جوان اور معاشرہ
☀️جوان اور معاشره☀️
📌انتظار کا مسئلہ مکمل طور پر ایک *اجتماعی* مسئلہ ہے اور وه بھی *پوری انسانیت* کی حد تک پھیلا اجتماعی مسئلہ.
✅جوان بھی معاشرے سے گہرا لگاؤ رکھتا ہے. اس کے لیے دوسرے افراد انتہائی اہم ہیں. اگر وه دوسروں پر ظلم ہوتے دیکھے تو وه برداشت نہیں کر سکتا. جوان ابھی تک خودغرضی کے خول میں دبا نہیں ہوتا. لوگ عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ خودغرضی کا شکار ہوتے جاتے ہیں.
👈ضروری ہے کہ جوان پر خودغرضی کے غلبہ پانے سے پہلے اس کے دل میں "پوری انسانیت کے ظلم سے نجات حاصل کرنے کا انتظار" مضبوط کر دیا جائے.
‼️معاشره ایک جوان کی نظر میں اس کی ترقی کے لیے ایک معمولی وسیلہ شمار نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات خود یہ جوان اس معاشرے کی ترقی کو اپنا مقصد بنا لیتا ہے اور خود کو اس مقصد کے لیے قربان کر دیتا ہے.
💭جوان جب اپنے گھر والوں سے ہٹ کر مستقل ہونا چاہتا ہے تو اس کی معاشرے کی طرف رغبت اپنے هم عمر دوستوں کی طرف رغبت سے شروع ہوتی ہے. لیکن پھر وه اسی گروه میں ہی باقی نہیں رہتا بلکہ تیزی سے معاشرے کی طرف رغبت پیدا کر لیتا ہے، اور اگر اس کے پھلنے پھولنے کا راستہ سلامتی کے ساتھ طے ہو تو وه ایک *عالمی انسان* بن جائے گا.
📣فرج کے انتظار سے مراد پوری دنیا کو خوش قسمت بنانا ہے. اب اس انتظار سے بڑھ کر اور کونسی ایسی چیز ہے جو ایک جوان میں پائی جانے والی "معاشرے کی رغبت" کی پیاس کو سیراب کر سکے؟!
حجت الاسلام علی رضا پناهیان
#مهدویت
#جوانی_اور_انتظار
#عوامانہ_عالمانہ_عارفانہ_انتظار
#اللهم_عجل_لولیک_الفرج
این وبلاگ درباره قرآن ومفاهیم آن می باشد.به امید اینکه مورد استفاده علاقه مندان قرار گیرد و گامی کوچک در راستای نشر فرهنگ اسلام باشد.