الله کی محبت
🌷مرکز و محور: الله کی محبت🌷
📌وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلَّهِ ۗ (سوره بقره: 165) یعنی "جو صاحب ایمان ہیں وہ سب سے بڑھ کر خدا سے محبت کرتے ہیں".
👈اس آیت کا پیغام یہ ہے کہ جو قرآنی زندگی گزارنا چاہتا ہے اس کی تمام محبتوں کا مرکز و محور خداوندِ عالم کی ذات ہے اور ضروری ہے کہ اس کی تمام محبتیں اور پسندیدگیاں الله تعالی پر ہی ختم ہوں.
📝امیرالمؤمنین علیؑ ابن ابی طالبؑ فرماتے ہیں کہ: مَن أحَبَّنا كانَ مَعَنا يَومَ القِيامَةِ ، ولَو أنَّ رَجُلاً أحَبَّ حَجَرًا لَحَشَرَهُ اللّه ُ مَعَهُ (الامالی، ص 209) یعنی "جو بھی ہمیں دوست رکھے گا وه روز قیامت ہمارے ساتھ ہو گا اور حتی اگر کوئی کسی پتھر سے بھی محبت کرے تو خدا اسے اس پتھر کے ساتھ محشور کرے گا".
❄️محبت اور پسندیدگی میں ایسے اثر کا موجود ہونا اس بات کا سبب بنتا ہے کہ مومنین خدا کے علاوه کسی کو محبوب نہ بنائیں اور اسلامی معاشرے کی محبت اور پسندیدگی کا رخ الله تعالی کی طرف ہو.
💭اس لحاظ سے غیر ایمانی معاشرے کا ایمانی معاشرے کے ساتھ فرق یہ ہے کہ غیر ایمانی معاشرے میں سینما کے فنکار اور کھیلوں کے کھلاڑی اس مجموعے اور تمدن کے ستارے ہوتے ہیں اور لوگوں کے درمیان سب سے زیاده محبوبیت کے حامل ہوتے ہیں لیکن دینی معاشرے میں جہاں پسندیدگی کا مرکز و محور خداوندِ عالم کی ذات ہے، علماء اور دینی قائدین لوگوں کی محبت کا مرکز قرار پاتے ہیں کیونکہ وه لوگوں کو خدا کی یاد دلاتے ہیں اور لوگوں کو الہی تعلیمات سکھاتے ہیں.
📚قرآنی طرز زندگی، ص 32
مؤلف: حجت الاسلام ابوالقاسم دولابی
#تفسیر_قرآن - 196
#سپاره_2_کے_منتخب_پیغامات
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
این وبلاگ درباره قرآن ومفاهیم آن می باشد.به امید اینکه مورد استفاده علاقه مندان قرار گیرد و گامی کوچک در راستای نشر فرهنگ اسلام باشد.