خاتون آھن⭐

بانو مرضیہ دباغ 

            قسط نمبر 12  ✍️

 بانو مرضیہ دباغ اپنی یاداشت میں ایک مقام پر لکھتی ہیں : 

82 19 میں مکہ میں شھدا کے اہل خانہ کی سرپرستی میرے حوالے کی گئ. 
ایک روز ہمارے  گروپ  کی ایک خاتون میرے پاس آیئں اور کہا کہ ;
 ایک عرب خاتون میرے پاس آیئں ہیں اور کہہ رہی ہیں؛ 
 یہاں پر آپ کی جو سربراہ ہیں میں ان سے ہر حال میں ملنا چاہ رہی ہوں!  
میں نے اس عرب خاتون سے ملاقات کی. 
اس خاتون نے تقریبا ایک کلو کے قریب سونا میرے حوالے کیا اور کہا : 
یہ سونا یہاں کی شیعہ خواتین نے محاذ کے لیے جمع کیا ہے، آپ اپنے ساتھ ایران لے جایے گا ۔

 اسکے بعد اس خاتون نے مجھ سے کہا کہ : 
آپ لوگوں کو سید علی خامنہ ای کو امام کا جانشین بنانا چاہیے تھا.

 وہ آغاے  منتظری سے زیادہ، رھبری کی شرائط پر پورے اترتے ہیں ( رھبر ان دنوں ایران کے صدر تھے ) میں نے یہ سن کر تیز لہجے میں ان خاتون سے کہا کہ :
 ہم اپنے ملک کے اندرونی مسائل میں دخالت کی کسی کواجازت نہیں دے سکتے. 
وہ خاتون یہ سن بولی، کہ ولی فقہہ پوری عالم تشیع سے تعلق رکھتا ہے. 
اس خاتون نے جو سونا مجھے دیا تھا وہ میں نے مکہ میں امام کے نمائیندے کے حوالے کردیا. 
میں جب واپس ایران آی تو میں نے امام سے خاتون کی اس بات کا ذکر نہیں کیا،
  کونکہ امام پہلے ہی بہت سی باتوں کی وجہ سے رنجیدہ تھے. بعد میں جب اسی حوالے سے مسائل پیش آے اور مجھ تک بھی خبریں پہنچیں تو مجھے ایک دم اس عرب خاتون کی بات یاد آگئی. 
وہ صحیح کہہ رہی تھی اس دنیا میں بسنے والے ہر شیعہ کا مستقبل امام کی ذات سے جڑا ہوا تھا. 
اس واقع کو کچھ عرصہ گزرا تھا. امام کی صحت گری گری رہنے لگی تھی. 
ایک بار آیت اللہ خامنہ ای جو اسوقت ملک کے صدر تھے  جنوبی کوریا، سرکاری دورے پر گیئے. ٹی وی سے ان کے متعلق رپورٹ نشر ہو رہی تھی اور رہبر کی وہاں کے صدر سے ملاقات کی فلم بھی دکھای جارہی تھی .
 میں بھی امام کے اور آپ کے اہل  خانہ کے ہمراہ یہ رپورٹ  دیکھ رہی تھی،  
اچانک امام نے اپنے فرزند 《احمد خمینی 》سے فرمایا : دیکھو ۔
《قیادت 》
سید علی کی شخصیت پر کس حد تک پوری اترتی ہے. سید احمد خمینی نے جواب میں کہا : 
آقا جان!
  آپ کا جملہ معنی خیز ہے......
 مگر امام نے ان کی بات کا کوی جواب نہیں دیا.
 امام کی بات سن کر میری آنکھوں میں آنسو آ گیئے. امام اس دنیا میں نہ ہوں اور میں زندہ رہوں یہ تصور ہی میرے لیئے درد ناک تھا. 
اس بات کو کچھ مہینے گزرے تھے
، میں شیراز سیمنار میں گئ ہوی تھی، کہ امام کی رحلت کی خبر مجھے ملی، 
میرے دونوں پاوں بے حس ہو گیئے اور میں زمین پر گر پڑی،  مجھے فورا اٹھا کر ہاسپٹل لے گیئے، 
میری دونوں ٹانگوں پر پلاسٹر چڑھا دیا گیا. دوسرے دن مجھے ویلچئر پر جماران لے گئے
، میں امام کے کمرے کے در و دیوار سے لپٹ کر روتی رہی. امام
کے بعد جیسے میری دنیا  تاریک ہوگئ تھی ۔
مغرب عشا کے بعد مجھے امام عزیز کے آخری دیدار کے لیئے ویلچئر پر مصلی لے گیئے. 
جہاں میں نے امام کے پیکر مطہر کو الوداع کہا،
 میں آج بھی اپنی زندگی میں امام عزیز کی کمی کو محسوس کرتی ہوں.

جاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔