میں سانس نہیں لےسکتا
*میں سانس نہیں لے سکتا*
تحریر : محمد بشیر دولتی
امریکی ریاست ”منی سوٹا“ کے شہر ”مینی پولس“ میں ” کپ فوڈز اسٹور“ کا پرانہ گاہک ”جارج فلوٸیڈ“ خریداری کے لیے بیس ڈالر کا ایک بل لے کر آیا جسے کیشیٸر نے جعلی قرار دے کر فورا پولیس کو بلایا۔پولیس اس معزز مگر سیاہ فام بندے کو انتہاٸی حقارت سے پکڑتا ہے اور گاڑی کے نیچے گرا کر سفید فام پولیس افسر اپنا گھٹنا سختی کے ساتھ اس کےگردن پہ رکھتا ہے جس کے سبب وہ سانس لینے میں کافی دشواری محسوس کرتا ہے عینی شاہدین کے مطابق وہ تقریبا چار منٹ تک یونہی خود کو چھڑانے کی ناکام کوشش کرتا رہا۔مارٹن لوتھر کنگ کا خواب آنکھوں میں سجا کر وہ بے بسی سے ان ظالموں کو دیکھتا رہا اور آخر میں یہی الفاظ ادا کر کے وہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگیا کہ ”میں سانس نہیں لے سکتا“
مگر گورے آفیسر کے پتھر دل پہ کچھ اثر نہیں ہوا وہ ساکت پڑے سیاہ فام پہ یونہی مزید چارمنٹ تک بیٹھا رہا جس کے بعد ہسپتال لے جایا گیا تو وہ ”گھٹنے سے دم گٹھ کے مر چکا تھا“
یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گٸی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے امریکہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ہر طرف جلاٶ گھیراٶ اور پولیس پہ پتھراٶ کا سلسلہ شروع ہوا۔اب تک کی رپورٹ کے مطابق دوسو سے زاٸد اسٹورز اور کٸی پولیس اسٹیشن اور ہزاروں گاڑیوں کوجلا دیا گیا ہے ۔کٸی سو مظاہرین زخمی اور ہزار کے قریب گرفتار ہوچکے ہیں۔
امریکہ میں سیاہ فام نسل پہ یہ کوٸی پہلا اور آخری ظلم نہیں ہے۔ان مظالم کی ایک طویل داستان ہے۔آج بھی دنیا کو انسانیت کا درس دینے والا امریکہ اپنے سیاہ فام شہریوں پہ ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے حالیہ واقعہ اس کی ایک چھوٹی سی جھلک ہے۔انہی مظالم کے سبب اس سے پہلے بھی کٸی مرتبہ امریکہ میں میں نسلی فسادات ہوچکے ہیں۔
آج بھی محکمہ پولیس اور چند دیگر محکموں کی جانب سے سیاہ فام باشندوں کے ساتھ غلامانہ اور متعصبانہ سلوک کیا جاتا ہے۔
1862 میں غلامی کو غیر قانونی قرار دینے سے پہلے افریقہ کےجنگلات سے ان سیاہ پوست انسانوں کو شکار کر کے امریکہ لایا جاتا ، پھر وہاں غلام کے عنوان سے بیچا جاتا۔انہیں انسان کی بجاۓ ”چیز“ کہا جاتا اور ”ہیومن زو“ میں بٹھایا جاتا تھا تاکہ گورے ان سے کام لے سکے اور لطف اندوز ہوسکے۔
عظیم سیاہ فام قاٸد ”مارٹن لوتھر کنگ“ کے عدم تشدد اور مساوات کے نعرے پہ مشتمل جدوجہد کے سبب 1964 اور 1965 میں شہری حقوق اور ووٹ کا مساوی قانون جب پاس ہوا تو حالات سیاہ فام انسانوں کے لیے کچھ بہتر ہوے تھے وگرنہ بسوں میں سیٹ پہ بیٹھنے سے لے کر کسی گورے کے ساتھ دوستی کرنے کی اجازت تک نہیں تھی۔
مارٹن لوتھر کنگ کو بےلوث انسانی جدوجہد اور مساوات کی ”خواب“ دیکھنے پہ ایک نسل پرست گورے نے 4 اپریل 1968 کو گولی مار کر قتل کیا تھا۔ پھر بھی امریکی عدالت کا سیاہ فاموں کے ساتھ رویہ ایسا تھا کہ ایک سیاہ فام بندے نے عدالت میں گوروں کے برابر انسانی حقوق کا جب مطالبہ کیا تو امریکی عدالت کا یہ کہنا تھا کہ ” اگر ایک غلام کسی ایسی ریاست میں پناہ لے جہاں غلامی ممنوع ہو تب بھی وہ گوروں کے نسبت ایک آزاد شخص تصور نہیں کیا جاسکتا۔
یہ فکر اور طبقہ بندی آج بھی امریکی معاشرے میں پایا جاتا ہے ۔اگر چہ پہلی بار شکاگو کی میٸر شپ کے بعد سیاہ فام سیاست میں آگے آٸے ہیں جس کے سبب ”کونڈولیزا راٸس“ سے ” اوباما تک“ کو ایک حیثیت ملی مگر درحقیقت جن کے پاس سیاسی اثر و رسوخ یا پیسہ نہ ہو ان سیاہ فاموں کی حالت اب بھی بد سے بدتر ہے انہیں قدم قدم پہ مشکلات و تعصب کا سامنا ہے۔
وہ بیس ڈالر کا جعلی فارم غلطی سے خریداری کے لیے لے کر جاٸیں تو انہیں یوں بے دردی سے سر عام ماردیا جاتا ہے۔
یقینا جارج فلوٹیڈ کو فارم کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا وگرنہ پورے امریکہ میں یوں فساد نہ پھوٹتے ۔ان کے دم نکلنے کی جگہ پہ پھولوں کے گلدستے نہ رکھے جاتے۔ رنگ و نسل کی فرق کیے بغیر احتجاج نہیں کرتے۔
اگر ان کی شکایت ظالم پولیس کو نہ کرتے تو مشتعل افراد کپ فوڈز اسٹورز کو نہ لوٹتے۔ نہ دو سو سے زاٸد اسٹورز لوٹنے کے بعد جلا دیے جاتے۔
اگر امریکن پولیس سیاہ فاموں کے ساتھ بار بار ظلم نہ کرتے تو پانچ بڑے شہروں میں کرفیو نافذ نہ ہوتا۔ کٸی ریاستوں میں ہاٸی الرٹ نہ ہوتا۔
اگر مبحوس الحواس صدر ٹرمپ پاگل پن کا مظاہرہ کرتے ہوے یہ بیان نہ دیتا کہ ” مظاہرین نے واٸٹ ہاٶس میں داخل ہونے کی کوشش کی تو انہیں خونخوار کتوں اور جدید ہتھیاروں کا سامنا کرنا ہوگا“
تو شائد لوگ واٸٹ ہاٶس کا گھیراٶ نہ کرتے۔ اور ٹرمپ کو واٸٹ ہاٶس کے زیر زمین بنکرز میں پناہ لینے اور پھر خفیہ راستے سے بھاگنے پہ مجبور نہ ہوتا اور مظاہرین پہلی بار واٸٹ ہاٶس میں نہ گھستے۔
بقول ٹرمپ کے یہی ”خونخوار کتے“ ہیں جو خود امریکہ سے افغانستان تک عراق سے شام تک ہر جگہ انسانیت پہ حملہ آور ہیں۔ جو اپنے گھر کے افراد سے لے کر دوسرے گھروں کے مکینوں اور ان کے مہمانوں تک پہ جدید اسلحے کے ساتھ حملہ آور ہوتے ہیں۔
امریکہ میں نسلی تعصب کا اب یہ حال ہے کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق سیاہ فام بچوں کی قلت غذا ٕ کے سبب شرح اموات میں اضافہ ہوچکا ہے۔
امریکہ اب نسلی تعصب ، معاشی بدحالی اور اپنی ایجاد کردہ کورونا بیماری کی لپیٹ میں ہے جو اس کی مکارانہ ، ظالمانہ اور عوام دشمن خارجہ پالیسی اور ڈکٹیٹر شپ کو جلد از جلد نابود کرے گا انشااللہ
یہی حال اسراٸیل کا بھی ہوگا ۔چونکہ یہودی جو اپنے آپ کو دنیا کی برتر قوم ہونے کا دعوی کرتا ہے وہاں بھی پچھلے سال نسلی فسادات پھوٹ پڑے تھے جب ایک سفید فام یہودی پولیس نے ایک ایتھوپین نژاد یہودی کو گولی ماردی تھی جس کے بعد دو دن تک پورا اسراٸیل فسادات کے زد میں رہا ۔
آج تقریبا پورا امریکہ بھی ایک ہفتے سے جلاٶ گھیراٶ اور مظاہروں کی زد میں ہے۔
اگرچہ ہماری میڈیا اور ایک آنکھ والے دانشور حضرات اس پہ یوں خاموش ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو مگر خود امریکن عوام کی بیداری قابل تحسین ہے۔
امریکی عوام اس احتجاج میں اس شہید حاج قاسم سلیمانی اور ابومہندی مہندس کی تصویر لیے ہیں جنہوں نے اس ظالمانہ نظام کی بیخ کنی کے لیے اپنی جوانی اور زندگی وقف کیا تھا۔جن کی تصاویر فیس بک سمیت سوشل میڈیا پہ ممنوع قرار دیا تھا آج اسی ملک کے عوام ان کی تصاویر کے ساتھ صداۓ احتجاج بلند کرتے ہوے واٸٹ ہاٶس پہ قابض ہیں تو مجھے شھید القدس کا وہ جملہ یاد آرہا ہے جو صدر ٹرمپ سے مخاطب ہوکر کہا تھا کہ ” ہم تیرے اتنے قریب ہیں جس کا تمہیں اندازہ نہیں“
یہ عوامی بیداری امریکی حکومت کی ظالمانہ خارجہ پالیسی اور ڈکٹیرانہ خواہشات کو لگام دینے کا سبب بنے گی۔اور کوٸی سیاہ فام آنکھوں میں مارٹن لوتھر کنگ کا خواب سجا کر پھر یہ نہیں کہے گا کہ اس ظلم بربریت اور متعصب معاشرے میں ”میں سانس نہیں لے سکتا“
بلکہ وہ اس ظالمانہ و متعصبانہ نظام کو بدل دیں گے تاکہ وہ اور انکی آنے والی نسلیں عزت مندانہ سانس لے سکیں۔ ان شاء اللہ
این وبلاگ درباره قرآن ومفاهیم آن می باشد.به امید اینکه مورد استفاده علاقه مندان قرار گیرد و گامی کوچک در راستای نشر فرهنگ اسلام باشد.