معرفت امام زمانہ عج
🌼🌸 معرفتِ امام زمانہ عج🌸🌼
قسط نمبر 24
انصارِ مھدی عج
امام مھدی عج کے انصار کیسے ہوں گے ؟؟؟
اگر ہم امام عج کی نصرت کرنا چاہتے ہیں یا کر رہے ہیں تو ہمارے دماغ میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ امام زمانہ عج کے حقیقی انصار کیسے ہوں گے ؟
تو اس کا جواب پانے کے لیے ہم آئمہ معصومین علیہم السلام کی طرف رجوع کریں گے ۔
اگر ہم تاریخ کی ورق گردانی کریں تو ایک واقعہ ہمارے سامنے آتا ہے جس میں ایک شخص" *سہل بن حسن خراسانی" امام جعفر صادق ع* کے پاس آیا اور عرض کیا :
" *آپ ٔ کیلیے کونسی چیز اپنے مسلّم حق (حکومت) کے حصول کے لیے مانع ہے ، جبکہ آپ ٔ کے ایک لاکھ شیعہ ، تلوار چلانے والے اور آپ ٔ کی خدمت کے لیے تیار ہیں؟؟*
امام علیہ السلام نے حکم دیا کہ تنور روشن کیا جائے اور جب اس سے آگ کے شعلے باہر نکلنے لگے تو آپ ٔ نے سہل سے فرمایا : *اے خراسانی اٹھو اور تنور میں کود جاو ۔*
سہل کا گمان تھا کہ امام علیہ السلام اس کی باتوں سے ناراض ہو گئے ہیں چنانچہ وہ معافی طلب کرنے لگا اور عرض کی: *آقا مجھے معاف فرما دیں مجھے آگ میں ڈال کر سزا نہ دیں*
امام ٔ نے فرمایا : میں تم سے درگزر کرتا ہوں ۔ اتنے میں *ہارون مکی* آ پہنچے جو امام علیہ السلام کے حقیقی شیعہ تھے ۔ انہوں نے امام ٔ کو سلام کیا ، امام نے سلام کا جواب دیا اور بغیر کسی مقدمہ کے فرمایا : *اس تنور میں کود جاو !*
ہارون مکی فوراً چوں چرا کیے بغیر اس تنور میں کود پڑے اور امام علیہ السلام اس خراسانی سے گفتگو میں مشغول ہو گئے اور خراسان کے واقعات ایسے بیان کرنے لگے جیسا کہ امام علیہ السلام خود ان واقعات کے شاہد ہوں کچھ دیر بعد امام علیہ السلام نے فرمایا *: *اے خراسانی اٹھو اور تنور کے اندر جھانک کر دیکھو*
سہل اٹھے اور تنور کے اندر ہارون کو دیکھا کہ جو آگ کے شعلوں کے درمیان دو زانو بیٹھے ہوئے ہیں!*
امام علیہ السلام ںے اس سے سوال کیا : *خراسان میں ہارون کی طرح کتنے لوگوں کو پہچانتے ؟! خراسانی نے جواب دیا :خدا کی قسم میں تو ایسے کسی ایک شخص کو بھی نہیں جانتا ۔*
امام علیہ السلام نے فرمایا : *یاد رکھو ! جب تک ہمیں ایسے پانچ ناصر و مددگار نا مل جائیں اس وقت تک ہم قیام نہیں کرتے ہم بہتر جانتے ہیں کہ کب قیام اور انقلاب کا وقت ہے ۔*
📗 *(سفینۃ البحار جلد 8 صفحہ 681)*
عزیزان من !
اس واقعہ سے ہم پر عیاں ہوتا ہے کہ امام زمانہ عج کو کیسے انصار و مددگار کی ضرورت ہے جن کے ساتھ مل کر وہ قیام کریں گے ۔
سب سے پہلے ضرورت اس بات کی ہے ہم مخلص بنیں ۔ ہمارے لیے حجتِ خدا کا حکم ، حکمِ خدا کے معنی رکھتا ہو ۔ اگر ہم تاویلیں پیش کرنے لگے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نا تو ہمیں معرفت حاصل ہوئی اور نا ہی ہم امام ٔ کی محبت میں گرفتار ہیں ۔
*امام جعفر صادق* علیہ سلام نے فرمایا:
" *امام مھدی عج کے انصار و مددگار جنگ کے میدان میں آپ کے چاروں طرف حلقہ بنائے ہوئے ہوں گے اور اپنی جان کو سپر بنا کر اپنے امام ٔ کی حفاظت کریں گے "* (📗بحارالانوار جلد 52 ص308)
ایک اور مقام پر امام جعفر صادق علیہ سلام یہ فرماتے ہیں کہ :
*"وہ(انصار مھدی) راہِ خدا میں شہادت پانے کی تمناء کریں گے "*
(📗بحارالنوار جلد 52 ص 308)
جاری ہے۔۔۔
این وبلاگ درباره قرآن ومفاهیم آن می باشد.به امید اینکه مورد استفاده علاقه مندان قرار گیرد و گامی کوچک در راستای نشر فرهنگ اسلام باشد.