خوف کو شکست دیں | امام خمینیؒ | ولی امرِ مسلمین سید علی خامنہ ای

🎦 خوف کو شکست دیں | امام خمینیؒ | ولی امرِ مسلمین سید علی خامنہ ای

 أَلا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ۔
امام خمینی رضوان اللہ علیہ اور ولی امرِ مسلمین سید علی خامنہ ای حفظہ اللہ دشمنان خدا کے مقابلے میں خوفزدہ ہوجانے اور دشمن کی دھونس دھمکیوں کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد مؤمن جوانوں نے کس ملک کے سفارت خانے اور اُس کی آڑ میں جاسوسی کرنے والوں اور فتنہ فساد پھیلانے والوں کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا؟ امام خمینی رضوان اللہ علیہ نے گرفتار جاسوسوں کی رہائی پر پڑنے والے دباؤ پر کیا فرمایا؟ دشمن کے شور شرابے اور دھونس دھمکیوں سے خوفزدہ ہوجانے کے کیا نتائج ہوتے ہیں؟ خوف کے ایک انسان پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ امام خمینی رضوان اللہ علیہ کی ایک نمایاں خصوصیت کیا تھی؟ ایک موحِّد کی کیا ذمہ داری ہے؟ مومنین کو دشمن سے خوفزدہ کرنے والے افراد درحقیقت کیاہیں؟

امام خمینی رہ نے کربلا اور مھدویت کوحیات نوعطاکیا۔

امام خمینی رہ نے کربلا اور مھدویت کوحیات نوعطاکیا۔

 آیت اللہ غلام عباس رئیسی

قم ایران۔حسینیہ بلتستانیہ میں جامعہ روحانیت بلتستان کے زیر اہتمام برسی امام خمینی سے خطاب کرتے ہوئے حضرت آیت اللہ غلام عباس رئیسی نے کہا کہ امام خمینی کی کامیابی کا راز خداپرتوکل تھا۔ انہوں نے اپنے قول و فعل سے مسلمان ہونے کا ثبوت پیش کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ امام خمینی نے دنیا کو مرجعیت کا مطلب سھمجایا۔ امام نے انقلاب کے ذریعے بتایا کہ مرجع کا فلسفہ وجودی کیاہے۔اور کیاعظمت ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے پاس عزاداری جیسی بے مثال نعمت ہے۔ عزاداری کو 61 ھجری کی کربلا تک محدود نہ کریں بلکہ احیاء کربلا ہماری ذمہ داری ہے ورنہ یزیدیت یہی چاہتے تھے کہ کربلا میں مقصد کربلا دفن ہو۔ کربلا رہتی دنیا تک درس لیتے ہوتے کامیابیون کی طرف بڑھنے کا نام ہے۔ امام خمینی نے دنیا کو سمجھایا کہ جس کے پاس کربلا ہو اسے جنگ سے ڈرایانہیں جاسکتا جس کے پاس رمضان ہو اسے بھوک سے کیا ڈرایانہیں جاسکتا۔
امام خمینی نے قرآن پر ایمان کو عملی جامہ پہنایا اور "ان تنصراللہ ینصرکم" کے وعدہ پر عمل کیا۔
انہوں نے کہا کہ امام خمینی نے نظریہ مھدویت کوحیانودی امام 
ہم فقط منتظر فردا نہ رہے بلکہ جو ہم کرسکتے ہیں اسے انجام دیں۔ امام زمانہ اسلام کو زندہ کرنے آئینگے۔ امام زمانہ کے پلان ابھی آپ کے سامنے ہے اسے احیا کرو ۔ امام خمینی نے یہی کام کیا۔
امام خمینی نے جو مذہب شیعیت میں خوبیاں تھی اس سے بھرپور فایدہ اٹھایا۔مرجعیت، صبر، انتظار۔۔۔
ہمارے پاس فقط نعمتیں ہونا کافی نہیں اسے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ امام خمینی نے نعمتوں سے صحیح استفادہ کیا۔ مثلا
صبر کا مطلب مصائب پر سوار ہوکر منزل تک پہنچنا۔ کربلا نے یہی درس دیا۔
جس وقت امام نے انقلاب لایا اس وقت امریکہ کے حکم کے خلاف پرندہ پر نہیں مار سکتا تھا۔ امام نے روس و امریکہ کے بغیر انقلاب لایا۔ امام خمینی نے ساری بغاوتوں کو نماز جمعہ کے ذریعے ناکام بنایا۔
امام نے نہ صرف شاہ کو ہرایا، بلکہ انہون نے دنیا تک امام زمانہ کا پیغام پہنچایا اور اصولوں سے پیچھے ہٹے بغیر کامیابی حاصل کی۔
ہمیں مکتب امام ِخمینی سے کربلا،مھدویت اور مرجعیت کی حفاظت کادرس ملتاہے

قیام امام حسین علیہ السلام کے اہداف امام خمینی رح کی نظر میں

u

 

قیام امام حسین علیہ السلام کے اہداف امام خمینی رح کی نظر میں

تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

مقدمہ:
کربلا وہ عظیم درسگاہ ہے جہاں ہر انسان کے لئے جو جس مکتب فکر سے بھی تعلق رکھتا ہو اور جس نوعیت کی ہو درس ملتا ہے  یہاں تک غیر مسلم ہندو ،زرتشتی،مسیحی بھی کربلا ہی سے درس لے کر اپنے اہداف کو پہنچے ہیں ،گاندی اپنے انقلاب کو حسین ابن علی علیہ السلام کی مرہون منت سمجھتا ہے یہ سب اس لئے کہ حسین ابن علی علیہ السلام  نے کربلا کے ریگستان میں حق اور حقانیت کو مقام محمود تک پہنچایا اور قیامت تک ظلم اور ظالم کو رسوا کر دیا اگرچہ مادی اور ظاہری آنکھوں  کے سامنے حسین ابن علی علیہ السلام  کو کربلا میں شکست ہوئی لیکن حقیقت میں اور آنکھوں کے سامنے سے پردہ ہٹ جانے والوں کی نظر میں حسین ابن علی علیہ السلام  کامیاب و سرفراز رہے یہی وجہ تھی کہ حر نے اپنے آنکھوں  سے فتح و شکست کو دیکھ لیا اور جب ان کی آنکھوں کے سامنے سے پردہ ہٹایا  گیا تو یہ کہتے ہوئے فوج یزید سے نکل گئے:
میں حر ہوں لشکر ایمان میں پہچان ہے میری
میرا  ہونا   غلام  حضرت  شبیر ہونا  ہے
ِ۶۱ہجری کی ابتدا ہی میں نواسہ رسول ؐ کربلا میں پہنچ کر خیمہ زن ہو گئے تھے ۔نہ صرف نواسہ رسولؐ بلکہ رسول خدا کے اہل بیت ؑ اور دیگر رشتہ دار بھی کربلا کے میدان میں پہنچ کر مستقبل قریب کے منتظر تھے ۔زمین کربلا مضطرب دکھائی دے رہا تھا جبکہ نواسہ رسول صلی اللہ علیہ آلہ وسلم و با وفادار اصحاب  راز و نیاز اور دعا و مناجات میں مصروف نظر آرہے تھے ۔آل محمد کا یہ قافلہ نئے سال کے شروع میں ہی ایک تبتی ہوئی ریگستان میں پہنچ چکے تھے اور نواسہ رسولؐ اپنے ساتھیوں کو شہادت کی خوشخبریاں سنا رہے تھے ۔ یہ  وہی حسین علیہ السلام تھا جس کی شان میں رسولؐ خدا نے فرمایا تھا :{حُسَيْنٌ مِنّى وَ أَنـَا مِنْ الحُسَيْن، أَحَبَّ اللّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْناً}۱۔حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔ یہ رسول اللہ ؐ کا وہی نور نظر تھا کہ جب آنحضرت رب کے حضور سر بسجود ہو ئے تو آپ رسول خدا کے پیٹ پر سوار ہوئے اور رسول اللہ حکم خدا کے منتظر رہے اور رب کی طرف سے حکم ہوا کہ جب تک یہ معصوم بچہ خود سے نہ اترے آپ سجدے کی حالت میں ہی رہیں ۔
آج یہی عظیم ہستی ،اللہ کا یہی محبوب بندہ حج کو عمرے میں تبدیل کر کے کربلا پہنچ چکا تھا تاکہ اموی استبداد اور ظالم و جابر حکمران کےہاتھوں جان بلب اسلام کو ایک دفعہ پھر نئی زندگی عطا کرے اور اسلامی معاشرے کو اپنی خطوط پر استوار کرے جن خطوط پر رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے استوار فرمایاتھا ۔ اسلامی تہذیب سے رخ پھیر کر جاہلیت کی طرف پلٹنے والی قوم کو پھر سے قرآن و سنت کے سائے میں بندگی کا درس اور تربیت دے کر پھر سے ایک مہذب قوم میں بدل سکیں ۔نواسہ رسول علیہ السلام پہلے سے مطلع تھے کہ اگر حج کو عمرے میں تبدیل نہ کریں تو شام کے درندہ صفت انسان جو حاجیوں کی روپ میں تھے حسین ابن علی ؑکو خانہ خدا میں ہی شہید کر دیتے۔ نواسہ رسول نے مناسب نہ سمجھا کہ حرم پاک کی حرمت پامال ہو جائے اس لئے آپ عمرہ کر کے بیت اللہ کی حرمت کو محفوظ رکھتے ہوئے کربلا پہنچ گئے  ۔جس اسلام کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جان کی ہتھیلی میں رکھ کر بڑی کوششوں اور ہزار زحمتوں ، اذیتوں کو برداشت کر کے پالاتھا آج وہی اسلام سرے سے مٹ رہاتھا اور مسلمانوں کے قلب ونظر میں اس کی جڑیں اس حد تک کمزور ہو چکی تھی کہ جب تک خون سے انہیں سیراب نہ کیا جاتا اسلام کازندہ رہنا محال نظر آرہا تھا۔اس پس منظر میں نواسہ رسول ؐ نے یہ اعلان کرتے ہوئے قیام فرمایا :{إِنّى لَمْ أَخْرُجْ أَشِرًا وَلا بَطَرًا وَلا مُفْسِدًا وَلا ظالِمًا وَإِنَّما خَرَجْتُ لِطَلَبِ الاْصْلاحِ فى أُمَّةِ جَدّى، أُريدُ أَنْ آمُرَ بِالْمَعْرُوفِ وَأَنْهى عَنِ الْمُنْكَرِ وَأَسيرَ بِسيرَةِجَدّى وَأَبى عَلِىِّ بْنِ أَبي طالِب}۲۔میرا مقصد دنیاوی حکومت یا مال و زر کا حصول نہیں بلکہ اپنے نانا محمد مصطفیؐ اور بابا علی مرتضیٰ ؑ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے امت محمدی کی اصلاح کرنا  ہے۔ مفسدوں ،ظالموں اور جابروں کے تباہ کاریوں سے دین اور مسلمانوں کو نجات دلانا ہے اور خون کے پیاسے درندہ صفت انسانوں کے مقابلے میں اسلام کی آبیاری کرنا ہے ۔
دین محمد ؐ کا سورج جواپنی روشنی کھو چکا تھا ایک دفعہ پھر بڑی آب وتاب سے طلوع ہوا اور اپنی کرنوں کے ذریعے دنیا والوں کو بتلا دیا کہ کربلامیں نواسہ رسولؐ نے ہمیشہ کے لئے اسلام کا علم بلند کیا ہے۔قیامت تک نواسہ رسولؐ کی یاد دنیا والوں کو  یہ درس دیتا رہے گا کہ کسی ظالم ،فاسق و فاجر کی بیعت کی ذلت قبول کرنے سے عزت کی موت بہتر ہے ۔ "الموت أولى من رکوب العار والعار أولى من دخول النار"۔۳۔
امام خمینی  رہ اپنے آباؤ اجداد کے اخلاق حسنہ کے وارث تھے جنہوں نے نسل درنسل لوگوں کی ہدایت ورہنمائی اورمعارف الہی کے حصول کے لئے خود کو وقف کررکھا تھا۔حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے کلام میں حیرت انگیز تاثیر اور مخاطبین پر آپ کی باتوں کے گہرے اثر کا راز صحیح فکر، مضبوط نظریئے اور عوام کے ساتھ صداقت میں تلاش کرناچاہئے۔آپ کے دروس خارج کو کیفیت و کمیت کے اعتبار سے نجف اشرف میں دئے جانے والے دیگر دروس خارج میں اعلی ترین دروس میں شمار کیا جاتا تھا ۔ آپ نے جلا وطنی کے عرصہ میں بھی تمام مصائب و مشکلات کے باوجود کبھی بھی اپنی جد وجہد سے ہاتھ نہیں کھینچا اور اپنی تقریروں اور پیغامات کے ذریعہ لوگوں کے دلوں میں کامیابی و فتح کی امید زندہ رکھی ۔ چار جون 1989 کو آپ اپنے کو اس عزيز ہستی کے وصال کے لئے آمادہ کررہے تھے کہ جس کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کے لئے آپ نے اپنی پوری عمر مبارک صرف کردی تھی اور ان کا قامت رعنا سوائے اس عظیم ہستی کے حضور کسی بھی طاقت کے سامنے خم نہیں ہوا اور ان کی آنکھوں نے اس محبوب ذات کے سوا کسی اور کے لئے اشک ریزي نہیں کی۔آپ نے خود اپنے وصیت نامے میں رقم فرمایا ہے : خدا کے فضل و کرم سے پرسکون دل، مطمئن قلب ، شاد روح اور پر امید ضمیر کے ساتھ بہنوں اور بھائیوں کی خدمت سے رخصت ہوتا ہوں اور ابدی منزل کی جانب کوچ کرتا ہوں۔ آپ لوگوں کی مسلسل دعاؤں کا محتاج ہوں اور خدائے رحمن و رحیم سے دعا کرتاہوں کہ اگر خدمت کرنے میں کوئی کمی یا کوتاہی رہ گئی ہو تو مجھے معاف کردے اور قوم سے بھی یہی امید کرتا ہوں کہ وہ اس سلسلے میں کوتاہی اور کمی کو معاف کرے گي اور پوری قوت، اور عزم و ارادے کے ساتھ آگے کی سمت قدم بڑھائے گی ۔امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت بھی ان کی حیات مبارک کی مانند ایک اور بیداری و تحریک کا سرچشمہ ثابت ہوئی اور ان کی یاد، تعلیمات و افکار اور ان کا مشن زندہ جاوید بن گیا کیونکہ وہ ایک حقیقت تھے اور حقیقت ابدی و لافانی ہوتی ہے ۔
امام خمینی مکتب حسینی کے شیدائی تھے۔  آپ  اتحاد امت کے داعی اور مجاہد مبارز عالم دین تھے آپ نے جو راستہ اختیار کیا وہ عالم اسلام اور مسلمانوں کی عزت، سربلندی اور افتخار کا راستہ ہے۔ آپ کی باتیں ،آپ کی تحریریں ، آپ  کی تقریریں اور آپ کی روشن فکر آہنی عزم،ثابت قدمی،شجاعت، غیرت، قوت فیصلہ غرض  ہر ہر پہلو میں امام حسین علیہ السلام کے کردار اور عزم صمیم کا عکس نظر آتا ہے۔ امام خمینیؒ خود فرماتے ہیں ہم جو کچھ بھی ہیں اور ہماری کامیابیاں یہ سب حضرت امام حسین علیہ السلام اور کربلا کے واقعہ کا عکس و درس ہے۔
اس مقالہ کا موضوع  "قیام امام حسین علیہ السلام  کے اہداف امام خمینی رہ کی نگاہ  میں " ہے   ۔امام خمینی رہ کے گفتگو  میں  قیام عاشورا  کےجو  اہداف بیان ہوئے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہے:
۱۔ دین اسلام کو تحریف ہونے سے بچانا
۲۔ اسلامی  معاشرےکی اصلاح
۳۔ ظلم کے خلاف قیام اور عدل و انصاف کی فراہمی‏
۴۔امر بالمعروف و نہی از منکر
۵۔اسلامی حکومت کا قیام
۶۔اسلام کی نشر و اشاعت اور اس کی حفاظت
۷۔ الہی ذمہ داری پر عمل کرنا۔
واضح رہے کہ یہ اہداف  ایک دوسرے کے مقابل میں نہیں    بلکہ ان اہداف میں سے بعض ہدف کو دوسرے اہداف  کے ساتھ جمع کر سکتا ہے۔  امام خمینی رح  کے کلمات میں ان میں سے ہر ایک ہدف کی تاکید ہوئی ہے۔  علاوہ بر ایں ان میں سے ہر ایک ایک الہی قیام کے لئے مستقل ہدف بن سکتا ہے۔  اس لئے ان تمام موضوعات کے بارے میں بحث کرنے کی کوشش کریں گے۔۴۔
‏‏۱۔ دین  اسلام کو تحریف ہونے سے بچانا:
کسی مکتب فکر کی تحریف اس مکتب  فکر کے لئے   سب سے بڑا  خطرہ ہے  ۔کسی بھی مکتب اور مذہب میں بدترین تحریف یہ ہے کہ اس مکتب کے رہبران اور سیاستدان   اس مکتب  اور مذہب کے قوانین اوردستورات کے برخلاف عمل کریں  لیکن دوسرے افراد کے سامنےاپنے گفتار و کردار کو اس مکتب کے قوانین ، دستورات اور تعلیمات کے عین مطابق  سمجھنے لگے۔ ‏امام حسین علیہ السلام کے  زمانے میں بھی اموی مشینری کی طرف سے  اسلام کے لئے اس قسم کا   خطرہ موجود تھا  اگر اس دور میں امام حسین علیہ السلام قیام نہ کرتے تو  اسلام کا صرف نام باقی رہ جاتا۔ 
امام خمینی رح اس سلسلے میں فرماتے ہیں : ظالم و جابر  یزیدی حکومت کا ارادہ  تھا کہ  سرخ قلم سے اسلام کے نورانی چہرے پر لکیر کھینچے اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  اورصدر اسلام کے مسلمانوں کی زحمتوں اور شہداء کے پاکیزہ  خون کو  کو رایئگان  اورضائع کرے۔
ایک اورمقام پر امام خمینی رح فرماتے ہیں :بنی امیہ نے اسلام کو ایک طاغوتی نظام کے طور پر پیش کیا یہاں تک کہ   بانی اسلام کے چہرے کو بھی حقیقت کے بر عکس  پیش کیا۔معاویہ اوراس کے ظالم بیٹے    یزیدنے  خلیفہ رسول خدا کے عنوان سے اسلام کے ساتھ اس طرح سے سلوک کیا جس طرح چنگیز خان نے ایران کے ساتھ سلوک کیا اور اس دین کو جس کی بنیاد وحی پر تھی ایک شیطانی رژیم میں تبدیل کیا۔
ایک اور جگہ امام خمینی رح فرماتے ہیں: سید الشہداء امام حسین علیہ السلام  جانتے تھے  کہ معاویہ اور اس کا بیٹا اس عظیم مکتب کو تباہ کر ر ہے ہیں   اوراسلام کے اصلی اورحقیقی چہرے کو مسخ کر کے پیش کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہاں جماعتیں تھیں  تو بھی لہو و لعب کی مجالسیں برپا ہوتی تھیں۔ خدا خواہی کا نعرہ لگاتے تھے لیکن خدا و الوہیت کے  خلاف  قیام  کرتےتھے۔ ان کے اعمال اوران کا رویہ شیطانی تھا لیکن  ان کی فریاد خلیفہ رسول خدا کاتھا۔
 
 
‏‏
معاویہ اور یزید کی طرف سے اسلام کو جو خطرہ تھا وہ یہ نہیں تھا کہ خلافت کو غضب کیا گیابلکہ یہ بہت کم خطرہ تھا  لیکن ان کی طرف سے اسلام کو  جوشدید خطرہ تھا وہ  یہ تھا کہ یہ لوگ اسلام کو ایک سلطنت اور شاہی نظام میں تبدیل کرنا چاہتےتھے۔ اسلام کی معنویت کو ایک طاغوت میں تبدیل کرنا چاہتے تھے اوریہ اسلام کے لیے سب سے بڑا خطرہ تھا اور اس خطرے کو امام حسین علیہ اسلام نے دفع کیا اوراگر وہ اس چیز میں کامیاب ہوتے تو  اسلام کا ایک اورنقشہ ہوتا  اوراسلام   بھی دو ہزار پانچ سو سالہ شاہی رژیم و سلطنت  کی طرح ہوجاتا۔۵۔اسی طرح  ایک اورمقام پر فرماتے ہیں :سید الشہداء علیہ السلام نے جب دیکھا کہ اموی خاندان  اسلامی خلافت کے نام پرمکتب اسلام کو آلودہ کر رہے ہیں  اورہر قسم  کے ظلم و ستم کر رہے ہیں  جبکہ دوسرے افراد کا  تاثر  یہ ہے  کہ  یہ خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم   ہیں  اس لئےیہ کام انجام دے رہے ہیں۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنا وظیفہ سمجھا کہ  یزید کے خلاف قیام کریں اوراس راہ میں شہید ہوجائے تا کہ معاویہ اوراس کے بیٹے       یزید کے آثار کو ہمیشہ کے لئے  دفن کر دے۔ 
‏امام خمینی رح فرماتے ہیں:معاویہ اوراس کے بیٹے    یزید کے دور حکومت میں مسئلہ یہ تھا کہ  یہ لوگ اسلام کے حقیقی چہرے کو مسخ کر رہے تھے اور خلیفہ المسلمین  اور خلیفہ رسول اللہ کے عنوان سے ہر قسم کی جنایات انجام دیتے تھے اس لئے بزرگان اسلام  کی ذمہ داری  بنتی تھیں کہ  وہ ان کا مقابلہ کرتے ہوئے قیام کرے، دنیا کو ان کی خباثت برملا کرے اور اسلام کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے پیش کرے کیونکہ بہت سے لا علم اورغافل افراد اسی کو ہی اسلامی خلافت سمجھتے تھے ۔۶
امام  خمینی  رح کے ان کلمات میں آپ تحریف کے مسئلہ  پر بہت زیادہ تاکید کرتے ہوئے اسے بہت ہی  زیادہ خطرناک قرار دیتے ہیں  اور اس سے مقابلہ کرنے کو قیام امام حسین علیہ السلام کے اہداف میں سے قرار دیتے ہیں۔‏اس تحریف کا خطرہ یہ تھا کہ اسلام کے لبادے میں  اسلامی تعلیمات کو  جان بوجھ  کر لگد مال کئے جاتے تھے اور یہ کام  بھی ان افراد کے ہاتھوں جو اپنے آپ کو خلیفہ المسلمین  کہلاتے تھے۔ بہت ہی کم عرصے میں اسلام سرے سے  صفحہ ہستی سے مٹ رہا تھا جبکہ نادان افراد ان کے  اعمال و کردار کو  اسلامی تعلیمات کے عین مطابق سمجھتے تھے۔ امام حسین علیہ السلام کو جب مروان نے کہا کہ مدینہ کے گورنر کے پیشنہاد پر عمل کرتے ہوئے یزید کی بیعت کرے تو آپ نے کلمہ استرجاع کی تلاوت کی اورفرمایا: «‏‏و علی الاسلام، السلام، اذ قد بلیت الامة براع مثل یزید‏‏»۷۔‎
۲۔ اسلامی معاشرے کی اصلاح
امام حسین علیہ السلام  کےقیام کے اہداف میں سے ایک   اسلامی معاشرے کی اصلاح  تھی ۔اور یہی تمام انبیاء و اولیا ءکرام کا ہدف تھا۔امام خمینی رح اس سلسلے میں فرماتے ہیں :تمام انبیاء کی بعثت کا مقصد اسلامی معاشرے کی اصلاح تھی ان سب کا مسئلہ یہی تھا کہ فرد معاشرے پر قربان ہو جائے اور یہ فرد  جس قدر عظیم  اور بڑا ہی کیوں نہ ہو جب معاشرے کی مصلحت کے ساتھ اس کا ٹکراو ہو تو اسے معاشرے پر اپنے آپ کو فدا کرنا چاہیے۔
ایک اور مقام پر امام خمینی رح فرماتے ہیں:سید الشہداء امام حسین علیہ السلام نے اسی معیار کے مطابق اپنے آپ کو اور اپنے اصحاب  و انصار کو  اسلامی معاشرے کی اصلاح کی خاطر قربان کیا ۔ "و لقد ارسلنا رسلنا بالبینات و انزلنا معهم الکتاب و المیزان، لیقوم الناس بالقسط"۸
 اسی طرح آپ فرماتے ہیں :امام حسین علیہ السلام کے اوپر یہ ذمہ داری تھی کہ آپ  قیام کرے اوراپنے پاکیزہ خون کو اسلام پر قربان کرے تاکہ ملت کی اصلاح ہو اورآپ نے ایسا ہی کر دیا۔۹۔
‏‏امام خمینی رح فرماتے ہیں:امام  حسین علیہ السلام نے اپنے بھائی محمد بن حنفیہ کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا: انی لم اخرج اشراولا بطراولامفسداولاظالماانماخرجت لطب الاصلاح فی امتی جدی و اسیر بسیرت جدیوابی علی بن ابی طالبؑ۔۱۰۔اسی طرح امام حسین علیہ السلام نے علماءدین کو مخاطب قرار دیتے ہوئے جو عالمانہ خطبہ ارشاد فرمایا   اس میں بھی بنی امیہ کے خلاف اپنی قیا م کو معارف دینی کی ترویج ، اسلامی معاشرے کی اصلاح ، مظلوم افراد کی  فریاد رسی  ،قرآنی تعلیمات اوردستورات اسلامی کا اجرا قرار دیا۔۱۱ ‏
۳۔ظلم کے خلاف قیام اور عدل و انصاف کی فراہمی‏
 امام حسین علیہ السلام  کے قیام کے اہداف  میں سے ایک ہدف بنی امیہ کی طرف سے ہونی والی ظلم  و ستم اور ناانصافی تھی  ۔ امام خمینی رح اس بارے میں فرماتے ہیں :امام حسین علیہ السلام اور امام زمان  عج اسی طرح تمام انبیاء کی زندگی کا مقصد یہی ہے کہ ظالم و جابر حکومت کے مقابلہ میں ایک الہی حکومت تشکیل دے۔
اسی طرح فرماتے ہیں :امام حسین علیہ السلام کے قیام کا مقصد شروع سے ہی  عدل کا نفاذتھا  اوراپنی پوری زندگی  ظالم و جابر حکومت کے خاتمہ میں صرف کی۔
ایک اورمقام پرآپ فرماتے ہیں :امام حسین علیہ السلام کے پاس جو کچھ بھی تھا وہ سب خدا کی راہ میں قربان کر دیا اوراسلام کی تقویت کی خاطر ظلم کے خلاف قیام فرمایا۔
‏ امام خمینی رح  ایک اورجگہ فرماتے ہیں:سید الشہداء  امام حسین علیہ السلام نے جب دیکھا کہ ایک ظالم و جابر جب ایک رعایا پر حکومت کر رہا ہے  تو آپ نے  فرمایا: اگر کوئی ظالم و جابر لوگوں پر حکومت کرے اوران پر ظلم و ستم روا رکھے تو لوگوں کو چاہئے کہ اس کا مقابلہ کرے اور اس کے خلاف قیام کرے۔۔۔۔۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: جو کوئی خاموش تماشائی بن کر بیٹھے اور اسے تبدیل کرنے کی کوشش نہ کرے تو اس کا مقام بھی یزید جیسے جابر و ظالم کا مقام ہے۔ ۱۲۔
‎‏ امام خمینی رح فرماتے ہیں :ایک اور مقام پر امام حسین علیہ السلام خطبہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں: میں موت کو سعادت جبکہ ظالمین کے ساتھ زندگی کرنے کو ننگ و عار  سمجھتا ہوں۔ «انی لا اری الموت الا السعادة و الحیاة مع الظالمین الا برما».‏‎۱۳
امام علی علیہ السلام علماء ربانی کے وظائف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ظالموں کے ظلم اور مظلومین کی آواز پر خاموش نہیں رہنا چاہئے۔۱۴
اسی طرح امام علی علیہ السلام کے اس عہد نامہ میں جسے آپ نے مالک اشتر کے نام لکھا اس میں اس بات کی تاکید کرتے ہوئے فرماتے ہیں  کہ انسانی معاشرے میں عدل کا قیام حکمرانوں کے لئے بہترین تخفہ ہے۔۱۵
‏‏۴۔امر بالمعروف و نہی از منکر
 اسلامی معاشرے میں منکرات  اوربرائیوں  کا اصلی سبب اموی حکومت تھا اس   کے خلاف اور اس سے مقابلہ کرنے کے لئے امام حسین علیہ السلام  نے قیام فرمایا ۔اما م خمینی  رح اس بارے میں فرماتے ہیں :حضرت ابا عبد اللہ  الحسین علیہ السلام نےقلیل افراد کے ساتھ یزیدی حکومت کے خلاف جو قیام کیا  اس بارے میں آپ خود فرماتے ہیں  کہ میرا فریضہ ہے کہ میں اس حکومت کے خلاف قیام کروں اور نہی از منکر کروں۔
ایک اورمقام پر امام خمینی  رہ فرماتے ہیں :امام حسین علیہ السلام کے قیام کا مقصد معروف کو معاشرے میں رائج کرنا اور منکرات کا خاتمہ کرنا تھا ۔توحید کے علاوہ باقی سب چیزیں منکرات ہیں  اور یہ سب انحرافات اسی منکرات کی وجہ سے ہے۔ آپ کے قیام کا مقصد نہی از منکر تھا تاکہ کسی بھی معاشرے میں کوئی برائی اورمنکر موجود نہ رہے۔
سید الشھداء امام حسین علیہ السلام نے اپنی ساری زندگی منکرات کو ختم کرنے اور  ظالم حکومت  کی وجہ سے پیدا ہونے والےمفاسد کے خاتمے کےلیے صرف کیا۔۱۳۔آپ نے‏ محمد بن حنفیہ کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا: {ارید ان آمر بالمعروف و نهی عن‌المنکر} میں امر بالمعروف و نہی از منکر کرنا چاہتا ہوں۱۶۔آپ علماء دینی کو مخاطب قراردیتے ہوئے اپنے مشہور خطبہ میں  امر بالمعروف و نہی از منکر اوراس الہی فریضہ کو درج ذیل چیزوں کے ساتھ ضروری قرار دیتےہیں۔
۱۔لوگوں کواسلام کی دعوت
۲۔رد مظالم
۳۔ظالم کی مخالفت اوراس کے خلاف قیام
۴۔لوگوں کے درمیان  بیت المال  کی عادلانہ   تقسیم
۵۔زکوۃ کی جمع آوری اور اسے صحیح مصرف میں خرچ کرنا۔
آپ فرماتے ہیں:"ان الامر بالمعروف و النهی عن‌المنکر دعاء الی الاسلام مع ردالمظالم و مخالفة‌الظالم و قسمة الفی و الغنائم و اخذ الصدقات من مواضعها و وضعها فی حقها"۱۷۔
ایک اورجگہ پر امام حسین علیہ السلام نے فلسفہ قیام کوحق پرعمل نہ کرنے اور باطل سے اجتناب نہ کرنے کو قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں :" الا ترون ان الحق لایعمل به و ان الباطل لایتناهی عنه"۱۸۔کیا تم لوگ نہیں دیکھتے کہ حق پر عمل نہیں ہورہا اورباطل سے اجتناب نہیں کیا جا رہا ۔
امر بالمعروف نہی عن المنکر کے بارے میں قرآن مجید میں زیاد ہ تاکید ہوئی ہے جیسا کہ :
(۱) ارشاد رب العزت ہے : {ولتکن منکم امۃیدعون الی الخیرویامرون بالمعروف وینھون عن المنکر اولئک ھم المفلحون}۱۹۔ اور تم میں سے ایک گروہ کو ایسا ہونا چاہئے جو خیر کی دعوت دے،نیکیوں کا حکم دے،برائیوں سے منع کرے اور یہی لوگ نجات یافتہ ہیں۔
(۲) ایک اور مقام پر اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :{ کنتم خیر امۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکر و تؤمنون باللہ}۲۰۔ تم بہترین امت ہو جسے لوگوں کے لئے منظر عام پر لایا گیا ہے تم لوگون کو نیکیوں کا حکم دیتے ہو اور برائیوں سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ۔
(۳)اسی طرح  فرماتا ہے :{ یؤمنون باللہ ویوم الآخرویامرون بالمعروف وینھون عن المنکرویسارعون فی الخیرات واولئک من الصالحین}۲۱۔یہ اللہ اورآخرت پر ایمان رکھتے ہیں،نیکیوں کا حکم دیتے ہیں برائیوں سے روکتے ہیں اور نیکیوں کی طرف سبقت کرتے ہیں اور یہی لوگ صالحین اور نیک کرداروں میں ہیں۔
(۴) سورہ توبہ میں  ارشادفرماتا ہے :{ التائبون الحامدون السئحون الراکعونالامروبالمعروف والناھون عن المنکر والحٰفظون لحدوداللہ وبشرالمؤمنین}۲۲۔یہ لوگ توبہ کرنے والے،عبادت کرنے والے،حمد پروردگار کرنے والے،راہ خدا مین سفر کرنے والے،رکوع کرنے والے،سجدہ کرنے والے،نیکیوں کا حکم دینے والے،برائیوں سے روکنے والے اور حدود الہیہ کی حفاظت کرنے والے ہیں اور اے پیغمبر آپ انہیں جنت کی بشارت دیدیں۔
(۵)ایک اور مقام پر  ارشاد  ہوتاہے :{فلو لاکان من القرون من قبلکم اولوبقیۃ ینھون عن الفسادفی الارض الاقلیلاممن انجینامنھم}۲۳۔تو تمہارے پہلے والے زمانون اور نسلوں مین ایسے صاحبان عقل کیوں نہیں پیدا ہوئے ہیں جو لوگوں کو زمین میں فساد پھیلانے سے روکتے علاوہ ان چند افراد کے جنہیں ہم نے نجات دیدی۔
(۶)اسی طرح  ارشاد  رب العزت ہوتاہے :{ کانوا لا یتناہون عن منکرفعلوہ لبئس ماکانویفعلون}۲۴۔انہوں نے جو برائی بھی کی ہے اس سے باز نہیں آتے تھے اور بدترین کام کیا کرتے تھے۔
سیدا لشہدؑ ا خو د کو تمام احکام اسلامی خصوصامنکرات اور فحشاء کے مقابلہ میں ذمہ دار سمجھتے تھے جبکہ اسلامی معاشرہ فسق و فجور اور فساد سے بھر چکا تھاخاص کر یزید کے برسراقتدار آنے کے بعد ایک ہادی، مصلح اور منادی کی قیام کی ضرورت دو چند ان ہو گئی تھی لہذا آپ نے اس فریضہ کے انجام دہی کے لئے قیام فرمایا ۔
۵۔حکومت اسلامی کا قیام
امام حسین علیہ السلام کے قیام کے  اہداف میں سے ایک حکومت اسلامی کا قیام تھا یا نہیں۔ اس حوالے سے دو نظریات دیکھنے کو ملتے ہیں ۔بعض افراد کا عقیدہ ہے کہ آپ کے قیام کے اہداف میں سے ایک حکومت اسلامی کوتشکیل دینا تھا ۔بعض افراد  کے عقیدہ کے مطابق  امام حسین علیہ السلام کے قیام کے اہداف میں یہ ہدف نہیں ہو سکتی کیونکہ تاریخی شواہد اوربہت ساری روایات کے مطابق امام حسین علیہ  السلام اپنی اوراپنے اعوان و انصار کی شہادت کے بارے میں پہلے سے ہی مطلع  و آگاہ تھے۔ لہذا تشکیل حکومت آپ کے اہداف میں سے نہیں ہو سکتا۔
‏ ‏امام خمینی  رح کے کلمات میں یہ دونوں باتیں جمع نظر آتی ہیں۔ یعنی آپ اپنی اوراپنے اصحاب کی شہادت سے آگاہ تھے اور ساتھ ساتھ آپ کے قیام کے اہداف میں سے ایک حکومت اسلامی کی تشکیل اورظالم و جابر حکومت کا خاتمہ تھا۔امام خمینی رح فرماتے ہیں : امام حسین علیہ السلام  نے اپنا شرعی وظیفہ سمجھا کہ اس ظالم  حکومت کے خلاف قیام کرے یہاں تک  کہ اسی راہ میں شہید ہو جائے۔   آپ  نے  بھی  سب کچھ اسی راہ میں  قربان کیا تاکہ یہ حکومت ہمیشہ کے لئے ذلیل اوررسوا ہو۔  
امام خمینی رح فرماتے ہیں :امام حسین علیہ السلام  نے جب دیکھا کہ ایک جابر حکومت اسلامی معاشرے پر قابض ہے تو آپ نے اس شرائط میں اپنی شرعی ذمہ داری کو تشخیص دیتے ہوئے قیام فرمایا درحالیکہ آپ جانتے تھے کہ  ایک قلیل گروہ اس ظالم حکومت  کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔۲۵۔
‏‏بنابریں مندرجہ بالا  عبارات میں تین نکات کی طرف اشارہ ہوا ہے۔
۱۔ متعدد روایات کے مطابق معلوم ہوتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام  اپنی شہادت سے آگاہ تھے۔
۲۔ ظاہری محاسبات سے بھی یہی معلوم ہوتا تھا کہ امام اورآپ کے انصار و اعوان اموی حکومت کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔
۳۔ اسلامی معاشرے میں انحرفات اور برائیاں اس قدر پھیل چکی تھی کہ اس کی اصلاح کے لئے ایثار و فدا کاری اورشہادت کی ضرورت تھی۔
امام خمینی رح اسلامی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے فرماتے ہیں:اگر کوئی امام حسین علیہ السلام کے ان خطبات کا مطالعہ کریں جسے آپ نے مدینہ سے نکلتے وقت اور مکہ سے نکلتے وقت بیان فرمائے تھے، معلوم ہوتا ہے کہ آپ حکومت ا سلامی کی تشکیل چاہتے تھے اور جن کا عقیدہ یہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام  نےحکومت  کی  خاطر قیام نہیں فرمایا یہ صحیح نہیں ہے  بلکہ آپ نے حکومت  اسلامی کی خاطر قیام  فرمایا تھا  ۔ حکومت اسلامی اما م حسین علیہ السلام جیسی شخصیت کے ہاتھوں میں ہونا چائیے۔۔۔۔۔۔۔۲۶۔
لیکن یہ سوال کہ امام حسین علیہ السلام کو اگر اپنی شہادت کا علم تھا  یا آپ جانتے تھے کہ ظاہری طور پر آپ کو شکست ہوگی اور آپ اسلامی حکومت تشکیل نہیں دےپائیں گے  یعنی  اس مقصد کے عدم حصول  کوبھی جانتے تھے  ۔۔۔  بنابریں اسلامی حکومت کی تشکیل  ایک انسان عاقل  کا   مطلوب و ہدف نہیں ہو سکتا؟
‏امام خمینی رح  کے کلمات میں غور و فکر کرنے سے  اس سوال کا جواب مل جاتا ہے کہ یہ اشکال اس وقت صحیح ہے جب امام کا مقصد اپنے زمانے میں اسلامی حکومت کی تشکیل ہو لیکن اگر امام حسین علیہ السلام کا مقصد یہ ہو کہ مسلمان اس بات کو جان لین کہ اسلامی حکومت کی بھاگ دوڑ ایک صالح انسان اور ایک معصوم ہستی یا اس کے نمائندہ  کے ہاتھ میں ہونا چاہئے جیسے مسلم بن عقیل وغیرہ   اس  وقت یہ مسئلہ پیش نہیں آتا  اور جو کچھ امام  خمینی رح کے کلمات سے سمجھ میں  آتا ہے وہ یہی ہے جیسا کہ فرمایا: یہ لوگ حکومت کی خاطر قیام کر چکے تھے اس کے بعد فرماتے ہیں : حکومت اسلامی کو حسین ابن علی علیہ السلام  جیسی ہستی اوران کے پیروکاروں کے ہاتھو  ں ہونا چاہئے۔
‎‏‏‏۶۔ اسلام کی نشر و اشاعت اور اس کی حفاظت
عظیم انسانوں کے ارمان اوراہداف بھی عالی ہوا کرتی ہے ۔امام حسین علیہ السلام کی شخصیت صرف اس زمانے کے  انسانوں کےساتھ مختص نہیں تھی بلکہ آپ کی شخصیت پوری انسانیت اورقیامت تک آنے والی نسلوں کے ساتھ مختص ہے۔آپ  پوری انسانیت کی فلاح ، بھلائی  اورخیر خواہی چا ہتے تھے  ۔ اور یہ سب دین مقدس اسلام کے مرہون منت ہی محقق ہو سکتی ہے۔
‏ امام خمینی رح فرماتے ہیں: اسی لئے امام حسین علیہ السلام کے قیام کے اہداف میں سے ایک سبب اسلامی معارف کی نشر  اوراسلام کی حفاظت تھی۔ امام حسین علیہ السلام ،اسلام اورمسلمانوں کے مستقبل کے بارے میں فکر مند تھے۔آپ چاہتے تھے کہ اسلام آپ کی فدا کاری اورایثار و شہادت کی بدولت دنیا کے تمام انسانوں کے درمیان  پھیل جائے اور اسلامی سیاسی و اجتماعی نظام ہمارے معاشرے میں  رائج ہو اس لئے آپ نے بنی امیہ کی مخالفت کی اورقیام فرمایا۲۷ ۔
‏‏ایک اورمقام پر امام خمینی رح فرماتے ہیں :سید الشہدا  علیہ السلام  صرف  ثواب  کی حصول کے لئے اپنی جان کوقربان نہیں کیا بلکہ اس مقدس مکتب اور دین کو نجات دلانے  کی خاطراوراسے ایک دفعہ پھر زندہ کرنے کی خاطر اپنی جان کو اسلام پر قربان کیا۔۲۸۔
امام خمینی رح ایک اورمقام پر فرماتے ہیں: امام حسین علیہ اسلام نے اسلام کو  اپنے اعمال کے ذریعےہمیشہ کے لئے حفظ  کیا۔جو اسلام  آج ہم تک پہنچا ہے وہ سید الشہدا علیہ السلام کی قربانی اوربچانے کی وجہ سے ہے۔آپ نے ان پاک جوانوں اورباوفا اصحاب کے ساتھ دشمنوں کا مقابلہ کیا اور اپنی جانیں اسلام پر نچھا ور کر دی اوراسلام کو ہمیشہ کے لئے زندہ کیا۔
اسی طرح آپ فرماتے ہیں :امام حسین علیہ السلام کی شہادت نے اسلام کو زندہ کیا ۔آپ خود شہید ہوگئے لیکن مکتب اسلام اسی شہادت کی وجہ سے زندہ ہوگیا۔‏امام خمینی رح فرماتے ہیں:امام حسین علیہ السلام نے اپنے آپ اوراپنے سارے عزیز و اقارب کو اسلام پر قربان کیا اور یوں ان کی شہادت کے بعد اسلام بہت زیادہ طاقتور ہوا۔۲۹۔
امامت کی ذمہ داریوں میں سے ایک اہم ذمہ داری حفظ دین اور حفظ قوانین اسلامی ہے اور سیدا لشہداء ؑ کورسول اللہ ؐاورحضرت علی ؑ نے تربیت دی تھی کہ اسلام کے علاوہ باقی سب کچھ بے فائدہ ہے اگر اسلام ہے تو سب کچھ ہے اگر دین نہیں تو کچھ بھی نہیں لہذا امام ؑ نے دین کو بچانے کے لئے قیام کیا اور عظیم قربانی دی آپؑ کی قربانی نے نہ صرف دین کو بچایا بلکہ قرآن کی اس آیت کا مصداق بنا: "جاء الحق و زہق الباطل ان الباطل کان زہوقا"۳۰۔
امام حسینؑ شہید ہوئے لیکن آپ ؑ نے اپنے بنی ہاشم ا ور اصحاب کے خون سے اسلام کی آبیاری کر کے دین کو بچا لیا اور باطل بھی مٹ گیا اس کے بعد کسی کو بھی اسلام کومٹانے کے لئے میدا ن میں آنے کی جرات نہ ہوئی اورامام ؑ عالی کاہدف اس عظیم انقلاب ،قیام اورقربانی کا حفظ دین اوربقاء دین کی بہترین دلیل آپؑ کے اپنے کلام اورفرمائشات ہے ۔جیسا کہ آپ نے اپنے وصیت نامہ میں فرمایا :{انی لم اخرج اشراولا بطراولامفسداولاظالماانماخرجت لطب الاصلاح فی امتی جدی و اسیر بسیرت جدی وابی علی بن ابی طالب}ؑ 
مدینے سے نکلنے لگے تو روضہ رسول پر تشریف لے گئے اوریوں دعا فرمائی : مالک اس وقت مجھے اپنی ذمہ داری کی طرف راہنمائی فرما ،تا کہ میں اس پر عمل کر سکو ں اور فرمایا :{اللہم ان ہذا قبر نبیک وانا ابن بنت نبیک} مکہ میں آپؑ نے جو خطبہ دیاجس میں اپنی شہادت کا ذکر کے ساتھ اس کے مقصد عظمیٰ اورہدف حقیقی کی طرف بھی اشارہ فرمایا اوراس کے علاوہ ابن عباس کے سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا : یہ لوگ کہیں مجھے رہنے نہیں دیں گے ۔بہر حال اسلام کلی طورپر خطرے میں تھا اور دشمن کا یہ آخری فیصلہ تھا کہ اسلام کو ختم کرے تو اما م ؑ نے یہ محسوس کیا جب تک قربانی نہیں دینگے دین نہیں بچ سکتا لہذا اپنے سارے کنبہ اور اصحاب کے ساتھ میدان کربلا میں آئے اورشہید ہوئے لیکن اسلام اورتوحید کو بچا لیا۔
۷۔‏‏الہی ذمہ داری پر عمل کرنا
وظیفہ شناسی اوراپنی شرعی ذمہ داری  پر عمل  کرنااعلی ترین اخلاقی و دینی  احساس  ہونے کی علامت ہے۔ اس احساس کو  پروان چڑھانے  کے لئے نفس کی بہت زیادہ  ریاضت کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی احساس کے سایہ میں انسان کی روح پائیدار اور مضبوط ہو جاتی ہے۔ اپنے الہی وظائف کی انجام دہی  اوراس راستہ میں آنے والے جتنے ناگوار حوادث اور وقائع  کے ساتھ سختی کے ساتھ مقابلہ کرتا ہے۔ اس  کی راہ میں ناکامی ،نا امیدی   اورشکست  نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ سخت سے سخت شرائط میں بھی  اپنے آپ کو کامیاب سمجھتا ہے کیونکہ وہ سوائے الہی وظیفہ کے کسی اورچیز کے بارے میں نہیں سوچتا۔ 
امام  خمینی  رح خود ایک عظیم انسان تھے جس نے اپنے عمل کے ذریعے مسلمانوں کو یہ درس  دیا ۔اپنی گفتگو میں ہمیشہ اس بات کی تاکید کی اورہمیشہ لوگوں کو یہ نصیحت کرتے تھے کہ انسان مومن سوائے الہی وظیفے کے کسی اور چیز کے بارے میں نہیں سوچتے۔ امام حسین علیہ السلام نے بھی اسی مقصد کی خاطر قیام فرمایا یہاں تک کہ شہادت  جیسے عظیم رتبہ پر فائز ہوگئے۔
ایک اور مقام پر امام خمینی رح فرماتے ہیں: سید الشہداء  نےاپنا وظیفہ سمجھ  کر اموی طاقت کے سامنے قیام فرمایا اورڈٹ کر ان کا مقابلہ کیا چاہے جو کچھ بھی ہو جائے درحالیکہ  ظاہری اعتبار سے آپ جانتے تھےکہ قلیل تعداد ان  کے کثیر تعداد کا مقابلہ نہیں کر سکتے لیکن پھر بھی آپ نے  اپنے الہی ذمہ داری پر عمل کیا۔
امام خمینی رح فرماتے ہیں: امام حسین علیہ السلام کی شرعی ذمہ داری تھی کہ اموی حکومت کے خلاف قیام کرے اور اپنا خون اسلام پر قربان کرے تا کہ ملت کی اصلاح ہو۔
اسی طرح فرماتے ہیں :سید الشہداء نے اپنے  اہل بیت اور اصحاب و اعوان  کے ساتھ قیام فرمایا چونکہ یہ قیام اللہ کے لئے تھا اس لئے اس طاغوتی خبیث حکومت کا تختہ پلٹادیا۔جو اللہ کی راہ میں کام کرتا ہے اس کے لئے اس راہ میں شکست نہیں ہے اگرچہ وہ اس راہ میں مر جائے۔امام حسین علیہ السلام بھی شہید ہوگئے لیکن آج بھی زندہ  ہے۔۳۱۔
بنی امیہ کے مردہ دل سیاستدان اس خیال میں تھے کہ حسین بن علی علیہ السلام کے بعد کام تمام ہو جائے گا ،لیکن زمانے کی گردش نے ان افراد کویہ بتا دیا کہ جس حسین علیہ السلام کو تم شہید کر چکے ہو وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ ہیں۔
قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
حوالہ جات:
۱۔ بحارالانوار،‌ج 43،‌ ص 261، حدیث اوّل.
۲۔ سيد هاشم رسولي محلاتي، زندگاني امام حسين (ع)، دفتر نشر فرهنگي اسلامي، ص‏152.
۳۔بحارالانوار، ج 45، ص 50۔
‏‏۴۔ امام خمینی رح کی گفتگو میں تکرار سے بچنے کے لئے بعض الفاظ حذف کیا گیا ہے لیکن محتوی میں کوئی تبدیلی نہیں لائی گئی ہے۔
۵۔ فرهنگ عاشورا در کلام و پیام امام خمینی(س)، ص 29- 35.
۶۔سیدبن طاووس، اللهوف، انتشاارت الرضی، قم، ص 10
۷۔ملهوف (لهوف)، ص 99 و بحارالانوار، ج 1، ص 184.
۸۔سورۀ حدید، آیه 25 ۔
۸۔ فرهنگ عاشورا در کلام و پیام امام خمینی(س) ص 37 و 41.
۹۔ بحارالانوار: 44 / 331، مقتل المقرم  /  156۔
۱۰۔تحف العقول، انتشارات بصیرتی، قم، ص 170۔
۱۱۔فرهنگ عاشورا در کلام و پیام امام خمینی(س) . ص 33 -42 ۔ 
۱۲۔ تحف العقول، ص 174، بلاغة الحسین(ع)، ص 158.
۱۳۔نهج البلاغه، خطبه 3، «اخذالله علی العلماء ان لا یقاروا علی کظة ظالم و لا سغب مظلوم».
۱۴۔ نهج البلاغه، نامه 53، فراز 57، «ان افضل قرة عین الولاة، استقامة العدل فی البلاد».
۱۵۔ فرهنگ عاشورا در کلام و پیام امام خمینی(س)، ص 33، 38، 39.
۱۶۔ اللهوف، ص 10.
۱۷۔تحف العقول، ص 168
۱۸۔ مدرک قبل، ص 174، بلاغة الحسین(ع)، ص 157
۱۹۔ سورہ آل عمران ، آیت۱۰۴ ۔
۲۰۔ سورہ آل عمران، آیت ۱۱۰ ۔
۲۱۔ سورہ  آل عمران ، آیت ۱۱۴ ۔
۲۲۔ سورہ توبہ  آیت ۱۱۲۔
۲۳۔ سورہ ہود ، آیت ۱۱۶۔
۲۴۔ سورہ مائدہ ،آیت ۷۹ ۔
۲۵۔ فرهنگ عاشورا در کلام و پیام امام خمینی(س)، ص 40-41.
۲۶۔ایضا، ص 39، 41
۲۷۔ایضا، ص 40-41
۲۸۔ ایضا، ص 42
۲۹۔ایضا، ص 52 -50
۳۰۔ اسراء؍ ۸۱۔
۳۱۔ ایضا، ص 48 -49۔

امام خمینی (رہ) کا انقلاب، ایک جاویداں حقیقت

*امام خمینی (رہ) کا انقلاب، ایک جاویداں حقیقت*

اسلامی انقلاب سے پہلے، انقلاب کے دوران، انقلاب کی کامیابی کے بعد اور صدام کےخلاف آٹھ سالہ جنگ میں عوام نے جس طرح امام خمینی (رہ) کا ساتھ دیا اس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔ 
حضرت امام خمینی (رہ) کی قیادت اور اسلامی انقلاب کی کامیابی نے دنیا کے سیاسی توازن کو ایک بار ہلا کر رکھ دیا تھا۔ امام خمینی کی قیادت میں ایک مختصر مدت میں ایرانی عوام نے اسلامی انقلاب کیلئے امام خمینی کا ساتھ دیکر دنیا کو حیران و ششدر کردیا۔ اس انقلاب کی کامیابی میں سب سے موثر کردار حضرت امام خمینی کی عظیم شخصیت اور ان کی الہی قیادت کا تھا۔ آپ کی قیادت و رہبری نے ایرانی عوام کے قلوب و اذہان کو تبدیل کرکے رکھ دیا۔
اسلامی انقلاب سے پہلے، انقلاب کے دوران، انقلاب کی کامیابی کے بعد اور صدام کےخلاف آٹھ سالہ جنگ میں عوام نے جس طرح امام خمینی کا ساتھ دیا اس کی مثال نہیں ملتی۔ امام خمینی عارف باللہ، مفکر، مجتہد اور الہی سیاسی نظام کے نئے تقاضوں کے مطابق دنیا میں نافذ کرنے والی ںابغہ روزگار شخصیت تھیں۔
آپ جہاں عارف فقیہ، سیاستدان اور عظیم رہنما تھے وہاں فقیروں، مسکینوں اور محروموں کے بے نظیر اور بے مثال حامی بھی تھے۔ آپ محروموں کے سخت حامی اور استعماری قوتوں کے شدید مخالف تھے۔ آپ کی شخصیت عرفان و سیاست کا حسین امتزاج تھی۔ آپ کی شخصیت جامع کمالات کا ایک نمونہ تھی۔ آپ ایک طرف عرفان و فلسفہ کے گہرے اور پیچیدہ مسائل کو حل فرماتے دوسری طرف ایک سیاسی قائد کی حیثیت سے سیاسی پیچیدگیوں اور الجھنوں کو الہی بصیرت سے سلجھاتے تھے۔
امام خمینی نے اس دنیا کو الوداع کہتے ہوئے کہا تھا کہ میں مطمئن قلب کے ساتھ جارہا ہوں۔ یقینا اس طرح کے الفاظ کہنے کیلئے قوی ایمان، محکم عقیدے اور الطاف الہی کا شامل حال ہونا ضروری ہے۔ امام خمینی کو انقلاب کے دوران اور بعد میں متعدد سخت ترین حالات و مسائل کا سامنا کرنا پڑا لیکن آپ کے پائے استقلال میں ذرا برابر لغزش نہیں آئی۔
امام خمینی دنیا کو خدا کے سامنے اور محضر خدا گردانتے تھے۔ انہیں خداوند عالم کے لطف و کرم پر بھروسہ اور ایمان تھا جو کوئی بھی امام خمینی کی زندگی کا سرسری مطالعہ بھی کرے تو اس نتیجے پر پہنچے گا کہ وہ قرآن کی نعمات و برکات سے ہمیشہ مستفید ہوتے۔ امام خمینی فرمایا کرتے؛
"اگر ہم اپنی پوری زندگی اسی نعمت کے شکر میں سجدہ کرتے رہیں کہ قرآن کریم ہماری کتاب ہے پھر بھی گویا ہم نے حق ادا نہیں کیا ہے۔"
قرآن پاک سے رابطے کا ایک طریقہ ہمیشہ اس کی تلاوت کرنا ہے اگر کوئی قرآن کی تلاوت کو ترک کردے گا تو قرآن کی منطق اور مفہوم کو سمجھنے میں ہرگز کامیاب نہیں ہوگا۔ امام خمینی کے ساتھ رہنے والے ایک شخص نے نقل کیا ہے کہ جب امام جلاوطنی کے دوران نجف اشرف میں تھے اور آپ کو بہت زیادہ تکالیف و مصائب کا سامنا تھا، آپ اس وقت بھی رمضان المبارک میں روزانہ کم سے کم دس پارے تلاوت کرتے تھے یعنی ہر تین دنوں میں ایک قرآن ختم کرتے تھے۔
قرآن کی تلاوت کا ایک احسن طریقہ اس کو تدبر اور غور و توجہ سے پڑھنا ہے اس طرح کی تلاوت کی مثالیں امام خمینی کی زندگی میں بکثرت ملتی ہیں آپ اپنی بہو کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے تھے؛
"قران مجید سرچشمہ فیض الہی ہے اس میں غور وفکر کرو اگرچہ محبوب کے خط کو صرف پڑھنے کا بھی ایک لطف ہے۔"
لیکن اس میں تدبر انسان کو عظیم اور بالاتر مقام کی طرف ہدایت کرتا ہے۔
امام خمینی کے ایک فرزند نقل کرتے ہیں کہ "امام خمینی کے رمضان المبارک کا شیڈول کچھ اس طرح سے ہوتا کہ رمضان کی تمام رات دعا و مناجات میں صرف کرتے۔ نماز صبح کے بعد کچھ دیر کیلئے آرام فرماتے اور اس کے بعد اپنے روزمرہ کے امور کو انجام دیتے۔ رمضان المبارک آپ کیلئے بہت زیادہ اہمیت کا حامل تھا لہذا ان ایام میں بعض امور کو ترک کردیتے تاکہ اس ماہ مبارک کی برکتوں سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرسکیں۔ آپ نے اس مبارک مہینے کی وجہ سے اپنے اندر کئی تبدیلیاں پیدا کرتے مثلا کھانا کم کھاتے۔ گرمیوں کے طولانی روزوں میں بھی آپ سحری اور افطار کے وقت اتنا کم کھاتے کہ ہمیں احساس ہوتا آپ نے کچھ بھی نہیں کھایا۔
3 جون امام خمینی رہ کی برسی کا دن ہے اس دن کی مناسبت سے ہم بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی کی شخصیت کے چند پہلووں پر روشنی ڈالتے ہیں۔
ایران کا اسلامی انقلاب علاقے میں عظیم بنیادی تبدیلیوں کا باعث بنا اور یہ وہ حقیقت ہے جو کسی سے پوشیدہ نہیں۔ امام خمینی نے اسلام کے سیاسی نظام کی صلاحیتوں اور گنجائشوں کو جس طرح پیش کیا ہے اس کے نتیجے میں علاقائی اور عالمی سیاست میں ایک بھونچال آگیا۔
امام خمینی نے عوام کو طاقت کا سرچشمہ قرار دیکر اور خودمختاری کو اپنا اصلی مشن قرار دیتے ہوئے تسلط پسند طاقتوں کے خلاف قیام کیا۔ اسی بناء پر ایران کا اسلامی انقلاب تمام حریت پسند اقوام کیلئے ایک آئیڈیل بن کر توجہ کا مرکز بنا۔
آج چار عشرے گزرنے کے بعد بھی ایران کے اسلامی انقلاب کا الہام بخش پیغام مختلف ممالک میں سرگرم عمل آزادی کی تحریکوں کیلئے نمونہ عمل ہے۔
عالمی انقلابوں کے بارے میں تجزیہ کرنے والے نظریہ پردازوں کا کہنا ہے کہ ایران کے اسلامی انقلاب کے قائم رہنے اور اس میں ہر روز بہتری آنے کی تین بنیادی وجوہات ہیں۔
اس انقلاب کی کامیابی کی بنیادی وجہ اس انقلاب کا امام خمینی کے نظریات کے راستے پر استوار رہنا ہے۔ یہ صفت اس بات کا باعث بنی کہ یہ انقلاب نہ صرف عالمی سطح پر موثر ثابت ہوا بلکہ اس نے تسلط پسندانہ نظام کو بھی ایک چیلنج سے دوچار کردیا ہے۔ اس انقلاب کی کامیابی نے اس بات کو ثابت کردیا کہ ایک ملت اتحاد و وحدت کے ذریعے بڑی بڑی تبدیلیاں حتی عالمی طاقتوں کے اندازوں کو درہم برہم کرسکتی ہے۔
ایران کے اسلامی انقلاب کی رہنمائی کے حوالے سے امام خمینی کی شخصیت کی دوسری اہم صفت یہ تھی کہ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ ایرانی قوم اس دور کی دو سپر طاقتوں کے بغیر بھی مقتدر اور طاقتور حکومت تشکیل دے سکتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ایران کا اسلامی انقلاب عالمی سطح پر ایک بہت بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔
اس تبدیلی کے نتیجے میں دنیا پر دین اسلام کے سیاسی نظام کی قدرت و طاقت ظاہر ہوئی اور دنیا کو دین اسلام کی عظیم طاقت اور صلاحیتوں کا ادراک ہوا۔ اسی طرح اس انقلاب کی بدولت تسلط پسند طاقتوں سے آزادی اور سامراج کے خلاف قیام کی تحریک زندہ ہوئی۔
امام خمینی کی اس تحریک کی تیسری خصوصیت یہ ہے کہ اس نے انقلابی اقدار کو ایک دائمی اور ہمیشہ رہنے والی تحریک میں بدل دیا اور دنیا کی محروم اور مستضعف اقوام کو اس بات کا حوصلہ اور امید عطا کی ہے کہ وہ تسلط پسند نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔
ایران کے اسلامی انقلاب نے امام خمینی کے بتائے ہوئے راستے کو زندہ رکھتے ہوئے قوموں کے حقوق کے دماغ کو اپنا نصب العین قرار دے رکھا ہے اور دوسرے انقلابوں کے برخلاف اپنے اصلی راستے سے منحرف نہیں ہوا ہے۔
ایران کے اسلامی انقلاب نے سخت ترین حالات میں دباو اور داخلی اور خارجی سازشوں کے باوجود اپنی اقدار، اہداف اور امنگوں پر کسی قسم کی سودا بازی نہیں کی۔
یہی وجہ ہے کہ ایران کا اسلامی انقلاب سماجی اور سیاسی میدان میں عالمی سطح پر ایک حق طلب تحریک کی صورت میں ظہور پذیر ہوا۔  

میں سانس نہیں لےسکتا

*میں سانس نہیں لے سکتا*
تحریر : محمد بشیر دولتی
امریکی ریاست ”منی سوٹا“ کے شہر ”مینی پولس“ میں  ” کپ فوڈز اسٹور“ کا پرانہ گاہک  ”جارج فلوٸیڈ“ خریداری کے لیے بیس ڈالر کا ایک بل لے کر آیا جسے کیشیٸر نے جعلی قرار دے کر فورا پولیس کو بلایا۔پولیس اس معزز مگر سیاہ فام بندے کو انتہاٸی حقارت سے پکڑتا ہے اور  گاڑی کے نیچے گرا کر سفید فام پولیس افسر اپنا گھٹنا سختی کے ساتھ اس کےگردن پہ رکھتا ہے جس   کے سبب وہ سانس لینے میں کافی دشواری محسوس کرتا ہے عینی شاہدین کے مطابق وہ تقریبا چار منٹ تک یونہی  خود کو چھڑانے کی ناکام کوشش کرتا رہا۔مارٹن لوتھر کنگ کا خواب آنکھوں میں سجا کر وہ بے بسی سے ان ظالموں کو دیکھتا رہا اور  آخر میں یہی الفاظ ادا کر کے وہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگیا کہ ”میں سانس نہیں لے سکتا“ 
مگر گورے آفیسر کے پتھر دل  پہ کچھ اثر نہیں ہوا وہ ساکت پڑے سیاہ فام پہ یونہی مزید چارمنٹ تک بیٹھا رہا جس کے بعد ہسپتال لے جایا گیا تو وہ ”گھٹنے سے دم گٹھ کے مر چکا تھا“
یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گٸی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے امریکہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ہر طرف جلاٶ گھیراٶ اور پولیس پہ پتھراٶ کا سلسلہ شروع ہوا۔اب تک کی رپورٹ کے مطابق دوسو سے زاٸد اسٹورز اور کٸی پولیس اسٹیشن اور ہزاروں گاڑیوں کوجلا دیا گیا ہے ۔کٸی سو مظاہرین زخمی اور ہزار کے قریب گرفتار ہوچکے ہیں۔
 امریکہ میں سیاہ فام نسل پہ یہ کوٸی پہلا اور آخری ظلم نہیں ہے۔ان مظالم کی ایک طویل داستان ہے۔آج بھی دنیا کو انسانیت کا درس دینے والا امریکہ اپنے سیاہ فام شہریوں پہ ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے حالیہ واقعہ اس کی ایک چھوٹی سی جھلک ہے۔انہی مظالم کے سبب اس سے پہلے بھی کٸی مرتبہ امریکہ میں میں نسلی فسادات ہوچکے ہیں۔
آج بھی محکمہ پولیس اور چند دیگر محکموں کی جانب سے سیاہ فام باشندوں کے ساتھ غلامانہ اور متعصبانہ  سلوک کیا جاتا ہے۔
1862 میں غلامی کو غیر قانونی قرار دینے سے پہلے افریقہ کےجنگلات سے ان سیاہ پوست انسانوں کو شکار کر کے امریکہ لایا جاتا ، پھر وہاں غلام کے عنوان سے بیچا جاتا۔انہیں انسان کی بجاۓ ”چیز“ کہا جاتا اور ”ہیومن زو“ میں بٹھایا جاتا تھا تاکہ گورے ان سے کام لے سکے اور لطف اندوز ہوسکے۔
عظیم سیاہ فام قاٸد ”مارٹن لوتھر کنگ“ کے عدم تشدد اور مساوات کے نعرے پہ مشتمل جدوجہد کے سبب 1964 اور 1965 میں شہری حقوق اور ووٹ کا مساوی قانون جب پاس ہوا تو حالات سیاہ فام انسانوں  کے لیے کچھ بہتر ہوے تھے وگرنہ بسوں میں سیٹ پہ بیٹھنے سے لے کر کسی گورے کے ساتھ دوستی کرنے کی اجازت تک نہیں تھی۔
مارٹن لوتھر کنگ کو بےلوث انسانی جدوجہد اور مساوات کی ”خواب“ دیکھنے پہ ایک نسل پرست گورے نے 4 اپریل 1968 کو گولی مار کر قتل کیا تھا۔ پھر بھی امریکی عدالت کا سیاہ فاموں کے ساتھ رویہ ایسا تھا کہ ایک سیاہ فام بندے نے عدالت میں گوروں کے برابر انسانی حقوق کا جب مطالبہ کیا تو امریکی عدالت کا یہ کہنا تھا کہ ” اگر ایک غلام کسی ایسی ریاست میں پناہ لے جہاں غلامی ممنوع ہو تب بھی وہ گوروں کے نسبت ایک آزاد شخص تصور نہیں کیا جاسکتا۔
یہ فکر اور طبقہ بندی آج بھی امریکی معاشرے میں پایا جاتا ہے ۔اگر چہ پہلی بار شکاگو کی میٸر شپ کے بعد سیاہ فام سیاست میں آگے آٸے ہیں جس کے سبب ”کونڈولیزا راٸس“ سے ” اوباما تک“ کو ایک حیثیت ملی مگر درحقیقت جن کے پاس سیاسی اثر و رسوخ یا پیسہ نہ ہو ان سیاہ فاموں کی حالت اب بھی بد سے  بدتر  ہے انہیں قدم قدم پہ مشکلات و تعصب کا سامنا ہے۔
وہ بیس ڈالر کا جعلی فارم غلطی سے خریداری کے لیے لے کر جاٸیں تو انہیں یوں بے دردی سے سر عام ماردیا جاتا ہے۔
یقینا جارج فلوٹیڈ کو فارم کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا وگرنہ پورے امریکہ میں یوں فساد نہ پھوٹتے ۔ان کے دم نکلنے کی جگہ پہ پھولوں کے گلدستے نہ رکھے جاتے۔ رنگ و نسل کی فرق کیے بغیر احتجاج نہیں کرتے۔
اگر ان کی شکایت ظالم پولیس کو نہ کرتے تو مشتعل افراد کپ فوڈز اسٹورز کو نہ لوٹتے۔ نہ دو سو سے زاٸد اسٹورز لوٹنے کے بعد جلا دیے جاتے۔
اگر امریکن پولیس سیاہ فاموں کے ساتھ بار بار ظلم نہ کرتے تو پانچ بڑے شہروں میں کرفیو نافذ نہ ہوتا۔ کٸی ریاستوں میں ہاٸی الرٹ نہ ہوتا۔
اگر مبحوس الحواس صدر ٹرمپ پاگل پن کا مظاہرہ کرتے ہوے یہ بیان نہ دیتا کہ ” مظاہرین نے واٸٹ ہاٶس میں داخل ہونے کی کوشش کی تو انہیں خونخوار کتوں اور جدید ہتھیاروں کا سامنا کرنا ہوگا“
تو شائد لوگ واٸٹ ہاٶس کا گھیراٶ نہ کرتے۔ اور ٹرمپ کو  واٸٹ ہاٶس کے زیر زمین بنکرز  میں پناہ لینے اور  پھر خفیہ راستے سے بھاگنے پہ مجبور نہ ہوتا اور مظاہرین پہلی بار واٸٹ ہاٶس میں نہ گھستے۔
بقول ٹرمپ کے یہی ”خونخوار کتے“ ہیں جو خود امریکہ سے افغانستان تک عراق سے شام تک ہر جگہ انسانیت پہ حملہ آور ہیں۔ جو اپنے گھر کے افراد سے لے کر دوسرے گھروں کے مکینوں اور ان کے مہمانوں تک پہ جدید اسلحے کے ساتھ حملہ آور ہوتے ہیں۔ 
امریکہ میں نسلی تعصب کا اب یہ حال ہے کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق سیاہ فام بچوں کی قلت غذا ٕ کے سبب شرح اموات میں اضافہ ہوچکا ہے۔
امریکہ اب نسلی تعصب ، معاشی بدحالی اور اپنی ایجاد کردہ کورونا بیماری کی لپیٹ میں ہے جو اس کی مکارانہ ،  ظالمانہ اور عوام دشمن خارجہ پالیسی اور ڈکٹیٹر شپ کو جلد از جلد نابود کرے گا انشااللہ
یہی حال اسراٸیل کا بھی ہوگا ۔چونکہ یہودی جو اپنے آپ کو دنیا کی برتر قوم ہونے کا دعوی کرتا ہے  وہاں بھی پچھلے سال نسلی فسادات پھوٹ پڑے تھے  جب ایک سفید فام یہودی پولیس نے ایک ایتھوپین نژاد یہودی کو گولی ماردی تھی  جس کے بعد دو دن تک پورا اسراٸیل فسادات کے زد میں رہا ۔
آج تقریبا پورا امریکہ بھی ایک ہفتے سے جلاٶ گھیراٶ اور مظاہروں کی زد میں ہے۔
اگرچہ ہماری میڈیا اور ایک آنکھ والے دانشور حضرات اس پہ یوں  خاموش ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو مگر خود امریکن عوام کی بیداری قابل تحسین ہے۔
امریکی عوام اس احتجاج میں اس شہید  حاج قاسم سلیمانی اور ابومہندی مہندس کی تصویر لیے ہیں جنہوں نے اس ظالمانہ نظام کی بیخ کنی کے لیے اپنی جوانی اور زندگی وقف کیا تھا۔جن کی تصاویر فیس بک سمیت سوشل میڈیا پہ ممنوع قرار دیا تھا آج اسی ملک کے عوام ان کی تصاویر کے ساتھ صداۓ احتجاج  بلند کرتے ہوے واٸٹ ہاٶس پہ قابض ہیں تو مجھے شھید القدس کا وہ جملہ یاد آرہا ہے جو صدر ٹرمپ سے مخاطب ہوکر کہا تھا کہ ” ہم تیرے اتنے قریب ہیں جس کا تمہیں اندازہ نہیں“
 یہ عوامی بیداری امریکی حکومت کی ظالمانہ خارجہ پالیسی اور ڈکٹیرانہ خواہشات کو لگام دینے کا سبب بنے گی۔اور کوٸی سیاہ فام آنکھوں میں مارٹن لوتھر  کنگ کا خواب سجا کر پھر یہ نہیں کہے گا کہ اس ظلم بربریت اور متعصب معاشرے میں  ”میں سانس نہیں لے سکتا“
بلکہ وہ اس ظالمانہ و متعصبانہ نظام کو بدل دیں گے تاکہ وہ اور انکی آنے والی نسلیں عزت مندانہ سانس لے سکیں۔ ان شاء اللہ

جنت البقیع کیوں ویران؟

جنت البقیع ویران کیوں؟
تحریر:محمد بشیر دولتی
مختصر تاریخ
جنت البقیع کاپرانا نام ~بقیع الغرقد~تھا۔بقیع یعنی مختلف درختوں کا باغ اور غرقد ایک مخصوص قسم کےجہاڑی نما درخت کو کہتے ہیں جو پہلے اس جگہ  کثیر تعداد میں تھا اسی وجہ سے یہ نام پڑ گیا۔
مستدرک امام حاکم کی روایت کے مطابق اللہ تعالٰی نے اپنے پیارے حبیب حضرت محمد مصطفی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بقیع کی جگہ قبرستان بنانے کاحکم فرمایا تھا۔اسلام کے اس پہلے اور عظیم قبرستان کا باقاعدہ آغاز رسول خدا کے باوفا اصحاب ؛انصار مدینہ کے اسعدبن ذرارہ اور عثمان بن مظعون کے دفن سے ہوا۔
عام مسلمانوں کی اہم ترین کتاب صحیح مسلم اور سنن نسائی میں جنت البقیع کے بارے میں ام لمومنین حضرت عائشہ سے روایت نقل ہوئی  ہے کہ رسول خدا نےفرمایا کہ ”خدا نے مجھے حکم دیا ہے کہ بقیع جاؤں اوراہل بقیع پہ سلام اور طلب مغفرت کروں“ پھر اس سے مربوط دعا بھی اسی روایت میں موجود ہے۔
”چونکہ اوائل اسلام میں اکثر مسلمانوں کے آبا و اجداد کافر یا مشرک مرے تھے اس لیے بعض روایت کے مطابق انکے قبورپہ جانے سے رسول خدا نے منع کیا تھا“
 جب آپ ﷺ کےخاص چاہنے والوں اور شمع رسالت کے پروانوں کا انتقال ہوا یا انکی شہادت ہوی تب رسول خدا نےمسلمانوں کو تاکید کی کہ وہ قبور کی زیارت کے لیے جائیں ۔انکو سلام کریں انکے لیے اور اپنے لیے قبرستان جاکر طلب مغفرت کریں اوراپنی موت و آخرت کو یاد کریں۔“
اس سلسلے میں بہت ساری احادیث ؛فضائل و فلسفہ زیارت قبور و آداب زیارت قبور۔احادیث کی مستند سمجھی جانے والی قدیمی کتابوں میں موجود ہیں۔جن میں اہل سنت کی صحاح ستہ میں سے  صحیح مسلم،صحیح ابن ماجہ ، سنن ابن داود ،سنن ترمذی ،نسائی اور ابن حجر عسقلانی کی کتابیں مشہور و معروف ہیں۔ان کے علاوہ مختلف مکاتب فکر کے جید علما ٕ کرام نے اس موضوع پر سینکڑوں کتابیں لکھی ہیں۔

 جنت البقیع میں اوائل اسلام کی عظیم شخصیات کی قبور ہیں جن میں حضرت رسول خدا کے فرزند جناب ابراھیم ، حضرت علی ع کی والدہ حضرت فاطمہ بنت اسد ، حضرت عبداللہ ابن جعفرطیار ، حضرت عباس ابن عبدالمطلب ، حضرت ام البنین  ، حضرت حلیمہ سعدیہ ، امہات المومنین میں سے حضرت ام سلمہ ، حضرت حفصہ بنت عمر ، حضرت ام حبیبہ ، حضرت زینب ، حضرت ریحانہ ، حضرت ماریہ قبطیہ وغیرہ یہاں دفن ہیں۔کٸی شہدا ٕ احد اور واقعہ حرا کے شھدا ٕ بھی یہاں دفن ہیں۔
بعض روایت کے مطابق رسول خدا کی اکلوتی بیٹی ، قرة عین الرسول ؛ حضرت فاطمہ زہرا س کی قبر مبارک بھی اسی ویرانے میں موجود ہے۔
مسلمانوں کاتیسرا خلیفہ حضرت عثمان جو کہ پہلے بقیع کے باہر دفن تھے اب وہ بھی بقیع کی احاطہ کے اندر ہے۔
”بیت الحزن“ جو کہ حضرت علی ع نے بعض مدینہ والوں کی طرف سے حضرت فاطمہ اپنے بابا حضرت محمد ﷺ  کے فراق میں ذیادہ گریہ کرنے کی کے سبب شکایت کرنے پر مدینہ سے باہر فقط رونے کے لیے جو جگہ بنائی تھی وہ بھی اب جنت البقیع کاحصہ ہے۔
حضرت علی ع کے بھائی جناب عقیل کا ذاتی گھر جس میں بعد میں ہمارے آئمہ اربعہ نواسہ رسول امام حسن ع ، امام سجاد ع ، امام محمد باقرع  اور امام جعفرصادق ع دفن ہوے وہ  بھی اسی جنت البقیع میں ہے۔
اسکے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں رسول خدا کے باوفا اصحاب کرام ، تابعین کرام ، تابعین ، امہات المومنین اور ابتداٸی  شھدائے اسلام کی قبور مبارک یہاں موجود ہیں۔
*جنت المعلّٰی*
مسلمانوں کے دوسرے اہم ترین اور قدیمی قبرستان جنت المعلّٰی ہے جو کہ مکہ شریف میں واقع ہے ۔جہاں رسول خدا کی پہلی اور چہیتی بیوی جو صنف نسواں میں سب سے پہلے نہ فقط ایمان لے آئی بلکہ عرب کی مالدار خاتون ہونے کی وجہ سے اپنے تمام تر مال و دولت رسول خدا کے سپرد کیا تا کہ اس سے ضعیف اور نادار مسلمانوں کی مدد کر سکے یعنی ام المومنین  حضرت خدیجہ س کی قبرمبارک ہے۔
یہاں دوسری اہم شخصیت حضرت ابوطالب جو سپر بن کر رسول خدا کی حفاظت کرتے رہے بلخصوص اس وقت جب ابوسفیان اور اس وقت کے دیگر کفار و مشرکین نے سوشل بائیکاٹ کرتے ہوے شعب ابی طالب میں رسول خدا ور انکے حقیقی چاہنے والوں اور آپ کے قریبی رشتہ داروں کا ہر طرف سے محاصرہ کر رکھا تھا تو یہی ابوطالب رسول خدا کا ساتھ دیتے ہوے ، حفاظت کرتے ہوے ، ابوسفیان اور دیگر سے مقابلہ کرتے رہے اسلام کے ایسے ایسے گوہر نایاب  اور  رسول خدا کے حقیقی بے لوث و باوفا شخصیات یہاں دفن ہیں۔
تاریخ اسلام شاہد ہے کہ جس سال  ام المٶمنین حضرت خدیجہ اور حضرت ابوطالب کا انتقال ہوا تو رسول خدا نے اس سال کو ”عام الحزن“ یعنی غم کا سال  قرار دیا تھا ۔انکے انتقال کے بعد پھر مکہ رہنے کا قابل نہ رہا اور آپ ص نے وہاں سے ہجرت کی۔
 مدینہ مبارکہ میں حضرت رسول خدا کے چچا سید الشھدا جناب حمزہ جن کا جگر ابوسفیان کی بیوی (۔معاویہ کی ماں ، یذید کی دادی ہندہ نے چبایا تھا)۔وہ اور جنگ احد کے دیگر شہدا کی قبور بھی ویرانے کی شکل میں یہاں موجود ہیں۔

صحاح ستہ کی بعض روایتوں کے مطابق حضرت رسول خدا نہ فقط حضرت حمزہ سیدالشھدا پہ رویے بلکہ مدینہ کی عورتوں سے بھی فرمایا کہ وہ جناب حمزہ پہ ماتم کریں۔
اسلام کے ان عظیم جانثاروں اور محافظوں کی قبورپہ نہ فقط رسول خدا خود تشریف لے جاتے اور انکے لیے دعا کیا کرتے تھے بلکہ دوسرے مسلمانوں کو بھی جانے کی تلقین اور زیارت کے آداب سکھایا کرتے تھے۔
*جنت البقیع کی جدید تعمیر*
رفتہ رفتہ شمع رسالت کے پروانوں نے اسلام کی ان عظیم شخصیات کی قربانیوں اور انکے کارناموں کو ہمیشہ یاد رکھنے کے لیے ”جنت البقیع اورجنت المعلی کی ان 
قبور پر گنبد اور حجرہ بنواۓ تھے۔ 
ساتویں صدی ہجری میں عمربن جبیر نے اپنے مدینہ کے سفر میں جنت البقیع میں مختلف قبور پر قبوں اور گنبدوں کا ذکر کیا ہے۔پھر ایک سو سال بعد ابن بطوطہ نے بھی اپنے سفر نامے میں ان قبّوں اور گنبدوں کا ذکر کیا ہے ۔
کئی صدیوں تک یہ مزارات عالم اسلام کے لیے باعث تعظیم اور ایمان کی تازگی کا باعث بنے رہے سلطنت عثمانیہ کے دور میں بھی چونکہ یہاں محمد وآل محمد کے عاشقوں یعنی اہل سنت بھائیوں کی حکومت تھی تو ان مزارات کی رونق بھی تھی ۔
*انہدام کے اسباب*
پھر انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں اسلام دشمنوں نے دین اسلام کو دنیا سے ختم کرنے کی ایک عالمی کوششوں کا سلسلہ شروع کیا جس کے تحت برصغیر میں مرزائیت یا قادیانیت ، ایران میں بھائیت، سوڈان میں مھدویت ، لیبیا میں سنوسی ، نائجیریا میں فلافی ، انڈونیشیا میں پادری ،
جبکہ حجاز میں وہابیت کو پری پلاننگ فروغ دینا شروع کیا۔
محمد ابن عبدالوہاب جوکہ پیدائشی حنبلی تھا مدینہ منورہ میں ابتدائی تعلیم کے بعد بغداد ، بصرہ ، دمشق ، ہمدان اور قم میں تعلیم حاصل کرتا رہا بعد میں قرآن و حدیث میں ذاتی نظریات کے ذریعے مسلمانوں کے درمیان مسلمہ عقائد کے خلاف بولنے لگے جس پہ اہل سنت علما نے انکو اپنی درسگاہ اور علاقوں سے نکال دیا تو یہ سرزمین نجد چلا گیا۔
 
  اس وقت محمد بن سعود اپنے قبیلہ کا سربراہ اپنی مختصر سلطنت کو وسعت دینے کی تک و دو کررہا تھا۔ دونوں کی ملاقات میں کافی ہم آہنگی ہوئی  اسی دوران برطانیہ سلطنت عثمانیہ اور مسلمانوں کو زمینی و عقائدی طور پر ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی پالیسی پہ گامزن تھا لذا انھوں نے محمد بن سعود کو ہرطرح کی مدد کا وعدہ کیا اور انکی پشت پناہی کے سبب محمد بن سعود نے نجد سے حجاز تک فتح کرلیا اور انکی حکومت قائم کی برطانیہ نے یہاں تک طےکر کے دیا کہ حکومت آل سعود کی جبکہ قضاوت ومذہبی عہدے آل وہاب کے ہونگے یہ کبھی ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت نہیں کرینگے ۔ آقا کے اس فیصلے پر انکی نسلیں اب بھی کاربند اور انکی جی حضوری و نمک حلالی  میں مصروف و مگن ہیں۔ ان لوگوں نے مدینہ و مکہ میں شیعہ علما کے علاوہ ایک دن میں پانچ سو کے قریب اہل سنت کے جید علما کرام کو قتل کیا۔( یہ باتیں میں نے سنی تحریک کےسربراہ شھید سلیم قادری کے منہ سے سنی ہیں جو مستند حوالہ کے ساتھ بتا رہے تھے)
یوں محمد بن عبدالوہاب اور محمد بن سعود اور برطانوی حمایت سے حجاز سے سنیوں کا صفایا کر کے وہابیت کی داغ بیل ڈالی گئی۔ محمد بن سعود کا اصل نام محمد ہونے کے باوجود سرزمین وحی کو محمدیہ رکھنے کی بجائے سعودیہ رکھ دیا۔
محمد بن عبدالوہاب کا نام محمد ہونے کے باوجود انکےخود ساختہ مکتب کو بھی محمدیہ کی بجائے باپ کے نام پر وہابی رکھ دیا آخرکیوں؟
یہ بات اس وقت سمجھ میں آتی ھے جب ہم دیکھتے ہیں کہ 8 شوال 1344 ہجری بمطابق 21اپریل 1926 کو محمد بن سعود نے محمد بن عبدالوہاب کے فتوا  پر جنت البقیع میں موجود انبیا۔ ، اوصیا ، آئمہ  ، اصحاب کرام اور امہات المومنین کے گنبد اور بنے ہوے مزارات کو منہدم کردیا۔۔۔یعنی یہ صدر اسلام کے کسی بھی نشانی کو باقی رکھنا نہي چاہتے تھے۔
پس وہ مزارات و قبور جو تقریبا ساڑھے تیرہ سو سال سے مسلمانوں کو صدر اسلام کے جانثاروں اور وفاداروں کی بے لوث قربانیوں کی یاد دلاتے تھے ، جن کی زیارت سے مسلمانوں کا  ایمان تازہ ہوا کرتا تھا ۔جو شعائرالہی کے مصادیق میں سےکچھ مصداق بنے ہوئے تھے انہیں ڈھادئےگئے ۔
شہر جدّہ جوکہ ہماری جدہ ماجدہ حضرت حوا کے مزار کی وجہ سے نام پڑگیا تھا اب تو اسے بھی شھید کیا جا چکا ہے
جب کہ یہ سب بھی شعائراللہ میں سے  تھے جنہیں دیکھ کر خدا اور خدا کے رسول  یاد آتے تھے۔
خدانے قرآن مجید میں سورہ حج اور سورہ مائدہ میں قربانی کے اونٹ اور دیگر جانوروں ، صفا و مروہ کی پہاڑیوں ، محترم مہینوں ، خدا حکم پر لبیک کہتے ہوے آنے والے حاجیوں کو بھی  ”شعائراللہ“ کہا ہے اور ان شعائر کی توہین کرنے سے منع کیا ہے مگر افسوس وہابیوں ،نجدیوں نے ان تمام شعائر اسلام کو ڈھادیا اور ویران کردیا۔بسا اوقات حاجیوں کو بھی نہیں بخشا۔
جبکہ یہ کوئی فقہی مسئلہ نہی تھا۔اوائل اسلام سے اب تک جہاں جہاں بھی اسلام پہنچا ہے مصر سے سوڈان تک ، اسپین سے ہندوستان تک ، فلسطین سے چین تک آپ کو اولیااللہ کے مزارات ملیے گی۔
*اہل سنت آٸمہ اربعہ کے مزارات*
 جس ابن تیمیہ  کے نظریات پر عبد الوہاب نے بنا رکھی ہے اس ابن تیمیہ کا مزار آج بھی شام کے شہر دمشق میں ،
امام احمد ابن حنبل کا مزار عراق کے شہر بغداد میں ،
امام شافعی کا مزار مصر کے شہر قاہرہ میں جبکہ
امام ابو حنیفہ کا مزار عراق کے  شہر بغداد میں موجود ہیں۔

مگر جنت البقیع اور جنت المعلی ویران ہیں
*عالم اسلام سراپا احتجاج*
جس وقت جنت البقیع کو ڈھایا گیا تمام عالم اسلام سراپا  احتجاج ہوگئے ۔ترکی میں اتاترک اور نجدیوں کے ذریعے خلافت عثمانیہ کے ظاہری اور نام کی حد تک موجود ہی سہی  اس نشانی کو بھی ختم کیا تو برصغیر کے تمام  مسلمان تحریک خلافت چلا رہے تھے تو اسی دوران خلافت کمیٹی بنائی گئی۔ مولانا محمد علی جوہر نے برصغیر کے مسلمانوں کے ایمانی جذبات کی ترجمانی کرتے ہوے نجد کے حاکم کو احتجاجی خط بھی لکھا ۔ مسلمانان عالم کے احتجاج اور قطیف کے شیعوں کا بروقت مدینہ پہنچنے اور مزاحمت کرنے کی وجہ سے رسول خدا کا روضہ مبارک شھید ہونے سے تو بچ گیا مگر آج بھی کسی کو وہاں جالی کو چھونے یا عقیدت سے چومنے نہیں دیتے ۔ قطیف کے شیعہ ابھی تک روضہ رسول کو بچانے کی سزا بھگت رہے ہیں۔
*موجودہ سعودی عرب اور مقدس مقامات*
اگرچہ آج سعودی عرب بدل چکا  ہے ، سرزمین وحی میں عالیشان بت خانے غیر مقامی ہندوں کے لیے بنائے گئے ہیں۔

لبرل ازم کے نام پر سینکڑوں مےخانے اور جواخانے کھول دیے گئے ہیں۔ہولی سے لے کر کرسمس  تک کی آزادی ہے۔
مگر مسلمانوں کو اجازت نہیں کہ وہ رسول خدا کے مزار کی جالی چومیں ، ہمارے آئمہ اربعہ کی قبر پر فاتحہ پڑھیں ، حضرت حلیمہ سعدیہ کی قبر پر سلام کریں۔
ام المومنین حضرت خدیجہ کی قبرپہ جاکر انکی بے لوث  قربانیوں کو یاد کریں۔
سید الشھدا حضرت امیر حمزہ کی قبرپہ جاکر خراج تحسین پیش کریں۔۔۔افسوس۔۔۔

عبد الوہاب کے فتوای اور محمدبن سعود کےظلم کے سبب آج بھی لاکھوں کروڑوں عاشقان رسول ، عاشقان اہلبیت ، عاشقان صحابہ کرام اور عاشقان امہات المومنین کے دل خون کے آنسو رو رہے ہیں۔
خدا ان عاشقوں  محب اھلبیت سنیوں یا دین کا درد رکھنے والے اخوان المسلمین یاکسی بھی مسلمان کے ہاتھوں ان مزارات کی تعمیر کرنے اور ھم سب مسلمانوں کو ان زیارت گاہوں کی زیارت کرنےکی توفیق عطا فرماٸے آمین ثم آمین

انهدام بقیع

انہدامِ جنت البقیع

8 شوال یومِ انہدامِ جنت البقیع کے عنوان سے عالمِ اسلام میں منایا جاتا ہے اسے یومِ الھدم یعنی منہدم کرنے کا دن بھی کہتے ہیں. جنت البقیع سعودی عرب کے شہر مدینہ منورہ میں موجود ایک قبرستان ہے جہاں عالمِ اسلام کی مشہور و معروف شخصیات مدفون ہیں اور *8 شوال 1344 ہجری بمطابق 24 اپریل 1925 عیسوی* کو  سعودی بادشاہ عبدالعزیز بن سعود (لعن) کے حکم پر آئمہ علیہ السلام (امام حسن وسجاد و باقر و جعفر ع) کے گنبد و مزارات منہدم(گِرا دینا) کر دیے گئے.

*مدفون شخصیات*
 جن میں سرِ فہرست حضرت فاطمة الزهراء بنتِ حضرت محمد (ص), امام حسن (ع), امام زین العابدین (ع) , امام محمد باقر (ع), امام جعفر صادق (ع) مدفون ہیں. انکے علاوہ  حضرت فاطمہ بنتِ اسد (ع) جو چچی حضرت محمد (ص) , زوجہ حضرت ابوطالب (ع) اور والدہ حضرت علی (ع) ہیں , والدہ حضرت عباس بی بی ام البنین (ع) ,حضرت عقیل بن ابی طالب (ع), چچا پیغمبرِ اکرم حضرت عباس بن عبدالمطلب (ع), پھوپھی پیغمبرِ اکرم حضرت صفیہ بنتِ عبدالمطلب (ع) , پسر پیغمبرِ اکرم حضرت ابراہیم (ع) , محمد بن ابی طالب المعروف حضرت محمد بن حنفیہ (ع) (آپکی والدہ کا نام حنفیہ خاتون تھا اسی نسبت سے آپ محمد بن حنفیہ کے نام سے مشہور ہیں ) , زوجِ حضرت بی بی زینب حضرت عبدالله بن جعفر طیار (ع), حضرت اسماعیل بن امام جعفر صادق (ع), دائی حلیمہ سعديہ اور اہلسنت کے امام مالک کے علاوہ  تقریباً سات ہزار صحابہ اکرام اور رشتہ دار حضرت محمد ص مدفون ہیں.

*انہدامِ جنت البقیع مختصر تاریخ*
جنت البقیع اور روضہ پیغمبرِ اکرم حضرت محمد (ص) کو منہدم کرنے کی نیت سے پہلی مرتبہ آلِ سعود و ناصبی 1220 ہجری کو مدینہ منورہ پہ حملہ آور  ہوئے یہ سلطنت عثمانیہ کا دور تھا آل سعود اور ناصبیوں نے مختلف مساجد اور مزارات کو نشانہ بنایا مگر مجموعی طور پہ اپنے ارادوں میں ناکام رہے. یہ *تحریکِ وہابیت* جو محمد بن عبد الوہاب بن شیخ سلیمان نے چلائی تھی, کا مدینہ پہ پہلا حملہ تھا. مزارات و مساجد کو جو  نقصان پہنچا, اسکی تعمیرِ نو کے لیے عثمانی حکومت نے ارادہ کیا تو شیعہ و سنی حضرات نے مل کر اسکے لیے رقم مہیا کی. مزارات کی خوبصورت اور جدید ترین تازین و آرائش کی گئ. 1344 ہجری کو جب آلِ سعود نے مکہ, مدینہ اور اطراف میں مکمل طور پہ قبضہ کر لیا تو مقاماتِ مقدسہ جنت البقیع, اصحاب اور خاندانِ رسالت کے آثار کو زمینِ حجاز سے مٹانے کا ارادہ کیا تو اسکے لیے چند ناصبی مفتیوں سے فتوئے بھی لے لیے.

*فتوے*
آل سعود نے لوگوں کی بغاوت سے بچنے کے لیے مفتیوں سے فتوئے لینے کے لیے *قاضی القضاۃ سلمان بن بلیہد* کو منتخب کیا. اس قاضی القضاۃ نے سوالات کو ایسے توڑ مروڑ کر علمائے مدینہ کے سامنے رکھا جن کے جوابات, سوالات میں ہی موجود تھے اور اندازِ بیان سے یہ واضح تھا کہ جو مزارات کو منہدم کرنے کا فتوٰی نہیں دے گا وہ قتل ہوگا. کچھ مفتیان نے ڈر کر اور کچھ نے چند سکوں کے عوض اپنا ایمان بیچ کر انہدام کے لیے فتوے دیے. یہ سوالات و جوابات مکہ مکرمہ سے جاری ہونے والے رسالے *اُم القریٰ* ماہِ شوال 1344 میں  شائع ہوئے.

*سعودی حکومت*
1205 سے 1217 ہجری تک کئی مرتبہ سعودیوں نے حجاز پہ حکومت قائم کرنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکے. آخرکار 1217 ہجری میں طائف پہ قابض ہو گے اور طائف میں موجود مساجد کو منہدم کرنے کے ساتھ ساتھ بہت سے مسلمانوں کا قتلِ عام بھی کیا. 1218 ہجری میں مکہ پہ حملہ آور ہوئے اور زم زم پہ موجود عمارت تک کو بھی گِرا دیا.

*قبرستان حجون, مکہ*
1344ہجری میں بقیع پہ حملہ کرنے سے پہلے آل سعود نے مکہ میں موجود ایک قبرستان حجون پہ حملہ کیا اور وہاں موجود مزارات کو مسمار کیا. اس قبرستان کو *جنت المعلیٰ* بھی کہا جاتا ہےاور بعد از بقیع یہ افضل ترین قبرستان ہے. حضرت محمد (ص) زیارت کے لیے جایا کرتے کیونکہ اس قبرستان میں آپکے اجداد حضرت عبد المناف (ع), دادا حضرت عبد المطلب (ع), *چچا حضرت ابو طالب (ع)* , پسرِ پیغمبرِ اکرم حضرت قاسم (ع) اور زوجہ حضرت خدیجۃ الکبری (س) مدفون ہیں.

*یوم الھدم*
یعنی 8 شوال 1344 ہجری بمطابق 21 اپریل 1925 کو عبدالعزیز بن سعود کی سربراہی میں مدینہ پہ حملہ آور ہوئے اور عثمانی حکومت کے نمائندوں کو مدینہ سے باہر نکال دیا اور دفاع کرنے والوں سے جنگ کی. اسکے بعد روضہ حضرت فاطمۃ الزہرا (س) , امام حسن (ع),امام زین العابدین (ع), امام باقر (ع) اور امام جعفر صادق (ع) منہدم کر دیا💔. بازاروں اور دوکانوں پہ لوٹ مار سمیت بوڑھے, عورتوں اور بچوں کو بے رحمی سے قتل کیا. 

*لوٹ مار*
مورخیںن کے مطابق مزاراتِ مقدسہ سے 40 صندوق ہیرے و جواہرات مرصع بہ الماس و یاقوت اتارے. 100 سے زائد قبضہ شمشیر جن کے اوپر الماس و یاقوت جڑے تھے اور وہ خالص سونے سے بنے تھے  سب لوٹ لیے.

*آیت اللہ العظمیٰ صافی گلپا ئیگانی*
دنیا تشیع کے معروف عالمِ دین, سینکڑوں کتابوں کے مولف اور  امامت ولایت کا دفاع کرنے والے آیت اللہ العظمیٰ صافی گلپائیگانی نے 8 شوال کو یومِ غم منانے کا حکم دیا ہے اور فرمایا "" متبرک روضوں کا انہدام عظیم نقصان اور مصیبت ہے. آلِ سعود و سلفیوں کی اصل فکر اسلام کو نقصان پہنچانا ہے.  اس روز انہدام کرنے والوں پر نفرین اور مذمت کرنی چاہیے. ان آثاراتِ مقدسہ کو محفوظ کرنا چاہیے تھا جیسے دوسرے ممالک نے کیا تاکہ بعد میں آنے والے مسلمان اسلام کا قریب سے مشاہدہ کر سکیں""

*قرآن اور مزارات*
سورہ کہف کی آیت 21  میں بیان ہوتا ہےکہ 
*"اور  انہوں نے کہا ان پر(غار) عمارت تعمیر کرو دوسرے گروہ نے کہا ہم انکی قبروں پہ مسجد بنائیں گے"*
سورہ کہف کی اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ قبروں پہ مساجد و عمارت تعمیر کرنا مستحب ہے اور اللہ نے اس آیت کو بلا تنقید فرمایا ہے. *یاد رہے سورہ کہف ہی وہ سورہ ہے جو بازارِ شام میں سرِ اقدس امام حسین علیہ سلام نے نیزہ پہ تلاوت فرمائی.* اسکے علاوہ تفسیر ابنِ کثیر , تفسیر کبیر, تفسیر مظہری, تفسیر روح البیان , تفسیر ابحر المحیط کے علاوہ بہت سی تفاسیر میں قبروں پہ تعمیر کو بلاتنقید بیان کیا گیاہے. ہائے افسوس کہ جسے رسول (ص) نے اپنا جگر کا ٹکڑا کہا تھا انکا مزار گِرا دیا گیا. جنکے بارے حدیث تھی جس نے فاطمہ س کو تکلیف پہنچی اسنے مجھے تکلیف پہنچائی, انکو بعد از شہادت پہ تکلیف پہنچائی گی.
سَیعلَمُ الّذینَ ظَلَموا أَی مَنقَلَبٍ ینقَلِبونَ