عراقی پارلیمانی انتخابات
عراق کے پارلیمانی انتخابات میں اسلام پسند جماعتوں کی کامیابی اور مغرب نواز قوتوں کی شکست.
✍️ تجزیاتی رپورٹ: سید محمد رضوی.
عراق میں اتوار کے دن پانچواں پارلیمانی الیکشن منعقد ہوا.
عراقی پارلیمنٹ کی کل 329 نشستیں ہیں.
نئی قانون اصلاحات کے تحت ملک کو 83 حلقوں میں تقسیم کیا گیا ہے، اور 18 صوبوں میں سے ہر ایک کو آبادی کے لحاظ سے سیٹیں دی گئی ہیں، جن میں سب سے زیادہ سیٹیں صوبہ بغداد کے حصے میں آئی ہیں.
جب کہ اس سے پہلے متناسب نمائندگی کا قانون نافذ تھا اور صوبوں کی تعداد کے مطابق ملک کے 18 انتخابی حلقے تھے.
اور رائے دہندگان صوبے کی تمام نشستوں کے لئے اپنی پسند کے امیدواروں کو ووٹ دیتے تھے.
الیکشن کے ابتدائی نتائج کے مطابق شیعہ جماعتوں میں مقتدی الصدر کی جماعت التيار الصدري 73 نشستوں کے ساتھ سرفہرست ہے.
سابق وزیر اعظم نوری المالکی کے الائنس دولة القانون کو 37 سیٹیں ملی ہیں.
ہادی العامري کا الفتح الائنس 14، الامتداد (تسلسل) تحریک 19 اور العزم اتحاد 15 سیٹوں پر کامیاب ہوئے ہیں.
عمار الحکیم کی جماعت تیار الحکمت اور سابق وزیر اعظم حیدر العبادي کی پارٹی النصر کو 2، 2 نشستیں ملی ہیں.
سابق اسپیکر محمد الحلبوسی کا سنی اتحاد التقدم (ترقی) الائنس 38 نشستوں پر کامیاب ہوا ہے.
جب کہ کرد آبادی والے حلقوں میں نچروان بارزانی کی کرد ڈیموکریٹک پارٹی کو 32 نشستیں ملی ہیں اور طالبانی کی کرد نیشنلسٹ پارٹی نے 15 سیٹیں جیتی ہیں.
اس کے علاوہ متعدد آزاد امیدواروں کو بھی کامیابی حاصل ہوئی ہے.
الیکشن کی خاص بات یہ ہے کہ شیعہ حلقوں میں اسلام پسند سیاسی اتحادوں کو کامیابی ملی ہے اور غیر متوقع طور پر امریکہ اور مغربی طاقتوں کے حمایت یافتہ امیدواروں کو بری طرح شکست ہوئی ہے.
ان میں نجف کے سابق گورنر عدنان الزرفی بھی شامل ہیں.
ان امیدواروں پر مغربی و عرب ممالک نے گزشتہ چند سالوں میں بڑی سرمایہ کاری کی تھی.
شیعہ اسلامی جماعتیں پارلیمنٹ میں اکثریتی اتحا تشکیل دے کر حکومت بناسکتی ہیں.
کرد رہنما نچروان بارزانی نے بھی حکومت کے قیام میں شیعہ جماعتوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے.
واضح رہے کہ عراقي صدر کی طرف سے شیعہ اکثریتی جماعت کو وزیر اعظم کے عہدے اور حکومت کی تشکیل کی دعوت دی جاتی ہے اور اسپیکر کا عہدہ سنیوں کو دیا جاتا ہے، جب کہ صدارت کا عہدہ کردوں کو ملتا ہے.
لہذا وزیراعظم متوقع طور پر تیار الصدري کا کوئی رہنما بن سکتا ہے.
جب کہ محمد الحلبوسی کا دوبارہ اسپیکر بننا تقریباً یقینی ہے.
مگر اس مرتبہ بارزانی کی کرد ڈیموکریٹک پارٹی نے صدارت کے عہدے کے لئے دیگر کرد جماعتوں کو مراعات دینے کے بجائے یہ عہدہ خود رکھنے کا عندیہ دیا ہے.
اس سے پہلے صدر کا عہدہ کرد حلقوں کی باہمی مفاہمت سے طالبانی کی جماعت کرد نیشنلسٹ پارٹی کو ملتا تھا.
نئی عراقی حکومت کو کرپشن کی روک تھام اور بجلی، گیس و دیگر ضروریات کی فراہمی کو یقینی بناتے ہوئے اقتصادی صورتحال بہتر بنانے کے علاوہ ملک کو مغربی اور عرب ممالک کی طرف سے درپیش چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا، جن میں سرفہرست صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کے قیام کا مسئلہ ہے.
لیکن جن سیاسی پارٹیوں کو کامیابی حاصل ہوئی ہے، وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مخالف ہیں.
جہاں تک امریکی فوج کے انخلا کا تعلق ہے، موجودہ وزیر اعظم مصطفی الکاظمی کے اعلان کے مطابق اس سال کے آخر تک فوجی مشیروں کے سوا امریکی فورسز عراق چھوڑ کر چلی جائیں گی.
عراق سے امریکی افواج کے انخلا کی قرارداد گزشتہ پارلیمنٹ میں منظور ہوئی تھی.
این وبلاگ درباره قرآن ومفاهیم آن می باشد.به امید اینکه مورد استفاده علاقه مندان قرار گیرد و گامی کوچک در راستای نشر فرهنگ اسلام باشد.