انہدامِ جنت البقیع
8 شوال یومِ انہدامِ جنت البقیع کے عنوان سے عالمِ اسلام میں منایا جاتا ہے اسے یومِ الھدم یعنی منہدم کرنے کا دن بھی کہتے ہیں. جنت البقیع سعودی عرب کے شہر مدینہ منورہ میں موجود ایک قبرستان ہے جہاں عالمِ اسلام کی مشہور و معروف شخصیات مدفون ہیں اور *8 شوال 1344 ہجری بمطابق 24 اپریل 1925 عیسوی* کو سعودی بادشاہ عبدالعزیز بن سعود (لعن) کے حکم پر آئمہ علیہ السلام (امام حسن وسجاد و باقر و جعفر ع) کے گنبد و مزارات منہدم(گِرا دینا) کر دیے گئے.
*مدفون شخصیات*
جن میں سرِ فہرست حضرت فاطمة الزهراء بنتِ حضرت محمد (ص), امام حسن (ع), امام زین العابدین (ع) , امام محمد باقر (ع), امام جعفر صادق (ع) مدفون ہیں. انکے علاوہ حضرت فاطمہ بنتِ اسد (ع) جو چچی حضرت محمد (ص) , زوجہ حضرت ابوطالب (ع) اور والدہ حضرت علی (ع) ہیں , والدہ حضرت عباس بی بی ام البنین (ع) ,حضرت عقیل بن ابی طالب (ع), چچا پیغمبرِ اکرم حضرت عباس بن عبدالمطلب (ع), پھوپھی پیغمبرِ اکرم حضرت صفیہ بنتِ عبدالمطلب (ع) , پسر پیغمبرِ اکرم حضرت ابراہیم (ع) , محمد بن ابی طالب المعروف حضرت محمد بن حنفیہ (ع) (آپکی والدہ کا نام حنفیہ خاتون تھا اسی نسبت سے آپ محمد بن حنفیہ کے نام سے مشہور ہیں ) , زوجِ حضرت بی بی زینب حضرت عبدالله بن جعفر طیار (ع), حضرت اسماعیل بن امام جعفر صادق (ع), دائی حلیمہ سعديہ اور اہلسنت کے امام مالک کے علاوہ تقریباً سات ہزار صحابہ اکرام اور رشتہ دار حضرت محمد ص مدفون ہیں.
*انہدامِ جنت البقیع مختصر تاریخ*
جنت البقیع اور روضہ پیغمبرِ اکرم حضرت محمد (ص) کو منہدم کرنے کی نیت سے پہلی مرتبہ آلِ سعود و ناصبی 1220 ہجری کو مدینہ منورہ پہ حملہ آور ہوئے یہ سلطنت عثمانیہ کا دور تھا آل سعود اور ناصبیوں نے مختلف مساجد اور مزارات کو نشانہ بنایا مگر مجموعی طور پہ اپنے ارادوں میں ناکام رہے. یہ *تحریکِ وہابیت* جو محمد بن عبد الوہاب بن شیخ سلیمان نے چلائی تھی, کا مدینہ پہ پہلا حملہ تھا. مزارات و مساجد کو جو نقصان پہنچا, اسکی تعمیرِ نو کے لیے عثمانی حکومت نے ارادہ کیا تو شیعہ و سنی حضرات نے مل کر اسکے لیے رقم مہیا کی. مزارات کی خوبصورت اور جدید ترین تازین و آرائش کی گئ. 1344 ہجری کو جب آلِ سعود نے مکہ, مدینہ اور اطراف میں مکمل طور پہ قبضہ کر لیا تو مقاماتِ مقدسہ جنت البقیع, اصحاب اور خاندانِ رسالت کے آثار کو زمینِ حجاز سے مٹانے کا ارادہ کیا تو اسکے لیے چند ناصبی مفتیوں سے فتوئے بھی لے لیے.
*فتوے*
آل سعود نے لوگوں کی بغاوت سے بچنے کے لیے مفتیوں سے فتوئے لینے کے لیے *قاضی القضاۃ سلمان بن بلیہد* کو منتخب کیا. اس قاضی القضاۃ نے سوالات کو ایسے توڑ مروڑ کر علمائے مدینہ کے سامنے رکھا جن کے جوابات, سوالات میں ہی موجود تھے اور اندازِ بیان سے یہ واضح تھا کہ جو مزارات کو منہدم کرنے کا فتوٰی نہیں دے گا وہ قتل ہوگا. کچھ مفتیان نے ڈر کر اور کچھ نے چند سکوں کے عوض اپنا ایمان بیچ کر انہدام کے لیے فتوے دیے. یہ سوالات و جوابات مکہ مکرمہ سے جاری ہونے والے رسالے *اُم القریٰ* ماہِ شوال 1344 میں شائع ہوئے.
*سعودی حکومت*
1205 سے 1217 ہجری تک کئی مرتبہ سعودیوں نے حجاز پہ حکومت قائم کرنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکے. آخرکار 1217 ہجری میں طائف پہ قابض ہو گے اور طائف میں موجود مساجد کو منہدم کرنے کے ساتھ ساتھ بہت سے مسلمانوں کا قتلِ عام بھی کیا. 1218 ہجری میں مکہ پہ حملہ آور ہوئے اور زم زم پہ موجود عمارت تک کو بھی گِرا دیا.
*قبرستان حجون, مکہ*
1344ہجری میں بقیع پہ حملہ کرنے سے پہلے آل سعود نے مکہ میں موجود ایک قبرستان حجون پہ حملہ کیا اور وہاں موجود مزارات کو مسمار کیا. اس قبرستان کو *جنت المعلیٰ* بھی کہا جاتا ہےاور بعد از بقیع یہ افضل ترین قبرستان ہے. حضرت محمد (ص) زیارت کے لیے جایا کرتے کیونکہ اس قبرستان میں آپکے اجداد حضرت عبد المناف (ع), دادا حضرت عبد المطلب (ع), *چچا حضرت ابو طالب (ع)* , پسرِ پیغمبرِ اکرم حضرت قاسم (ع) اور زوجہ حضرت خدیجۃ الکبری (س) مدفون ہیں.
*یوم الھدم*
یعنی 8 شوال 1344 ہجری بمطابق 21 اپریل 1925 کو عبدالعزیز بن سعود کی سربراہی میں مدینہ پہ حملہ آور ہوئے اور عثمانی حکومت کے نمائندوں کو مدینہ سے باہر نکال دیا اور دفاع کرنے والوں سے جنگ کی. اسکے بعد روضہ حضرت فاطمۃ الزہرا (س) , امام حسن (ع),امام زین العابدین (ع), امام باقر (ع) اور امام جعفر صادق (ع) منہدم کر دیا💔. بازاروں اور دوکانوں پہ لوٹ مار سمیت بوڑھے, عورتوں اور بچوں کو بے رحمی سے قتل کیا.
*لوٹ مار*
مورخیںن کے مطابق مزاراتِ مقدسہ سے 40 صندوق ہیرے و جواہرات مرصع بہ الماس و یاقوت اتارے. 100 سے زائد قبضہ شمشیر جن کے اوپر الماس و یاقوت جڑے تھے اور وہ خالص سونے سے بنے تھے سب لوٹ لیے.
*آیت اللہ العظمیٰ صافی گلپا ئیگانی*
دنیا تشیع کے معروف عالمِ دین, سینکڑوں کتابوں کے مولف اور امامت ولایت کا دفاع کرنے والے آیت اللہ العظمیٰ صافی گلپائیگانی نے 8 شوال کو یومِ غم منانے کا حکم دیا ہے اور فرمایا "" متبرک روضوں کا انہدام عظیم نقصان اور مصیبت ہے. آلِ سعود و سلفیوں کی اصل فکر اسلام کو نقصان پہنچانا ہے. اس روز انہدام کرنے والوں پر نفرین اور مذمت کرنی چاہیے. ان آثاراتِ مقدسہ کو محفوظ کرنا چاہیے تھا جیسے دوسرے ممالک نے کیا تاکہ بعد میں آنے والے مسلمان اسلام کا قریب سے مشاہدہ کر سکیں""
*قرآن اور مزارات*
سورہ کہف کی آیت 21 میں بیان ہوتا ہےکہ
*"اور انہوں نے کہا ان پر(غار) عمارت تعمیر کرو دوسرے گروہ نے کہا ہم انکی قبروں پہ مسجد بنائیں گے"*
سورہ کہف کی اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ قبروں پہ مساجد و عمارت تعمیر کرنا مستحب ہے اور اللہ نے اس آیت کو بلا تنقید فرمایا ہے. *یاد رہے سورہ کہف ہی وہ سورہ ہے جو بازارِ شام میں سرِ اقدس امام حسین علیہ سلام نے نیزہ پہ تلاوت فرمائی.* اسکے علاوہ تفسیر ابنِ کثیر , تفسیر کبیر, تفسیر مظہری, تفسیر روح البیان , تفسیر ابحر المحیط کے علاوہ بہت سی تفاسیر میں قبروں پہ تعمیر کو بلاتنقید بیان کیا گیاہے. ہائے افسوس کہ جسے رسول (ص) نے اپنا جگر کا ٹکڑا کہا تھا انکا مزار گِرا دیا گیا. جنکے بارے حدیث تھی جس نے فاطمہ س کو تکلیف پہنچی اسنے مجھے تکلیف پہنچائی, انکو بعد از شہادت پہ تکلیف پہنچائی گی.
سَیعلَمُ الّذینَ ظَلَموا أَی مَنقَلَبٍ ینقَلِبونَ