علت اصلی مظلوميت حضرت زہراء س

علت اصلی مظلومیت ِ فاطمہ

عدم رشد ِ سیاسی مردم

حضرت زہرا (س) اور امیر المومنین ؑ پیغمبر اکرمؐ کی وفات کے بعد تنہا کیوں ہوگئے؟ ہمارے معاشرے میں اس سوال کا جواب دینے کی گنجائش ابھی باقی ہے کہ آنحضرتؐ کی وفات کے چند دنوں بعد حضرت زہرا (س) واقعی اس معاشرے میں اکیلی کیوں ہوگئیں؟ اس سوال کے جواب میں پہلا نکتہ جو میں عرض کرسکتا ہوں وہ یہ ہے کہ حضرت زہرا (س) کو جو مسئلہ درپیش تھا وہ ایک یا دو فرد کا مسئلہ نہیں تھا۔اس کا اصل مسئلہ اس وقت کے معاشرے اور عوام کا تھا۔ ہمیں حضرت زہرا (س) سے دشمنی کو ایک یا دو افراد اور ایک یا دو مخصوص دھاروں تک محدود نہیں رکھنا چاہئے۔ یہ غلط فہمی درحقیقت حضرت زہرا (س) پر ایک قسم کا ظلم ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب جناب فاطمہ پر ظلم ہوا تو وہ عوام کہاں تھی؟ باقی کیا کر رہے تھے؟ کیا انہوں نے حضرت زہرا (س) کی فریاد نہیں سنی؟ حضرت زہرا (س) کا اصلی غم ان لوگوں سے متعلق تھا جنہوں نےانکی حق طلبی کے سامنے خاموشی اختیار کر لی، انہیں تنہا چھوڑ دیا اور ان پر ظلم ہونے دیا اور امیر المومنین علیؑ پر ظلم ہونے دیا۔

استاد علی رضا پناهیان

احیاءِ ایامِ فاطمیہؑ سے پاکستان کی نجات

احیاءِ ایامِ فاطمیہؑ سے پاکستان کی نجات

جمادالثانی کا پورا مہینہ فاطمی ممہینہ ہے بلکہ 3 جمادی الاوّل سے لے کر *20 جمادالثانی* تک ایامِ فاطمیہ ہیں۔اِن ایام فاطمیہ میں خواتین و دختران فاطمی اور مادرانِ اِسلام کا کام ہے کہ یہ *حضرت فاطمتہ الزہراء سلام اللّٰه علیہا* کی شخصیت کو اُجاگر اور نمایاں کریں گھر گھر باشکوہ مجالس و محافل برپا کریں۔تاکہ دُنیا کو حقیقی معنوں میں ماں نصیب ہو جائے۔یہ ذہن میں رکھیں کہ جس دن پاکستانی قوم کو حقیقی ماں مل گئی اُس دن اِس کو نجات کا راستہ مل جائے گا درحقیقت اِس قوم کو ماں کی ضرورت ہے اور وہ فاطمی ماں ہے آج فاطمی ماں کے کردار کی ضرورت ہے۔بہت افراد کے ذہن میں یہ سوال آتا ہوگا کہ یہ نورانی اور پاکیزہ محفل ایک سیاسی جلسہ ہو لیکن *اُم الکتاب* کسی پارٹی کا نام نہیں ہے اور یہ مجلس سیاست یا سیاسی مظاہرہ نہیں ہے بلکہ درحقیقت یہ اُس ہستی کی پیروکار خواتین کا اجتماع ہے جس کا درد یہ تھا کہ لوگ دینِ خدا، *راہِ رسولؐ اللّٰه!* اور،راہِ ولایت واِمامت کو سمجھ نہیں سکے۔آج درحقیقت یہ اجتماع *لبیک* ہے۔ ابنِ زہراؑ نہیں کربلا میں  *"ھل من ناصرِ ینصر ناھل من ذابِ یذب عن حرمِ رسولؑ اللّٰه"* کی صدا بلند کی تھی جبکہ ایک ھل من کی صدا *حضرت زہرا سلام اللّٰه علیہا* نے مدینہ میں بلند کی تھی *رسولؐ اللّٰه* کی رحلت کے بعد بیبیؑ نے ھل من شاھد؟ آیا کوئی گواہ ہے کی صدا بلند کی کہ آیا کوئی ہے جو *رسولؐ اللّٰه!* کی غدیر کی *اِمامت اور ولایت* کے اِعلان کی گواہی دے اور اُسی دن *حضرتِ زہرا سلام اللّٰه علیہا* سارے مدینے کو للکارتی رہیں لیکن اِس مدینے سے کوئی گواہی دینے کے لئے نہیں آیا تھا۔میں یہ عرض کروں گا *اے بیبیؑ،اے سیدہؑ،اے مظلومہؑ!* اُس دن ایک بھی نہیں نکلا تھا اور آج آپ مشاہدہ فرمائیں آپؑ کی *پیروکار،پاکیزہ،باعزت اور ایمانی خواتین* کا ایک جم غفیر اِس *اُم الکتاب* میں آیا ہے۔ *اے بیبیؑ!* اِس لیے *اُم الکتاب* میں آیا ہے تاکہ وہ لبیک  کی تشنہ آواز جو مدینے میں دب کے رہ گئی تھی اور اُس پر کسی نے لبیک نہیں کہا آج یہاں بیٹھ کر پورے وجود سے کہیں *اے زہراؑ!* لبیک ہم تیرے نظامِ ولایت کے پیروکار آگئے ہیں۔آپ نے اپنے وجود سے اور زبان سے *لبیک* کہنا ہے تو یہ ذہن میں رکھیں کہ بیبیؑ نے کس لہجے میں صدا بلند کی۔ *اھل من شاھد* کی گواہی دینے والا ہے؟۔ *جنابِ زہراؑ!* فریادیں کرکے رورو کے اور سسک سسک کے کہ رہی تھیں،جب زہراؑ کو کوئی شاھد نہیں ملا تو روکر گھر میں آ کر بیٹھ گئیں اور گھر سے باہر آنا چھوڑ دیا کہا *اے لوگو!* اب میں ناراض جاری ہوں بیبیؑ نے جس طرح کہا تھا *ھل من شاھد* اُسی آواز اور لہجے کے ساتھ کہو *اے زہراؑ!* ہم حاضر ہیں، *اے بیبیؑ! ہم حاضر ہیں،اے اُمِ ابیہاؑ ہم حاضر ہیں،اے اُم الکتاب ہم حاضر ہیں،اے اُمِ المومنین ہم حاضر ہیں ،اے اُمِ السلام ہم حاضر ہیں،اے اُمِ ہدایت ہم حاضر ہیں،اے اُمِ الاِمات ہم حاضرت ہیں،اے اُم الوایت ہم حاضر ہیں،اے اُمِ الدین ہم حاضر ہیں"۔* آپ نے اپنے وجود سے *لبیک* کہ دیا درحقیقت یہ مدینے کی تشنگی کو آپ جا رہی ہیں اور جناب زہرا کو لبیک کہہ رہی ہیں پاکستان کو ایسی چیز کی ضرورت ہے *نساء اِسلام!* خواتین فاطمی و اسوہ ھای زینبی آپ کی تعظیم ذمہ داری ہے آپ درحقیقت راہِ و راہِ حضرت ہیں۔آپ نے *حضرت زہراؑ!* کی تنہائی کو ختم کرکے دُنیا کو بتانا ہے کہ جس آواز کو تم نے دبانا چاہا آج ہر گلی گلی سے نکلی گی،جس اِمامت کے مکتب کو تم نے مٹانا چاہا اور جس سے ولایےخت کے نظام کو تم نے دبانا چاہا آج ہر زبان کا درد بن جائے گا اور دل کی آواز بن جائے گا"۔

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ وعَجِّلْ فَرَجَهُمْ۔

📚حوالہ کتب:- اقتدارِ فاطمیہؑ،ص21 تا 23۔

التماسِ دُعا:-

گنہگار شیعہ اور شفاعتِ اہلبیت

🙏🏻🌹 گنہگار شیعہ اور شفاعتِ اہلبیت ع🙏🏻🌹
ایک روز ایک دشمن امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا کہ:

اگر آپ کا کوئی چاہنے والا گناہ کرے تو اس کی عاقبت کیا ہوگی؟

امام علیہ السلام نے اس کے جواب میں فرمایا:
خداوندعالم اس کو ایک بیماری دے گا تاکہ بیماری کی تکلیف اس کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے۔

اس شخص نے دوبارہ پوچها:
اگر بیمار نہ ہوا پهر؟

امام علیہ السلام نے فرمایا:
پروردگار عالم ایک برا پڑوسی اس کو دے گا تاکہ اس کو تکلیف پہنچائے اور پڑوسی کا یہ آزار و تکلیف اس کے گناہوں کا کفارہ قرار پائے۔

وہ آدمی بولا: 
اگر برا پڑوسی بهی اس کو نہ ملا تب؟

امام عالی مقام نے فرمایا:
اللہ اس کو برا دوست عطا فرمائے گا تاکہ وہ دوست اس کو تکلیف پہنچائے اور وہ تکلیف اس کے گناہوں کا کفارہ ہو-

اس شخص نے پهر کہا: اگر برا دوست بهی اس کو نہیں ملا تو؟

امام علیہ السلام نے فرمایا: 
پروردگار عالم بری بیوی اس کو دے گا تاکہ اس کو آزار و اذیت پہنچائے اور یہ اس کے گناہوں کا کفارہ ہو-

اس شخص نے پهر سوال کیا:
اگر بری بیوی بهی اس کو نہ ملی تب؟

امام نے فرمایا:
حق تعالٰی موت سے پہلے اس کو توبہ کی توفیق عنایت فرمائے گا-

اس آدمی نے بغض و عناد کے باعث پهر کہا:
کہ اگر موت سے پہلے توبہ نہ کر سکا تو؟

امام عالی مقام نے ارشاد فرمایا:
تیری آنکهوں میں خاک!
 ہم اس کی شفاعت کریں گے۔

📚 منبع کتاب:
عوالی اللئالی العزیزیه فی الاحادیث الدینیه، ج1، ص345

امام علی نقی ع

السلام علیکم!

ابوالحسن حضرت امام علی نقی علیہ السلام

پارٹ2
فضاٸل و مناقب
روایت ہے کہ لوگوں نے متوکل عباسی سے کہا۔
”اس طرح کوٸی شخص نہیں کرتا جس طرح لوگ حضرت امام علی نقی ع کے ساتھ حسنِ سلوک کرتے ہیں۔ کیونکہ جس وقت وہ آپ ع کے پاس دربار میں آتے ہیں تو ہر شخص ان کی خدمت کرتا ہے یہاں تک  کہ دروازے پر لٹکے ہوٸے پردہ کو اٹھانے کی بھی ان کو زحمت نہیں دیتے۔“
ان لوگوں کی باتیں سن کر متوکل نے فرمان جاری کیا کہ اب دربار کوٸی شخص نہ ان کی خدمت کرے اور نہ ہی ان کے لیے دروازے کا پردہ اٹھاٸے۔ متوکل نے ایک اخبار نویس کو حکم دیا کہ امام ع کے آنے پر جو حالات بھی دربار میں رونما ہوں مجھے لکھ کر بھیجے۔ چنانچہ حضرت امام علی نقی ع تشریف لاٸے تو کوٸی درباری بھی پردہ اٹھانے کے لیے نہ اٹھا لیکن اللّٰه تعالیٰ نے ایسی ہوا چلا دی کہ پردہ خودبخود اٹھ گیا اور حضرت امام علی نقی ع بغیر کسی زحمت کے دربار میں تشریف لے گٸے۔ اسی طرح واپسی پر بھی ایسی ہوا چلا دی۔ پردہ خودبخود بلند ہوا اور آپ ع باہر آگٸے۔
اخبار نویس نے یہ تمام حالات متوکل عباسی کو لکھے تو اس نے فرمان جاری کیا کہ اب حسبِ دستور امام ع کی خدمت جاری رکھو تاکہ کسی پر آپ ع کی فضیلت ظاہر نہ ہو۔

جاری ہے۔۔۔

امام علی نقی ع

السلام علیکم!

ابوالحسن حضرت امام علی نقی علیہ السلام

پارٹ1
ابتدائی تعارف
سلسلہٕ امامت کے دسویں تاجدار امام حضرت علی نقی علیہ السلام کی ولادت باسعادت 5 رجب المرجب 214ھ بروز منگل مدینہ منورہ میں ہوٸی۔ دوسری روایت کے مطابق مدینہ کے قریب ایک بستی جس کا نام *صرّیا* ہے آپ ع وہاں پیدا ہوٸے۔
آپ ع کے والدِ بزرگوار حضرت امام محمد تقی ع اور والدہ ماجدہ محترمہ سمانہ خاتون ہیں۔ آپ ع کا اسمِ مبارک ”علی“ آپ ع کے والدِ ماجد نے رکھا۔ آپ کی کنیّت ”ابوالحسن“ تھی۔ القابات میں نقی، ناصح، متوکّل، مرتضیٰ، عسکری مشہور ہیں لیکن آپ ع نے لقب ”نقی“ سے زیادہ شہرت پاٸی۔

امامت پر نص
صقر ابنِ دلف کہتے ہیں کہ میں نے ابوجعفر ع محمد بن علی رضا یعنی امام محمد تقی ع سے سنا ہے کہ آپ ع نے فرمایا۔
”میرے بعد میرا بیٹا علی نقی ع امام ہو گا۔ اس کا حکم میرا حکم ہے۔ اس کا قول میرا قول ہے اور اس کی اطاعت میری اطاعت ہے۔ اس کے بعد امامت اس کے بیٹے کے پاس ہو گی۔“

جاری ہے۔۔۔

نعمت، شکر، استغفار

💠نعمت، شکر، استغفار، لاحول پڑھنا 💠

✨امیرالمؤمنین علیؑ ابن ابی طالبؑ نے رسول اللهؐ سے نقل فرمایا:

📌منْ تَظَاهَرَتْ نِعَمُ اللَّهِ عَلَیْهِ فَلْیُکْثِرِ الشُّکْرَ
وه شخص جس کے پاس الله کی عطا کرده نعمتیں بہت زیاده ہو گئی ہوں تو اسے چاہیے کہ الله کا شکر ادا کرنے میں مزید اضافہ کرے.

⭕️بعض اوقات نعمت ہاتھ آ جاتی ہے، اب چاہے وه نعمت مال ہو، مقام ہو، اولاد ہو یا اسی طرح کی کوئی چیز، لیکن لوگ شکر ادا کرنا بھول جاتے ہیں، گویا نعمت کے اضافے اور شکر کی کمی میں برعکس رابطہ موجود ہو!

👈وه لوگ جن کے پاس زیاده نعمتیں ہیں شاید کمتر شکر ادا کرتے ہیں. یہ بات اصول کے خلاف ہے. ضروری ہے کہ ہر نعمت انسان میں شکر گزاری کے احساس ذمہ داری کو مزید مستحکم کرے.

*📌و مَنْ أُلْهِمَ الشُّکْرَ لَمْ‏ یُحْرَمِ‏ الْمَزِیدَ*
وه شخص جس کے دل میں الله تعالی شکر ادا کرنے کی توفیق الہام کرے وه نعمت میں اضافے سے محروم نہیں رہے گا.

✔️لئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ (سوره ابراھیم: 07) یعنی "اگر تم ہمارا شکریہ اد اکرو گے تو ہم نعمتوں میں اضافہ کردیں گے". یہ آیتِ قرآن ہے اور خدا کا صریح وعده ہے اور اس میں کسی قسم کی کوئی تردید نہیں کی جا سکتی.

*📌من كَثُرَتْ هُمومُهُ فَعلَيهِ مِنَ الاستِغفارِ*
وه شخص جس کے ہموم زیاده ہو جائیں یعنی وه چیزیں جو دل کو مشغول کر دیتی ہیں اور انسان کے همّ اور اس کی دلی مشغولیت کا باعث بنتی ہیں، تو اسے چاہیے کہ زیاده استغفار کرے.

📝اب ایک بات تو یہ ہے کہ ہم استغفار کرنے اور ہموم کے دور ہونے میں کسی غیبی یا قدرتی رابطے کی موجودگی کو فرض کرتے ہیں تو یہ ایک ممکن بات ہے، ہمیں ایسی باتوں کا انکار نہیں کرنا چاہیے.

🔸مثلاً آپ برف کے مولیکیولز بننے میں ذکرِ خدا اور یادِ خدا کی تاثیر کو فرض کریں. جب پانی برف بنتا ہے تو اگر یہ عمل خدا کے ذکر کے ساتھ ہو، کسی قرآنی آیت کے ساتھ ہو تو یہ مولیکیول اپنی صحیح اور قدرتی شکل میں بنتا ہے. اور اگر یہ عمل ایک برے جملے کے بولے جانے یا اس کے برتن پر لکھے جانے کے ذریعے انجام دیتے ہیں تو اس کام کے نتیجے میں ان کے مولیکیولز غیرمنظم ہو جاتے ہیں. اب یہ تو ایک قدرتی رابطہ ہے 

27 فروری، 2005 کو فقہ کے درس خارج کی ابتداء میں آیت الله خامنہ ای کی جانب سے پیش کی جانے والی احادیث کی تشریح سے اقتباس 

📝اب غور کریں جب ہم سے یہ کہا جاتا ہے کہ وضو کرتے وقت مثلاً سوره انا انزلنا پڑھیں یا "اللهمّ بیّض وجهی" والی دعا پڑھیں اور انسان یہ سوچتا ہے کہ یہ کیسی بات ہے!

👈ایسا نہیں، ان چیزوں کی تاثیر ہوتی ہے، قدرتی تاثیر بھی ہوتی ہے. اس قدرتی دنیا میں اسی طرح کے اربوں رابطے موجود ہیں جنہیں ابھی ہم نے کشف نہیں کیا. لہذا اس بات میں کوئی مضائقہ نہیں کہ اگر کہا جائے استغفار کرنے اور ہموم کے دور ہونے میں ایک قدرتی رابطہ موجود ہے.

📌لیکن اس کے علاوه ایک اور احتمال بھی ممکن ہے اور وه یہ کہ انسان کہے وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ (سوره شوری: 30) یعنی "اور تم تک جو مصیبت بھی پہنچتی ہے وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی ہے".

⭕️حقیقتاً کیا اس کے علاوه کوئی اور بات ہے؟ انسان کو پیش آنے والے ہموم انہیں چیزوں کی وجہ سے پیش آتے ہیں جنہیں ہم نے خود اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے ہی لیے فراہم کیا ہوتا ہے، ہم نے گناه کیے: ذَٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ يَدَاكَ وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ (سوره حج: 10) یعنی "یہ اس بات کی سزا ہے جو تم پہلے کرچکے ہو اور خدا اپنے بندوں پر ہرگز ظلم کرنے والا نہیں ہے".

✔️لہذا اگر آپ کسی واقعے کی وجہ سے زیاده ہمّ و غمّ کا شکار ہو گئے ہیں تو آپ استغفار کریں اور اس کی جڑوں کو خشک کر دیں یعنی گناه کو نابود کر دیں تاکہ همّ و غمّ کی علت ہی مٹ جائے تو پھر خود همّ و غمّ بھی مٹ جائے. یہ بھی ایک دوسری طرح کا رابطہ ہو سکتا ہے.

*📌و مَنْ أَلَحَّ عَلَیْهِ الْفَقْرُ فَلْیُکْثِرْ مِنْ قَوْلِ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ*
اور ہر انسان جو فقر کا شکار ہو جائے اس کے لیے ضروری ہے کہ وه اس ذکر کو زیاده ادا کرے: لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ

27 فروری، 2005 کو فقہ کے درس خارج کی ابتداء میں آیت الله خامنہ ای کی جانب سے پیش کی جانے والی احادیث کی تشریح سے اقتباس

#احادیث_کی_تشریح
#احادیث_کی_تشریح_رہبر_معظم
 #کتاب_النوادر_کی_منتخب_احادیث 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

معرفت امام زمانہ عج

🌼🌸 معرفتِ امام زمانہ عج🌸🌼

قسط نمبر 34

امام مھدی عج کی حکومت 

جب تاریکی کے بادل چھٹ جائیں گے  تو کائنات کا سورج طلوع ہو گا اور آنکھوں کو نور میسر ہو گا۔
ظلم و ستم ،برائیوں ،تباہیوں اور خیانتوں سے مکمل مقابلہ کے بعد عدل و انصاف کی حکومت تشکیل پائے گی ۔ کائنات اور اس میں رہنے والے ایسی حکومت کا مشاہدہ کریں گے جو مکمل طور پر حق عدالت پر مبنی ہو گی اور اس حکومت کے طول و عرض میں کسی فرد پر ذرہ برابر ظلم و ستم نا ہو گا۔

امام زمانہ عج کی حکومت میں معاشرے کی ہر سطح پر عدالت عام ہو جائے گی  اور معاشرہ کی رگوں میں رچ بس جائے گی اور کوئی بھی ایسا چھوٹا یا بڑا نا ہو گا جس پر عدالت حاکم نہ ہو نیز آپس میں انسانوں کا رابطہ عدل پر ہو گا۔ 
 *امام جعفر صادق* علیہ السلام فرماتے ہیں : 
 *خدا کی قسم گھروں میں عدالت کو اس طرح پہنچا دیا جائے گا جیسے سردی اور گرمی پہنچتی ہے* (📗بحارالانوار ج 52 ص 372)

عدل و انصاف اس حد تک عام ہو جائے گا کہ لوگ اپنے گھروں میں فیصلے قرآن کی روشنی میں کریں گے ۔

امام زمانہ عج کی حکومت کے زمانہ میں ایمانی ،اخلاقی اور فکری ترقی بڑھ جائے گی ۔
 *حضرت امام باقر علیہ السلام* نے فرمایا :
 *"جب ہمارے قائم ع ظہور کریں گے تو وہ اپنا دست کرم خدا کے بندوں کے سروں پر رکھیں گے جس کی برکت سے انکی عقل و خرد اپنے کمال پر پہنچ جائے گی "* 
(📗بحارالانوار ،ج 52 ،ص 337)

اور جب انسان کی عقل کمال تک پہنچ جاتی ہے تو تو تمام خوبیاں اور نیکیاں خودبخود اس میں پیدا ہونے لگتی ہیں ،کیونکہ عقل انسان کے لیے باطنی پیغمبر ہے اگر جسم و روح کے ملک پر حکومت قائم ہو جائے تو پھر انسان کی فکر و عمل اصلاح کے راستے پر چل پڑتے ہیں۔
حضرت امام مھدی عج کی عالمی حکومت میں زندگی بسر والے افراد آپس میں متحد اور محبوب ہوں گے اور آپکی حکومت میں مومنین کے دلوں میں کینہ اور دشمنی کے لیے کوئی جگہ نہ ہو گی ۔ 
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:
 *"جب ہمارا قائم قیام کرے گا تا بندگانِ خدا کے دلوں میں کینہ اور دشمنی نہیں رہے گی"*

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :
 *"(اس زمانہ میں) اللہ تعالٰی پریشان اور منتشر لوگوں میں وحدت اور الفت ایجاد کر دے گا "*

قائم آل محمد عج کی حکومت میں خیر و برکت اس قدر ہو گہ کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملے گی۔ آپ کی حکومت کی بہار میں ہر جگہ سبز و شاداب اور حیات بخش ماحول ہو گا ، آسمان سے بارشیں برسیں گی اور زمین میں خوب فصلیں اگیں گی اور ہر طرف خدا کی برکت ہو ہی برکت نظر آئے گی ۔ 

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا :
 *"خداوند عالم ان (مھدی عج) کی وجہ سے زمین و آسمان سے برکتوں کی بارش برسائے گا۔ آسمان بارشیں برسائے گا اور زمین سے اچھی فصلیں اگیں گی" ۔* 
📗غیبت طوسی

جس وقت امام مہدی عج کے لیے زمین کے تمام خزانے ظاہر ہو جائیں گے اور زمین و آسمان سے مسلسل برکتیں ظاہر ہوں گی اور مسلمانوں کا بیت المال عدالت کی بنیاد پر تقسیم ہو گا تو پھر فقر و تنگدستی کا کوئی وجود نہیں رہے گا۔ 

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:
 *"(امام مہدی عج) سال میں دو بار لوگوں کے درمیان مساوات قائم کریں گے ۔ یہاں تک کہ زکوٰۃ لینے والا کوئی نیازمند نہیں مل پائے گا ۔۔"*
📗بحارالانوار📗

معرفت امام زمانہ عج

🌼🌸 معرفتِ امام زمانہ🌸🌼

قسط نمبر 33

رجعت

رجعت کے لغوی معنی "بازگشت(لوٹنے اور پلٹنے )" کے ہیں جبکہ رجعت کے اصطلاحی معنی یہ ہیں کہ خداوند متعال ظہورِ امام مھدی عج کے وقت آپکے بعض شیعوں کو زندہ کرے گا اور دنیا میں پلٹا دے گا تا کہ آپ کی مدد کریں اور آپکی حکومت کا مشاہدہ کرنے کی سعادت پائیں ۔ نیز آپ ع کے بعض دشمنوں کو خدا پلٹا دے گا تا کہ خدا کا عذاب چکھ لیں اور امام مہدی عج کی طاقت ،شوکت کو دیکھ لیں اور جان لیں ۔

قرآن مجید کی بہت سی آیات میں واضح طور پر وفات پا چکے بعض افراد کے دنیا میں پلٹنے کے واقعہ کو بیان کیا گیا ہے اور اہلبیت علیہم السلام کی بہت سی روایات  ان آیات کی تفسیر میں وارد ہوئی ہیں ۔ 

رجعت اور دنیا میں پلٹنے کی سب سے زیادہ روشن مثال حضرت عزیز کا واقعہ ہے وہ سو سال تک وفات پا چکنے کے بعد الٰہی ارادے سے زندہ ہوئے اور دنیا کی طرف پلٹے اور بہت عرصہ زندہ رہے ۔


 *ثم بعثنکم من بعد موتکم لعلکم تشکرون* (سورۃ البقرۃ 56 )
 ترجمہ : *پھر ہم نے تمہیں مرنے کے بعد اٹھایا تا کہ تم شکر گزار بنو*

یہ آیت حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے ان ستر افراد کے بارے میں ہے کہ جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہمراہ کوہِ طور پر گیے تا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اللہ تعالیٰ سے گفتگو کو دیکھیں اور اللہ تعالیٰ سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے الواح لینے کا مشاہدہ کریں۔ جب انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اللہ تعالیٰ سے گفتگو کو دیکھا تو کہا اے موسیٰ ع ہم آپ پر ایمان نہیں لائیں گے مگر یہ کہ اللہ کو واضح دیکھ لیں۔
حضرت موسیٰ ع نے انہیں اس فضول اور غیر ممکن درخواست سے روکا لیکن انہوں نے اصرار کیا بالآخر صاعقہ کا شکار ہوئے اور سب مر گیے حضرت موسیٰ ع اس واقعے سے پریشان ہوئے اور انہوں نے اللہ سے درخواست کی کہ انہیں زندگی کی طرف لوٹا دیں ۔
ان کی درخوست مورد قبول واقع ہوئی اور مندرجہ بالا آیت کے مطابق انہیں زندگی کی طرف لوٹا دیا گیا۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے 
" *اور جس دن اٹھائیں گے ہم امت میں سے ایک گروہ جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں پس وہ الگ الگ کر دیے جائیں گے "۔* (سورۃ نمل  آیت نمبر 83)
اس آیت میں اس دن کی بات ہو رہی ہے کہ جس دن لوگوں میں سے ایک گروہ کو اٹھایا جائے لٰہذا یہ قیامت سے ہٹ کر کسی اور دن کی طرف اشارہ ہے کیونکہ قیامت کے روز اولین و آخرین سے تمام لوگوں کو محشور کیا جائے گا 
مرحوم طبرسی تفسیر مجمع البیان میں لکھتے ہیں کہ اہل بیت علیہم السلام سے منقول بہت سی روایات کے مطابق یہ آیت حضرت امام عصر عج کے شیعوں اور ان کے دشمنوں کے ایک گروہ کے بارے میں ہے کہ جو ان کے زمانہ ظہور میں دنیا کی طرف پلٹیں گے ۔ 

ایک روایت میں آیا ہے کہ اس آیت کے بارے میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے سوال کیا گیا تو آپ ع نے فرمایا 
" *لوگ اس آیت کے بارے میں کیا کہتے ہیں"؟* 
راوی نے کہا  وہ کہتے ہیں کہ یہ آیت قیامت کے بارے میں ہے ۔
امام جعفر صادق ع نے فرمایا:
آیا اللہ تعالیٰ روز قیامت ایک گروہ کو محشور کرے گا اور دوسرے کو چھوڑ دے گا ؟ ایسا نہین ہے ! یہ آیت رجعت کے بارے میں ہے جب کہ قیامت کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے " *اور ہم انہیں محشور کریں گے اور ان میں سے کسی کو نہیں چھوڑیں گے "*(بحارالانوار ج 35 ص 15)

قابل ذکر بات یہ ہے کہ آئمہ معصومین علیہم السلام سے نقل ہونے والی زیارات میں بھی رجعت کا ذکر  ملتا ہے 
جیسے امام علی نقی علیہ السلام سے نقل ہونے واکی زیارت جامعہ کبیرہ میں ہم پڑھتے ہیں :
 *"میں آپکی امامت کا اعتراف کرتا ہوں آپ کی نشانیوں پر ایمان لاتا ہوں اور آپکی رجعت کی تصدیق کرتا ہوں اور آپکے امر کا منتظر ہوں "* 

اسکے علاوہ امام مھدی عج کی مخصوص زیارات جیسے زیارت آلِ یٰسین ع میں بھی یہ موضوع صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے

مزید یہ کہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ جو شخص دعایے عہد کی 40 روز تک تلاوت کرے گا وہ امام زمانہ عج کے ناصرین میں شامل ہو گا۔ اگر اس کی وفات ہو جائے تو وہ قبر سے زندہ باہر نکل آئے گا۔
یہ بھی رجعت کی دلیل ہے

جاری ہے۔۔...

معرفت امام زمانہ عج

🌼🌸 معرفت امام زمانہ عج 🌸🌼

 حصہ 32
امام مھدی عج اہلسنت کی روایات میں

اہلسنت اور اہل تشیع کا مہدویت کے عقیدہ پر اتفاق ہے ۔ سوائے چند افراد کے جو یورپ کے دلدادہ ہیں باقی سب مھدویت کے عقیدے پر یقین رکھتے ہیں۔

حافظ ابن حجر اسقلانی کہتے ہیں:

" *تواتر کی حد تک روایات دلالت کرتی ہیں کہ مہدی عج اسی امت اسلام میں سے ہیں"*
📗فتح الباری ج 5 ص 362

ابن حجر ھیثمی کہتے ہیں :
 *"وہ احادیث جن میں حضرت مہدی عج کے ظہور کا ذکر آیا ہے وہ بہت زیادہ اور متواتر ہیں"*
📗صواعق المحرقۃ ج 2 ،ص 211


قرمانی دمشقی کہتے ہیں :
 *"علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مہدی عج وہی شخص ہیں جو آخر الزمان میں قیام کرے گا اور انکے ظہور کی احادیث اور اخبار ایک دوسرے کی تائید میں ہیں "* 
📗اخبار الدول و آثار الاول ،ج 1 ص 436

سفارینی حنبلی کہتے ہیں:
 *"ظہورِ مھدی عج پر ایمان رکھنا واجب ہے جیسا کہ یہ حقیقت اہل علم کے نزدیک ثابت اور اہل سنت و الجماعت کے عقائد میں رائج ہے "* 
📗الاذاعہ ،146

حاکم نیشاپوری نے ابو سعید خدری سے نقل کیا کہ پیغمبر اکرم ص نے ارشاد فرمایا :
" *زمین ظلم و ستم سے بھر جائے گی تو اسی دوران میری عترت میں سے ایک شخص خروج کرے گا جو سات یا نو (سال) زمین کا مالک ہو گا اور وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا "* 
📗مستدرک الوسائل ،ج 4 ،ص 558


امت مسلمہ کی حدیثوں میں اس بات کا اتفاق پایا جاتا ہے کہ جب حضرت مھدی عج کا ظہور ہو گا تو حضرت عیسیٰ ع آسمان سے نازل ہوں بے  اور نماز میں امام مہدی عج کی اقتداء کریں گے ۔ 
ابوہریرہ نے رسول خدا ص سے روایت کی ہے کہ :
 *"تم لوگوں کی کیا کیفیت ہو گی جب فرزندِ مریم ع نازل ہوں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہی ایک شخص ہو گا "*
📗صحیح بخاری ،ج 3 ،ص 1272،ح 3265

ابو ہریرہ ،پیغبر اکرم ص سے نقل کرتے ہیں :
 *"قیامت برپا نا ہو گی جب تک یہودیوں کے ساتھ جنگ نہ ہو جائے یہاں تک کہ ہر وہ پتھر جس کے پیچھے یہودی چھپا ہو گا وہ کہے گا اے مسلمانوں میرے پیچھے ایک دوسرا یہودی چھپا ہے ہوا ہے اسے قتل کر دو "* 
📗صحیح بخاری ،ج 3 ،ص 1070،ح 2768

حضرت ام سلمہ پیغمبر اکرم ص سے روایت نقل کرتی ہیں :
 *"مھدی عج میری عترت میں سے اور حضرت فاطمہ زہراء س کی اولاد سے ہیں"* 
📗سنن ابی داود ،ج 4 ،ص 107 ،ح 4248

ابو سعید خدری پیغبر اکرم ص سے روایت نقل کرتے ہیں :
 *"مہدی عج مجھ سے ہیں ،ان کی پیشانی کشادہ ، ناک کشیدہ اور بلند ہے ،وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے جس طرح کہ وہ ظلم و جور سے پُر ہو چکی ہو گی "*
📗سنن ابی داود ،ج 4 ،ص 107 ،ح 4285

ابو سعید خدری پیغمبر اکرم ص سے نقل کرتے ہیں:
 *"مہدی عج میری امت میں سے ہیں اگر اس کی امت کم ہو تو سات سال ورنہ جو سال حکومت کریں گے پس انکے زمانہ میں میری امت ایسی نعمتیں دیکھے گی جو ہرگز انہوں نے پہلے نا دیکھی ہوں گی ، مال و سرمایہ اس زمانہ میں جمع ہو گا پس ایک مرد کھڑا ہوگا اور کہے گا یا مھدی عطا کرو پس کہا جائے گا لے لو "*
📗سنن ابی ماجہ ، ج 2 ،ص 1366،ح 4083

جاری ہے۔۔۔

معرفت امام زمانہ عج

🌼🌸 معرفتِ امام زمانہ عج🌸🌼

قسط نمبر 31

 ظہور کی شرائط و اسباب

 4 عام آمادگی

کسی بھی انقلاب کے لیے ضروری ہے لوگوں میں اس انقلاب کو قبول کرنے کا جذبہ پایا جائے ۔اگر جذبہ نا ہو تو چند افراد کے ذریعے کے انقلاب نہیں لایا جا سکتا۔ 
اگر ہم موجودہ دور کی بات کریں تو ایرانی انقلاب ہمارے لیے بہترین مثال ہے ۔ 
یہ انقلاب اسلیے قائم رہا کیونکہ عام لوگ اس انقلاب کو تسلیم کر رہے تھے ۔ ہر وہ فرد جو دین سے آشنا تھا اسے نے کھلے دل سے انقلاب کو قبول کیا اور آج تک قبول کیے ہیں اور وہ افراد جو اسلام کو ناپسند کرتے تھے وہ تب بھی انقلاب کے مخالف تھے اور آج بھی ۔۔
مختصر یہ کہ انقلاب کے لیے عام لوگوں کی آمادگی ضروری ہے ورنہ ایک رہبر یا لیڈر اپنے چند سپاہیوں کے ساتھ اچھے اور بہترین نظام کو معاشرہ میں رائج نہیں کر سکتا ۔

واقع کربلا اس امر کی واضح دلیل ہے کہ وہاں رہبر امام حسین علیہ السلام تھے اور وہ دین الٰہی حقیقی معنوں میں رائج کرنا چاہتے تھے ان کے ساتھ حضرت عباس علمدار ع اور حبیب ابن مظاہر ع جیسے ساتھی موجود تھے مگر چونکہ لوگ اسلامی نظام کے اسکی حقیقی روح کے ساتھ نافذ ہونے کے لیے آمادہ نا تھے انکے دماغوں پر یزید کی حکومت تھی اور فانی دنیا کے لالچ نے انکی آنکھیں اندھی کر رکھی تھیں اور وہ تاریکیوں کے گھڑے میں گرے تھے 

جيسا کہ ارشاد الہي ہے : 
( *ان اللہ لايغير ما يقوم حتي يغيروا ما بانفسھم)*
  *سورہ رعد/ آيت ۱۱* .
ترجمہ : *خدا اس وقت تک کسی قوم کی حالت نہيں بدلتا جب تک وہ اپنی حالت آپ نہيں بدلتے۔*

اگر پيغمبراکرم صلي اللہ عليہ و آلہ و  سلم نے مدينہ ميں حکومت اسلامی کي بنياد رکھی تو اس ک وجہ يہ تھي کہ اہل مدينہ اس کے خواہش مند تھے اور ايک عرصہ سے آنحضرت ص کی آمد کے منتظر تھے، يہاں تک کہ پيغمبر رحمت ص نے اپنے نورانی وجود کے ذريعے شہر مدينہ کو منورکيا اورحکومت الٰہی کا اعلان فرمايا۔

🕯️👈🏻اگر ہم بھی حکومت مہدوی کے  استوار کے خواہش مند ہيں تاکہ اس کے سائے ميں مراتب کمال کو طے کرسکيں، تو ہميں چاہئے کہ آنحضرت عج کو دوسروں پر ترجيح ديتے ہوئے ان کي حکومت اور سلطنت کے تحقق کيلئے دن رات ايک کرديں۔

اس سلسلے ميں امام عصر عج کہ جو پردہ غيبت ميں لوگوں کي مشکلات اور مصائب سے غمگين اور ہر لحظہ ان کی دعوت کے منتظر ہيں😭 اپنے ماننے والوں سے شکوہ کرتے ہوئے فرماتے ہيں:
  *"اگر ہمارے شيعہ کہ اللہ انہيں اپنی اطاعت کی توفيق دے اس عہد ايمان کو پورا کرتے کہ جو ان پر ہے تو ہماری ملاقات کي سعادت ميں تاخير نہيں ہو گی يعنی ہماری ملاقات کی خوشياں انہيں جلدی نصيب ہوں گی۔"* 
📗احتجاج/ج۲/ص۶۰۰.

ہاں٬ سنت الہي يہ ہے کہ جب تک لوگ نہ چاہيں،خود حر کت نہ کريں اور ظلم و ستم کا مقابلہ کرنے اور دعوت  حق کو قبول کرنے کيلئے آمادہ نہ ہوں ،تو اس وقت تک خدا بھی يہ نعمت عطا نہيں کرتا ہے۔

عزیزان من !
آج ہم پر یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ پہلے ہم خود معرفتِ مھدی دوراں عج حاصل کریں اور امام عج کی حکومت کے لیے خود کو تیار کریں ۔ پھر اپنے معاشرے میں امام عج کی معرفت پھیلائیں اور لوگوں کو مھدوی حکومت کی طرف آمادہ کریں تا کہ عالمی انقلاب جلد وقوع پذیر ہو 

جاری ہے۔۔۔۔۔

 *اللھم عجل لیولیک الفرج

معرفت امام زمانہ عج

🌼🌸 معرفتِ امام زمانہ عج🌸🌼

قسط نمبر  30

 --ظہور کی شرائط و اسباب

 2 ۔رہبری
ہر انقلاب اور قیام میں رہبر اور قائد کی ضرورت سب سے پہلی ضرورت شمار کی جاتی ہے اور انقلاب جتنا بڑا ہو رہبر بھی ان مقاصد کے لحاظ سے عظیم و بلند مرتبہ کا ہونا ضروری ہے ۔

عالمی سطح پر ظلم و ستم سے مقابلہ ، عدل و انصاف پر مبنی حکومت اور کرہ زمین پر مساوات برقرار رکھنے کے لیے توانا، صاحب علم اور دلسوز رہبر اس انقلاب کا اصلی رکن ہے جو واقعی طور پر اس انقلاب کی صحیح رہبری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو ۔
حضرت امام مھدی عج جو کہ انبیاء و اولیا علیہم السلام کے وارث ہیں وہ اس عظیم الشان انقلاب کے رہبر کے عنوان سے زندہ اور حاضر ہیں 
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :
" *آگاہ رہو کہ مھدی عج تمام علوم کے وارث ہیں اور تمام علوم پر احاطہ رکھتے ہیں* "
(📗نجم الثاقب ،ص 193)

عزیزان محترم !
اگر ہم دیکھیں تو رہبری کی شرائط مکمل ہیں کیونکہ ہمارے حقیقی رہبر مولا و آقا صاحب زمان عج زندہ ہیں حاضر ہیں اور رہبری کی تمام شرائط پر پورا اترتے ہیں۔ 
رہبری کی شرط پوری ہے مگر رہبر کو بہت سی دیگر اشیاء و خدمات کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کے قیام کا سبب بنتی ہے ۔ تو اب ہم ان سب پر غور و فکر کریں گے
*3۔ انصار* 
امام مھدی عج کے ظہور کے لیے ضروری شرائط میں سے آپکے شائستہ ،کارآمد اور لائق انصار و مددگاروں کا وجود بھی لازمی ہے ،جو اس انقلاب کی پشت پناہی اور حکومتی عہدوں پر رہ کر امام عج کی نصرت کریں گے ۔ 
ظاہر سی بات ہے کہ جب عالمی انقلاب آسمانی رہبر کے ذریعے برپا ہو گا تو پھر اسی لحاظ سے امام عج کو انصار و مددگاروں کی بھی ضرورت ہو گی ۔ ایسا نہیں کہ جس نے بھی نصرت کا دعویٰ کر لیا وہ انکی نصرت کے لیے حاضر ہو جائے گا ۔بلکہ آزمایا جائے گا جو آزمائش پر پورا اترا وہی نصرت کے قابل ہو گا۔ 
یہاں ہم ایہ واقعہ عرض کرتے ہیں
ایک شخص" *سہل بن حسن خراسانی" امام جعفر صادق ع* کے پاس آیا اور عرض کیا :

" *آپ ٔ کیلیے کونسی چیز اپنے مسلّم حق (حکومت) کے حصول کے لیے مانع ہے  ، جبکہ آپ ٔ کے ایک لاکھ شیعہ ، تلوار چلانے والے اور آپ ٔ کی خدمت کے لیے تیار ہیں؟؟* 
امام علیہ السلام نے حکم دیا کہ تنور روشن کیا جائے اور جب اس سے آگ کے شعلے باہر نکلنے لگے  تو آپ ٔ نے سہل سے فرمایا : *اے خراسانی اٹھو اور تنور میں کود جاو ۔* 
سہل کا گمان تھا کہ امام علیہ السلام اس کی باتوں سے ناراض ہو گئے ہیں چنانچہ وہ معافی طلب کرنے لگا اور عرض کی: *آقا مجھے معاف فرما دیں مجھے آگ میں ڈال کر سزا نہ دیں* 
امام ٔ نے فرمایا : میں تم سے درگزر کرتا ہوں ۔ اتنے میں *ہارون مکی* آ پہنچے جو امام علیہ السلام کے حقیقی  شیعہ تھے ۔ انہوں نے امام ٔ کو سلام کیا ، امام نے سلام کا جواب دیا اور بغیر کسی مقدمہ کے فرمایا : *اس تنور میں کود جاو !* 
ہارون مکی فوراً چوں چرا کیے بغیر اس تنور میں کود پڑے اور امام علیہ السلام اس خراسانی سے گفتگو میں مشغول ہو گئے اور خراسان کے واقعات ایسے بیان کرنے لگے جیسا کہ امام علیہ السلام  خود ان واقعات کے شاہد ہوں  کچھ دیر بعد امام علیہ السلام نے فرمایا *: *اے خراسانی اٹھو اور تنور کے اندر جھانک کر دیکھو* 
سہل اٹھے اور تنور کے اندر ہارون کو دیکھا کہ جو آگ کے شعلوں کے درمیان دو زانو بیٹھے ہوئے ہیں!* 
امام علیہ السلام ںے اس سے سوال کیا : *خراسان میں ہارون کی طرح کتنے لوگوں کو پہچانتے ؟! خراسانی نے جواب دیا :خدا کی قسم میں تو ایسے کسی ایک شخص کو بھی نہیں جانتا ۔* 
امام علیہ السلام نے فرمایا : *یاد رکھو ! جب تک ہمیں ایسے پانچ ناصر و مددگار نا مل جائیں اس وقت تک ہم قیام نہیں کرتے ہم بہتر جانتے ہیں کہ کب قیام اور انقلاب کا وقت ہے ۔* 


📗 *(سفینۃ البحار جلد 8 صفحہ 681)*

امام عج کے انصار ایسی صفات کے مالک ہوں گے کہ وہ ہر دم اپنے امام عج کے قدموں میں جان قربان کرنے کے لیے تیار ہوں گے ۔ 
جیسا کہ انصارِ مھدی عج کی خصوصیات پچھلے دروس میں ہم بیان کر چکے ہیں ۔ 

امام عج *313* سپاہی خاص ہوں گے جبکہ *10،000* کا لشکر بھی ساتھ ہو گا اور انکے علاوہ انتظار کرنے والے مومنین کی عظیم تعداد ان کے ساتھ ہوگی ۔

 *خداوند متعال ہم سب کا شمار منتظرینِ و ناصرینِ مھدی عج میں کرے 🤲🏻*

جاری ...

معرفت امام زمانہ عج

🌼🌸 معرفتِ امام زمانہ عج 🌸🌼
 قسط نمبر 29 

 ظہور کی شرائط و اسباب

ظہور کی شرائط و اسباب کے مہیاہونے کا یہ مطلب  نہیں کہ کوئی غیبی آسمانی امداد نہیں آئے گی بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ غیبی امداد کے ساتھ  عام شرائط اور حالات کا ہموار ہونا بھی ضروری ہے ۔ 
اسکے لیے ضروری ہے کہ ہم ظہور کے اسباب کو پہچانیں اور پھر انہیں حقیقت میں بدلنے کی کوشش کریں۔

درج ذیل چار چیزیں امام مھدی عج کے ظہور کی اہم شرائط ہیں۔
1۔ *منصوبہ بندی* 
2۔ *رہبری* 
3 *انصار* 
4 ۔ *عام آمادگی* 

🕊️💐 *1 منصوبہ بندی* 
یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پر انقلاب اور اصلاحی تحریک میں دو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ 
۱۔ معاشرہ میں موجود برائیوں سے مقابلہ کرنے کے لیے مکمل منصوبہ بندی اور تمام وسائل فراہم کرنا 
۲.ایک کام قانون کہ جس میں تمام معاشرتی ضروریات کا خیال رکھا گیا ہو اور قانون ایک عادلانہ حکومت کے تحت تمام انفرادی اور اجتماعی حقوق کی ضمانت دیتا ہو۔
امام مھدی عج کی حکومت میں تمام قوانین قرآن کی روشنی میں بنائے جائیں گے جن کا نفاذ پوری دنیا پر ہو گا اور ان قوانین کے ذریعے پوری دنیا سے برائیوں کا حاتمہ کیا جائے گا۔ 
آج اگر ہم تمام ممالک کے قوانین دیکھیں تو کوئئ بھی ترقی یافتہ ممالک ہمیں پرسکون نظر نہیں آتا بلکہ ہر ملک کی عوام مشکلات کا شکار ہے ۔ ایسا صرف اس لیے ہے کہ سب کے لیے قوانین یکساں بھی نہیں اور قرآن سے بہت مختلف ہیں ۔ 
اگر ہم سعودی عرب کے قوانین دیکھیں جو بظاہر اسلامی نظر آتے ہیں مگر وہاں کے رہنے والی اقلیتوں کے لیے وبال جان بنے ہوئے ہیں ۔ جی ہاں سعودی عرب میں رہنے والے شعیہ حضرات محفوظ نہیں ہے ۔ 
دنیا ان مشکلات سے گھبرائی ہوئی ہے اور ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے کو ایک ایسے شخص کا انتظار ہے جو سفید گھوڑے پر بیٹھ کر آئے گا ۔ 

اب اگر ہم امام زمانہ عج کے لیے زمینہ سازی کریں تو ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم برائیوں کا خاتمہ کریں اور قرآن کے مطابق قوانین نافذ کریں تا کہ ہر کوئی انصاف پائے ۔ 
یہاں قوانین نافذ کرنے سے مراد ہر گز یہ نہیں ہے کہ آپ پورے ملک یا پوری دنیا پر یہ قانون نافذ کریں بلکہ آپ اسکا آغاز اپنی ذات سے کریں پھر اپنے گھر سے ،پھر آپکا رخ اپنے محلے ، اپنے علاقے ، اپنے شہر ، اپنے ضلعی سے ہوتے ہوئے آہستہ آہستہ پورے ملک اور پھر پوری دنیا کی طرف ہونا چاہیئے

جاری ہے۔۔۔۔

معرفت امام زمانہ عج

🌼🌸 mمعرفتِ امام زمانہ عج 🌸🌼
قسط نمبر  28

 ظہور کی شرائط و اسباب

امام زمانہ عج کے ظہور کی کچھ نشانیاں ہیں اور کچھ شرائط و اسباب ہیں ۔  
شرائط و اسباب کے بغیر  ظہور ممکن نہیں جبکہ حتمی نشانیاں تو ظہور سے کچھ عرصہ پہلے رونما ہوں گی ۔ 

ہمیں چاہیئے کہ امام زمانہ عج کے ظہور کی نشانیوں کو تلاش کرنے کے بجائے انکے ظہور کے اسباب پر غور و فکر کریں اور اپنی طاقت کے مطابق ان شرائط کو وجود میں لانے کی کوشش کریں۔ 
آج ہم ظہور کئ شرائط و اسباب کی وضاحت کریں گے ۔

عزیزان محترم !

کائنات کی ہر چیز پر اگر ہم غور کریں تو ہر چیز کے پیچھے کوئی نا کوئی سبب یا شرط ضرور موجود ہوتی ہے ۔ اسباب کے بغیر کاینات کا نظام ہی نہیں چل سکتا۔
آپ غور فرمائیں کہ فصل کیسے اگتی ہے ۔ اس کے اگنے کا سبب دانہ ہے ۔ یعنی اگر دانہ نا ہو تو فصل نہیں اگے گی ۔ 
اسی طرح اگر کاشتکار صرف زمین کو دیکھتا رہے اور سوچے کہ فصل اگ آئے گی تو فصل کبھی بھی نہیں اُگ سکے گی کیونکہ اس کے اگنے کی شرط بیج ہیں ۔ اگر شرط موجود نا ہو تو کاشتکار جتنی مرضی کوشش کر لے اسے فصل حاصل نا ہو سکے گی ۔ 

انقلاب بھی جب دنیا میں آئے تو اس کے پیچھے اسباب موجود ہوتے ہیں ۔ یہ عالم اسباب ہے اس میں خودبخود کچھ بھی وقوع و پذیر نہیں ہو سکتا۔ 
آپ کے سامنے انقلاب ایران کی مثال واضح ہے ۔ اس انقلاب کے پیچھے بھی اسباب تھے ۔ 
یعنی آغا خمینی رح کے سپاہی تیار ہوئے ، سب میں حوصلہ، جذبہ ، جرات ، اخوت اور جذبہ شہادت موجود تھا تو ہی انقلاب آیا ورنہ بغیر اسباب کے انقلاب ممکن نا تھا۔ 

اب اگر ہم بات کریں عالمی انقلاب کی ، تو کیسے ممکن ہے کہ یہ بغیر اسباب کے وقوع ہو جائے۔

*حضرت امام جعفر صادق* علیہ السلام کا ارشاد ہے 
 *"خداوند عالم تمام چیزوں کو فقط و فقط انکے اسباب اور علل کے ذریعے انجام دیتا ہے "*

ایک اور روایت امام محمد باقر علیہ السلام سے منسوب ہے ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا " *لوگ کہتے ہیں کہ جب مھدی عج کا ظہور ہو گا تو تمام امور ان کی مرضی کے مطابق خودبخود ٹھیک ہو جائیں گے* 
امام نے فرمایا:
 *ہر گز ایسا نہیں ہے قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر یہ طہ ہوتا کہ کسی کے کام خودبخود  ہو جایا کریں تو پھر یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے ہونا چاہیئے تھا*
📗غیبت نعمانی ، باب 15
جاری ہے۔۔۔۔

عرش الهی کے سائے میں

🔸عرشِ الہی کے سائے میں🔸

📌امام جعفر صادقؑ نے اپنے والد اور اجداد کے سلسلے سے رسول اللهؐ سے نقل فرمایا:

📜"ان لوگوں کے لیے خوشخبری ہے جو عرش کے سائے کی طرف سبقت حاصل کرتے ہیں! سوال ہوا: اے رسول خداؐ! یہ کون لوگ ہیں؟ فرمایا: وه لوگ جو اگر حق بات کو سنیں تو اسے قبول کرتے ہیں؛ اور جب ان سے حق بات پوچھی جائے تو بتا دیتے ہیں؛ اور لوگوں کے لیے اس طرح سے فیصلہ کرتے ہیں گویا خود اپنے لیے فیصلہ کر رہے ہوں. یہ لوگ عرشِ الہی کے سائے کی طرف سبقت کرنے والے لوگ ہیں".

*📌السّابِقونَ اِلى ظِلِّ الْعَرشِ طوبى لَهُمْ*
ان لوگوں کے لیے خوشخبری ہے جو عرش کے سائے کی طرف سبقت کرتے ہیں!

👈اب اس سے مراد یا قیامت کا دن ہے کہ اس دن ایسے بھی لوگ ہیں جو عرش الہی کے سائے کی طرف سبقت حاصل کرتے ہیں یا پھر ممکن ہے کہ اسی دنیا میں بھی یہ مطلب صادق ہو. ایسے افراد کی روحانی اور باطنی بلندی اتنی زیاده ہے کہ وه عرشِ الہی کے سائے میں ہیں.

*📌قيلَ: يا رَسولَ اللّه ِ وَ مَنْ هُمْ؟*
سوال ہوا کہ یا رسول اللهؐ یہ کون لوگ ہیں جو "یَسْبِقُونَ الی ظِلِّ عَرشِ الله" ہیں؟

*📌فقالَ: اَلَّذينَ يَقْبَلونَ الْحَقَّ اِذا سَمِعُوهُ*
پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا: یہ وه لوگ ہیں جو حق بات کو سنتے ہیں تو قبول کر لیتے ہیں اور اس کے سامنے تسلیم ہو جاتے ہیں.

💭اب چاہے یہ کوئی علمی بحث ہو، کوئی سیاسی معاملہ ہو، یا لوگوں کے درمیان پیش آنے والے مسائل ہوں مثلاً خرید و فروخت اور دیگر معاملات کے مسائل، یا کام کاج کے دیگر معاملات. جب وه سمجھ جاتے ہیں کہ سامنے والا صحیح بول رہا ہے، حق بول رہا ہے تو ان کا تعصب، اس کی احمقانہ اور جاہلانہ غیرت انہیں حق بات کو قبول کرنے سے روک نہیں سکتی.

⚠️مختلف انسانی معاشروں میں اور خود ہمارے معاشرے میں بھی بہت سی مشکلات پیش آنے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ جو شخص غلطی پر ہوتا ہے وه صحیح بات کے سامنے تسلیم نہیں ہوتا مثلاً بہت سے ذاتی، عمومی، سیاسی اور عقیدتی معاملات میں پیش آنے والی بحثیں اور تنازعے. غلط مؤقف رکھنے والا شخص سمجھ جاتا ہے لیکن تسلیم نہیں ہوتا! (جاری ہے)

31 جنوری، 2005 کو فقہ کے درس خارج کی ابتداء میں آیت الله خامنہ ای کی جانب سے پیش کی جانے والی احادیث کی تشریح سے اقتباس

#احادیث_کی_تشریح
#احادیث_کی_تشریح_رہبر_معظم - 47
 #کتاب_النوادر_کی_منتخب_احادیث - 47

والدین کے ساتھ حسن سلوک

والدین کے ساتھ حسن سلوک  معصومین علیہم السلام کی فرامین
1۔ سب سے بڑا فریضہ

قال الامام علي عليه السّلام: برّ الوالدين أكبَرُ فريضةٍ.

تصنیف غرر الحكم، ص 407، ح 9339۔

*امام علیہ السلام نے فرمایا: خدا کی طرف سے سب سے بڑا فریضہ والدین کے ساتھ نیکی کرنا ہے۔*
2۔ *محبت سے دیکھا کرو*

قال رسول الله صلّي الله عليه و آله: نَظَرَ الوَلَد الي والدَيهِ حُبّاً لهُما عبادَة.
بحار الانوار، ج 74، ص 80۔
*رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: والدین کی طرف محبت کے ساتھ دیکھنا عبادت ہے۔*

3۔ *غضب آلود نگاہ سے پرہیز کرو*

قال الامام الصادق عليه السّلام: مَنْ نَظَر الي أبَويه نَظَرَ ماقتٍ و هُما ظالمانِ لَهُ، لم يقبَلِ اللهُ لَهُ صلاةً.

اصول كافی، ج 4، ص 50۔


*امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو بھی اپنے ماں باپ کو غضب آلود نگاہ سے دیکھے گا خداوند اس کی کوئی نماز بھی قبول نہیں فرمائے گا خواہ والدین نے اس کے ساتھ ظلم ہی کیوں نہ کیا ہو۔*
4۔ *اچھا سلوک بہترین اعمال میں سے ہے*

سئل عن الامام الصّادق عليه السّلام أي الاعمال أفضَلُ؟ قال: الصّلاةُ لِوَقتِها و برّ الوالدين و الجِهادُ في سبيل اللهِ.

بحار الانوار، ج 74، ص 85۔

*امام صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا: بہترین اعمال کون سے ہیں؟ فرمایا: وقت پر نماز ادا کرنا، والدین کے ساتھ نیکی کرنا اور خدا کی راہ میں جہاد کرنا، بہترین اعمال ہیں۔*
5۔ *ایک محبت آمیز نگاہ ایک حج مقبول*

قال رسول الله صلّي الله عليه و آله: ما ولد بار نظر إلى أبويه برحمة إلا كان له بكل نظرة حجة مبرورة، فقالوا: يا رسول الله وإن نظر في كل يوم مائة نظرة ؟ قال: نعم، الله أكبر وأطيب
بحارالانوار، ج 74، ص 73۔

*رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: جو فرزند مہربانی کے ساتھ اپنے والد اور والدہ کی طرف دیکھے گا ہر نگاہ کے بدلے اس کو ایک حج مقبول کا ثواب عطا کیا جائے گا۔ پوچھا گیا: اے رسول خدا (ص)! اگر انسان ہر روز سو مرتبہ اپنے والدین کی طرف محبت کے ساتھ دیکھں تو بھی کیا اس کو ہر نگاہ کے بدلے ایک حج مقبول کا ثواب ملے گا؟] رسول خدا (ص) نے فرمایا: ہاں؛ اللہ سب سے بڑا اور سے زیادہ پاک ہے

معرفت امام زمانہ عج

🌼🌸 معرفتِ امام زمانہ عج🌸🌼

 قسط نمبر 27

ظہور کی علامات اور نشانیاں

امام جعفر صادق علیہ السلام کے فرمان کی روشنی میں ہم ظہور کی علامات بیان کر رہے تھے ۔ تا کہ ہم ان علامات کو پہچان لیں اور کذاب لوگوں سے محتاط رہیں ۔ 
 تیسری علامت  *یمنی کا قیام ہے* 

 *3۔ یمنی کا قیام* 
سر زمین یمن میں ایک سردار کا قیام امام علیہ السلام کے ظہور کی ایک نشانی ہے جو آپ کے ظہور کی کچھ مدت پہلے ظاہر ہو گی ۔ 
یمنی ایک مومن اور صالح مرد ہو گا جو انحرافات اور برائیوں کے خلاف قیام کرے گا اور اپنی تمام تر طاقت سے برائیوں کا مقابلہ کرے گا۔
امام  محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں :
" *امام مھدی عج کے قیام سے پہلے بلند ہونے والے پرچموں کے درمیان یمنی کا پرچم تمام ہدایت کرنے والے پرچموں میں سب سے بہتر ہو گا ،کیونکہ وہ تمہارے امام(مھدی عج) کی طرف دعوت دے گا"*
(📗غیبت نعمانی باب 13 حصہ 14)

 *4۔آسمانی آواز*
امام عج کے ظہور سے پہلے ایک نشانی یہ ہو گی کہ آسمان سے آیک آواز آئے گی ۔ یہ آواز بعض روایات کی بنا پر حضرت جبرائیل علیہ السلام کی ہے جو رمضان المبارک میں سنائی دے گی ۔ اس آواز کے ذریعے سب لوگوں کو ظہور کی خبر دی جائے گی ۔
حضرت محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا :
 *قائم آل محمد عج کا ظہور اس وقت تک نہیں ہو گا جب تک آسمان سے آواز نا دی جائے جس کو ایل مغرب اور اہل مشرق سن لیں گے*
📗غیبت نعمانی ،باب 10 ،ح 29

 *5۔ نفسِ زکیہ کا قتل*
نفس زکیہ کے معنی ایسے شخص کے ہیں جو پاکیزگی ، کمال کے بلند درجہ پر فائز ہو ۔
نفس زکیہ کے قتل سے مراد یہ ہے کہ امام مھدی عج کے ظہور سے کچھ دیر پہلے ایک ممتاز اور بے گناہ شخصیت امام عج کے مخالفوں کے ہاتھوں قتل ہو جائے گی ۔ بعض روایات کی بنا پر یہ واقعہ ظہور سے 15 دن پہلے رونما ہو گا۔ 
اس سلسلہ میں *حضرت امام جعفر صادق* علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
  *قائم آل محمد ع کے ظہور اور نفس زکیہ کے قتل میں 15 دن رات کا فاصلہ ہو گا*

یہ ظہور کی حتمی علامات ہیں ۔ جن کے واقعہ ہونے سے سب پر یہ بات آشکار ہو جائے گی کہ مھدی موعود عج کا ظہور ہونے والا ہے ۔ 

اسکے علاوہ بھی کچھ نشانیاں بیان ہوئی ہیں جن کے بارے میں محتلف نظریات ہیں۔

 *خروج دجّال* 
جس کا تذکرہ تمام عالم اسلام کی کتب احادیث میں پایا جاتا ہے اور اس کی طرح طرح کی صفات کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے کہ گدھے پر سوار ہوگا۔ ایک آنکھ سے کانا ہوگا، دوسری آنکھ پیشانی پر ہوگی، انتہائی درجہ کا جادوگر ہوگا اور لوگوں کو بہترین نعمتوں کی ترغیب دے گا۔ اس کے لشکر میں ہر طرح کے ناچ گانے کا ساز و سامان ہوگا۔ وہ مختلف علاقوں کا دورہ کرکے لشکر جمع کرے گا اور لوگوں کو گمراہ کرے گا، یہاں تک کہ حضرت کا ظہور ہوگا اور آپ براہِ راست یا آپ کی رکاب میں حضرت عیسیٰ بن مریم اسے فنا کر دیں گے۔
 روایات سے تو بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ کسی انسان کا تذکرہ ہے لیکن چونکہ دجّال خود ایک صفت ہے اور اس کے معنی مکار اور فریب کار کے ہیں اس لیے بہت سے علماء نے اس کے کنائی معنی مراد لیے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اس سے مراد وہ مکار اور فریب کار حکومتیں ہیں جن کے ساز و سامان دجّال والے ہیں اور جنہوں نے ساری دنیا کو مسحور کر رکھا ہے اور ان کی نظر سرمایہ داری یا مزدوری پر ہے کہ ایک آنکھ سے دیکھتے ہیں اور ایک آنکھ کو بند کر لیا ہے اور دیکھنے والی آنکھ کو اپنی پیشانی پر اتنا نمایاں کر لیا ہے کہ ہر شخص صرف اس کی چمک دمک دیکھ رہا ہے اور ان کی سواری کے لیے بے شمار انسان موجود ہیں جنہیں قرآن حکیم کی زبان میں گدھا ہی کہا گیا ہے کہ گویا ایک پورا ”خر صفت“ سماج ہے جس کی پشت پر سوار ہو کر اپنے دجل و فریب کی ترویج کر رہے ہیں۔
ماہ رمضان میں سورج گرہن لگنا، فتنوں کا ظاہر ہونا اور خراسانی کا قیام وغیرہ یہ نشانیاں بھی قابل ذکر ہیں۔

جاری ہے۔۔۔۔