🔰اجتماعی و انفرادی عبادت میں موازنہ🔰

✨امیرالمؤمنین علیؑ ابن ابی طالبؑ نے رسول اللهؐ سے نقل فرمایا:

*📌مَا مِنْ عَمَلٍ أَفْضَلُ عِنْدَ اَللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ مِنْ سُرُورٍ تُدْخِلُهُ عَلَى مُؤْمِنٍ*
الله تعالی کے نزدیک کسی بھی عمل کی اس سے زیاده فضیلت نہیں کہ ایک مسلمان کا دل خوش کیا جائے؛ ایک مومن مسلمان کو خوشحال کریں

*📌أَوْ تَطْرُدُ عَنْهُ جُوعاً*
یا اس کی بھوک دور کریں

*📌أَوْ تَكْشِفُ عَنْهُ كَرْباً*
"کَرب" یعنی سختی اور مشقت. یہ جو غمگین ہونے کی حالت کو بھی کرب کہا جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حالت انسان کو دباؤ کا شکار کرتی ہے. انسانی روح کے لیے ایک اہم دباؤ کی حالت اس کا پریشان اور غمگین ہونا ہے.

👈اب اگر انسان کے لیے ممکن ہو اور وه ایک مومن مسلمان کو اس طرح کی مشکل سے جیسے عزت و آبرو کے حوالے سے، مالی حوالے سے یا خاندانی حوالے سے پیش آنے والی مشکلات سے نجات دلا دے (تو وه اسی حدیث کا نمونہ قرار پائے گا).

*📌أَوْ تَقْضِي عَنْهُ دَيْناً*
یا اس کا قرض ادا کر دے

*📌أَوْ تَكْسُوهُ ثَوْباً*
یا اسے لباس پہنائے. یہ جو لوگ مختلف عمومی حادثات میں یا عمومی طور پر پیش آنے والی مصیبتوں میں دوسروں کی مدد کرتے ہیں یہ اسی بات کے عملی نمونے ہیں.

📖(حدیث نمبر 42 میں) آپ کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ اس طرح کی روایات سے مراد یہ نہیں ہے کہ انسان کے خدا کے ساتھ انفرادی رابطے کو نظرانداز کر دیا جائے، ایسا بالکل بھی نہیں! اور یہ روایات اس معاملے کی اہمیت کو کم نہیں کرتیں.

📝واضح سی بات ہے کہ الله تعالی سے رابطہ ہی ان تمام چیزوں کی بنیاد ہے یعنی انسان قلبی طور پر خدا کے ساتھ ہو اور ان کاموں کو بھی اسی کے لیے انجام دے،

👈لیکن الله تعالی کے نزدیک اعمال کی درجہ بندی اس طرح سے نہیں ہے کہ لوگ مشکلات کا شکار ہوں لیکن پھر بھی انسان اس *انفرادی عبادت* پر اپنے آپ کو راضی رکھے اور خود اپنے لیے سبحان الله اور الحمدالله کہتا رہے. یہ کافی نہیں بلکہ ضروری ہے کہ وه *اجتماعی عبادت* کے میدان میں قدم رکھے.

24 جنوری، 2005 کو فقہ کے درس خارج کی ابتداء میں آیت الله خامنہ ای کی جانب سے پیش کی جانے والی احادیث کی تشریح سے اقتباس

#احادیث_کی_تشریح
#احادیث_کی_تشریح_رہبر_معظم - 43
 #کتاب_النوادر_کی_منتخب_احادیث - 43