#ماه_رمضان 🌙 #بہار_قرآن 

✍ پارہ9️⃣ کے دو حصے ہیں
⬅️ 1۔ سورۂ اعراف کا بقیہ حصہ
⬅️ 2۔ سورۂ انفال کا ابتدائی
 حصہ

🟢 1۔سورہ اعراف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
🔷 آسمانوں اور زمین کی برکتوں کے دروازے کھلنے کی شرائط:
🌷 ایمان
🌷 تقویٰ (آیت 96)

🔷 حضرت موسیٰ ع کے واقعات :
🔸 *دربار فرعون۔
حضرت موسیٰ ع نےفرعون سے کہا بنی اسرائیل کو میرے ساتھ جانے دو۔ فرعون نے کہا اگر سچے ہو تو دلیل لاو۔ آپ نےعصا کا اژدھا میں بدلنے کا اور ید بیضاء(چمکتے ہاتھ)کا معجزہ دیکھایا۔ جادوگر سجدے میں گر گئے۔فرعون نے قوم موسی کو 
بیٹوں کے قتل کی دھمکی دی۔
( آیات 103 - 126)
🔸آل فرعون پر قحط سالی اور پیداوار میں کمی کی آزمائشیں آئیں۔۔۔۔۔۔۔
🔸پھر آل فرعون پر مختلف عذاب آئے جیسے طوفان ، ٹڈی دل ، جوؤں ، مینڈکوں اور خون کا عذاب۔۔۔۔۔۔مگر وہ تکبر کرتے رہے۔۔۔۔۔۔ 
🔸اللہ سے عہد کرتے۔۔۔ لیکن جب عذاب دور ہو جاتا تو عہد توڑ دیتے۔۔۔ 
🔸اور بلآخر دریا میں غرق ہوگئے۔۔۔۔۔
🔸بنی اسرائیل نے اللّٰہ کی مدد سے دریا پار کر کے نجات پائی۔وہ ایک بت پرست قوم کے پاس پہنچے۔ 
انھوں نے موسی ع سے کہا کہ ہمیں بھی ایسا معبود  بنا دو۔ موسی ع نے کہا تم جاہل قوم ہو میں  *اللہ کے سوا کیسے کسی کو معبود بناوں*۔
(آیت 103- 140)
🔸 *حضرت موسیٰ ع کا کوہ طور پر چالیس راتوں کا میعاد*
🔸اپنے بھائی حضرت ہارون ع کو اپنا جانشین مقرر کیا۔۔۔
🔸انکے رب نے ان سے کلام کیا۔۔۔۔
🔸تجلی پروردگار اور حضرت موسیٰ ع کا بے ہوش ہونا۔۔۔۔۔
🔸خدا کا توریت کی تختیوں پر نصیحتیں اور دیگر تفصیلات دینا۔۔۔۔۔۔
🔹 *گوسالہ کی پرستش:*
حضرت موسیٰ ع کے کوہ طور پر جانے کے بعد قوم نے حضرت ہارون کی ایک نہ سنی اور گوسالہ کی پوجا شروع کر دی۔۔۔۔۔۔
حضرت موسیٰ ع کا واپس آ کر سخت ناراض ہونا اور قوم کا توبہ کرنا ۔۔۔۔
( آیات 148 -- 154)
🔷 *بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے:*
🌼 خدا کے حکم سے ان کے لئے بارہ چشمے جاری ہوئے۔
🌼ان کے لیے من سلویٰ نازل ہوا۔
🌼پھر بھی خدا کی نافرمانی کی اور ان لوگوں نے اپنے اوپر ظلم کیا۔(آیت 160)

🔷 *یوم سبت کا جرم:* 
🌼بستی (ایلہ) کے لوگ حکم خدا کے بر خلاف ہفتے والے دن مچھلیاں پکڑتے تھے۔کیونکہ اس دن بہت ذیادہ مچھلیاں آتی تھی۔
🌼 *اصحاب سبت* کے بارے میں لوگوں کے دو گروہ ہوگئے۔
🔅وہ جنہوں نے وعظ و نصیحت پر امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کیں
🔅دوسرے گروہ  جس نے عدم تاثیر کا بہانہ کرکے نصیحت نہ کرنے کا عذر پیش کیا۔
پہلے گروہ نے نجات پائی اور دوسرا گروہ غذاب میں مبتلا ہو کر بندر بن گیا۔(آیت 163-166)

🔷 *بنی اسرائیل کے ناخلف لوگ:* 
  یہ گروہ 
🔅کتاب خدا کے وارث بن کر  
🔅دنیاوی مال و متاع سمیٹتے تھے اور 
🔅کہتے تھے کہ بخش دیئے جائیں گئے
🔅یہ لوگ کتاب پڑھ چکے تھے
🔅اور ان سے عہد لیا گیا تھا کہ وہ حق بات کریں گے۔(آیت 169)

🔷 *اصلاح کرنے والوں کی صفات:* 
🌼وہ جو کتاب خدا سے متمسک رہتے ہیں۔
🌼 نماز قائم کرتے ہیں ۔
🌼خدا ان کا اجر ضائع نھیں کرتا(آیت 170)

🔷 *انسان کی فطرت اور جبلت میں اللہ کی ربوبیت کا اقرار:* 
(خالق نے تخلیق اولاد آدم کے وقت خود انکو گواہ بنا کر ان سے پوچھا تھا)کیا میں تمھارا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا تھا: ہاں! ہم اسکی گواہی دیتے ہیں(تو ھمارا رب ہے)۔۔۔۔ 
 🌺 *مطلب:* انسان پیدائشی طور پر اللہ کو پہچانتا ہے۔ دنیا میں آکر اسکی یہ پہچان ضعیف ہو جاتی ہے اور جب اس پر مشکلات آتی ہیں اور وہ دنیا سے منقطع ہوتا ہے تو فقط اللہ کو حاضر جانتا ہے۔

🔷 *بدترین مثال:* 
اور انھیں اس شخص( *بلعم باعور* )کا حال سنا دیجئے جسے ہم نے اپنی آیات (اسم اعظم) دیئے تھے لیکن شیطان نے اسے گمراہ کر دیا تھا، وہ اپنی خواہشات کا تابع ہو گیا تھا لہذا اسکی مثال کتے کی سی ہو گئی۔۔۔
آپ انھیں یہ قصے سنا دیجئے کہ شاید وہ فکر کریں۔
بدترین مثال ان لوگوں کی ہے جو
🔅ہماری آیات کی تکذیب کرتے ہیں اور
🔅اپنے نفسوں پر ظلم کرتے ہیں۔(آیت 175-177) 

🔷 *غافلوں  کی صفات:* 
⁦◼️⁩اکثر جن اور انس جو جہنم ہی کیلئے پیدا کئے گئے ہیں:
🌼ان کے پاس دل ہیں مگر سمجھتے نہیں۔
🌼آنکھیں ہیں مگر دیکھتے نہیں۔
🌼کان ہے مگر سنتے نہیں۔
🌼یہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر ہیں ۔
(آیت 179)

🔷 *زیباترین نام اللّٰہ کے لئے ہیں:* 
اللّٰہ کے لیے اسمائے حسنیٰ ہیں۔ جو ان اسماء کے ساتھ دعا کرے اس کی دعا قبول ہوگی۔
🌸روایات میں اللہ کے 99 نام ہیں۔
یہ آیت دعا کے لیے وسیلہ پر ایک دلیل ہے۔(آیت 180)

🔷 *جماعت حق:* 
🌼یہ جماعت
 حق کے مطابق ہدایت کرتی ہے اور اسی کے مطابق عدل۔(آیت181 )
🌸 حضرت علی ع سے روایت ہے  یہ امت 73 فرقوں میں بٹ جائے گی سب جہنمی ہوں گے سوائے اس فرقے کے جس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔

🔷 *قیامت کے وقت کا علم* صرف خدا کو ہے وہ ایک ناگہاں بڑا حادثہ ہوگا۔۔۔(آیت 187)

🔷 *معجزے کے طلبگاروں کو خدا کا جواب:* 
🌼رسول اکرم ص فقط وحی کے پابند ہیں(نہ کہ کفار کے فرمائشی معجزات کے)۔ قرآن خدا کی طرف سے باعث بصیرت اور مومنین کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔(آیت 203)

🔷 *قرآت قرآن کا ادب:* 
🌼 *قرآن کی آواز سنائی دے رہی ہو تو اس وقت توجہ اور خاموشی کے ساتھ سننا چاہیے شاید یہ باعث رحمت ہو*۔(آیت 204)

🔷 *اللّٰہ کے حضور حاضر ہونے والوں کی صفات:* 
🌸 عبادت کرنے میں نہیں اکڑتے۔
🌸 اللّٰہ کی تسبیح کرتے ہیں۔
🌸 اللّٰہ کے سامنےسجدہ ریز ہوتے ہیں۔(آیت 206)
--------------------------------------

🟢 *2.سوره انفال۔۔۔۔۔۔۔۔*

🔷 *انفال:* 
جنگ میں مال غنیمت کے متعلق سوال کے جواب میں اللہ نے فرمایا
🌼انفال صرف اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔
🌼تم اللہ کا خوف کرو
🌼باہمی تعلقات مصالحانہ رکھو
🌼اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔(آیت 1)
🌸( انفال یعنی زائد چیز۔ جنگی غنیمت کو انفال اس لیے کہا جاتا ہے کہ مسلمان راہ خدا میں لڑتے ہیں اور غنیمت ایک اضافی انعام ہے)

🔷 *حقیقی مومنین کی صفات:* 
🌷 اللہ کے ذکر سے ان کے دل کانپ جاتے ہیں۔
🌷 آیات کی تلاوت سنائی جائے تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔
🌷اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔
🌷 نماز قائم کرتے ہیں۔ 
🌷 راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں۔
🌷 یہی حقیقی مومن ہیں جو اللّٰہ کے پاس درجات ، مغفرت اور باعزت رزق پاتے ہیں (آیت 2-4)

🔷 *جنگ بدر کا قصہ:* 
🌼دو گروہ دشمن کے:
ایک گروه تجارتی قافلے سے تھا دوسرا لشکر قریش سے تھا۔
مسلمان چاہتے تھے تجارتی قافلے پر حملہ کیا جائے (تاکہ سامان ہاتھ آئے۔)
خدا چاہتا تھا کہ لشکر کا مقابلہ کرکے ایک فیصلہ کن جنگ کی جائے۔(آیت 7)
🌼 *خدا کی جانب سے نصرت:*
اللّٰہ نے ایک ہزار فرشتوں اور بارش کے ذریعے سے مدد کی
مسلمانوں کو بشارت اور انھیں اطمینان قلب حاصل ہوا۔اللہ بے فرشتوں کے ذریعے مسلمانوں کو ثابت قدم رکھا اور کافروں کے دلوں میں انکا رعب ڈالا۔۔۔(آیت 9-12)
🌼خداوندعالم نے میدان جنگ  میں ثابت قدم رہنے کا حکم دیا ۔بزدلوں کی طرح جنگ سے بھاگ جانے والوں کو عذاب کا حقدار ٹھہرایا۔(آیت15 -16)
🌼انھیں تم(مسلمانوں)نے قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے قتل کیا اور (اے رسول)آپنے کنکریاں نہیں پھینکیں بلکہ اللہ نے پھینکی تاکہ مومنوں کو بہتر آزمائیں۔(کافروں سے کہہ دیں)تمہاری کثیر جماعت بھی تمھارے کسی کام نہیں آئے گی اور اللہ مومنوں کے ساتھ ہے۔اے ایمان والو! اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کرواور حکم سننے کے بعد اس سے روگردانی نہ کرو۔(آیت 17-20)

🔷 *ایمان والوں کو ہدایت:* 
🌼اے ایمان والو! اللّٰہ اور رسول ص جب حیات آفرین (دینی باتوں) کی طرف بلائیں تو لبیک کہو۔
🌼 اللّٰہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے۔ 
🌼(قیامت میں) سب اللہ کی طرف جمع کئے جاؤ گے۔(آیت 24)

🔷 *اس فتنے سے بچو*
جس کی لپیٹ میں ظالم ہی نہیں بلکہ(سب) آئیں گے۔۔۔۔(آیت 25)
(کچھ برے کام ایسے ہوتے ہیں جس کی لپیٹ میں پورا معاشرہ آتا ہے۔ اللہ نے اسے فتنے سے تعبیر کیا ہے۔)

🔷 *مال اور اولاد خدا کی جانب سے آزمائش ہیں*۔(آیت 28)

🔷 *ہجرت مدینہ:* 
کفار کی جانب سے حضور ص کے قتل کی سازش کے مقابلے میں اللہ کی تدبیر۔۔۔(آیت 30)
🌸 حضرت علی ع ہجرت کی رات حضور کے بستر پہ سو گئے اور آقا ص محفوظ رہے اور اللّٰہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔ 

🔷 *غدیر* کے میدان میں حضرت علی ع کی ولایت کے اعلان کو قبول نہ کرنے والے پر اللہ کی طرف سے آسمان سے عذاب نازل ہونے کا واقعہ۔ (آیت 32)یہ شخص حارث بن نعمان فہری تھا۔ 

🔷اللہ ان پر اس وقت تک (اجتمائی) عذاب نازل نہیں کرے گا جبتک آپ انکے درمیان موجود ہیں اور جب تک وہ استغفار کر رہے ہیں۔(آیت 34)

🔷 *مسجد الحرام کے متولی* بننا متقین کے ذمے  ہے وہ نہیں جو اسکا رستہ روکتے ہیں۔(آیت 34)
 🌸 _روایات نے ان متقیوں کو مشخص کرتے ہوئے حضرات علی، حمزہ، جعفر، عقیل کو بیان کیا اور بعض میں "آلِ محمد" کو بھی کہا گیا۔_ 

🔷 *اسلام کا بنیادی اصول:* 
تم کافروں سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سارا اللہ کیلئے خاص ہو جائے۔(آیت39) 
🤲 التماس دعا
•┈┈•┈•┈•⊰✿✿⊱•┈•┈•┈┈•