔جہاد 
۱۰۔حج 
۱۱۔انفاق فی سبیل اللہ تعالیٰ
 ۱۲۔ہجرت 
۱۳۔شراب اور جوا 
۱۴۔مشرکین سے نکاح 
۱۵۔حیض میں جماع 
۱۶۔ایلاء 
۱۷۔طلاق 
۱۸۔عدت 
۱۹۔رضاعت 
۲۰۔مہر 
۲۱۔حلالہ 
۲۲۔معتدہ ( عده والی خاتون)سے پیغامِ نکاح۔

*3۔قصۂ طاعون:*

کچھ لوگوں پر طاعون کی بیماری آئی، وہ موت کے خوف سے دوسرے شہر چلے گئے، اللہ تعالیٰ نے (دو فرشتوں کو بھیج کر) انھیں موت دی (تاکہ انسانوں کو پتا چل جائے کہ کوئی موت سے بھاگ نہیں سکتا) کچھ عرصے بعد اللہ نے (ایک نبی کے دعا مانگنے پر) انھیں دوبارہ زندگی دے دی۔

*4۔قصۂ طالوت.*
موسی علیہ السلام کے بعد جب کافی عرصہ گزر گیا اور بنی اسرائیل کے ایک نبی حضرت شمعون سے یا سموئیل سے بنی اسرائیل نے یہ کہا کہ ان کے لیے ایک امیر (بادشاہ) مقرر کر دے تو آپ علیہ السلام نے الله تعالٰی کا یہ فرمان سنایا کہ الله تعالٰی نے تمہارے لیے طالوت کو بادشاہ مقرر کیا ہے تو ان لوگوں نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے جب کہ وہ تو دولت مند بھی نہیں ہے۔ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ الله جس کو چاہتا ہے اپنا ملک دے دیتا ہے۔ چنانچہ جب الله تعالٰی کے فیصلے کے مطابق طالوت بادشاہ بن گئے اور اپنی فوج کے ساتھ جنگ کے لیے روانہ ہوئے تو الله تعالٰی نے فرمایا کہ الله تعالٰی ان کا ایک نہر پر امتحان لیں گے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے امتحان لیا جس میں بہت کم لوگ کامیاب ہوئے۔ کامیاب ہونے والوں کے ساتھ مل کر طالوت نے جالوت اور اس کی فوج سے جنگ کیا۔
طالوت کی فوج میں حضرت داؤد علیہ السلام بھی تھے جنہوں نے جالوت کو قتل کیا۔ اور اس طرح سے بنی اسرائیل کو ظالموں کے ظلم سے نجات ملی۔
طالوت نے جب جالوت سے جنگ جیت لی اور داؤد علیہ السلام کی شجاعت و ذہانت کو دیکھا تو اپنی بیٹی کا نکاح ان سے کر دیا۔ اس طرح حضرت داؤد علیہ السلام طالوت کے داماد ہوئے۔

✍مزید تفصیل کےلئے 
📕تفسیر نمونہ آیت ا۔۔۔ مکارم شیرازی 
📕تفسیر الکوثر علامہ الشیخ محسن علی نجفی 
کا مطالعہ فرمائیں ۔

✍🏻🤲🏻 فصیحی تی وی 🤲🏻✍🏻
🕌🕯 FASIHI tv🕯🕌

پہلے پارے کا خلاصہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ماہ رمضان بہار قرآن

پہلے پارے کا خلاصہ

اس پارے میں دو حصے ہیں 

1. سورہ الحمد 
2. سورہ بقرہ 

*سوره حمد* (فاتحه الکتاب): مکی سورہ هے اور اس کی سات آیتیں هیں

*سورہ حمد کی خصوصیات*

*۱ .لب و لہجہ اور اسلوب بیان :*

یہ سورہ دیگر سورتوں سے اس لحاظ سے واضح امتیاز رکھتی ہے کہ وہ خدا کی گفتگو کے عنوان کی حامل ہیں اور یہ بندوں کی زبان کے طورپر نازل ہوئی ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس میں خداوندعالم نے بندوں کو خداسے گفتگو اور مناجات کا طریقہ سکھایا ہے۔

*۲۔ اساس قرآن :*

نبی اکرم (ص) کے ارشاد کے مطابق سورہ حمد ام الکتاب ہے

اس سورہ میں پروردگار عالم کی حاکمیت مطلقہ او رمقام ربوبیت کا بیان ہے نیز اس کی لامتناہی نعمتوں کی طرف اشارہ ہے جن کے دو حصے ہیں ایک عمومی اور دوسرا خصوصی (رحمانیت اور رحیمیت) اس میں عبادت و بندگی کی طرف بھی اشارہ ہے جو اسی ذات پاک کے لئے مخصوص ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سورہ میں توحید ذات، توحید صفات، توحید افعال اور توحید عبادت سب کو بیان کیاگیا ہے۔

دوسرے لفظوں میں یہ سورت ایمان کے تینوں مراحل کا احاطہ کرتی ہے :

۱۔ دل سے اعتقاد رکھنا۔

۲۔ زبان سے اقرار کرنا۔

۳۔ اعضاء و جوارح سے عمل کرنا۔

*سوره کے موضوعات*

سورہ کی آخری آیت اس بات کی واضح اور روشن نشانی ہے کہ صراط مستقیم سے مراد ان لوگوں کی راہ ہے جو نعمات الہیہ سے نوازے گئے ہیں اور یہ راستہ مغضوب اور گمراہوں کے راستے سے جدا ہے۔

ایک لحاظ سے یہ سورہ دو حصوں میں تقسیم ہوجاتا ہے۔ ایک حصہ خدا کی حمد وثناء ہے اور دوسرا بندے کی ضروریات وحاجات۔

___________________________________________

*سورہ بقرہ* جس میں پانچ باتیں ہیں:

1۔اقسام انسان
2۔اعجاز قرآن
3۔قصۂ تخلیقِ حضرت آدم علیہ السلام
4۔احوال بنی اسرائیل
5۔قصۂ حضرت ابراہیم علیہ السلام

*1۔اقسام انسان تین ہیں*: مومنین ، منافقین اور کافرین۔
مومنین کی پانچ صفات مذکور ہیں:
۱۔ایمان بالغیب ۲۔اقامت صلوۃ ۳۔انفاق ۴۔ایمان بالکتب ۵۔یقین بالآخرۃ
منافقین کی کئی خصلتیں مذکور ہیں: جھوٹ، دھوکا، عدم شعور، قلبی بیماریاں، سفاہت، احکام الٰہی کا استہزائ، فتنہ وفساد، جہالت، ضلالت، تذبذب۔
اور کفار کے بارے میں بتایا کہ ان کے دلوں اور کانوں پر مہر اور آنکھوں پر پردہ ہے۔

*2۔اعجاز قرآن:*
جن سورتوں میں قرآن کی عظمت بیان ہوئی ان کے شروع میں حروف مقطعات ہیں یہ بتانے کے لیے کہ انھی حروف سے تمھارا کلام بھی بنتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا بھی، مگر تم لوگ اللہ تعالیٰ کے کلام جیسا کلام بنانے سے عاجز ہو۔

3۔قصۂ حضرت آدم علیہ السلام :
اللہ تعالیٰ کا آدم علیہ السلام کو خلیفہ بنانا، فرشتوں کا انسان کو فسادی کہنا، اللہ تعالیٰ کا آدم علیہ السالم کو علم دینا، فرشتوں کا اقرارِ عدم علم کرنا، فرشتوں سے آدم علیہ السلام کو سجدہ کروانا، شیطان کا انکار کرنا پھر مردود ہوجانا، جنت میں آدم وحواء علیہما السلام کو شیطان کا بہکانا اور پھر انسان کو خلافتِ ارض عطا ہونا۔

4۔احوال بنی اسرئیل:
ان کا کفران نعمت اور اللہ تعالیٰ کا ان پر لعنت نازل کرنا۔

5۔ قصہّ حضرت ابراہیم علیہ السلام:
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے کے ساتھ مل کر خانہ کعبہ کی تعمیر کرنا اور پھر اللہ تعالیٰ سے اسے قبول کروانا اور پھر توبہ و استغفار کرنا۔

التماس دعا

سوشل میڈیا کے فوائد و نقصانات

سوشل میڈیا کے فوائد و نقصانات
تحریر : محمد بشیر دولتی
#بشکریہ حوزہ نیوز+واٸس آف نیشن + اسلام ٹاٸمز + اسلامک اسٹوڈنس شگر
مقدمہ
سوشل  میڈیا کو فارسی  میں فضاٸ  مجازی اور اردو میں سماجی ذراٸع ابلاغ کہا جاتا ہے۔ اس دور میں سوشل میڈیا کی اہمیت سے کوئی بھی ذی شعور انسان انکار نہیں کرسکتا۔ کوٸی  آلہ  بھی بذاتہ اچھا یا برا نہیں ہوتا۔اس کا استعمال اسے اچھا یا برا بناتا ہے۔ اس مضمون میں ہم اس کے فواٸد اور نقصانات  کو مختصر ذکر کرتے ہیں۔آخر میں اس بحث کا مثبت خلاصہ قارٸین کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں  تاکہ سوشل میڈیا پر اپنے وقت ضاٸع کرنے کی بجاۓ اس کی اہمیت کو جان کر اسے باہدف  اور بامقصد بنایا جا سکے۔
*سوشل میڈیا کے فواٸد*
سوشل میڈیا کے فواٸد بے شمار ہیں۔ لیکن ان فواٸد کو حاصل کرنے کے لٸے بندے کا باشعور اور پڑھا لکھا ہونا ضروری ہے۔دیکھنے میں یہ فقط ارتباط کا ذریعہ ہے مگر درحقیقت یہ کماٸی ، تبلیغ ، جاسوسی ، جنگِ نرم یعنی حکومتوں کی تبدیلی ، سیاسی اہداف ، تہذیب و ثقافتوں کی دگرگونی یا حفاظت ، ظالموں  کےخلاف بہترین اسلحہ ، مظلوموں کی حمایت اور اعلٰی انسانی اقدار کی حفاظتی جنگ لڑنے والوں کے لٸے بہترین میدان اور اسلحہ ہے ۔
*سوشل میڈیا کے ذراٸع*
سوشل میڈیا کے ذراٸع بہت زیادہ  ہیں۔ کچھ ملکی تو کچھ بین الاقوامی حیثیت اور پہچان رکھتے ہیں۔ہم یہاں صرف بین الااقوامی وسائل کا نام لیتے ہیں۔جن میں انٹرنیٹ ، فیس بک ، ٹویٹر ، یوٹیوب ، ٹیلیگرام ، انسٹاگرام اور واٹساپ  وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
*گلوبل ولیج*
پہلی بار گلوبل ولیج کا تصور اور اصطلاح کینیڈا کے معروف مصنف اور رسانے کے مدیر *مارشل مک لوہان* نے دیا۔ یہ بندہ 21 جولاٸی 1911 میں پیدا ہوا۔31 دسمبر 1980 کو ٹورنٹو میں انتقال کرگیا۔ اس وسیع وعریض دنیا کو کم و بیش آج سے ستر اسّی سال قبل اسی بندے نے عالمی گاٶں کہہ کر آنے والے دور میں تیزی سے بڑھتے ہوئے  ارتباطات و پیام رسانی کو قبل از وقت فاش کردیا تھا۔ آج سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا کی وسعتیں واقعی سکڑ چکی ہیں۔فاصلے اب قربتوں میں بدل گٸے ہیں۔ دوریاں نزدیکیوں میں ڈھل چکی ہیں  مکان و زمان کے فاصلے سمٹ  چکے ہیں۔ قلم و کاغذ کی جگہ اب انگلیوں کے لمس نے لے لیا ہے۔  زمین کے اس کنارے سے اس کنارے تک فریکوینسی پلک جھپکنے میں پہنچ جاتی ہے۔ نہ فقط آواز پہنچتی ہے بلکہ حرکات و سکنات بھی  دیکھےجاسکتے ہیں۔ ان حرکات و سکنات کی جنبش کو اتنے  دقیق اور سرعت سے دیکھا جاسکتا ہے کہ پلکوں کے جھپکنے اور ہونٹوں کے ہلنے کو میلوں کی مسافت میں  ایک لحظے میں دیکھا جاسکتا ہے۔  خط و کتابت کوآدھی ملاقات قرار دینے والا حضرت غالب آج زندہ ہوتے تو نہیں معلوم کہ ویڈیو کال کو کونسی ملاقات قرار دیتے۔ اب تو نامعلوم معلوم میں  ، غاٸب شہود وحاضر میں ، پس منظر پیش منظر میں ، سرگوشی صداٶں میں ، انتظار وصلوں میں ، بےشعوری اب شعور میں بدل گٸی ہے ۔ اب کوٸی بھی واقعہ دنیا کے جس کونے میں رونما  ہوجاۓ منٹوں میں دوسرے کونے میں رہنے والوں تک پہنچ جاتا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس واقعے پر اپنا فیڈ بیک ، نکتہ نظر اور جذبات کا اظہار کر کے اپنے  احساسات کو ہزاروں لاکھوں لوگوں تک بھی پہنچایا جاسکتا ہے۔ اپنے گھر اور محلے میں دھتکارے ہوۓ لوگ بھی ہزاروں دوست احباب بنا سکتے ہیں ۔ ایسے ایسے دوست جنہیں کبھی دیکھا نہ ہو، جن کے بارے میں کبھی سوچا نہ ہو ۔ لیکن آپ نہ فقط اپنے دل کی بات ایسوں تک پہنچا سکتے ہیں بلکہ وہ آپ کی دلجوٸی بھی کرسکتے ہیں۔
جغرافیاٸی سرحدیں اب ناکارہ ہوچکی ہیں۔ نظریاتی سرحدیں اب مضبوط کی جاسکتی ہیں  آپ کا نظریاتی بندہ دنیا کے جس کونے میں بھی ہو آپ نہ فقط اسے ڈھونڈ سکتے  ہیں  بلکہ فکری طور پر اس سے جڑ بھی سکتے ہیں۔ اپنی کامیابی کی خوشی اور ناکامی کا غم آپ دوسروں تک پہنچا سکتے ہیں۔دوسروں کی خوشی اور غم کو مل جل کر بانٹ سکتے ہیں۔مارشل مک لوہان نے واقعی بہت خوب کہا کہ  یہ دنیا اب ایک عالمی گاٶں ہے۔
*سوشل میڈیا تبلیغ کا بہترین ذریعہ*
واضح ہے کہ سوشل میڈیا نے  فاصلوں کو سمیٹ کر پیام رسانی کو آسان کیا ہے۔  یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جو بھی سوشل میڈیا پہ ہے اس کا یقینا کوٸی عقیدہ یا نظریہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ سوشل میڈیا کو اپنے عقاٸد و نظریات کے پرچار و تبلیغ کا ذریعہ بناتے ہیں۔ اس میں فیس بک اور واٹساپ قابل ذکر ہیں ۔ فیس بک ، ٹویٹر اور انسٹاگرام صاف چشمہ یا سمندر کی مانند وسیع  ہے۔ البتہ واٹساپ کنویں کی مانند ہے۔ جس میں بحث مخصوص افراد تک محدود رہتی ہے ۔ بعض واٹساپ گروپ بدبودار پانی پہ مشتمل کنواں کی طرح ہے۔ جس میں ایڈ ہونے والا کچھ عرصہ اس بدبوسے اذیت محسوس کرتا ہے پھر دھیرے دھیرے وہ بھی عادی بن جاتا ہے۔ کچھ لوگ اس تنہا مچھلی کی طرح ہےجس کے بارے میں ہم پڑھتے رہتے ہیں کہ ”ایک مچھلی سارے تالاب کو گندھا کرتی ہے“۔ ایسا بندہ کسی گروپ میں پہنچ جائے  تو گروپ کو گندہ کیۓ بغیر نہیں رہ سکتا۔ کچھ گروپس میں کسی بات پر بحث و مباحثہ کی گنجاٸش نہیں ہوتی۔ جونہی کسی بات پر بحث ہوتی ہے ایڈمن حضرات پہلی فرصت میں آنلی ایڈمن کردیتے ہیں۔ یہاں صرف مخصوص تنظیم یا شخصیت کی واہ واہ اور غیر ضروری اسٹیکرز کی بھر مار پہ سب خوش ہوتے ہیں جونہی کسی نظرے یا شخصیت پہ اصلاحی نقد کے ذریعے نوآوری یا جہت دینے کی کوشش کریں تو گروپ بند کیا جاتا ہے ۔
البتہ *فیس بک* تبلیغ کا بہترین ذریعہ اور وسیلہ ہے۔لیکن یہ ہر بندے کو درک نہیں۔ جس کسی کے ادراک میں یہ بات ہے وہ اپنے عقاٸد و نظریات کی تبلیغ و دفاع کرتا ہے۔ جسے یہ درک نہ ہو تو وہ کبھی شعوری تو کبھی لاشعوری طور پر دوسروں کے عقاٸد  نظریات و اہداف کی نہ فقط تبلیغ کرتا ہے بلکہ اپنے ہی عقاٸد و نظریات و اہداف کی مخالفت بھی مختلف پوسٹوں کو لاٸک و شیٸر کر کے کرتا رہتا ہے۔اس کی  تفصیلی  نقصانات میں ذکر کروں گا۔
مارشل مک لوہان اپنی کتاب ”understanding Mediya“ میں کہتا ہے کہ ”Mediya is message“ یعنی خود میڈیا ہی پیغام ہے۔ آپ پیام لانے والے کو پیام سے جدا نہیں کرسکتے۔ایسے میں دانا وہی ہے جو غیروں کے میدان میں اپنے لٸے کھیلے۔ دوسروں کے میدان میں دوسروں کےلٸے نہ کھیلے۔
*سوشل میڈیا تربیت گاہ*
سوشل میڈیا کے فواٸد میں سے ایک بہترین فاٸدہ یہ ہے کہ آپ اسے تربیت گاہ میں بدل سکتے ہیں۔ اس بارے میں رہبر معظم سید علی خامنہ ای کا فرمان ہے کہ ”کمپیوٹر آنے والی نسلوں کو تربیت دے  گا“ اس بات کی حقیقت سے کوٸی باشعور انسان انکار نہیں کرسکتا ۔ فلم ،کارٹون ، ڈرامے اور گیمز یہ سب اسی بات پر دلیل ہیں۔ اب فیصلہ ہم نے کرنا ہے کہ ہمارے بچے کی تربیت کس قسم کے ڈراموں ،  فلموں اور گیموں کے ذریعے ہو ۔ ایرانی فلم ساز مجید مجیدی کی فلم واضح مثال ہے۔ مجید مجیدی کی فلم حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ایکٹرز آیت اللہ جوادی آملی سے ملنے آۓ ۔ اس ملاقات میں علامہ  جوادی آملی نے فرمایا کہ اگر اس زمانے میں کوٸی پیغمبر مبعوث ہوتا تو ناممکن نہیں تھا کہ وہ ہنر سینماٸی کے ساتھ آتے۔“ چونکہ آج کل بہترین فلموں و ڈراموں کے ذریعے ہی بہتر تبلیغ ممکن ہے۔ بعض ایرانی تاریخی فلمیں جیسے حضرت محمد ﷺ حضرت یوسف حضرت  سلیمان، اصحاب کہف،  شہید کوفہ، تنہا ترین سردار، قیام امیر مختار، غریب طوس وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ان کے علاوہ اخلاقی و خاندانی تربیت اور بچوں کی تربیت پہ بہترین فلمیں موجود ہیں۔ ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کی فلموں کے مقابلے میں ترک فلم ارتغل اور دیگر تاریخی فلمیں بھی فحاشی و بیہودگی سے  کسی حد تک پاک فلمیں ہیں۔ کورین تاریخی فلم جمونگ اور بعض دیگر تاریخی فلمیں بھی قابل ذکر ہیں۔ ان کے علاوہ مختلف اسلامی گیمز بھی بچوں کے لٸے آچکی ہیں۔ ان کی تشخیص کے ساتھ اسلامی تربیتی و اخلاقی چیزوں کو بچوں کے لٸے مہیا کرنا والدین کی اولین ذمہ داریوں میں سے ہے۔
اپنی اولادوں کو سوشل میڈیا سے دور رکھنا اب ممکن نہیں رہا۔ البتہ لاپرواٸی کٸے بغیر برے چیزوں  سے بچا کر  اچھی چیزوں کو مہیا کر کے دینا ممکن ہی نہیں بلکہ آسان بھی ہے۔
*تعلیم و تعلم کا بہترین ذریعہ*
سوشل میڈیا بہت سے علوم کے سیکھنے اور سکھانے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس حوالے سے ہمیں اپنا جاٸزہ لینے کی ضرورت ہے آیا میں نے سوشل میڈیا کو پیسوں اور وقت کی بربادی کا ذریعہ بنایا یا کچھ سیکھنے اور سکھانے کا ذریعہ بنایا ہے۔
*کماٸی کا ذریعہ*
اس حقیقت سے بھی کوٸی انکار نہیں کرسکتا کہ سوشل میڈیا کماٸی کا بہترین ذریعہ بھی ہے۔جو افراد سوشل میڈیا کے ہدف دار استعمال کے قاٸل ہیں ان کے لٸے کھلا میدان اور بےشمار راستے موجود ہیں جیسے مختلف کلاسیں لینے  کے علاوہ یوٹیوب پر اچھے مواد اپلوڈ کرنا۔  مگر بدقسمتی سے اس طرف بہت کم لوگ متوجہ ہیں۔
*سوشل میڈیا کے نقصانات*
سوشل میڈیا کے نقصانات بھی بہت ہیں ۔ان میں سے چند اہم نقصانات کا ہم یہاں مختصر ذکر کرتے ہیں۔
*درست نقطہ نظر*
دنیا میں فیس بک کا استعمال سب سے ذیادہ ہے۔اس وقت ایک ارب سے زائد افراد فیس بک استعمال کر رہے ہیں۔ فیس بک کے بارے میں پہلے یہ معروف تھا کہ آپ کچھ بھی اپلوڈ کرسکتے ہیں اور بول بھی سکتے ہیں۔لیکن اب یہ بات نعرے کی حدتک ہے۔ عملا ہم قاسم سلیمانی سمیت مقاومتی بلاک کے حق میں کچھ مواد اپلوڈ کرنا تو دور کی بات کچھ لکھ بھی نہیں سکتے ۔ اسی طرح یمن اور فلسطین کے حق میں اور اسراٸیل کے خلاف کچھ  بھی نہیں لکھ سکتے۔ شھید قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد ہزاروں معروف ساٸیٹس ، ایکونٹس اور آٸی ڈیز بلاک کردی گٸی۔ خود میری دو آٸی ڈیز مکمل بند ہوچکی ہیں۔ نٸی آٸی ڈی کے لٸے چہرے کی مختلف جہت سے وڈیو دے کر اجازت ملی ہے۔ اب انتہاٸی احتیاط کے باوجود کٸی پوسٹ انتباہ کے ساتھ فیس بک انتظامیہ ہٹاچکی ہے ۔ جولوگ سی این این ، اسراٸیلی ریڈیو ،چینل 7 اور امریکی و اسراٸیلی  جراٸد کی خبریں اور نکتہ نظر  پھیلاٸیں ان کی آٸی ڈیز کی فعالیت کو بڑھادی جاتی ہے۔ یہ فقط دعوی نہیں ذاتی تجربہ اور مشاہدہ بھی ہے۔
*وقت کا ضیاع*
انسانی زندگی کا قیمتی سرمایہ وقت ہے۔ وقت ہی کے مجموعے  سے زندگی بنتی ہے۔ وقت کو ضاٸع کرنے کا مطلب ہے زندگی کو ضاٸع کرنا۔ اس سے بھی خطرناک بات یہ ہے کہ کوٸی سوشل میڈیا پہ وقت ضاٸع کرئے تو  اس کا مطلب ہے کہ وہ پیسہ دے کر اپنا وقت ضاٸع کر رہا ہے۔ یہ دگنا نقصان ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جو سوشل میڈیا نہیں چلاتے بلکہ سوشل میڈیا ان کو چلاتی ہے ۔ وہ سوشل میڈیا پہ سوار نہیں بلکہ سوشل میڈیا  ان پر سوار ہے ۔ یہ انتہاٸی خطرناک بات ہے۔
بقول شاعر کے۔
ٹھوکر جدھر کو لگ گٸی جاتا ہوں لڑھکتا
اپنا ٹھکانا خود مجھے معلوم نہیں ہے۔
*فضاٸ مجازی*
سوشل میڈیا کو فارسی میں فضاٸ مجازی کہاجاتا ہے۔یعنی اس کا حقیقت سے کوٸی تعلق نہیں ۔ جن کا سالوں سے اپنی بہن بھاٸیوں سے دعا سلام نہیں وہ فیس بک پہ روز ہزاروں کو سلام کرتے ہیں۔ عملا جس کا کوٸی ہم فکر ہم نظر دوست احباب نہ ہو فیس بک پر ہزاروں دوست بناتے ہیں۔ ماں باپ کی جو عزت احترام اور درست دیکھ بال نہ کریں وہ اطاعت والدین  کی پوسٹ کرتے ہیں۔ اسلام آباد میں ایک سوشل ایکٹویسٹ کے قتل پر مہینوں اسے شہید قرار دیتے رہے بعد میں پتہ چلا کہ لڑکی کےچکر میں مارا گیا تھا۔ ایک ٹک ٹاکر کے ایک لاکھ سے زائد فالورز  تھے قتل ہوا تو جنازے میں بارہ نفر بھی  نہ تھے۔ ایک ٹک ٹاکر چند ماہ تک مظلومہ بنی رہی بعد میں پتہ چلا سب کچھ سستی شہرت کے لٸے پری پلاننگ کیا تھا۔ تین بچوں کی ماں ٹک ٹاکر کے فالورز ایک لاکھ سے ذیادہ ہوئے تو بچوں اور شوہر کو چھوڑ کر بھاگ گٸی۔اس کے  علاوہ سوشل میڈیا پروپیگنڈہ اور شخصیت کو مسخ کرنے کے ساتھ شخصیت پرستی و خود پسندی  کا ذریعہ بھی ہے۔
*گیمز*
رہبر معظم کا ایک بیان ہے کہ: سوشل میڈیا نوجوانوں کی قتل گاہ ہے“
واقعا سوشل میڈیا نہ فقط عقاٸد و نظریات کی قتل گاہ ہے بلکہ یہ آرام و آساٸش کے ساتھ اپنی خوابگاہوں میں سونے والے نوجوانوں کی قتل گاہ بھی ہے۔اس پر دلیل مختلف تشدد پسند ، خود ستاٸی سے لے کر خود کشی تک کروانے والے گیمز ہیں۔جیسے  ”بلیو وھیل گیم“اس خطرناک  گیم کا موجد روس کے باٸیس سالہ نفسیات کے طالب علم فلپس بڈیکن تھا۔ اس کو اب تک کی خطرناک ترین گیم کہا جاتا ہے۔ اس میں مراحل طے کرنے والا  جب تک  خود کو زخمی کر کے اپنی تصویر  جب تک انہیں اپلوڈ نہ کرتے اگلے مرحلے میں داخل نہیں ہوسکتا تھا۔ اس گیم میں جیتنے کے لٸے زندگی سے ہارنا ضروری تھا۔ آخر میں کھیلنے والے کو کسی بلندی سے کود کر خودکشی کرنا پڑتا تھا۔
دنیا بھر میں کٸی افرادیہ گیم کھیل کر خود کشی کر چکے ہیں۔ ایک دو کو آخری مراحل میں خوش قسمتی سے بچایا بھی جاچکا ہے۔
حال ہی میں پب جی کھیلنے سے منع کرنے پر لاہور میں زین نامی لڑکے نے ماں بہن اور بھاٸی کو قتل کردیا۔ اس جیسی کٸی مثالیں موجود ہیں۔
*غیراخلاقی مواد*
اس وقت سوشل میڈیا غیر اخلاقی مواد سے لبریز ہے ۔ موباٸل اب ارتباطی وسیلے کے علاوہ منی سینما میں بدل گیا ہے۔ مضبوط گھر کی چاردیواری اور تنہا کمرے میں ہوکر بھی کوٸی کمرے میں نہ محفوظ ہوتا ہے نہ تنہا ہوتا ہے ۔ ایسے میں بچوں اور بچیوں کو راتوں میں موباٸل سے دور رکھنے اور بہترین تربیت دینے کے علاوہ اس دلدل سے محفوظ رکھنے کا کوٸی اور وسیلہ نہیں ہے۔
*نتیجہ*
بےشک سوشل میڈیا کی اہمیت سے کوٸی انکار نہیں کرسکتا ۔ فرد یا معاشرے کو بگاڑنے اور سنوارنے میں اس کا بنیادی کردار ہے ۔ بذاتہ سوشل میڈیا اچھا ہے نہ برا ہے، بلکہ اس کا استعمال اسے اچھا یا برا بناتا ہے۔ اس کے درست استعمال کے لٸے اسے باقاعدہ سیکھنا اور تربیت لے کر باہدف بنانا ضروری ہے۔ اس کا درست استعمال ہو تو بہت مفید چیز ہے۔ اسی لٸے رہبر معظم نے فرمایا ” میں آج اگر رہبر انقلاب نہ ہوتا تو سوشل میڈیا کا سربراہ ہوتا“
جو نظریاتی و مکتبی ہوتا ہے وہ شعوری طور پر سوشل میڈیا کو اپنے عقیدے  یا نظریے کے دفاع اور پرچار کا ذریعہ بناتا ہے۔ ایسے لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ  صاحب تحریر  ہماری تنظیم کا ہے یا نہیں؟ ہمارے  دوستوں میں سے ہے یا نہیں بلکہ وہ  یہ دیکھتا ہے کہ اس کی باتیں درست  ہیں یا نہیں ؟ اس کا نظریہ اور پیغام شاٸستہ اور قابل قبول ہے یا نہیں؟ اگر  نظریہ  درست اور باتیں قابل قبول اور شاٸستہ ہوں  تو اجنبی ہوکر بھی ایک اصول پسند انسان اسے پھیلانے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ خدا ہمیں وابستگیوں سے ماورا ہوکر سوشل میڈیا کو حقاٸق کے پرچار کرنے ، ظلم کے خلاف آواز حق بلند کرنے اور سچ اور سچاٸی کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائے ۔ایسے ہی لوگوں کے  لٸے  رہبر معظم نے فرمایا کہ ہم ” سوشل میڈیا پہ میدان جنگ میں ہیں،ہمیں اس مورچے میں حاضر رہنا چاہٸے۔ہمیں  اس میدان کے عمار بننا ہے۔ چونکہ ”فضاٸ مجازی کی  اہمیت انقلاب اسلامی کے برابر ہے۔“ لذا اس *جنگ نرم* میں بہتر طریقے سے اپنے عقاٸد ، نظریات ، تہذیب و ثقافت کی حفاظت، تحفظ اور پرچار کے ساتھ معاشرے  میں انسانی اقدار کی پاسداری ، حق کی حمایت باطل کی مخالفت  بہت ضروری ہے۔
خدا ہمیں سوشل میڈیا کو تمام تر ذاتی وابستگیوں سے ماورا ٕ ہوکر حق ، سچ اور اصول پسندی کے معیارات کے مطابق استعمال کرنے کی توفیق عطا فرماۓ۔آمین

شجر کاری کی اهمیت

شجرکاری کی اہمیت  فریقین کی روایات کی روشنی میں

تحریر:محمد لطیف مطہری کچوروی

"شجر"  کا معنی درخت اور" کار" کا معنی کام کے ہیں۔شجر کاری سے مراد درخت لگانا ہے۔شجر سے انسان کا رابطہ اٹوٹ انگ ہے کیونکہ درخت انسانوں کو آکسیجن مہیا کرتا ہے ۔ شجر کاری کم اور جنگلات کی اندھا دھند کٹائی نے نہ صرف ماحول کو مسموم کیا  ہے  بلکہ یہ  قبیح فعل  ماحولیاتی آلودگیوں اور موسمی تبدیلی کا باعث بن رہا ہے۔موسمی تبدیلی  کی وجہ سے صحت کے مسائل، خوراک کے مسائل، صاف پانی کی قلّت، معاشی مسائل، گلوبل وارمنگ اور دیگر مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔ان مسائل سے ماحول کو دور رکھنے کے  لیے شجر کاری  کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
انسانی جسم میں جس طرح پھیپھڑے اہمیت کا حامل ہیں   اسی طرح زمین پر درختوں کی اہمیت ہے۔ درخت قدرتی فضائی فلٹر کا کام کرتے ہیں جس کے ذریعے ہوا کو صاف بنانا ممکن ہے، صرف ایک مربع میل پر پھیلے ہوئے درخت موسمِ سرما کے ایک دن میں 29 ٹن آکسیجن خارج کرتے ہیں جب کہ ایک صحت مند آدمی کو دن میں صرف دو پونڈ آکسیجن درکار ہوتی ہے۔ماہر نباتات ڈاکڈر ایس کے جین کے مطابق ایک اوسط سائز کا درخت دو خاندانوں  سے خارج شدہ کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کو جذب کر کے ہوا میں آکسیجن  پیدا کرتا ہے۔
جنگلات کی بے رحمی سے کٹائی اگر اسی طرح جاری و ساری رہے تو ۲۰۸۰ تک تمام سدا بہار درختوں سے محروم ہونا پڑے گا۔
ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان کے بعد پاکستان خطے کے کم ترین جنگلات والا ملک ہے اس کا صرف ۴ فیصد رقبہ جنگلات پر مشتمل ہے حالانکہ اس کے پڑوس میں موجود ممالک میں ایران ۷ فیصد بھارت کا ۲۳ فیصد،چین ۲۲ فیصد اورروس کا ۴۴ فیصد رقبہ جنگلات پر مشتمل ہے۔۱۔
موجودہ جدید ترین سائنس کے مطابق شجرکاری کے ۶۰ مثبت فوائد دریافت کئے گئے ہیں جن میں سے بعض یہ ہیں:
۱۔ایک درخت ۱۸ افراد کی ایک سال کی آکسیجن کی ضرورت پوری کرتا ہے۔
۲۔درختوں کی لکڑی سے غریب لوگوں کے ایندہن کے علاوہ انسانوں،حیوانوں اور پرندوں کی خوراک پوری ہو جاتی ہے۔
۳۔ درخت لگانے سے سیلاب کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔
۴۔درخت قحط اوت خشک سالی سے بچاتے ہیں۔
۵۔درخت بادلوں کی تشکیل کا باعث بنتے ہیں۔
۶۔درخت ڈیپریشن اورذہنی تناو کا خطرہ کم کرتے ہیں۔
۷۔درخت ماحول میں خوبصورتی پیدا کرتے ہیں۔
۸۔درخت درجہ حرارت کو اعتدال و توازن میں رکھنے کے لئے معاون ، مدد گار بنتے ہیں۔
۹۔درخت آکسیجن فراہم کرنے کا واحد ذریعہ ہیں۔
۱۰۔درخت فضائی جراثیم کو اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں۔
۱۱۔درخت ادویات کا سن سے بڑا منبع ہیں۔
۱۲۔درختوں کی کمی کی وجہ سے گرمی کی شدت اور دورانیے میں  اضافہ ہوتا ہے۔
۱۳۔درختوں  کی کمی پہاڑوں پر لینڈ سلائیڈنگ کا باعث بنتی ہے۔
۱۴۔مختلف قسم کے درخت ریگستان کو نخلستان میں  تبدیل کر دیتا ہے۔
موجودہ سائنس شجر کاری کی جس اہمیت و افادیت کو بیان کر رہی ہے  درحالیکہ  قرآن مجیداور احادیث نے چودہ سو سال قبل ہی لوگوں کو اس سے  آگاہ کردیا تھا۔قرآن کریم میں مختلف حوالے سے درخت  کا ذکر آیا ہے ۔ ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت قرار دیتے ہوئے اس کا ذکر اس طرح کیا :وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا جس سے تمہیں پینے کو ملتا ہے اور اس سے درخت اگتے ہیںجن میں تم جانور چراتے ہو۔ جس سے وہ تمہارے لیے کھیتیاں، زیتون کھجور، انگور اور ہر قسم کے پھل اگاتا ہے، غور و فکر سے کام لینے والوں کے لیے ان چیزوں میں یقینا نشانی ہے۔۲۔ 
ایک جگہ درختوں اور پودوں کے فوائد اس طرح بیان کیے گئے ہیں:اور آپ کے رب نے شہد کی مکھی پر وحی کی کہ پہاڑوں اور درختوں اور لوگ جو عمارتیں بناتے ہیں ان میں گھر (چھتے) بنائے ۔۳۔ 
اللہ نے درخت کا ذکر آگ کے حوالے سے کیا ہے:وہی ہے جس نے تمہارے لیے سبز درخت سے آگ پیدا کی پھر تم اس سے آگ سلگاتے ہو ۔ ۴۔  
ایک جگہ شجر مبارکہ کے طورپر ذکر کیا گیا :۔۔۔ جو زیتون کے مبارک درخت سے روشن کیا جاتا ہے جو نہ شرقی اور نہ غربی، اس کا تیل روشنی دیتا ہے خواہ آگ اسے نہ چھوئے۔ یہ نور بالائے نور ہے۔ اللہ جسے چاہے اپنے نور کی راہ دکھاتا ہے اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بھی بیان فرماتا ہے اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھتا ہے۔۵۔
ایک جگہ تمام مظاہرِ قدرت کو آرایش کائنات قرار دیا گیا ہے :روئے زمین پر جو کچھ موجود ہے اسے ہم نے زمین کے لیے زینت بنایا تاکہ ہم انہیں آزمائیں کہ ان میں سب سے اچھا عمل کرنے ولا کون ہے ۔ ۶۔ 
اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے نسل اور کھیتی باڑی کو تباہ کرنے والوں کی مذمت کی ہے :اور جب وہ لوٹ کرجاتا ہے تو سرتوڑ کوشش کرتا پھرتا ہے کہ زمین میں فساد برپا کرے اور کھیتی اور نسل کو تباہ کر دے اور اللہ فساد کوپسند نہیں کرتا۔۷۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: جو شخص درخت لگاتا ہے ، ہر بار جب انسان یا خدا کی مخلوقات میں سے کوئی اس سے کھاتا ہے تو اسے اس کے لئے صدقہ سمجھا جاتا ہے۔۸۔
امام  جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: 
خداوند متعال نے اپنے انبیاء اور رسولوں کے لئے درخت لگانے اور زراعت کا پیشہ انتخاب کیا تاکہ وہ آسمان کی مسلسل بارشوں سے نالاں نہ رہیں بلکہ ہمیشہ خدا کی رحمت ( بارش) کا مسلسل انتظار کرتے رہیں۔۹۔
امام علی بن الحسین  علیہ السلام نے فرمایا: سب سے اچھا عمل یہ ہے کہ پودے لگائیں ، بوئیں ، کاشت کریں ، نیک اور بدکار  افراد تمہاری کاشت سے استفادہ کریں گے یہاں تک کہ شکاری اور پرندے بھی کھائیں گے۔۱۰۔
امام  جعفرصادق علیہ السلام نے فرمایا: کاشت کرو اور درخت لگاؤ ، خدا کی قسم  لوگوں کے اعمال میں اس سے بڑھ کر زیادہ حلال اور پاکیزہ کوئی چیز نہیں۔۱۱۔
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: پھلدار درختوں کو نہ کاٹو تاکہ خدا کا عذاب تم پر نازل نہ ہو۔۱۲۔
امام  جعفرصادق علیہ السلام  فرماتے ہیں: خداوند متعال کے نزدیک زراعت سے زیادہ مقبول کوئی شغل اور پیشہ نہیں ہے۔ خداوند متعال نے کسی نبی کو اس وقت تک مبعوث نہیں کیا جب تک کہ وہ  زراعت اور درخت کاری کا پیشہ اختیار نہ کرے سوائےحضرت ادریس کے، جو درزی تھے۔ ۱۳۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بغیر کسی ظلم کے کوئی عمارت بنائے یا پودا اور درخت لگائے تاکہ خدا کا کوئی رحم دل بندہ اس سے فائدہ اٹھائے توخداوند متعال اسےثواب اور جزا عطا کرتا ہے۔ ۱۴۔
حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے  ارشاد فرمایا: کوئی کسان اس وقت تک درخت کاری نہیں کرتا جب تک کہ اللہ تبارک وتعالی اس کو اس درخت کے  پھل کی مقدار  میں ثواب سے نواز دیتا ہے۔۱۵۔ 
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: جو شخص شجر کاری کرتا ہے اور صبر ، استقامت کے ساتھ اس کی دیکھ بھال کرتا ہے یہاں تک کہ پھل پک جائے تو خداوند تبارک و تعالٰی اس شخص کو( جتنی مقدار میں اور جتنےلوگوں نے اس درخت سے استفادہ کیا ہے) صدقہ اور انفاق کا ثواب عطا کرتا ہے۔۱۶۔ 
امام  جعفرصادق علیہ السلام فرماتے ہیں: میں اپنے کچھ باغات میں اتنی سخت کوشش کرتا ہوں کہ مجھے اس عمل سے پسینہ آتا ہے،درحالیکہ میرے پاس ایسے افراد بھی ہیں جو میرے لئے یہ کام کرے ، لیکن میں چاہتا ہوں کہ کسب حلال کے لئے خود محنت و مشقت برداشت کروں۔۱۷۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کھجور یا سدر کے درخت کو پانی دیے تو گویا اس نے کسی پیاسے انسان کو سیراب کیا ہے۔ ۱۸۔
امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: امیر المومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں: جس کے پاس پانی اور زمین موجود ہواور وہ  اس زمین اور پانی سے صحیح استفادہ نہ کرنے کہ وجہ سے فقر اور تنگدستی میں مبتلا ہو گیا ہو تو خداوند متعال اسے اپنے رحمت سے دور کرے گا۔۱۹۔
 قال رسول اللہ صلي‌ الله‌ عليه‌وآله‌وسلم:ما مِن رَجُلٍ يَغرِسُ غَرساً إلاّ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ مِنَ الأجرِ قَدرَ ما يَخرُجُ مِن ثَمَرِ ذلِكَ الغَرسِ
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:جو بھی کسی پودے کو زمین میں بوتا ہے تو خداوند متعال اس درخت کے پھل کے مقدار(جو حاصل ہوتا ہے) اسے ثواب عطا کرتا ہے۔۲۰۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو مسلمان درخت لگاتا ہے پھر اس میں سے جتنا حصہ کھالیا جائے وہ درخت لگانے والے کے لیے صدقہ ہو جاتا ہے اور جو اس میں سے چرالیا جائے وہ بھی صدقہ ہو جا تا ہے (یعنی اس پر بھی مالک کو صدقہ کا ثواب ملتاہے) اور جتنا حصہ اس میں سے درندے کھا لیتے ہیں وہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے جا تا ہے اور جتنا حصہ اس میں سے پر ندے کھا لیتے ہیں وہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے جا تاہے ( غرض یہ کہ ) جو کوئی اس درخت میں سے کچھ (بھی پھل وغیرہ ) لیکر کم کر دیتا ہے تو وہ اس ( درخت لگانے والے) کے لیے صدقہ ہو جاتا ہے۔۲۱۔
 جناب قاسم  سے نقل ہے کہ دمشق میں حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس سے ایک شخص گزرا۔ اس وقت حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کوئی پودا لگارہے تھے۔ اس شخص نے ابودرداء رضی اللہ عنہ سے کہا:کیا آپ بھی یہ (دنیاوی ) کام کررہے ہیں حالانکہ آپ تو رسول اللہ (ص) کے صحابی ہیں۔ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے ملامت کرنے میں جلدی نہ کرو۔ میں نے رسول اللہ(ص) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: جو شخص پودا لگاتا ہے اور اس میں سے کوئی انسان یا اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے کوئی مخلوق کھاتی ہے تو وہ اس (پودا لگانے والے) کے لئے صدقہ ہوتا ہے۔۲۲۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ص) نے ارشاد فرمایا : جس آدمی نے بے آباد زمین کو آباد کیا اس کے آباد کر نے کی وجہ سے اسے ثواب ملے گا اور جس قدر اس میں سے جا نور اور پر ندے کھا جائیں وہ اس کے حق میں صدقہ ہے۔۲۳۔
حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شجر کاری کو فروغ دینے کے لیے ایمان والوں پر شجر کاری کو صدقہ قرار دیتے ہوئے  فرمایا: ’’جو مسلمان دَرخت لگائے یا فَصل بوئے پھر اس میں سے جو پرندہ یا اِنسان یا چوپایا کھائے تو وہ اس کی طرف سے صَدَقہ شُمار ہوگا۔۱۸۔
آپ (ص) ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:جو کوئی درخت لگائے پھر اس کی حفاظت اور نگرانی کرتا رہے یہاں تک کہ و ہ درخت پھل دینے لگے اب اس درخت کا جو کچھ نقصان ہوگا وہ اس کے  لیے اﷲ کے یہاں صدقہ کا سبب ہوگا۔ ۲۴۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیری کے درخت کے بارے میں فرمایا: ’’جو بیری کا درخت کاٹے گا، اسے اﷲ تعالیٰ اوندھے مُنہ جہنم میں ڈالیں گے۔۲۵۔
آپ (ص) نے جہاں عام دنوں میں درخت کاٹنے کی ممانعت فرمائی وہاں دورانِ جنگ بھی، نہروں کو آلودہ کرنے کی اور درختوں کو کاٹنے کی ممانعت فرما کر ناصرف آبی ذخائر کی حفاظت کی تعلیم دی بل کہ ماحول کو آلودہ ہونے سے بھی بچایا۔ امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اسلامی لشکر کو مشرکین کی طرف روانہ فرماتے تو یوں ہدایات دیتے: ’’کسی بچے کو قتل نہ کرنا، کسی عورت کو قتل نہ کرنا، کسی بوڑھے کو قتل نہ کرنا، چشموں کو خشک و ویران نہ کرنا، درختوں  کو نہ کاٹنا۔۲۶۔
اگر گلوبل وارمنگ کو روکا نہیں گیا تو یہ دنیا کو صفحۂ ہستی سے مٹا سکتی ہے اور اس کا  واحدحل شجرکاری ہے۔ اور اسی کے ذریعہ سے ہی گلوبل وارمنگ کو زیر کیا جاسکتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم  زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں ، ان کی دیکھ بھال  کریں اورنئے نسل کو  شجرکاری کے فوائد اور اہمیت سے واقف کرائیں  اور انسان سمیت تمام جانوران کے تحفظ  اور بقاء کے  لیے نہ صرف ایک دن بلکہ پورا سال شجر کاری کا مہم جاری رکھے اور ہر لمحہ اﷲ تعالیٰ  کی دی ہوئی ان نعمتوں کا شکر ادا کریں اگرچہ کماحقہ شکر ادا کرنے سے ہم قاصر ہیں۔
حوالہ جات:
۱۔https://theurdututor.com
۲۔ نحل ،۱۰-۱۱۔
۳۔ نحل  ۶۸۔
۴۔یس ۸۰۔
۵۔ نور۲۴۔
۶۔ کہف۱۷۔
۷۔ بقرہ ۲۰۵۔
۸۔نهج الفصاحه ص 597۔
۹۔ وسائل الشیعه جلد 12 ، میزان الحکمه جلد 4 صفحه 214 نقل از وسایل جلد 12 ص 192
۱۰۔الحیاة ص 345
۱۱۔الحیاة جلد 5 صفحه 345 نقل از سفینة البحار جلد 1 ص 549
۱۲۔میزان الحکمه حدیث شماره 1955
۱۳۔ الحیاة ص 345
۱۴۔ الحیاة ،ج ۵،نقل از مستدرک الوسائل جلد 2 ص 501
۱۵۔کنزالعمال ،ج 3، ص 896
۹۔میزان الحکمه حدیث 9143۔
۱۶۔وسائل الشیعه ج 12۔
۱۷۔ الحیاة جلد 5 صفحه 344 ، وسائل الشیعه جلد 12 صفحه 25۔
۱۸۔وسائل الشیعه جلد 4 ، جلد 4 صفحه 213 میزان الحکمه نقل از بحارالانوار جلد 103 صفحه 65 قرب الاسناد صفحه 55۔
۱۹۔ كنزالعمّال، ح ۹۰۵۷
۲۰۔کتاب صحیح مسلم۔
۲۱۔کتاب مسند احمد۔
۲۲۔سنن ترمذی۔
۲۳۔ سنن نسائی
۲۴۔صحیح بخاری
۲۵۔مسند احمد
۲۶۔سنن ابو داؤد
۲۷۔ بیہیقی
۲۸۔ کتاب چهل حدیث درباره درختکاری

کتب اربعه کا تعارف

📖 کتب اربعہ📖
✒️📚 کتب اربعہ کا تعارف کیا ہے؟
👈✒️💕 *اجمالی جواب:* کتب اربعہ کا اطلاق ان چاروں کتابوں پر ہوتا ہے جو مذہب شرعی شیعہ اثناعشری میں فقہاء اور مجتہدین کے لئے استنباط کے اہم ترین منابع سمجھے جاتے ہیں یہ چاروں کتابیں اپنی تالیف کے زمانہ کے اعتبار سے مندرجہ ذیل ہیں :
📌👈١۔ الکافی ، ابوجعفر محمد بن یعقوب بن اسحاق کلینی رازی (متوفی ٣٢٩ ق) ۔
یہ کتاب، غیبت صغری اور امام زمانہ (ارواحنا فداہ) کے چوتھے نائب یعنی ابوالحسن علی بن محمد سمری رضوان اللہ کی نیابت کے زمانہ میں تالیف ہوئی ہے اور کلینی نے اس کتاب کو اہل بیت (علیہم السلام) کے شاگردوں اور شیعہ و اہل سنت کے اہم اور معتبر راویوں کی روایت کی بنیاد پر لکھی ہے اور اس کتاب کو تالیف کرنے میں تقریبا بیس سال لگے ہیں ۔ یہ روائی مجموعہ اس قدر جامع اور وسیع ہے کہ اس میں تقریبا سولہ ہزار معتبر اور مستند روایتیں موجود ہیں اور اس میں تقریبا صحاح ستہ سے دو سو روایتیں زیادہ ہیں ۔
کلینی نے اس کتاب کو لکھنے کے لئے اپنے زمانہ کے تقریبا تمام علمی اور حدیثی مراکز جیسے ایران، شام، عراق اور سعودی عرب کا سفر کیا ہے یہاں تک کہ بزرگوں سے حدیث کو سننے اور حاصل کرنے میں قریہ اور دیہات کا سفر کیا ہے اس لحاظ سے اسلامی تعلیمات اوراحکام خصوصا مکتب تشیع کی تعلیمات کو استنباط اوراستخراج کرنے کے لئے سب سے پہلا اور اہم منبع سمجھا جاتاہے ۔
یہ کتاب تین حصوں اصول دین، فروع دین (احکام فقہی) اور روضہ کافی (متفرقات) میں تقسیم ہوئی ہے ، مجموعی طور پر اس میں چونتیس کتابیں، تین سو چھبیس باب اور سولہ ہزار سے زیادہ حدیثیں ہیں ۔
📌👈٢۔ من لایحضرہ الفقیہ ، ابوجعفر محمد بن علی بن حسن بن موسی بن بابویہ قمی ، معروف بہ شیخ صدوق (٣٠٦ تا ٣٨١ ق) ۔ شیخ صدوق کا چوتھی صدی میں ایران، خراسان، عراق اورشام کے بہترین علماء میں شمار ہوتا تھا ۔
 اس کتاب کو اصول اربعہ میں موجود معتبر روایات اوراسی طرح دنیائے اسلام کے اہم ترین راویوں کی روایات جن کی تعداد تین سو سے زیادہ ہے اور سب ان کے استاد شمار ہوتے ہیں ، کی بنیاد پر تالیف کی ہے ، اس کتاب میں تقریبا چھے ہزار احادیث مسائل اور فقہی مباحث کے متعلق موجود ہیں ،یہ کتاب بھی کافی کی طرح اپنی تالیف کے زمانہ سے لے کر آج تک علماء کے نزدیک قابل قبول رہی ہے اور ہمیشہ اس کی تدریس اور تشریح وغیرہ ہوتی رہی ہے ، یہاں تک کہ اس پر بہت سی شرحیں اور حاشیہ لکھے گئے ہیں اور من لایحضرہ الفقیہ اور اس کے مصنف کوعلمائے اہل سنت نے بھی سراہا ہے ۔
📌👈٣۔ تہذیب الاحکام فی شرح المقنعہ ، شیخ الطائفہ ابوجعفر محمد بن حسن طوسی ، معروف بہ شیخ طوسی (متوفی ٤٦٠ ق) ۔
انہوں نے اس کتاب کو اصول اربعمائہ کی بنیاد پر اہل بیت علیہم السلام کی معتبر روایات سے مجتہد کے استفادہ اوراحکام وشرعی مسائل میں فتوی دینے کے لئے تالیف کی ہے ، اس کتاب میںساڑھے تیرہ ہزار سے زیادہ مستند حدیثوں کو تین سو نوے باب کے ذیل میں بیان کی ہیں ۔
یہ کتاب شیعوں کی حدیثوں کی تیسری معتبر کتاب ہے جس کی بہت زیادہ شرحیں، تعلیقہ اور خلاصے لکھے گئے ہیں اور علمائے اسلام نے اس کتاب کی تالیف سے لے کر آج تک اس پر اعتماد کرتے ہوئے اس سے استفادہ کیا ہے ۔
📌👈٤۔ الاستبصار فیما اختلف من الاخبار ، اس کتاب کو بھی شیخ طوسی (م ٤٦٠ ق) نے تالیف کی ہے انہوں نے اس کتاب کو تہذیب الاحکام کے بھی لکھا ہے ، انہوں نے اس کتاب میں فقہی احادیث کی کامل طور سے طبقہ بندی اور ا ن کو ایک جگہ جمع کرتے ہوئے اختلافی احادیث کو بھی ذکر کیا ہے ، یعنی ہر باب میں مختلف مسائل سے متعلق روایات کو ذکرکیا ہے اور پھر ان روایات کو نقل کیا ہے جو پہلی احادیث کے مخالف ہیں ، حقیقت میں یہ کتاب متعارض ، مخالف اوراسی طرح ان کے صحیح اور معتبر ہونے کی تحقیق کا بہترین مجموعہ ہے ، یہ کام اپنی نوعیت کا سب سے پہلا کام ہے ۔ انہوں نے اس کتاب میں تقریبا پانچ ہزار پانچ سو متعارض روایات کو فقہ کے مختلف ابواب میں ذکر کیا ہے ۔
شیخ طوسی نے اپنے استاد سید مرتضی علم الہدی کے کتاب خانہ اور شاپور بغداد کے کتاب خانہ جس میں تقریبا ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ کتابیں موجود تھیں ، سے استفادہ کیا اوران دونوں کتابوں کو دنیائے اسلام کے معتبر ترین حدیثی منابع ، خصوصا اہل بیت (علیہم السلام) کے شاگردوں کی کتابوں کی بنیاد پر لکھا ،اس وجہ سے یہ کتاب بہت زیادہ معتبر ہے ۔
کتاب استبصار کی تالیف کے بعد ہی مسلمان علماء نے اس سے استفادہ کرنا شروع کیا اورہمیشہ اس کی تحقیق وغیرہ ہوتی رہی اسی وجہ سے اس کی بہت سی شرحیں، تعلیقہ اور خلاصہ لکھے گئے ہیں ۔
📌💫مجموعی طور پر کتب اربعہ میں تقریبا پینتالیس ہزار حدیثیں ہیں ،البتہ ان کتابوں (کتب اربعہ) کے علاوہ اور بھی کتابیں موجود تھیں جیسے شیخ صدوق کی مدینة العلم ، جو کتاب خانوں کو جلانے کے ناگوار حادثہ اور دنیائے اسلام کے متعصب ،اندھے اور حشویہ کے نادان لوگوں کی وجہ سے ختم ہوگئیں ۔
❣️👈📌قابل ذکر بات یہ ہے کہ گذشتہ صدیوں میں حدیث کے بہت سے مجموعہ لکھے گئے جن میں فقہی احادیث کے علاوہ اور مختلف احادیث بھی موجود ہیں جیسے :
👈١۔ محمد محسن فیض کاشانی کی کتاب الوافی فی جمع احادیث الکتب الاربعہ ۔ 
👈٢۔فیض کاشانی کے بھائی کے پوتے مولی محمد ہادی کی کتاب مستدرک کتاب الوافی۔ 
👈٣۔ شیخ محمد بن حسن حر عاملی کی کتاب تفصیل وسائل الشیعہ ۔ 
👈٤۔ علامہ محمد باقر مجلسی کی کتاب بحارالانوار الجامعة لدرر اخبار الائمة الاطہار علیہم السلام۔
👈 ٥۔ علامہ مجلسی کے معاصر مولی عبداللہ بن نور اللہ بحرانی کی کتاب عوالم العلوم والمعارف ، جس کی سو سے زیادہ جلدیں تھیں اوراس کا حجم بحارالانوار سے زیادہ تھا ، آج اس کی بہت سی جلدیں موجود نہیں ہیں۔
👈 ٦۔ شیخ محمد رضا بن عبداللہ تبریزی کی کتاب الشفا فی حدیث آل المصطفی ۔
👈 ٧۔ سید عبداللہ شبر کی کتاب جامع الاحکام فی الحدیث ۔ اس کتاب کی پچیس خطی جلدیں ہیں ۔
👈 ٨۔ محدث خبیر میرزا حسین نوری کی مستدرکات الوسائل اور یہ کتاب وسائل الشیعہ کے لئے مستدرک کے عنوان سے لکھی گئی ہے ۔
👈 ٩۔ اعیان الشیعہ کے مصنف سید محسن امین کی کتاب البحر الزخار فی شرح احادیث الائمة الاطہار فی الفروع خاصة۔

(👈مندرجہ بالا فہرست کے علاوہ دسیوں کتب احادیث موجود ہیں ان سب کا ذکر اس مختصر تحریر میں ممکن نہ تھا لھذا اختصار کی خاطر ترک کیا ہے) 
📚✒️حوالہ جات 👇
1 ـ شیخ صدوق محمّدبن على بن بابویه قمّى، من لایحضره الفقیه، قم، دفتر انتشارات اسلامى، چ2، 1413ق.
2 ـ ابوجعفر محمدبن حسن طوسی، تهذیب الأحکام، تحقیق سیدحسن موسوی خراسانی، تصحیح محمد آخوندی، تهران، دارالکتب الاسلامیة، 1364 (10 مجلد).
3 ـ ابوجعفر محمدبن حسن طورسی، الإستبصار فی ما اختلف من الأخبار، تهران، دارالکتب الإسلامیة، 1390ق.
4 ـ محمدبن یعقوب کلینی، الکافی، تحقیق علی اکبر غفاری، تهران، دار الکتب الاسلامیة، چ چهارم، 1407ق.
5 ـ شیخ آقا بزرگ تهرانى، الذریعة إلى تصانیف الشیعة، قم، اسماعیلیان، 1408ق: ج 6، ص 27؛ ج 10، ص 186، ص 226؛ ج 7، ص 103؛ ج 14، ص 33، ص 165، ص 93، ص 79؛ ج 17، ص 245؛ ج 18، ص 229؛ ج 21، ص 340؛ ج 20، ص 251 و بعد.
6 ـ شیخ صدوق محمّدبن على بن بابویه قمّى، الهدایة فی الأصول والفروع، قم، مؤسسة الإمام الهادی علیه السلام، 1418ق، ص222به بعد.
7 ـ سیدمحسن امین، أعیان الشیعة، بیروت، دارالتعارف للمطبوعات، 1406 ق، ج 1، ص 144، ص 148؛ ج 3، ص 222.
8 ـ ابوجعفر محمدبن حسن طوسی، الخلاف فی الأحکام، تصحیح جمعی از محققان حوزه علمیه قم، دفتر انتشارات اسلامی، 1407ق، ج 1 ص 14، مقدمۀ محقق.
9 ـ ابوجعفر محمدبن حسین طوسی، النهایة فی مجرد الفقه و الفتاوی، بیروت، دارالکتاب العربی، چ2، 1400ق، ص 21، مقدمه محقق.
10 ـ میرزا حسین نوری، مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل، تحقیق گروه پژوهشی، بیروت، مؤسسة آل البیت علیهم السلام، 1408ق( 18 مجلد)، ج 1 ص 28، مقدمۀ محقق.
11 ـ محمد باقر مجلسى، بحارالأنوار الجامعة لدُرر أخبار الأئمة الأطهار، بیروت، مؤسسة الوفاء، 1404ق (110 مجلد)، ج 107، ص 25.
12 ـ محب الدین طبرى، الریاض النضرة فى مناقب العشر المبشرة، قاهره، الخانجى، چ2، 1372ق، ج 5، ص 280؛ ج 4، ص 478.
13 ـ شیخ جعفر سبحانی، تذکرة الأعیان، قم، موسسة امام الصادق(علیه السلام)، 1419ق، ص 216، ص 364 

*❣الـلَّهُــــمَّ عَجِّـــلْ لِوَلِیِّکَـــ الْفَـــــــــرَجْ❣*
╚════════🍃📖═╝
╔═🍃📖════════╗
اس قسم کے مزید قرآن و آحادیث وغیرہ کی ضرورت ہو یا علمی و دینی سوالات پوچھنا ہو تو اس نمبر پر رابطہ کیجیے گا
•┈┈•┈•┈•⊰✿✿⊱•┈•┈•┈┈•

صاحب اصول کافی کون؟!


✒️📚 صاحب اصول کافی کو جانتے ہیں؟📖
👈✒️💕 کتاب الکافی کے مولف ثقۃ الاسلام محمد یعقوب الکلینی
📌✒️📖چوتھی صدی ھجری کے نصف اول میں مشہور ترین دانشمند فقیہ اور نامور شیعہ محدث جناب ثقۃ الاسلام محمد بن یعقوب بن اسحاق کلینی رازی معروف بہ "کلینی" یا "شیخ کلینی"ہیں کلینی اصل میں ایرانی، اور شہر رے سے ۳۸ کلو میٹر دور قم /تہران روڈ کے جنوب میں موجودہ حسن آباد کے نزدیک "کلین"قریہ سے تعلق رکھتے ہیں، اور "رے"سے منسوب ہونے کی وجہ سے آپ کو "رازی"کے لقب سے پکارا جاتا ہے(1)
مشہور جغرافیہ داں یاقوت حموی(م۶۲۶ ق)لکھتا ہے:
استخری (۳۷۰ ھ تک زندہ تھے)کا کہنا ہے کہ رے،اصفہان سے بڑا شہر ہے اور مشرق زمین میں بغداد کے بعد اس سے زیادہ آباد شہر کوئی نہیں ہے ہاں، رقبہ کے اعتبار سے شہر نیشاپور اس سے بھی بڑاہے ۔ شہر رے لمبائی چوڑائی میں ڈیڑھ فرسخ کے رقبہ میں واقع ہے جس میں بہت سے قریے ہیں اور ہر ایک قریہ ایک ایک شہر سے بڑاہے۔(2)
جی ہاں۔۔ شہر رے اور اس کے قریے ابتداء سے ہی شیعہ نشین مراکز کا حصہ رہا ہے اگر چہ شہر رے میں اکثر یت حنفی اور شافعی سنیوں کی تھی شیخ کلینی کے باپ (یعنی یعقوب بن اسحاق جو کہ اپنے زمانے کے بزرگ شیعہ عالم تھے)کا مزار"کلین "قریہ میں واقع ہے جو آج بھی اس علاقہ کے لوگوں کی زیارت گاہ بنا ہوا ہے۔
علان رازی (شیخ کلینی کے ماموں)اور دوسرے شیعہ محدثین و فقہاء جیسے محمد بن عصام (شیخ کلینی کے ایک شاگرد) بھی اسی قریہ سے تعلق رکھتے تھے۔
دنیائے اسلام میں کلینی کا مقام
جناب ثقۃ الاسلام کلینی حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے زمانہ میں متولد ہوئے ، اور حضرت امام زمان (ع) کے خاص چار نمائندوں اور سفیروں کے ۔۔ جو کہ غیبت صغریٰ میں امام اور شیعوں کے درمیان رابط کی حثیت رکھتے تھے ۔۔ ہم عصر تھے۔اس کے باوجود کہ وہ چاروں نوابِ خاص شیعوں کے بزرگ محدث اور فقیہ تھے اور شیعیان اہل بیت (ع)ان کی عظمت وجلالت کے معترف و معتقد تھے لیکن شیخ کلینی ایسی عالی مقام شخصیت کے مالک تھے کہ اس زمانے میں آپ شیعہ و سنی دونوں کے درمیان بڑے احترام کے حامل تھے اور آپ نے علی الاعلان مذہب حق اور معارف و فضائل اہل بیت(ع) کی نشر واشاعت کا بیڑا اٹھا رکھا تھا۔
ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگ آپ کی صداقتِ گفتار و کردار کی درستگی اور احادیث و روایات کے حفظ و ثبت کے اس قدر مداح تھے کہ لکھا ہے شیعہ سنی دونوں فتویٰ لینے کے لئے آپ سے رجوع کرتے تھے اور اس سلسلہ میں آپ دونوں فرقوں کے نزدیک بڑے موثق اور مورد اعتماد شخص تھے ۔۔ اسی وجہ سے آپ کو "ثقۃ الاسلام" کے لقب سے ملقب کیا گیا، آپ اسلامی دانشمندوں میں وہ پہلے شخص ہیں جنھیں اس لقب سے پکارا گیا اور حقیقت میں بھی آپ اس عظیم لقب کے لائق و شائستہ تھے۔(3)
کلینی امانت و عدالت، تقوی و فضیلت ، ثبت و ضبط اور حفظ احادیث میں جو ایک جامع الشرائط موثق محدث کے صفات ہیں۔ بے مثل تھے ، علامہ محمد تقی مجلسی کے بقول:
وہ (کلینی )ہمارے تمام علماء میں اور ان لوگوں میں کہ جنھوں نے ان سے روایت اخذ کی ہے نیز اپنی کتاب الکافی کی نظم و ترتیب میں بے مثل و بے نظیر تھے ۔ اور یہ ساری خصوصیات اس بات کی دلیل ہیں کہ آپ پر خدا وند عالم کی خاص عنایت تھی۔(4)
کلینی،شیعہ علماء کی نظر میں
شیعہ فقہاء کے رئیس شیخ الطائفہ محمد بن حسن طوسی(م ۴۶۰ھ)اپنی گراں قدر کتاب الرجال کے باب "وہ لوگ جنھوں نے ائمہ (ع) سے (براہ راست)روایت نہیں کی ہے" میں لکھتے ہیں:
ابو جعفر محمد بن یعقوب کلینی بڑے جلیل القدر دانشمند اور احادیث و روایات کے بڑے عالم تھے، آپ بہت سی کتابوں کے مصنف ہیں کہ جو کتاب الکافی میں مرقوم ہیں ماہ شعبان ۳۲۹ھ میں وفات ہوئی اور محلہ "باب الکوفہ" میں دفن ہوئے ۔ہم نے ان کی کتابوں کو "الفہرست"میں تحریر کیا ہے۔(5)
اور"الفہرست"میں الکافی کی ساری کتابوں اور کلینی کی دوسری تالیفات کا۔۔کہ جنھیں ہم بعد میں ذکر کریں گے۔ نام لیتے ہیں پھر ان کتابوں کی روایات کے سلسلہ میں اپنے سلسلۂ سند کو اپنے استاد شیخ مفید اور حسین بن عبید اللہ غضائری ، سید مرتضیٰ اور احمد بن عبدون کے واسطے سے بیان کرتے ہیں۔(6)
علم رجال کے گرانقدرعالم جناب ابوالعباس احمد بن علی بن عباس معروف بہ "نجاشی" (م۴۵۰ق)اپنی نفیس اور مشہور کتاب الرجال کہ جنھیں علم رجال کا مشہور شیعہ عالم بتلایا گیا ہے اور انھوں نے اپنی کتاب الرجال کو شیخ طوسی کی کتاب الفہرست اور الرجال کے بعد تحریر کیا ہے ہمارے مشہور ترین عالم جناب کلینی کو اس طرح یاد کرتے ہیں:
ابو جعفر محمد بن یعقوب بن اسحاق کلینی، (علان کلینی جن کے ماموں تھے) اپنے زمانہ کے شیعہ علماء کے پیشوا اور شہر رے کے تابندہ و درخشان محدث اور ثبت و ضبط میں موثق ترین شیعہ عالم تھے۔ انھوں نے اپنی بڑی کتاب "الکافی"کو بیس سال میں تصنیف فرمایا ہے۔
پھر اس کے بعد الکافی کی کتابوں اور کلینی کی دیگر تالیفات (جس کی تشریح ہم بعد میں کریں گے)ذکر کرتے ہیں۔(7)
شیخ طوسی اور شیخ نجاشی کے بعد آنے والے علماء نے جہاں کہیں بھی شیخ کلینی کا نام آیا ہے یا ان کی عظیم و نامور کتاب "الکافی" کا نام لیا ہے انھیں شیعوں کے موثق ترین شخص کے عنوان سے یاد کیا ہے۔
ابن شہر آشوب مازندرانی، علامہ حلی ، ابن داؤد نے، معمول کے مطابق شیخ طوسی اور شیخ نجاشی کے الفاظ کو کلینی کی مدح میں نقل کیا ہے۔
سید ابن طاؤس (م۶۶۴ھ)لکھتے ہیں:
نقل حدیث میں شیخ کلینی کی وثاقت و امانت داری تمام دانشمندوں کے نزدیک متفق علیہ ہے ۔(8)
شیخ حسین بن عبد الصمد عاملی(شیخ بہائی کے پدر بزرگوار) فرماتے ہیں:
محمد بن یعقوب کلینی اپنے دور کے تمام علماء کے استاد و رئیس تھے اور نقل احادیث میں موثق ترین عالم تھے آپ حدیث کی چھان بین میں سب سے زیادہ آشنا اور سب پر فوقیت رکھتے تھے۔(9)
ملا خلیل قزوینی مشہور فقیہ و محدث اصول الکافی کی فارسی شرح میں لکھتے ہیں:
دوست و دشمن سب آپ کی فضیلت کے معترف تھے۔(10)
علامہ مجلسی نے مرآۃ العقول شرح اصول الکافی میں لکھا ہے:
شیخ کلینی تمام ررقوں میں مورد قبول اور ممدوح خاص و عام تھے۔(11)
مرزا عبد اللہ اصفہانی معروف بہ "آفندی" علامہ مجلسی کے نامی گرامی شاگرد لکھتے ہیں:
رجال کی کتابوں میں اکثر جگہ "ثقۃ الاسلام " سے مراد جناب ابو جعفر محمد بن یعقوب بن اسحاق کلینی رازی صاحب الکافی ہیں یعنی شیخ کلینی ممتاز بزرگوار، عامہ و خاصہ کے نزدیک مسلم، اور دونوں فرقے کے مفتی ہیں۔(12)
مرزا محمد نیشاپوری ، محدث اخباری لکھتے ہیں:
ثقۃ الاسلام ، قدوۃ الاعلام ۔ بدر التمام، سفراء امام زمان کی موجودگی میں سنن و آثار معصومین(ع) کے جامع، تیسری صدی ھجری میں سیرت وکردار اہل بیت کے زندہ کرنے والے۔ ۔ ۔ (13)
کلینی،سنی علماء کی نظر میں
سنی علماء خاص طور سے ان کے مورخین کی نظر میں ۔۔جو آپ کے بعد آئے ہیں ۔۔ بڑی عظمت کے حامل ہیں سب نے آپ کی عظمت و تکریم کی ہے اور بڑی عظمت و بزگواری سے آپ کو یاد کیا ہے۔
ابن اثیر جزری (14) اپنی مشہور کتاب "جامع الاصول "میں لکھتے ہیں:
ابو جعفر محمد بن یعقوب رازی۔۔ مذہب اہل بیت (ع) کے پیشواؤں میں سے ایک ۔۔ بڑے پایہ کے عالم اور نامور فاضل ہیں ۔
پھر کتاب نبوت کے حرف نون میں انھیں تیسری صدی ھجری میں مذھب شیعہ کو تجدید حیات بخشنے والا جانا ہے ابن اثیر، پیغمبر خدا (ص) سے ایک روایت نقل کرتے ہیں:
خداوند متعال ہر صدی کے آغاز پر ایک ایسے شخص کو مبعوث کرے گا جو اس کے دین و آئین کو زندہ اور تجدید حیات عطا کرے گا۔(15)
اس کے بعد اس حدیث پر تبصرہ کیا ہے پھر لکھا ہے کہ:
مذہب شیعہ کے مجدد پہلی صدی ہجری کے آغاز میں محمد بن علی باقر(امام پنجم) اور دوسری صدی ہجری کے آغاز میں علی بن موسیٰ الرضا (ع) اور تیسری صدی ہجری کے آغاز میں ابو جعفر محمد بن یعقوب کلینی رازی تھے(16)
ابن اثیر کی تحریر سے شیخ کلینی کی عظمت و منزلت کا اندازہ ہوتا ہے اور یہ آشکار ہو جاتا ہے کہ تیسری صدی کے اختتام اور چوتھی صدی ہجری کے آغاز میں کلینی اس قدر مشہور شیعہ عالم تھے کہ آپ کو دو معصوم اماموں کے بعد تیسری صدی ہجری کا مجدد مذہب بتلایاگیا ہے۔
ابن اثیر کے چھوٹے بھائی (عزالدین علی ابن اثیر جزری)بھی ۳۲۸ھ کے حوادث کے بیان میں اپنی مشہور تاریخ ۔۔ الکامل فی التاریخ۔۔ میں شیخ کلینی کو اس سال میں رحلت کرنے والا پہلا عالم جانا ہے وہ لکھتے ہیں:
محمد بن یعقوب ابوجعفر کلینی نے ۔۔ جو شیعوں کے پیشوا و عالم تھے ۔۔ اسی سال وفات پائی۔(17)
توجہ رہے کہ ہمارے ہم عصر محقق و فاضل جناب حسن علی محفوظ نے الکافی کے مقدمہ میں غلطی سے جامع الاصول کی عبارت کو علی ابن اثیر کی الکامل فی التاریخ کے حوالے سے نقل کیا ہے اور انھوں نے خیال کیا ہے کہ جامع الا صول اور الکامل فی التاریخ کے لکھنے والے ایک ہی فرد ہیں۔
بزرگ عالم و مشہور لغت شناس جناب فیروزآبادی(م۸۱۸ ھ ق)نے القاموس المحیط کے مادہ"کلین"میں شیخ کلینی کانام لیاہے اورانھیں شیعہ فقہاء میں سے قرار دیا ہے۔ (18)
ابن حجر عسقلانی (م۸۵۲ ھ ق) اپنی مشہور کتاب لسان المیزان۔۔ جو کہ علماء عامہ اور کبھی کبھی علماء خاصہ کے حالات پر کہیں اجمال تو کہیں تفصیل کے ساتھ تذکرہ ہے۔۔ ہمارے بزرگ عالم (کلینی) کے بارے میں لکھتے ہیں:
محمد بن یعقوب بن اسحاق ابو جعفر کلینی رازی بغداد میں قیام فرماتھے اور وہاں انھوں نے محمد بن احمد جبار ، علی بن ابراہیم بن عاصم اور دیگر لوگوں سے روایت نقل کی ہے تھے کلینی شیعہ فقیہ تھے اور انھوں نے اس مذہب کی موافقت میں بڑی زیادہ کتابیں تصنیف کی ہیں۔(19)
ابن اثیر نے اپنی دوسری کتاب التبصیر میں لکھا ہے:
ابو جعفر محمد بن یعقوب کلینی بزرگ شیعہ علماء میں سے تھے جو مقتدر(عباسی خلیفہ) کے دور میں زندگی بسر کر رہے تھے۔ (20)
اس کے علاوہ تمام سنی علماء جہاں کہیں بھی"کلینی"نام پر پہنچے ہیں انھیں بڑا عالم، نامور فقیہ اور شیعوں کے متقدم پیشوا کے عنوان سے یاد کیا ہے۔
کلینی کے اساتذہ
ثقۃ الاسلام کلینی نے شہر رے، قم، بغداد ، کوفہ اور اسلامی مملکت کے دور ونزدیک بہت سے علاقوں کے بزرگ علماء ، فقہاء اور محدثین سے ملاقاتیں کی ہیں اور ان کی معلومات و محفوظات کے خرمن سے خوشہ چینی کی ہے نیز ان سے اجازات حاصل کئے ہیں ان بزرگ علماء سے اس مرد برزگ کے لئے اجازہ بڑی قدر و قیمت کا حامل ہے، کتب تراجم و رجال میں چالیس سے زیادہ فقہاء و محدثین کا نام لیا جاتا ہے کہ جو کلینی کے اساتید اور مشائخ اجازہ شمار ہوتے ہیں اور کلینی نے ان کے سامنے زانوئے ادب تہہ کیا ہے ۔
چند علماء اہل سنت۔۔ کہ جن کے نام ابن حجر عسقلانی نے تحریر کئے ہیں۔۔ کے علاوہ مشہور محدثین و فقہاء کی ایک بڑی تعداد جن کا تذکرہ ہم نے اپنی کتاب مفاخر اسلام کی جلد دوم و سوم میں بطور اجمال یا تفصیل بیان کیا ہے ثقۃ الاسلام کلینی کے مشہور اساتذہ تھے۔(21)
احمد بن محمد بن عیسیٰ، احمد بن ادریس قمی(م۳۰۶ھ)، احمد بن محمد بن سعید ہمدانی، جو ابن عقدہ سے معروف تھے،(۳۳۳ق)، احمد بن محمد بن عاصم کوفی،احمد بن مہران، اسحاق بن یعقوب، حسن بن حنیف، حسن بن فضل بن یزید یمانی، حسین بن حسن حسینی اسود،حسین بن حسن ہاشمی حسنی علوی، حسین بن علی علوی، حسین بن محمد بن عمران اشعری قمی، حمید بن زیاد نینوایی(۳۱۰ق)داؤد بن کورہ قمی، سعد بن عبد اللہ بن جعفر حمیری، علی بن ابراہیم قمی(م۳۰۷ ق)، علی بن حسین سعد آبادی، علی بن عبد اللہ خدیجی اصغر، علی بن محمد بن ابراہیم بن ابان رازی(آپ کے خال محترم معروف بہ علان رازی)، علی بن محمد بن ابی قاسم بندار، عبد اللہ بن احمد بن عبد اللہ برقی،(22)علی بن موسیٰ بن جعفر کمیدانی، قاسم بن علاء، ابوالحسن محمد بن عبد اللہ اسدی کوفی(ساکن رے)، محمد بن حسن صفار(۲۹۰ق)، محمد بن علی بن معمر کوفی، محمد بن یحیی عطار،کل ۳۵ افراد اوران کے علاوہ۔
شاگردان کلینی
چوتھی صدی ھجری کے ہمارے مشہور علماء جن کی بود و باش ایران و عراق میں تھی اور جوبڑے نامی گرامی فقیہ محدث تھے اور چوتھی صدی کے اواخر میں ہمارے بہت سے علماء کے استاد تھے تقریباً سبھی جناب شیخ کلینی مؤلف الکافی کے شاگرد تھے ،احمد بن ابراہیم معروف بہ ابن ابی رافع صیمری ، احمد بن کاتب کوفی، احمد بن علی بن سعید کوفی، احمد بن محمد بن علی کوفی، ابو غالب احمد بن محمد زراری (۲۸۵۔ ۳۶۸ ق)جعفر بن محمد بن قولویہ قمی(۳۶۸ ق) ۔ عبد الکریم بن عبد اللہ بن نصر بزاز تنیسی،علی بن احمد بن موسیٰ دقان ، محمد بن ابراہیم نعمانی، معروف بہ ابن ابی زینب جو کہ شیخ کلینی کے مخصوص شاگرد اور آپ سے بہت قرب رکھتے تھے اور انھوں نے پوری کتاب الکافی اپنے قلم سے اتاری تھی اور انھوں نے شیخ کلینی سے علم و ادب سیکھنے کے بعد اجازہ روایت بھی دریافت کرلیا تھا، محمد بن احمد سنانی زہری مقیم رے،ابو الفضل محمد بن عبد اللہ بن مطلب شیبانی ، محمد بن علی ماجیلویہ ، محمد بن محمد بن عصام کلینی ، ہارون بن موسیٰ تلعکبری شیبانی(م۳۸۵ ھ ق)جمعاً ۱۵ افراد اور ان کے علاوہ دوسرے بزرگ بھی شیخ کلینی کے شاگرد تھے ۔
تالیفات کلینی
شیخ اجل طوسی اور ماہر رجالیات نجاشی نے ذیل کی کتابوں کو جناب شیخ کلینی کی تالیفات میں سے شمار کیا ہے :
۱۔ کتاب الرجال
۲۔ کتاب الرد علی القرامطۃ(23)
۳۔ کتاب رسائل الائمۃ(ع)
۴۔ کتاب تعبیر الرؤیا
۵۔ مجموعۂ شعر(جو فضائل ومناقب اہل بیت(ع) میں شعراء کے مختلف قصائد کا مجموعہ ہے)
۶۔ کتاب الکافی(کہ جس کو ہم علاحدہ طور پر بیان کریں گے)
وفات و مرقد کلینی
ثقۃ الاسلام کلینی ۔۔۔ دنیائے علم کا چشم و چراغ، شیعیت اور بغداد کے تمام علماء کا سند افتخار اور عظیم الشان محدث۔۔ عقل و خرد پسند مکتب اہل بیت عصمت و طہارت کی رونق، تصنیف و تالیف میں بے حد رنج و مشقت جھیلنے کے بعد آخر کار ۳۲۸ ھ یا۳۲۹ ھجری میں کہ جو امام زمانہ (ع) کی غیبت کبریٰ کا آغاز ہے شہر بغداد میں اس دنیائے فانی سے اپنی آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور آپ کی بلند پرواز روح جنت الفردوس کی طرف پرواز کر جاتی ہے آپ کی ابدی آرام گاہ آج بغداد میں دریائے دجلہ کے قدیمی پل کے کنارے بڑی معروف اور مسلمانوں کی زیارت گاہ بنی ہوئی ہے (کلینی کی تاریخ ولادت معلوم نہیں ہے)
شیخ طوسی نے اپنی کتاب الفہرست میں کلینی کی وفات ۳۲۸ ھ ثبت کی ہے لیکن نجاشی نے الرجال میں اور خود شیخ طوسی نے اپنی دوسری کتاب الرجال میں ۔۔ دونوں کتابیں الفہرست کے بعد لکھی گئی ہیں۔۔۔ صراحت سے بیان کیا ہے کہ کلینی نے ۳۲۹ ھجری میں وفات پائی ہے ہم بھی اسی تاریخ کو معتبر مانتے ہیں اسی سال جناب شیخ اجل ابوالحسن صیمری امام زمان(ع) کے چوتھے اور آخری نائب خاص بھی وفات پاگئے اور ان کی رحلت کے بعد امام زمانہ(ع) کی غیبت کبریٰ کے دور کا آغاز ہوا۔
اور شیعہ معاشرہ ایک خاص قسم کی ہیجانی حالت سے روبرو ہوا لیکن کتاب الکافی جیسی ستارے کے مانند چمکتی ہوئی کتاب کا وجود شیعوں کی امید کے تاریک شبستان کو منور کئے ہوئے ہے تا کہ بعد کے علماء و دانشمندان شیخ کلینی کےکام کو وسعت اور عمومیت بخشیں اور آثار اہل بیت عصمت طہارت(ع) کی نور افشانی کریں۔
_________________________📚📖حوالہ جات👇

1. شہید سعید ۔ قاضی نور اللہ شوشتری مجالس المومین ج۱، ص۹۲ چاپ اسلامیہ کے حاشیہ میں لکھتے ہیں :میں نے قطب الدین رازی کی تحریر دیکھی ہے کہ:رے ، نسبت کے وقت "ریئی پڑھا جانا چاہئے"رازی"میں "ر"کے اضافہ کی وجہ یہ ہے کہ"ری"اور "راز"کے دواشخاص نے اس شہر کی بنیاد ڈالی تھی اور جب اس شہر کے نام رکھنے کی باری آئی تو دونوں میں اختلاف ہو گیا پھر طے پایا کہ شہر کا نام ایک کے نام "رے" ہو اور نسبت کے وقت دوسرے کے نام پر"رازی"کہا جائے
2. مجعم البلدان، ج۳، ص۱۱۷۔
3. افسوس کا مقام ہے کہ اس زمانے میں لقب"ثقۃ الاسلام "یعنی ایسا عالم دین جو بہت مورد اعتماد موثق اور اسلام ومسلمین کے لئے سند وثاقت ہے ۔۔ اس قدر اہمیت رکھتا تھا کہ پہلی بار تمام شیعہ فہقاء ومحدثین کے رأس و رئیس کلینی کے لئے استعمال کیا گیا لیکن آج کل القاب وخطابات اتنا اپنی قدریں کھو چکے ہیں کہ ہر کس وناکس ، جاہل ریاکار کو بھی"ثقۃ الاسلام کہا جارہا ہے!برعکس نہند نام زنگی کافور۔
4. شرح مشیخۃ من لایحضرہ الفقیہ ص۲۶۷۔
5. رجال الطوسی ص۴۹۵ ۔
6. الفہرست شیخ طوسی ص۱۳۵۔
7. رجال النجاشی، ص۲۶۶۔
8. مقدمۃ الکافی۔
9. مقدمۃ الکافی بہ نقل از وصول الاخیار ص۶۹۔
10.مقدمۃ الکافی بہ نقل از وصول الاخیار ص۶۹۔
11.مرآ ۃ العقول ج۱، ص۳۔
12.مقدمۃ الکافی۔
13.مقدمۃ الکافی۔
14.ابن اثیر جزری تین سنی علماء کا نام ہے جو ایک دوسرے کے بھائی تھے جن کا تعلق موصل کے نزدیک ایک جزیرہ سے تھا اور لقب "جزری"اسی کی طرف منسوب ہے ۔ پہلا بھائی "مبارک بن ابی الکرم اثیر الدین محمد جزری(م۶۰۶ ق)موصل میں پیدا ہوا جو کتاب النہایہ اور کتاب جامع الاصول کا مؤلف ہے۔دوسرا بھائی "عز الدین علی"بن اثیر(م۶۳۰ ق)مؤلف کتاب اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابہ، اللباب فی تہذیب الاسماء الکامل فی التاریخ ہے اور تیسرا بھائی " نصر اللہ"بن ابی الکرم (م۶۳۷ق) منشی وکاتب اور مؤلف کتاب المثل السائر فی ادب الکاتب والشاعر وغیرہ ۔ جو کاظمین میں دفن ہے۔
15.اصل حدیث کے الفاظ یہ ہیں :"ان اللہ یبعث لھذہ الامۃ فی رأس کل مأۃ سنۃ من یجدد لھا دینھا"ابن اثیر نے ہر صدی کے آغاز میں ایک یا کئی سنی علماء ، خلفاء ، عرفاء کا نام لیا ہے جو مجدد دین نگہبان اسلام تھے ۔ یہ ایک سنی حدیث ہے لیکن دونوں فرقوں کے علماء نے اس سے استناد کیا ہے اور بہت سے لوگوں کوکو مجدد مذہب کے عنوان سے ذکر کیا ہے ، ان سطروں کے لکھنے والا اس سلسلہ میں کوئی نظریہ نہیں رکھتا۔
16.الرجال ابو علی حائری ، ص۲۹۸ بہ نقل از تعلیقۂ وحید بہبہانی، روضات الجنات فی احوال العلماء والسادات، ص۵۲۵۔
17.الکامل ابن اثیر، ج۶، ص۲۷۴۔
18.قاموس الرجال ، ج۴، ص۲۵۶۔
19.لسان المیزان، ص۵،، ص۴۳۳۔
20.روضات الجنات فی احوال العلماء والسادات، ص۵۲۵
21.کلینی کے اساتذہ اور شاگردوں کے تذکرہ ہم نے مقدمہ الکافی اور سوانح حیات کلینی سے اقتباس کیا ہے۔
22.مقدمہ کافی میں ان کی جگہ"علی بن محمد برقی"کا نام درج ہے جو درست نہیں ہے۔
23.قرامطہ :وہ فرقہ تھا کہ جو عقیدہ رکھتا تھا کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے فرزند اسماعیل امام غائب ہیں اور حقیقت میں فرقۂ اسماعیلیہ کی بنیاد یہی فرقہ تھا اس فرقہ کے "قرامطہ"یا "قرمطی"سے مشہور ہونے کی وجہ یہ ہے کہ سب سے پہلے جس شخص نے ایسا دعوی کیا تھا وہ کوفہ کے اطراف میں رہنے والا "قرمط" نامی شخص تھا اور اس کے پیرو کار اسی کے نام سے پکارے جانے لگے قرمطہ بتدریج اپنے عقیدہ و عمل میں بہت زیادہ انحراف کا شکار ہوئے اور انھوں نے عامہ مسلمین کے خلاف بہت سے بغاوتیں کی ہیں۔

📚✒️👇مؤلف: علی دوانی
 ذرائع👈 کتاب مفاخر اسلام ج ۳ ص ۴۰ سے اقتباس

❣الـلَّهُــــمَّ عَجِّـــلْ لِوَلِیِّکَـــ الْفَـــــــــرَجْ❣
╚════════🍃📖═╝ ▬●▬●▬ஜ۩۞۩ஜ▬●▬●▬