معرفت امام زمانہ عج
🌼🌸 معرفتِ امام زمانہ عج🌼🌸
قسط نمبر 14
فلسفہ انتظار:
امام زمانہ عج غیبت کے پردوں میں ہیں اور ہر باشعور انسان کو انکا انتظار ہے ۔
تمام مذاہب کے لوگ انکا انتظار کر رہے ہیں اور اس بات یقین رکھتے ہیں کہ ایک نجات دہندہ آئے گا جو انہیں اس دنیا کے ستم سے آزاد کرائے گا اور پوری دنیا پر اس کی عادلانہ حکومت ہو گی ۔
روایات کی بناء پر انتظار امر ذہنی نہیں ہے بلکہ حقیقی آمادہ کرانے والا اور حقیقی کوشش کروانے والا ہے۔
*امیر المومنین علی* علیہ السلام نے انتظار کو عمل کہا ہے
*سب سے پسندیدہ عمل خدا کے نزدیک انتظار امام زمانہ علیہ السلام ہے۔*
( 📗الخصال جلد 3 صفحہ 616)
*امام باقر* علیہ السلام فرماتے ہیں:
*نہیں ہوگا ظہور امام زمانہ عج یہاں تک کہ تم آزمائے جائو پھر تمھیں آزمایا جائے گا اور پھر تمھیں آزمایا جائیگا ۔۔۔۔۔یہاں تک کہ خدا تمھارے اندر کینہ ختم کردیگا اور خالص پن باقی ہوگا ۔*
(📗بحار الانوار جلد 113 صفحہ 52)
۔
*خدا کی قسم حتما تمھیں جدا کیا جائیگا اور خدا کی قسم خالص کیا جائے گا اور خدا کی قسم تمھیں سخت آزمایا جائیگا ۔۔۔۔۔*
(📗بحار الانوار جلد 114صفحہ 52)
*امام حسن عسکری* جناب علی ابن بابویہ جو شیخ صدوق کے والد ہیں انکی طرف بھیجے ہوئے خط میں فرمایا کہ *انتظار امام زمانہ عج بالاترین عمل ہے اور اس عمل کی دشواریوں میں ثابت قدم رہنے کی سفارش کی ہے۔*
📗 بحار الانوار جلد 5 صفحہ 318
عمل کرنے والا منتظر امام زمانہ عج یا بقیہ معصومین سے جڑ جاتا ہے۔
فضیل ابن یسار کہتے ہیں : میں نے حضرت امام جعفر صادق ع سے اللہ تبارک و تعالی کے اس قول کے بارے میں پوچھا کہ قیامت کے دن ہم ہر انسان کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے تو امام ع نے فرمایا : *اے فضیل اپنے امام کو پہچانو جب تم اپنے امام کو پہچان لو گے تو پھر ظہور کی تعجیل اور تأخیر میں تمہارے لئے کوئی حرج نہیں ہے* صاحب الأمر کے ظہور سے قبل جو شخص بھی مرنے سے پہلے اپنے امام کو پہچان لے وہ امام کے لشکر میں بیٹھے ہوئے شخص کی طرح ہے ۔ نہ ، *بلکہ وہ امام کے پرچم کے نیچے بیٹھا ہوا ہے* اور بعض راویوں نے یہ نقل کیا ہے کہ امام ع نے فرمایا *بلکہ اس وہ شخص کی طرح ہے جو رسول اللہ ۖ کی معیت میں شہید ہوا ہے ۔*
📗الکافي , ج 1 , ص 371
*حضرت امام باقر* ع فرماتے ہیں :
*جو ہمارے امر کی انتظار کی حالت میں مرے وہ حضرت مہدی عج کی فوج اور خیمے کے در میان نہ بھی مرا ہو تو اس کے لئے کوئی حرج نہیں ہے ۔*
(📗 الكافي ج1 ص372+
بعض لوگ امام زمانہ عج کے ظہور کو فقط ارادہ الٰہی سے وابسطہ جانتے ہیں اور انسانی معاشرے کی تلاش و کوشش اور ظالم کے خلاف قیام کرنے کو بے اثر شمار کرتے ہیں پس وہ صرف معاشرے کے امور کی اصلاح امام مہدی عج کے ظہور پر واگذار کرتے ہیں یہ نظریہ نقصاندہ اور باطل ہے اور ظہور امام زمانہ علیہ السلام کو نقصان دینے کے مساوی ہے۔
انتظار کی دو اقسام ہیں
1۔ مثبت انتظار
2۔ منفی انتظار
👈🏻 *مثبت انتظار یعنی کمر باندھ لینا ،حرکت کرنا ،میدان میں اترنا ہے۔*
*منفی انتظار یعنی سکون کرنا ، سست رہنا ، میدان سے باہر ہونا ہے۔*
عزیزان محترم !
جیسا کہ آپ پر واضح ہو چکا کہ انتظار دو قسم کا ہے ۔
⁉️⁉️⁉️ اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہم کونسا انتظار کر رہے ہیں۔۔۔؟
آیا ہمارے انتظار سے کچھ فائدہ بھی ہو رہا ہے یا بے مقصد انتظار ہے۔۔؟
کیا ہم پہلی قسم کی طرح فعال ہیں اور کیا ہم میدان جنگ میں حاضر ہیں۔۔؟
فلسفہ انتظار کی مزید وضاحت کے لیے ایک مثال عرض ہے۔
اگر آپ نے اپنے گھر ایک مہمان کی دعوت کی ہے تو آپ کیا کریں گے؟
یقیناً آپ گھر کا ویسا ماحول بنائیں گے جیسے مہمان پسند کرتا ہو۔ اور اس کے آنے سے پہلے پہلے وہ تمام اشیاء جو مہمان کی طبیعت پر گراں گزرتی ہوں وہ دور کرنے کی کوشش کریں گے ۔
آپ مہمان کا انتظار ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں کر سکتے تو صاحب الزمان عج کا انتظار اسطرح کیوں؟؟؟
کیا آپ یہ بات پسند کریں گے کہ آپ کے گھر کی صفائی آپکا مہمان کرے؟
وہ مہمان خصوصی صاحب العصر عج جو بہت جلد آنے والے ہیں انکا انتظار ہم کیسے کر رہے ہیں۔
کیا ہم اس انتظار میں ہیں کہ وہ آئیں اود خود ہی دنیا کو برائیوں سے پاک کریں ۔
عزیزان گرامی !
ہمیں بھی تو اپنا کردار ادا کرنا ہے۔
👈🏻 *منتظر اہل باطل سے اپنی استطاعت کے مطابق لڑنے والا ہوتا ہے اور اہل حق کی پیروی کرنے والا ہوتا ہے۔*
آئیے اچھے میزبان بنیں۔ اچھا ماحول بنائیں اور کہیں العجل یا صاحب الزمان عج❤️۔
جاری ہے۔۔۔
این وبلاگ درباره قرآن ومفاهیم آن می باشد.به امید اینکه مورد استفاده علاقه مندان قرار گیرد و گامی کوچک در راستای نشر فرهنگ اسلام باشد.