خاتون آھن🥀

      بانو مرضیہ حدید چی دباغ 

ساواک کے عقوبت خانے میں انقلابیوں پر کیا گزری 🔥


        قسط نمبر 5✍️


وہ پہلی رات جیل میں  رضوانہ کے لیے انتہای بھیانک  رات تھی اسکا پورا وجود خوف سے لرز رہا تھا ۔
اور وہ اپنے ہاتھوں کو میرے ہاتھوں سے مسل رہی تھی.
 ان جلادوں نے ہمارے سر سے چادر کھینچ لی،
  ہم نے جلدی سے کمبل سے سر ڈھانپ لیے. 
تو انہوں نے ہمارا بہت مذاق اڑایا وہ ہم سے کہہ رہے تھے؛ اپنے خمینی

 سے کہو تمہاری چادر واپس دلایں.
 جس رات یہ لوگ رضوانہ کو گرفتار کرکے لاے ہیں انہوں نے چند موٹے موٹے چوہے ہمارے کمرے  میں چھوڑ دیئے،
 رات بھر یہ چوہے اس چھوٹے سے تاریک کمرے کی دیوار سے اوپر نیچے دوڑتے رہے اور رضوانہ خوف سے چیخیں مارتی مجھ سے لپٹی رہی . 
اور ماما  ماما  کرتی رہی. 
میں نے رضوانہ کو اپنے کمبل میں لے لیا اور آھستہ آھستہ اسے آنے والے  کڑے امتحان کے لئیے آمادہ کرنے لگی. 

وہ بھیانک  رات کسی طرح ختم ہوی
. صبح ہوتے ہی یہ جلاد ہمیں لینے اگیئے. 
ہم نے کمبل سے اپنے سر ڈھانپ لیے. ان خبیثوں نے ہمارے سر سے کمبل بھی اتار لیئے اور مسلسل ہمارا مذاق بناتے رہے.
 انہوں نے لاتوں،  گھونسوں سے ہمارا حال برا کیا؛میں تو پہلے  ہی اتنی زخمی تھی ۔ 
انہوں نے رضوانہ سے پوچھ گچھ شروع کی ۔ 
 اس بچی کے پاس کہنے کے لیئے کچھ بھی نہیں تھا، اسے کسی قسم کی اطلاعات نہیں تھیں اور نہ ہی وہ سیاسی سرگرمیوں میں تھی. 
انہیں جب رضوانہ سے  کچھ حاصل نہیں ہوا تو انہوں نے رضوانہ کو مجھ سے الگ کر دیا. 
کچھ دیر بعد ہی رضوانہ کی دلخراش چیخوں سے جیل کے در و دیوار ہل رہے تھے ۔.

ادھر میں اس کی دلخراش چیخوں سے تڑپ رہی تھی
 اور خدا سے اپنے اور اس بچی کے لیئے  موت طلب کررہی تھی 
. میرے جسم پر لگے زخم سڑ  گیے تھے ۔ ان میں پس پڑ گئ تھی ۔
 اور ان میں سے تعفن اٹھ رہا تھا اس حد تک کہ یہ جلاد بھی میرے پاس کھڑے ہونے سے گریز کر رہے تھے.
 وہ کچھ دیر بعد رضوانہ کو زخمی حالت میں  سسکتا ہوا میرے پاس پھینک گیئے میں نے رضوانہ کو اپنے سے لپٹا لیا ۔
 اپنی تکلیفیں بھول کر رضوانہ کو تسلیاں دیتی رہی. 
دن ڈھلا، بھیانک رات پھر اپنے بال بکھیرے ہمارے سر پر آکھڑی ہوی. 
یہ درندے آکر رضوانہ کو گھسیٹ کر لے جانے لگے. رضوانہ مجھے چمٹتی تھی؛ اور ماما مجھے بچالو، ماما مجھے بچالو کی آوازیں لگا تی  تھی. 

اے خدا مجھے میری بچی سے ملا دے. مجھے موت دے دے مجھ سے اپنی بچی کی یہ تکلیف برداشت نہیں ہورہی ۔ میں تڑپ رہی تھی اور اپنا سر کمرے کے دروازے سے ٹکرا رہی تھی ۔

اچانک......... 

مجھے دلنشین آواز میں تلاوت قرآن کی آواز سنای دی

 《واستعینوا بالصبر الصلوۃ و انھا لکبیرہ الاعلی الخاشیعین 》
آیت اللہ ربانی شیرازی، جو اسی کوریڈور کے ایک کمرے میں قید تھے، 
اپنی دلسوز اور درد ناک آواز میں قرآن پاک کی تلاوت کرکے، مجھے اس طرح سے تسلی دے رہے تھے. 
جس جلتی ہوی آگ میں، میں کھڑی تھی، اس آواز نے میرے اوپر پانی سا ڈال دیا. 
میں زمین پر بیٹھتی چلی گئ. میں کچھ پرسکون سی بھی ہو گئ اور شرمندہ بھی، 
کیا میرے اوپر پڑنے والے مصائب، میری شھزادی زینب کے مصائب سے زیادہ ہیں . 
جو میں اس طرح سے نالہ و فریاد کررہی ہوں.
 میں نے ایک بار پھر اپنے آپ کو سمیٹا اور خدا سے ہمت اور صبر کی دعا کرنے لگی، 
صبح ہوی تو  یہ لوگ مجھے جیل میں بنے ہاسپٹل میں ڈال گئے، 
مجھے رضوانہ کا کچھ پتا نہیں تھا کہ وہ کہاں ہے اور کس حال میں ہے. 🌷🍃 

(جاری ہے۔۔۔۔ )