امام اور پیروکاروں کا ارتباط
🔅امام اور پیروکاروں کا ارتباط🔅
📜امام حسن عسکریؑ نے قم اور آوج والوں کے نام ایک خط لکھا.
⭕️انسان اس خط کے الفاظ اور اس میں موجود قرینوں پر غور کرنے سے اس نتیجے پر پہنچتاہے کہ قم اور آوج کے لوگ امام حسن عسکریؑ پر حکومتی مشینری کے دباؤ اور آپؑ پر حکومت کے محاصرے کی وجہ سے افسرده ہو گئے تھے، اور (نعوذبالله) یہ سمجھ رہے تھے کہ امامؑ اپنے آباؤ اجداد کے راستے سے دستبردار ہو گئے ہیں.
💭امامؑ ایک خط لکھتے ہیں تاکہ انہیں اپنی امامت و قیادت کے حوالے سے مطمئن کریں اور ان کا حوصلہ بڑهائیں.
☀️اس خط میں امام حسن عسکریؑ فرماتے ہیں: «فلم تزل نیتنا مستحکمه»؛ "ہماری نیت اور جو ہمارا مقصد تھا اور ہمارا عزم پہلے کی طرح قائم و دائم اور مستحکم ہے".
✅«و نفوسنا إلی طیب آرائکم ساکنه»؛ "ہمارا دل آپ لوگوں کی نیک نیتی اور خوش فکری کی وجہ سے آرام و سکون میں ہے"؛ یعنی ہمیں آپکے بارے میں کسی قسم کی پریشانی یا مشکل نہیں ہے، ہمیں یقین ہے کہ آپ ہمارے اچھے ساتھیوں میں سے ہیں اور آپ لوگ بھی ہماری طرح اپنے راستے اور عقیدے سے پیچھے نہیں ہٹے ہیں.
✔️آپ غور فرمائیں کہ یہ قم اور آوج میں موجود امام حسن عسکریؑ کے شیعوں کے لیے کتنا زیاده حوصلہ بڑھانے والا خط ہے.
👈(اب سوال یہ ہے کہ) یہ حوصلہ افزائی بالآخر کیوں کی جا رہی ہے؟ اگر مقصود شرعی مسئلہ بتانا، کسی معاملے میں اپنی نظر دینا یا خصوصی رہنمائی کرنا ہوتا تو پھر اس طرح سے بات نہیں کی جاتی.
📌… اس کے بعد آپؑ فرماتے ہیں کہ: «القرابه الراسخه بیننا و بینکم قویه»؛ "ہمارے اور آپ لوگوں کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم ہے". ہم آپکے بھائی اور قریبی رشتے دار ہیں. امامؑ اپنے چاہنے والوں اور اپنے طرفدار گروہ کو اپنا قریبی اور رشتہ دار مانتے ہیں.
📖آخری جملہ بھی ایک انتہائی مضبوط فکری اور بامقصد مجموعے کی موجودگی کی طرف اشاره ہے اور وه جملہ یہ ہے کہ: «لما جمعنا الله علیه من الحال القریبه و الرحم الماسه یقول العالم(سلام الله علیه) إذ یقول المومن اخ المومن لامه و ابیه».
👈آپ یہاں مومن کی تعبیر پر غور کریں کہ یہاں پر مومن سے کیا مراد ہے؟ امامؑ فرماتے ہیں کہ میرے اور آپ لوگوں کے درمیان قریبی رشتہ داری موجود ہے. «الرحم الماسه»؛ یعنی ہم خونی رشتہ دار ہیں، باپ اور بیٹے کی طرح، ماں اور بیٹے کی طرح اور سگے بھائیوں کی طرح، ہمارا تعلق اس طرح کا تعلق ہے.
📝یہاں«عالم» سے مراد گویا امام موسی بن جعفر صلوات الله علیہ یا امام جعفر صادق صلوات الله علیہ ہیں، *امام حسن عسکریؑ* اپنے جدؑ کے فرمان سے نقل فرما رہے ہیں کہ ہمارے محترم جدؑ نے فرمایا ہے کہ: "مومن آپس میں ایک ماں باپ کی اولاد کی طرح ہیں؛ المومن اخ المومن لامه و ابیه"؛
✅یعنی مومنین کا آپس میں رابطہ، آپس میں عہدوپیمان اور آپس میں جو تعلق ہے وه سگے بھائیوں کی طرح ہے، حتی سوتیلے بھائیوں والا تعلق بھی نہیں ہے، یعنی یہ لوگ آپس میں اتنے زیاده نزدیک ہیں.
📜(اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ) مومن سے مراد کون ہے؟ جو صرف «لا اله الا الله، محمد رسول الله» کہتا ہو؟ وه ایسے لوگ تو بہت زیاده تھے! نہیں بلکہ مراد وه شخص ہے جو امام حسن عسکریؑ پر ایمان رکھتا ہو اور انکے راستے پر چلنے والا ہو.
👈اب اس بات سے کیا مراد ہے؟ یہ امامؑ اور انکے طرفداروں اور پیروکاروں کے درمیان موجود وہی مضبوط آرگنائزیشنل رابطہ ہے.
📚250 سالہ انسان، ج 3، ص 830-831
رہبر معظم آیت الله سید علی خامنہ ای
#10_ربیع_الثانی، روزِ ولادت با سعادت امام حسن عسکریؑ
این وبلاگ درباره قرآن ومفاهیم آن می باشد.به امید اینکه مورد استفاده علاقه مندان قرار گیرد و گامی کوچک در راستای نشر فرهنگ اسلام باشد.