💠نعمت، شکر، استغفار، لاحول پڑھنا 💠
✨امیرالمؤمنین علیؑ ابن ابی طالبؑ نے رسول اللهؐ سے نقل فرمایا:
📌منْ تَظَاهَرَتْ نِعَمُ اللَّهِ عَلَیْهِ فَلْیُکْثِرِ الشُّکْرَ
وه شخص جس کے پاس الله کی عطا کرده نعمتیں بہت زیاده ہو گئی ہوں تو اسے چاہیے کہ الله کا شکر ادا کرنے میں مزید اضافہ کرے.
⭕️بعض اوقات نعمت ہاتھ آ جاتی ہے، اب چاہے وه نعمت مال ہو، مقام ہو، اولاد ہو یا اسی طرح کی کوئی چیز، لیکن لوگ شکر ادا کرنا بھول جاتے ہیں، گویا نعمت کے اضافے اور شکر کی کمی میں برعکس رابطہ موجود ہو!
👈وه لوگ جن کے پاس زیاده نعمتیں ہیں شاید کمتر شکر ادا کرتے ہیں. یہ بات اصول کے خلاف ہے. ضروری ہے کہ ہر نعمت انسان میں شکر گزاری کے احساس ذمہ داری کو مزید مستحکم کرے.
*📌و مَنْ أُلْهِمَ الشُّکْرَ لَمْ یُحْرَمِ الْمَزِیدَ*
وه شخص جس کے دل میں الله تعالی شکر ادا کرنے کی توفیق الہام کرے وه نعمت میں اضافے سے محروم نہیں رہے گا.
✔️لئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ (سوره ابراھیم: 07) یعنی "اگر تم ہمارا شکریہ اد اکرو گے تو ہم نعمتوں میں اضافہ کردیں گے". یہ آیتِ قرآن ہے اور خدا کا صریح وعده ہے اور اس میں کسی قسم کی کوئی تردید نہیں کی جا سکتی.
*📌من كَثُرَتْ هُمومُهُ فَعلَيهِ مِنَ الاستِغفارِ*
وه شخص جس کے ہموم زیاده ہو جائیں یعنی وه چیزیں جو دل کو مشغول کر دیتی ہیں اور انسان کے همّ اور اس کی دلی مشغولیت کا باعث بنتی ہیں، تو اسے چاہیے کہ زیاده استغفار کرے.
📝اب ایک بات تو یہ ہے کہ ہم استغفار کرنے اور ہموم کے دور ہونے میں کسی غیبی یا قدرتی رابطے کی موجودگی کو فرض کرتے ہیں تو یہ ایک ممکن بات ہے، ہمیں ایسی باتوں کا انکار نہیں کرنا چاہیے.
🔸مثلاً آپ برف کے مولیکیولز بننے میں ذکرِ خدا اور یادِ خدا کی تاثیر کو فرض کریں. جب پانی برف بنتا ہے تو اگر یہ عمل خدا کے ذکر کے ساتھ ہو، کسی قرآنی آیت کے ساتھ ہو تو یہ مولیکیول اپنی صحیح اور قدرتی شکل میں بنتا ہے. اور اگر یہ عمل ایک برے جملے کے بولے جانے یا اس کے برتن پر لکھے جانے کے ذریعے انجام دیتے ہیں تو اس کام کے نتیجے میں ان کے مولیکیولز غیرمنظم ہو جاتے ہیں. اب یہ تو ایک قدرتی رابطہ ہے
27 فروری، 2005 کو فقہ کے درس خارج کی ابتداء میں آیت الله خامنہ ای کی جانب سے پیش کی جانے والی احادیث کی تشریح سے اقتباس
📝اب غور کریں جب ہم سے یہ کہا جاتا ہے کہ وضو کرتے وقت مثلاً سوره انا انزلنا پڑھیں یا "اللهمّ بیّض وجهی" والی دعا پڑھیں اور انسان یہ سوچتا ہے کہ یہ کیسی بات ہے!
👈ایسا نہیں، ان چیزوں کی تاثیر ہوتی ہے، قدرتی تاثیر بھی ہوتی ہے. اس قدرتی دنیا میں اسی طرح کے اربوں رابطے موجود ہیں جنہیں ابھی ہم نے کشف نہیں کیا. لہذا اس بات میں کوئی مضائقہ نہیں کہ اگر کہا جائے استغفار کرنے اور ہموم کے دور ہونے میں ایک قدرتی رابطہ موجود ہے.
📌لیکن اس کے علاوه ایک اور احتمال بھی ممکن ہے اور وه یہ کہ انسان کہے وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ (سوره شوری: 30) یعنی "اور تم تک جو مصیبت بھی پہنچتی ہے وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی ہے".
⭕️حقیقتاً کیا اس کے علاوه کوئی اور بات ہے؟ انسان کو پیش آنے والے ہموم انہیں چیزوں کی وجہ سے پیش آتے ہیں جنہیں ہم نے خود اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے ہی لیے فراہم کیا ہوتا ہے، ہم نے گناه کیے: ذَٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ يَدَاكَ وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ (سوره حج: 10) یعنی "یہ اس بات کی سزا ہے جو تم پہلے کرچکے ہو اور خدا اپنے بندوں پر ہرگز ظلم کرنے والا نہیں ہے".
✔️لہذا اگر آپ کسی واقعے کی وجہ سے زیاده ہمّ و غمّ کا شکار ہو گئے ہیں تو آپ استغفار کریں اور اس کی جڑوں کو خشک کر دیں یعنی گناه کو نابود کر دیں تاکہ همّ و غمّ کی علت ہی مٹ جائے تو پھر خود همّ و غمّ بھی مٹ جائے. یہ بھی ایک دوسری طرح کا رابطہ ہو سکتا ہے.
*📌و مَنْ أَلَحَّ عَلَیْهِ الْفَقْرُ فَلْیُکْثِرْ مِنْ قَوْلِ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ*
اور ہر انسان جو فقر کا شکار ہو جائے اس کے لیے ضروری ہے کہ وه اس ذکر کو زیاده ادا کرے: لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ
27 فروری، 2005 کو فقہ کے درس خارج کی ابتداء میں آیت الله خامنہ ای کی جانب سے پیش کی جانے والی احادیث کی تشریح سے اقتباس
#احادیث_کی_تشریح
#احادیث_کی_تشریح_رہبر_معظم
#کتاب_النوادر_کی_منتخب_احادیث
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ