*باسمہ تعالی*

*روزہ دار کی ذمہ داریاں*

*قسط 2*
احمد حسین جوھری

*1۔ محرمات سے نگاہوں کی حفاظت*

 رمضان المبارک میں روزہ دار کی دوسری ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنی نگاہوں کو نامحرم کی طرف نظر کرنے سے بچائے رکھے.خداوند عالم فرماتا ہے : *قل لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِہِمْ وَيَحْفَظُوْا فُرُوْجَہُمْ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَہُمْ اِنَّ اللہَ خَبِيْرٌۢ بِمَا يَصْنَعُوْن*(1) آپ مومن مردوں سے کہدیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کو بچا کر رکھیں، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزگی کا باعث ہے. اللہ کو ان کے اعمال کا یقینا خوب علم ہے۔
اسی طرح دوسری آیت شریفہ میں خواتین سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے: وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ يَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِہِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوْجَہُنَّ وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَہُنَّ اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰي جُيُوْبِہِنَّ(2)
اے رسول! ایمان دار خواتین سے کہیے کہ وہ اپنی نگاہوں کو نامحرم مردوں کو دیکھنے سے بچائے رکهیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں نیز اپنے اسباب زینت کو چھپائیں سوائے ان کے جوخود بخود ظاہر ہیں اور اپنے دوپٹوں سے اپنی گردنوں اور سینے کو ڈھانپیں۔ 
بحار الانوار کی روایت ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: جو شخص اپنی نگاہ کو نامحرم سے نہ بچائے  خداوند عالم قیامت کے دن اس کی آنکھوں کو آگ سے بھر دے گا اور جب لوگ  حساب سے فارغ ہوگا تو اس کے بعد اسے جہنم میں ڈال دے گا۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں(3)کہ جو شخص نامحرم عورت کی طرف دیکھے پھر اپنی نگاہ کو پھیر دے اور آسمان کی طرف اٹھائے یا اپنی آنکھوں کو بند کر دے وہ اپنی آنکھوں کو نہیں کھولتا مگر یہ کہ خداوند عالم ایک حورالعین کو اس کے نکاح میں دے دے گا. حضرت فرماتے ہیں: نامحرم پر پڑنے والی پہلی نظر تیرے فائدے میں ہے جبکہ دوسری نظر تیرے نقصان میں ہے. اس کی سزا دیکھنے کی لذت سے کہیں زیادہ ہے اور تیسری نظر تجھ کو ہلاکت میں ڈالتی اور عذاب میں مبتلا کرتی ہے۔
بحار الانوار میں امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے اپنے والد گرامی سے نقل فرمایا ہے :(4) قیامت کے دن ہر آنکھ تر ہو گی مگر تین آنکھیں ایسی ہوں گی جو نہیں روئیں گی:1. وہ آنکھ جو خوف خدا میں روئی ہو۔ 2.وہ آنکھ جو نامحرم کی طرف نہ اٹھے اور نامحرم کو دیکھتے ہی بند ہو جائے۔3 وہ آنکھ جو شب بیداری کرے یعنی خدا کی بارگاہ میں جاگتی رہے اور نماز شب پڑھے رہے۔
آنکھوں کو فعل حرام سے بچانا متقین کے اوصاف میں سے ایک ہے .حضرت علی علیہ السلام متقین کی صفات بیان کرتے ہوے فرماتے ہیں: اہل تقوی وہ لوگ ہیں جو اپنی آنکھوں کو حرام سے بچائیں،(5)
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:حرام کی طرف دیکھنا شیطان کے تیروں میں سے ایک تیر ہے۔ یہ اس بات کا باعث بنتی ہے کہ انسان طویل مدت کے لیے حسرت اور پشیمانی میں مبتلا ہوجائے۔(6) ماہ مبارک رمضان میں روزہ دار کو چاہیے کہ اپنی آنکھوں کو قابو میں رکھے اگر روزہ دار چاہتا کے کہ اس کا روزہ کامل اور خدا سے قربت کا باعث بنے تو اسے چاہیے کہ اپنی دید کے دایرے پر کنڑول رکهے اور اس کی شدت سے حفاظت کرے۔ وگرنہ اہل رمضان وعرفا کے نزدیک اس کا روزہ حقیقی روزہ شمار نہیں ہوتا، کیونکہ ایک روایت میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: اگر کوئی شخص کسی عورت کو پیچھے سے اس طرح دیکھے کہ وہ اس کے کپڑوں کے اندر اس کی ہڈیوں کے حجم کو دیکھ سکے اور وہ روزہ سے ہو تو اسے چاہیے کہ افطار کرے یعنی اس کا روزہ باطل ہے۔ اہل منطق و عرفان کے نزدیک روزہ تنہا کھانا پینا ترک کرنے کا نام نہیں بلکہ تمام اعضاء و جوارح کو حرام کاموں کی انجام دہی سے بچانا مقصود ہے۔(7) اسی طرح کانوں کو حرام سے بچانا بهی لازم ہے.روزہ دار اپنے کانوں کی حفاظت کرے اور ان کو حرام آوازوں سے دور رکھے، مثلا گانے،غیبت، جھوٹ تہمت،جو دوسروں پر لگائی جائے ان سب سے اپنے کانوں کو بچائے۔
پیغمبر اکرم نے خطبہ شعبانیہ میں روزہ دار  کی ذمہ داریاں بیان کرتے ہوئے فرمایا: اپنی نظروں اور اپنے کانوں کو فعل حرام سے بچاو۔(8) امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں: کانوں کا حق یہ ہے کہ تم انہیں غیبت اور دوسری حرام چیزوں کے سننے سے بچاو۔(9)
حوالہ جات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ سورہ نور آیت:30
2۔سورہ نور آیہ31
3۔ بحار الانوار ج 104ص 37
4۔بحار الانوار ج104ص 35
5۔نہج البلاغہ خطبہ 193
6۔کافی ج 5ص559
7۔بحار الانوار ج93ص 290
8۔ خطبہ شعبانیہ وظایف روزہ داران
9۔ من لا یحضرہ الفقیہ ج 2 ص618